بھوک

(S.N Makhmoor, )
جیرے کی آنکھوں میں غیر معمولی چمک عود آئی ۔وہ چوکیداری کا ڈنڈا کبھی ایک ہاتھ میں تو کبھی دوسرے ہاتھ میں لیتے ہوئے مسلسل لکڑی کے اسٹول پر کبھی اِدھر اور کبھی اُدھر جھولنے لگا ۔ موسم معتدل ہونے کے باوجود اُس کے ماتھے پر پسینے کی بوندیں نمایاں ہو گئیں اور وہ بڑی بے قراری سے اپنے ہونٹ کاٹنے لگا ۔ میں نے دوکان کے کاونٹر کی دوسری جانب سے ادُھورے تعمیر شدہ فلیٹس کی چارددیواری کے بڑے دروازے کے ساتھ اسٹول پر بیٹھے جیرے کی تبدیل ہوتی حالت کو دیکھا تو اُس کی وجہ فورا َ ہی جان گیا۔میں نے کاونٹر پر موجود تہمینہ کواُس کی مطلوبہ چیزیں دے کر سیدھے گھر جانے کی ہدایت کی اور جیرے کو اپنی جانب متوجہ کر نے کے لئے آواز لگا دی
’’جیرے!! دوپہر ہو چلی ہے مقصود بھائی سے پاؤ بھر دہی لے آ، ساتھ کھانا کھا لیں گے‘‘
جیرے کے چہرے پر پل کو ناگواری کے سائے امڈ آئے مگر پھر فوراَ ہی اُس نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے اپنی جگہ چھوڑ دی۔اتنی دیر میں تہمینہ بھی جیرے کے سامنے سے ہوتی ہوئی پانچ منزلہ ’’النورہائٹس‘‘کے فلیٹس کی سیڑھیاں چڑھ گئی۔ میں نے جیرے کی بدلتی حالت کو ذہن نشین کرتے ہوئے آج ہر صورت میں نوید عالم سے بات کرنے کی ٹھان لی۔
ہر روز شام کے وقت دفتر سے واپسی پر فلیٹس کی سیڑھیاں چڑھنے سے قبل نوید عالم میری دوکان پر اگلے روز،صبح کے لئے ناشہ کا سامان لینے کو پہنچا تو میں نے بہت محبت سے کاونٹر ہٹا کر دوکان کے اندر اپنے پاس اسٹول پر بٹھا لیا۔
’’ خیریت تو ہے ماسٹر صاحب !! آج تو آپ نے اپنی سلطنت میں جگہ دے ڈالی ہمیں‘‘
نوید عالم نے حسب معمول شوخ لہجے میں کہا اور میں اُس کی بات سن کر مسکرا دیا۔ ماسٹری چھوڑے زمانے گزر چکا تھا، مگر پرانے جاننے والے آج بھی مجھے ماسٹر کہہ کر ہی مخاطب کرتے تھے اور یہ ہی وجہ تھی کہ میرا نام ’’حمید علی ‘‘ لینے کے بجائے محلہ بھر مجھے ماسٹر صاحب ہی کہا کرتا تھا۔ اور نہ صرف کہتا تھا بلکہ آج بھی ایک ماسٹر ہی کی طرح میری عزت کی جاتی تھی۔جو مجھ سے پڑھے ہوئے لوگ تھے وہ آج بھی میرے لئے بس ہو یا مسجد جگہ چھوڑ دیتے تھے۔ اور لوگوں کے اسی رویے کے سبب میں نے نوید عالم سے وہ بات کرنے کے لئے ہمت محسوس کی تھی جس کا آج پھرمجھے مشاہدہ ہوا تھا۔ میں نے چند منٹوں میں گاہکوں کو فارغ کیا اور نوید عالم کی جانب متوجہ ہو گیا، کچھ وقت اِدھر ُادھر کی باتیں کرنے کے بعد میں مطلب کی بات پر آگیا۔
’’ نوید میاں!! ماشا ء اﷲ آپ کی شہزادی تہمینہ تو بڑی ہوتی جارہی ہے، اﷲ نظر بد سے محفوظ رکھے‘‘
