پیاس

(Aslam Lodhi, Lahore)
میں کتنا بدنصیب ہوں۔ انسان سہانے خواب تو دیکھ سکتا ہے لیکن تعبیر اس کے بس میں نہیں ہوتی۔ کاش…… بینش تو مجھ سے دور نہ جاتی۔ آج تم میرے پاس ہوتی تو میں کتنا خوش نصیب ہوتا۔ آج بھی پیار بھرے لمحات میرے ذہن کی سکرین پر نمودار ہو رہے ہیں۔ بینش تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا۔ مجھے تنہا اس زمانے کی ٹھوکریں کھانے کے لئے چھوڑ گئی ہو۔ دل ہے کہ تیری جدائی میں کہیں لگتا ہی نہیں ہے۔ یہ ماحول، یہ فضا مجھے کاٹنے کو دوڑتے ہیں۔

بینش آج تو نہ جانے کہاں ہو مگر میرا دل یہ تسلی دیتا ہے کہ تم میرے پاس ہو۔ تم میری روح میں سما چکی ہو۔ میرے دل کی دھڑکنوں میں اب بھی تیری کسک موجود ہے۔ بینش بے شک تیرا جسم مجھ سے جدا ہوا ہے لیکن تیرے ساتھ گزرے ہوئے پیار کے وہ لمحات آج بھی میرا گھیراؤ کئے ہوئے ہیں۔ میں تو یہ محسوس کرتا ہوں کہ تم یہیں کہیں میرے قریب ہو لیکن تیرا وہ پیار بھرا چہرہ میری نظروں سے کیوں اوجھل ہے۔
اگر تم میرے قریب ہو تو مجھے نظر کیوں نہیں آتی۔ دیکھو تیری یاد مجھے خون کے آنسو رُلا رہی ہے۔ میں تیری یاد میں مایوسیوں کی گہری کھائی میں گرتا جا رہا ہوں۔

اتنے میں فیاض کا دوست اسلم کمرے میں داخل ہوا تو اس نے فیاض کو انجانی کیفیت میں مبتلا پایا۔ فیاض کو خود سے باتیں کرتے ہوئے دیکھ کر اسلم خاموش ہو گیا۔ وہ بہت انہماک سے اس کی زبان سے نکلنے والے الفاظ سن رہا تھا۔ فیاض اردگرد کے ماحول سے بے نیاز نہ جانے کس سے دیوانوں کی طرح جگر پر تیر برسانے والی گفتگو میں مشغول تھا۔ اسلم نے فیاض کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ چونک گیا جیسے وہ تخیلات کی دنیا سے واپس لوٹ آیا ہو۔

اسلم کو دیکھتے ہی وہ بے ساختہ اس سے لپٹ گیا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو موتیوں کی لڑیوں کی طرح بہہ کر اسکے رخساروں پر تیر رہے تھے۔ اسلم حیران تھا کہ آج فیاض کو کیا ہو گیا ہے۔ نہ جانے آج کون سے دکھوں نے اسے گھیر لیا ہے کہ وہ خود سے پاگلوں کی طرح باتیں کئے جا رہا ہے۔

فیاض لاہور کے رائل پارک بیڈن گیسٹ ہاؤس کے ایک کمرے میں تنہا ہی رہائش پذیر تھا۔ وہ تھوڑے ہی فاصلے پر ایک بنک میں کام کرتا تھا۔ اسلم چونکہ اس کے اچھے دوستوں میں شمار ہوتا تھا اور فیاض بھی اس پر آنکھیں بند کرکے اعتماد کرتا تھا۔ پچھلے چند ماہ سے ان کے درمیان دوستی کا رشتہ استوار ہوا تھا۔ ابتدائی علیک سلیک کے بعد دوستی قربتوں میں بدلنے لگی حتیٰ کہ یہ دونوں اتنے قریب آ گئے کہ دونوں اپنے دل کی بات ایک دوسرے سے کرنے میں عار محسوس نہیں کرتے تھے۔ ایک دوسرے کی زندگی کے خفیہ گوشے آہستہ آہستہ کھل رہے تھے۔ اسی لئے آج فیاض پر جو کیفیت طاری تھی وہ اسلم کی سمجھ سے بالاتر تھی۔ لیکن وہ اپنے دوست کو اس حالت میں دیکھ کر پریشان ضرور تھا۔ وہ جلد سے جلد فیاض کے دل کی بات معلوم کرنا چاہتا تھا۔ تاکہ جو غم اور دکھ فیاض کے دل میں گھر کر چکے ہیں، اگرچہ ان کی اذیت ختم نہیں کی جا سکتی تھی لیکن کم ضرور کی جا سکتی تھی۔

