پاک ٹی ہاوس میں نظریاتی لوگوں کی بیٹھک

(Muhammad Attique, )
پاک ٹی ہاؤس لاہورایک ایسا ادبی ادارہ ہے جہاں ادیبوں ،شاعروں ،دانشوروں ،لکھاریو ں،کالم نگاروں ،صحافیوں ،افسانہ ،کہانی وڈرامہ نویسوں کی ادبی نشستیں چلتی رہتی ہیں ۔برصغیر کی تمام ادبی شخصیات کسی نہ کسی حوالے سے پاک ٹی ہاؤس سے منسلک رہی ہیں ۔شاید ہی کوئی وقت ہو جب پاک ٹی ہاؤس میں کوئی ادب کا دلدادہ موجودنہ ہو ۔کیا لاہوری ،فیصل آبادی ،سیالکوٹی ،قصوری الغرض پورے پاکستان سے مختلف قلم کار مختلف اوقات میں مختلف ادبی نشستوں میں شرکت کرتے رہتے ہیں ۔یہاں آنے والی شخصیات میں کرشن چندر،اشفاق احمد ،فیض احمد فیض ،ابن انشاء،احمد فراز،سعادت حسن منٹو،منیرنیازی ،میراجی ،کمال رضوی ،ناصر کاظمی ،پروفیسر سید سجاد رضوی ،استاد امانت علی خان،ڈاکٹر محمد باقر،انتظار حسین ،عزیز الحق ،کشورناہید ،مظفر علی سید،جاوید شاہین ،شاہد حمید،انیس ناگی ،سعادت سعید ،زاہد ڈار،سلیم شاہد ،سید قاسم محمود،قیوم نظر ،شہرت بخاری ،انجم رومانی ،ڈاکٹر عبادت بریلوی ،عقیل روبی ،اے حمید ،انورجلال،عباس احمد عباسی ،ڈاکٹر ضیاء اور دیگر پاکستان کے ادبی ستارے اسی پاک ٹی ہاؤس میں اپنی شامیں گذارتے رہے ہیں ۔

26فروری کو لاہورسے نسیم الحق زاہدی’کالم نگار‘ کا فون آیا کہ پاک ٹی ہاؤس میں تحریک جوانان پاکستان /کشمیر کے زیر اہتمام فکر حمید گل ایوارڈ ہورہا ہے جس میں آپ کو ایوارڈ اور رائٹرزگلڈ آف اسلام پاکستان کی جانب سے تعریفی سرٹیفیکٹ سے نوازا جائے گا۔ اس لئے وقت مقررہ پر پہنچ جائیں ۔ایک تو جنرل حمید گل ؒمرحوم سے نظریاتی وابستگی اور پھر پاک ٹی ہاؤس کی کشش اپنی جانب کھینچ رہی تھی تو ہم صبح سویرے ہی فیصل آباد سے نکلے اور ناشتہ لاہور میں اپنے دوست کے ساتھ کیا ۔وقت مقررہ سے پہلے ہی پاک ٹی ہاؤس میں پہنچ کر دوست احباب سے مل بیٹھے اور دل کھول کر باتیں کرنے کے ساتھ ساتھ گلے شکوے بھی کئے ۔تحریک جوانا ن پاکستان/کشمیر کے چیئرمین محمد عبداﷲ گل کی صحت کی خرابی اوراوریا مقبول جان کے خلاف ہوئے قادیانیوں کی پیمراکورپورٹ کی وجہ سے انتظامیہ نے فیصلہ کیا کہ فکر حمید گل ایوارڈ کی تقریب منسوخ کی جائے اور صرف رائٹرزگلڈآف اسلام کی طرف سے سرٹیفیکیٹ سے نوازاجائے ۔وقت مقررہ پر تقریب شروع ہوئی جس میں بیاء جی ،بیگم صفیہ اسحاق ،احتشام جمیل شامی ،محمدشاہد محمود ،نسیم الحق زاہدی،آر ۔ایس ۔مصطفی اور تحریک جوانا ن پاکستان لاہور کے چیف آرگنائزر عابد زید سمیت دیگر ادبی شخصیات نے شرکت کی ۔شرکاء محفل کے تعارف کے بعد بیگم صفیہ اسحاق نے نظریہ پاکستان کے حوالے سے کام کرنے والے کالم نگاروں اور مصنفو ں کو سراہا جبکہ بیاء جی نے بات کرتے ہوئے کہا کہ ادبی خدمات میں نوجوان نسل کا اپنی صلاحیتیوں کو صرف کرنا ہمارے مستقبل کے روشن ہونے کی نوید ہے ۔اس کے بعد رائٹرزگلڈ آف اسلام پاکستان کی طرف سے دفاع اسلام اور پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی قلمی خدمات کے اعتراف میں مصنفوں اور کالم نگاروں کو تعریفی اسناد سے نوازا گیا ۔رائٹرزگلڈ آف اسلام پاکستان کی جانب سے بیگم صفیہ اسحاق کو خواتین ونگ کا مرکزی معاون اور محمد شاہد محمود کو ڈپٹی معاون بنائے جانے کا نوٹیفیکشن پیش کیا گیا ۔اس موقع پر بیگم صفیہ اسحاق نے شرکاء کو اپنی کتابیں ’علامہ اقبالؒ‘اور’مجید نظامی ،عہد ساز صحافی ‘بھی پیش کیں ۔ نسیم الحق زاہدی کو نظریہ پاکستان (سعودی عرب) کی جانب سے بیگم صفیہ اسحاق نے گولڈ میڈل سے نوازا۔