نوید عالم یہ سن کرمسرت بھرے لہجے میں اپنی نو سالہ بیٹی کی باتیں سنانے لگا۔میں مسکراتے ہوئے اُس کی باتیں سنتا رہا۔
’’ نوید بیٹا!! تم کواپنی آنکھوں کے سامنے چھوٹے سے بڑا ہوتے دیکھا ہے، اب ماشاء اﷲ ایک بیٹی
کے باپ ہو گئے ہو خوشی ہوتی ہے، اچھے ماں باپ کی اولاد ہو تو تم سے باتیں کرکے بھی اچھا لگتا ہے،
عزت دیتے ہو ، عزت پاتے ہو مگر ۔۔۔۔۔۔۔‘‘
میں نے اتنا کہا اور اپنی بات ادُھوری چھوڑ دی، نوید عالم میری اِس تمہید کا سبب مکمل تو سمجھ نہ پایا مگر اتناسمجھ گیا کہ میں کچھ کہتے ہوئے جھجھک محسوس کر رہا ہوں۔اُس نے آگے بڑھ کر میرے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر نہایت نرم لہجے میں کہا
’’ ماسٹر صاحب !! آپ کو جو کہنا ہے بلا جھجھک کہیں ، یہ اگر مگر تو غیروں میں ہوتی ہے ، آپ تو میرے اپنے ہیں۔‘‘
’’پھر بھی بیٹا گھر کی بات گھر سے باہر والا کہے تو سماعت کو اچھا نہیں لگتا‘‘
’’ ماسٹر صاحب ضروری تھوڑی ہے کہ انسان کی ہر بات سننے والے کو اچھی لگے، بعض اوقات ناگوار باتیں بھی سننا پڑتی ہیں اور وہ ہی ایسا وقت ہوتا ہے جب انسان کو احساس ہوتا ہے کہ وہ دوسرے کو کتنی عزت دیتا ہے اور اُس کی کڑوی بات کیسے برداشت کرتا ہے، آپ بے فکر رہیں بات کیسی بھی ہو ، آپ میرے لئے ماسٹر صاحب ہیں اور ان شاء اﷲ رہیں گے‘‘
نوید عالم نے ایک مرتبہ پھر میری ہمت بندھائی تو میرے مشاہدے میں آئی بات لبوں پر آ ہی گئی ۔
’’ جیتے رہو بیٹا!! بس بات ہی کچھ ایسی ہے کہ کہتے ہوئے خیال آتا ہے تم کچھ غلط نہ سمجھو، مگرتم سے عمر میں بڑا ہوں اور تم کو اپنا سمجھتا ہوں اس لئے تم سے یہ بات کہنا بھی اپنی ذمہ داری سمجھتا ہوں ۔۔۔ ‘‘
اتنا کہہ کر میں نے تھوڑا وقفہ لیا اور پھر گویا ہوا
’’ دیکھو بیٹا، تہمینہ اب ماشا ء اﷲ سے بڑی ہو رہی ہے اور تم بھی خوب سمجھ دار ہو، تو ضروری یہ ہے کہ اُس کو چست اور بھڑکیلے کپڑے پہنانے سے اورکم از کم دوپہر کو تنہا گھر سے باہر بھیجنے سے اپنی گھر والی کو منع کرو۔ یہاں دوپہر کو کافی سناہٹ ہوجا تا ہے‘‘
میں نے ہمت کرکے آخر نوید عالم سے اپنا مداح بیان کر ڈالا۔
’’ ارے ماسٹر صاحب اتنی سی بات ، تہمی تو ابھی بچی ہے ذرا سیانی ہوگی تو خود احتیاط کرنے لگے گی، ماں باپ شوق اِس عمر میں پورا نہیں کروائیں گے تو کب کروائیں گے۔اب تو ہر ایک اپنی بچیوں کو ایسے ہی کپڑے پہناتاہے، اِس میں ایسی کوئی بات نہیں، آج کے دور کے بچے ہیں آج کے فیشن تو کریں گے ہی ناں، ویسے بھی آپ کی اس بات کے لئے تہمینہ ابھی بچی ہی ہے‘‘
نوید عالم نے کمال بے فکری سے میری بات کو ٹال دیا
’’ مگر بیٹا !!شکاری۔۔۔۔۔۔۔ ‘‘