اسلم نے فیاض سے اصرار کیا کہ وہ اپنی اداسی کی وجہ بتائے لیکن فیاض خاموش رہا۔ اس کی ہچکیاں رک گئیں اور وہ تخیلات کی دنیا سے نکل آیا اور اپنے دوست کے لئے کولڈ ڈرنک لینے کے لئے کمرے سے باہر چلا گیا۔ اسی اثنا میں اسلم نے قریب ہی پڑی ڈائری کو کھولا تو اس میں چند محبت بھرے خطوط ملے جو بینش نے فیاض کو لکھے تھے۔ یہی خطوط اب اس کی زندگی کا سرمایہ تھے۔ جسے بار بار پڑھنے سے اس کے دل کے زخم تازہ ہو جاتے لیکن یہ درد اور ٹھیس اسے راحت پہنچا رہی تھیں۔ دراصل وہ خود بھی بینش کی یاد کو بھلانا نہیں چاہتا تھا کیونکہ کسی نے کیا خوب کہا کہ یادیں بہت ظالم ہوتی ہیں۔ برسوں بعد انسان کی شخصیت کے گرد لپٹے ہوئے خود ساختہ خول سے ٹکرا کر روح کے پاتال میں چھپے ہوئے زخموں کو کھرچ ڈالتی ہیں۔ اگر انہیں دل کی گہرائیوں سے کھرچنے کی کوشش کی جائے تو دل پر درد کی خراشیں پڑ جاتی ہیں۔ پیار بھری زندگی کا ایک ایک لمحہ، ایک ایک پل تنہائی میں صدیوں پر بھاری ہو جاتا ہے۔ یادیں تنہائی میں انسان کو ناگ کی طرح ڈسنے لگتی ہیں۔ انسان انہیں محسوس تو کر سکتا ہے لیکن چھو نہیں سکتا اور یونہی یادوں کی جلائی ہوئی بھٹی میں انسان جلتا رہتا ہے۔

اسلم خطوط کو سرسری طور پر دیکھ کر خود بھی تخیلات کی دنیا میں کھو گیا تھا۔ اب وہ فیاض کا دکھ حقیقی معنوں میں سمجھ رہا تھا کہ اتنے میں کمرے کا دروازہ کھلا اور فیاض کمرے میں داخل ہوا۔ فیاض نے کولڈ ڈرنک پیش کیا۔ فیاض نے اسلم کے ہاتھ میں وہ ڈائری بھی دیکھ لی۔ جس میں بینش کے محبت بھرے خطوط موجود تھے۔ اسلم نے وقت ضائع کئے بغیر ہی فیاض سے ان خطوط کے بارے میں پوچھ لیا۔ فیاض نے کہا کہ یہ لمبی کہانی ہے۔لیکن اسلم کے بے حد اصرار پر فیاض سب کچھ بتانے پر راضی ہو گیا۔ اسلم انہماک سے فیاض کے سامنے بیٹھا ہوا اس کی کہانی سننے لگا اور اس کے ماضی کے گزرے ہوئے لمحات کو کریدنے لگا۔ اس نے بتایا :
فیاض نے بتایاکہ میں وزیرآباد کے مغرب میں واقع گاؤں ’’برج چیمہ‘‘ کا رہنے والا ہوں۔ جو شہر سے 20 میل کے فاصلے پر دریائے چناب کے بائیں کنارے پر واقع ہے۔ گاؤں میں ہمارا خاندان بہت عزت و تکریم کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ اس کی کئی وجوہات تھیں۔ ان میں سے ایک وجہ یہ بھی تھی کہ میرے والد گاؤں کے سرکردہ لوگوں میں شامل تھے گاؤں میں کوئی بھی فیصلہ ان کی شرکت کے بغیر نہیں ہو سکتا تھا۔ ابتدائی تعلیم گاؤں سے تھوڑے ہی فاصلے پر موجود ہیڈ خانکی میں حاصل کی۔ میٹرک کے بعد مجھے وزیرآباد میں اپنے بھائی کے گھر منتقل ہونا پڑا جو وہاں ایک فرم میں ملازم تھا اور ہر روز سفر کی صعوبت سے بچنے کی خاطر شہر میں ہی کرائے کے مکان میں رہتا تھا۔ وہ شادی شدہ تھا اس لئے کھانے پکانے میں بھی سہولت رہی۔ وقت دریا کے پانی کی طرح دھیرے دھیرے ماضی میں تبدیل ہوتا گیا۔