جنرل حمیدگلؒ مرحوم کی زندگی کا محور پاکستان کے دفاع کے اردگردہی گھومتا رہاہے ۔جنرل حمید گل ؒمرحوم سے وابستگی بالکل اسی طرح سے ہے جس طرح سے پاکستان سے ہے ۔یہی وجہ ہے کہ عبداﷲ گل (اﷲ انہیں صحت یاب کرے ،آمین) کی صحت کی خرابی کے باعث ان کے چیف آرگنائزرلاہور عابدزید سے گپ شپ خاصی طویل رہی ۔جہاں تحریک جوانان پاکستان /کشمیر کے حوالے سے تفصیلاََبات ہوئی وہیں کشمیر میں موجودہ صور ت حال پر ان کی معلومات سے استفادہ کیا ۔بلاشبہ تحریک جوانان پاکستان /کشمیر ملک کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت میں فرنٹ پر موجود ہے ۔اوریامقبول جان صاحب کے خلاف جہاں سیکولر،لبرل اور دوسرے اسلام مخالف لوگ محاذکھولے رکھتے ہیں وہیں اس بار پیمرا کی طرف سے انہیں نوٹس ملا کہ جس میں اوریاصاحب کے خلاف قادیانیوں کی طرف سے پیمرا کو رپورٹ کی گئی تھی۔سن کر جہاں شدید غم وغصہ کی کیفیت ہوئی وہیں اوریا صاحب کی قسمت پر رشک بھی آیا کہ ختم نبوت کے سپاہیوں میں ان کا نام بھی موجود ہے اور ہم ان کی حمایت میں کھڑے ہوکر ختم نبوت کے سپاہیوں کے خادموں میں اپنا نام لکھواسکتے ہیں ۔ختم نبوت ایک ایسا موضوع ہے جس پر گیا گذرا مسلمان بھی اٹھ کھڑاہوتا ہے ۔خیر پیمرا میں ان کی طلبی اور ان کے دلائل کے بعد یہ درخواست مسترد کردی گئی ۔ لیکن پیمرا کی ذات پر ایک سوالیہ نشان بن گیا کہ پاکستان کے نجی چینلوں پر دن رات انڈین و ترکی ڈراموں اور مختلف قسم کے فحش اشتہارات چلائے جاتے ہیں اور بلاشبہ محب وطن پاکستانیوں کی جانب سے مختلف اوقات میں رپورٹ بھی کی جاتی ہے لیکن وہ چلتے رہتے ہیں۔رائٹرزگلڈ آف اسلام پاکستان کی تقریب کے بعد نظریہ پاکستان کے کچھ گمنام ناموں کے ’’جو میڈیا پر کم کم ہی آتے ہیں اور دنیا ان کے کاموں سے کم ہی واقف ہوپاتی ہے میرے جیسے کئی لوگ انہوں نے تیار کئے ہیں ‘‘کے ساتھ بیٹھک ہوئی اور اخبارات میں شائع ہونے والے مختلف کالموں اور تحریروں پر تبادلہ خیال کے ساتھ ایک پرتکلف کھانا کھا کر پیغام ٹی وی کے ہیڈ آفس،راوی روڈ کی جانب گامزن ہوئے جہاں میاں عتیق الرحمن، ریسرچ سکالرکے ساتھ ملاقات طے تھی اور ان کے ساتھ صبح کا مسلسل رابطہ تھا ۔پیغام ٹی وی پاکستان میں وہ واحد چینل ہے جو قرآن و سنت کے مطابق اپنی نشریات کو چلارہاہے اور مستند اسلامی تعلیمات عوام الناس کے سامنے رکھتا ہے ۔پیغام ٹی وی کے مختلف دفاتر کودیکھتے ہوئے ریسرچ روم میں پہنچے تو عدیل احمد آزادسے بھی ملاقا ت ہوئی ۔ عدیل احمد آزاد کچھ عرصہ مصر میں زیر تعلیم بھی رہے ہیں اس لئے ان سے زیادہ تر باتیں مصر اور عرب کے حوالہ سے ہوئیں۔میاں عتیق الرحمن نے جہاں پیغام ٹی وی کا مکمل تعارف کروایا وہیں مختلف موضوعات پر ان سے کھل کر باتیں ہوئیں لیکن وقت کی قلت کی وجہ سے جلدی اٹھنا پڑا ۔12بجے کے قریب اپنی قیام گاہ پہنچے اور صبح پہلی گاڑی سے فیصل آباد کی طرف گامزن ہوئے کہ افسر کی جھاڑ سننے کی تاب ہم میں نہ تھی اس لئے نیند کی قربانی دینی مناسب سمجھی ۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Atiq Ur Rhman

Read More Articles by Muhammad Atiq Ur Rhman: 72 Articles with 35999 views »
Master in Islamic Studies... View More
03 Oct, 2016 Views: 405

Comments

آپ کی رائے