میں نے مزید وضاحت کرنا چاہی لیکن میری بات ادُھوری رہ گئی، نوید عالم نے مسکرا کر میرا ہاتھ دبایا
’’ ارے ماسٹر صاحب یہ سب باتیں اب پرانی ہوگئی ہیں، زمانہ بدل گیا ہے، بچیاں اگر جلد بڑی ہوجاتی ہیں تو کیا اُن کو اپنے شوق پورے کرنے کا حق نہیں رہتا؟؟۔۔۔۔ آپ بے فکر رہیں‘‘
یہ کہتے ہوئے بیٹی کے باپ نے مسکرا کر مجھ سے اجازت طلب کی اور اپنے فلیٹ کو چل دیا۔
٭٭٭
ہر گزرتے پل کی طرح میری اور نوید عالم کے درمیان ہونے والی گفتگو بھی ماضی کا حصہ بن گئی ، سرما کی وجہ سے دن سکڑ گئے اور جلد اندھیرا پھیلنے لگا، سامنے فلیٹس کے رہنے والے لوگوں کے بچے اکثر عصر سے مغرب کے درمیانی وقفہ میں فلیٹس سے نیچے اتر کر دائیں بائیں برابر کے خالی پلاٹس پر بھاگم
دوڑی اور گیند بلا جیسے دیگر کھیل کھیلتے رہتے۔ میں تنگ سڑک پار دوسری جانب اپنی پرچون کی دوکان میں بیٹھا خالی اوقات میں اُن بچے بچیوں کو کھیلتا کودتا دیکھتا رہتا۔ بچے جس خالی پلاٹ پر کھیلتے تھے اُس کے ساتھ والے پلاٹ پر تعمیراتی کام جاری تھا۔ جیرا اُسی پلاٹ پر چوکیداری کیا کرتا تھا۔صبح سے پلاٹ کے گرد قائم چار دیواری کے دروازے کے پاس اپنے اسٹول پر بیٹھا رہتا اور مغرب ہونے تک مزدوروں کے چلے جانے کے بعد آہنی دروازہ بند کرکے پیچھے واقع کچی آبادی میں اپنے جھونپڑی نما مکان کے آگے بچھے تخت پر رات گئے تک لیٹا رہتا۔صبح ہوتی تو پھر اپنے اسٹول پر آکر بیٹھ جاتا۔ہر ایک کی زندگی معمول کے مطابق یوں ہی گزر رہی تھی۔محدود آمدنی اور بڑھتی مہنگائی کے عفریت کے سبب میری توجہ بھی کل کی روزی کی فکر میں مشغول رہنے لگی۔مگر اب بھی دوپہر کے وقت خاص طور پر تہمینہ سمیت کوئی بھی بچی میری دوکان سے کوئی چیز لینے آتی تو میں اُس کی مطلوبہ چیز دے کر اس کو اپنی نگاہوں کے حصار میں اپنی دوکان کے کاونٹر کے پیچھے سے نگاہ کی آخری حد تک چھوڑ کر آتا۔ اور پھر دوسرے گاہکوں کی جانب متوجہ ہوتا۔
’’ چچا جان!! امی نے ایک پاؤ ماش کی دال منگوائی ہے، ابو شام کو دفتر سے واپس آ کرروپے دے دیں گے آپ کو‘‘
نیم سرد دوپہر میں تہمینہ کی آواز نے مجھے اپنی جانب متوجہ کر لیا۔میں نے اثبات میں مسکراتے ہوئے سر ہلایا اور ایک پاؤ ماش کی دال تُول کر پلاسٹک بیگ میں تہمینہ کے ہاتھ میں تھاما دی۔
’’ دھیان سے سڑک پار کرنا بیٹی ۔۔۔‘‘
میں نے اُس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے نصیحت کی۔تہمینہ نے سمجھ جانے والے انداز میں سر ہلایا اور
اپنے فلیٹ جانے کے لئے سڑک پا ر کرنے لگی ۔ میں کاونٹر کے پاس کھڑااُس کو واپس جاتا دیکھنے لگا۔
’’ انکل!!آدھا پاؤماش اور ایک پاؤ مونگ کی دال دے دیں، ذرا جلدی کریں‘‘