ایک دن میں جب کالج سے واپس آیا۔ گھر کے دروازے پر دستک دی۔ اچانک میری نظر ہمارے مکان کے بالکل سامنے ایک لڑکی پر پڑی جو اپنے گھر کی بالکونی میں کھڑی تھی۔ میں نے جب اس کی طرف دیکھا تو اس کی نگاہیں بھی بے اختیار میری طرف اٹھیں۔ میں اس کی آنکھوں میں اس قدر کھو گیا کہ نظریں ہٹانے کو جی ہی نہیں چاہا رہا تھا۔ وہ حسن کا شاہکار تھی۔ چہرہ جیسے چودھویں کا چاند، اس کی نگاہوں کے تیر میرے جگر میں ایسے پیوست ہوئے کہ ایسا محسوس ہوا جیسے مجھے بجلی کا کرنٹ لگ گیا ہو۔

کچھ دیر مسلسل دیکھنے کے بعد اس نے اپنی نگاہیں جھکا لیں۔ شاید میں اسے مدتوں ایسے ہی دیکھتا رہتا کہ اتنے میں میری بھابی نے دروازہ کھول دیا اور میں چونک گیا۔ بھابی بدحواسی کی وجہ پوچھنے لگی۔ میں ان کی بات ان سنی کرکے گھر میں داخل ہو گیا۔ کپڑے تبدیل کرکے دوپہر کا کھانا کھانے لگا۔ دوپہر کو میرا یہ معمول تھا کہ کچھ وقت کے لئے سو جاتا تھا۔ پھر شام کو اپنی پڑھائی میں مصروف ہو جاتا۔ میں گھر سے بہت کم نکلتا تھا۔ اس شہر میں میرے ایک دو دوست ضرور تھے لیکن کبھی کبھار ان سے ملاقات ہو جاتی۔ زندگی یونہی گزرتی جا رہی تھی لیکن آج جب میں کھانے کے بعد سستانے کے لئے چارپائی پر لیٹا تو ذہن بار بار اس لڑکی کے بارے میں سوچنے لگا جس نے اپنی خوبصورت نگاہوں کے تیر میرے جگر کے پار کر دیئے تھے۔ میں نے بھی محبت کا لفظ سن رکھا تھا بلکہ محبت کو بے وقوفی کا نام دیتا تھا۔ اب میں خود بھی محبت کی چنگاری کو اپنے اندر سلگتے محسوس کر رہا تھا۔ مجھے یقین آنے لگا کہ یہ جذبہ جسم کا درجہ حرارت بڑھانے کی بجائے دل کو کتنا سکون اور سرور بخشتا ہے۔ مجھے ایسے محسوس ہوا جیسے محبت کا بھوت مجھ پر سوار ہو چکا ہے۔ یہ سوچتے ہوئے میرا ذہن غنودگی کے عالم میں پہنچ گیا اور کچھ وقت اسی حالت میں رہنے کے بعد جب بیدار ہوا تو دوبارہ کوشش کرنے کے باوجود بھی میں سو نہ پایا بلکہ اس پری جمال چہرے کے بارے میں سوچنے لگا۔

میں محسوس کر رہا تھا کہ میں جس حسن کی دیوی کی تلاش میں تھا وہ مجھے مل گئی۔ اب آنکھیں ہر وقت اسی کی تلاش میں رہنے لگیں اور جب تک اس ملکہ حسن کو دیکھ نہ لیتا دل کو سکون نہ ملتا۔ محبت کے مرض میں مبتلا ہونے کے بعد میں اس قدر حساس ہو چکا تھا کہ تھوڑی آہٹ بھی یہ احساس دلانے کے لئے کافی ہوتی کہ شاید وہ آ گئی۔ دن رات اسی کے خیالات میں بسر ہونے لگے۔ میں کالج جاتا لیکن کالج کے ماحول سے بھی اکتاہٹ سی محسوس ہونے لگی۔ جب پڑھنے کے لئے کتاب کھولتا تو کتاب کے صفحے پر وہی جانا پہچانا چہرہ میری پیاسی نگاہوں کے سامنے ابھر آتا۔