دوکان پر آئی ایک خاتون کی آواز نے میری توجہ اپنی جانب مبذول کر لی اور میں انھیں اُن کی مطلوبہ
چیزیں دیکر فارغ ہوا تو ایک اور گاہک آن پہنچا اور پھر یہ سلسلہ ایسا چلا کہ میں عصر تک ایک ٹانگ پرکھڑا ہی رہا، محلے والے اکثر میری ہی دوکان سے مہینے بھر کاسودا لیتے۔ اِس لئے مہینے کے ابتدائی ایام میں اکثر میری ٹانگیں درد کرنے لگتی تھیں۔مغرب ہونے میں ابھی کچھ وقت باقی تھا،میں نے چند مستقل گاہکوں کے ماہانہ راشن کی لسٹ نکالی جو وہ مجھے صبح دفتر جاتے وقت دے گئے تھے اور اُن کا مطلوبہ سامان باندھنے لگاکہ یکایک فضا میں گونجتی ایک آواز نے توقع سے زیادہ کمائی ہونے کا سرور مجھ سے چھین لیا۔
محلے کی مسجد کے لاؤڈ اسپیکر سے موذن صاحب اعلان کر رہے تھے
’’ حضرات ایک ضروری اعلان سماعت فرمائیے، ایک بچی جس کی عمر نو سال ہے، گور ی رنگت اور گھنگھریالے بال ہیں ، فیروزی فراک پہنے ہوئے ہے، کسی صاحب کو ملے تو فوراــــ َ َ’النور ہائٹس ‘ کی انتظامیہ کو آگاہ کرے یا پھر اِس نمبر پر رابطہ کرے ۔۔۔۔۔ ‘‘
اور پھر موذن صاحب نے نوید عالم کا موبائل نمبربیان کیا۔اعلان سن کر میرا دل بیٹھنے لگا، میر ی نگاہوں کے سامنے تہمینہ کا شاداب چہرہ سامنے آ گیا۔وہ اپنے قد کاٹھ کے سبب اپنی ہم عمر بچیوں پہلے ہی نمایاں نظر آتی تھی اور اوپر سے اُس کا لباس ایسا ہوتا تھا کہ نظر میں آنا لازمی قرار پا جاتا، پھر ماں باپ کی بے فکری نے نو خیزکلی کی چاروں جانب احتیاط اور پابندیوں کے کانٹوں کوروندڈالا تھا۔ نئے فیشن اور چھوٹی عمر کے نام پربچی نہ جانے کتنی آنکھوں کی توجہ بن جاتی تھی۔ آنکھوں کا خیال ذہن میں آتے ہی میں نے پلٹ کے فورا سڑک پار جیرے کی بیٹھک پر نگاہیں جما دیں،آدھے کھلے آہنی دروازے کے پاس وقت سے پہلے اُس کا خالی اسٹول دیکھ کر میری آنکھوں کے سامنے پسینے سے تر، دانتوں سے ہونٹ کاٹتا، آنکھوں میں بلا کی چمک لئے اسٹول پر پہلو بدلتا جیرے کا خاکہ بھرپور انداز سے اُبھر آیا۔میری آنکھوں کے گردپل کو اندھیرا چھا یا، جسم پر لرزا طاری ہوا اور چھپاک کی آواز کے ساتھ میرے ہاتھ سے چینی کی تھیلی گر گئی ۔میں سر جھکائے دوکان کے فرش پر جابجا چینی کے بکھرے دانوں کو دیکھنے لگا اوربے ساختہ میری زبان سے وہ ادھوراجملہ نکل گیا جو کچھ دن قبل نوید عالم نے مجھے کہنے سے روک دیا تھا۔
’’شکاری اپنی بھوک مٹانے کے لئے کبھی شکار کی عمر نہیں دیکھتا۔۔۔۔۔‘‘
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: S.N Makhmoor
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Oct, 2016 Views: 536

Comments

آپ کی رائے