ایک دن جب میں تیار ہو کر کالج جانے کے لئے گھر سے نکلا تو اسی پری جمال چہرے سے سامنا ہو گیا بے ساختہ آنکھیں چار ہوئیں اور کچھ دیر کے لئے دونوں حقیقت کی دنیا سے بے نیاز تخیلاتی دنیا میں تیرنے لگے۔ زیادہ دیر تک اسی حالت میں رہنا ناممکن تھا کیونکہ گلی میں کچھ اور لوگ بھی موجود تھے۔ چنانچہ اب ہر صبح یہی سلسلہ چل نکلا۔ بینش مجھے اپنی مسکراہٹوں سے الوداع کہتی اور میں دن بھر کے لئے اس کی محبتوں کو اپنے اندر سمیٹ لیتا۔ کبھی ایسا بھی ہوتا کہ اس کی یاد اتنا پریشان کر دیتی تھی کہ کہیں ٹھہرنے کو جی ہی نہیں چاہتا تھا اور میں اپنے دل پر کنٹرول کھو چکا تھا لیکن کئی مرتبہ میں نے ارادہ بھی کیا کہ بینش کو بتا دوں کہ رات کی تنہائی میں تیرا ہی خیال آتا ہے۔ جب نیند آ جاتی ہے تو خوابوں میں بھی تیرا ہی راج ہوتا ہے لیکن خوابوں کی دنیا اس لئے بہت منفرد ہے کہ اس میں مجھے تم سے ملنے کے لئے کوئی روک نہیں سکتا۔ اور خواب میں بینش تم بھی مجھے اتنا پیار کرتی ہو کہ حقیقت کا شبہ ہونے لگتا ہے۔
وقت کا پنچھی پر لگائے اڑتا جا رہا تھا۔ ایک دن موسم صبح ہی سے بہت خوشگوار تھا۔ آسمان پر بادلوں سرگرداں تھے جن کی گردش سے کبھی دھوپ کبھی چھاؤں کا سماں پیدا ہو چکا تھا۔ میں گھر کے صحن میں بیٹھا ہوا فضاؤں میں گھور رہا تھا کہ اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی۔ میں نے دروازے پر دیکھا تو پھر دیکھتا ہی رہ گیا۔ کیونکہ حسن کے اچھوتے شاہکار کو میں اپنے صحن میں اترتا ہوا میں جاگتی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔ میں بے ساختہ اپنی جگہ پر کھڑا ہو گیا۔ اس وقت میں گھر میں اکیلا تھا۔ چھٹی کے دن بھابی اور بھائی سودا سلف لینے کے لیے بازار گئے ہوئے تھے۔ بینش میرے بالمقابل کھڑی ہوئی اور اپنی نگاہیں میری نگاہوں میں پیوست کر چکی تھی ۔ دونوں کے لب بالکل خاموش تھے۔ اردگرد کے ماحول سے بے بہرہ یہ تماشا کافی دیر تک چلتا رہا۔ میں چاہت بھرا کوئی بھی لمحہ ضائع نہیں کرنا چاہ رہا تھا اور اپنے دل ہی دل میں بہت خوش تھا۔ میرے دامن پر بینش کی خوشبو کی پھوار پڑ رہی تھی۔

لبوں پر لگے ہوئے خاموشی کے تالے کو پہلے بینش نے توڑا۔ کانپتے ہوئے ہونٹوں سے پوچھا کہ بھابی کہاں ہے۔ میں نے اپنی نگاہوں کو اس کے جسم پر مرکوز رکھتے ہوئے بتایا کہ وہ بازار گئی ہیں۔ چونکہ اب گھر میں تنہا تھا اس لئے بینش نے زیادہ دیر ٹھہرنا مناسب نہیں سمجھا لیکن میں اس موقع کو غنیمت سمجھ رہا تھا۔ وہ محبت جو ابھی خاموشی کی زبان لئے ہوئے تھی۔ حقیقت کا روپ دھار رہی تھی۔ بینش نے اپنے دائیں ہاتھ میں پکڑا ہوا ایک کاغذ کا ٹکڑا مجھے دیا اور خود تیز تیز چلتی ہوئی گھر سے باہر نکل گئی۔ بے قرار اور تجسس کے ملے جلے تاثرات سے اس کاغذ کے ٹکڑے کو کھولا۔ جس میں یہ لکھا ہوا تھا۔
میرے سپنوں کے راجہ! سلام شوق بہت دنوں سے آپ میرے تن بدن میں محبت کی شمع جلائے بیٹھے ہیں۔ اگر وقت ملے تو شام 5 بجے کالج کے پیچھے پارک میں چلے آنا میں تمہارا وہیں انتظار کروں گی۔
تمہاری چاہتوں کی پیاسی
بینش

کاغذ کیا تھا خوشی کا چھلکتا ہوا ایک جام تھا۔ مجھے ایسے محسوس ہوا جیسے میں ہواؤں کے دوش اڑتا چلا جا رہا ہوں اور بینش میرے پہلو میں موجود ہے۔ وہ خواب جو میں نے بینش کے بارے میں دیکھ رکھے تھے حقیقت کا روپ دھارتے نظر آ رہے تھے۔

میں سوچنے لگا کہ شاید وقت ٹھہر جاتا اور بینش یہیں پر مجسمہ حسن بن کر میرے سامنے کھڑے رہتی۔ لیکن یہ کیسے ممکن تھا۔ پہلی ہی ملاقات میں زندگی بھر کے مزے تو نہیں لئے جا سکتے۔

میں بے تابی سے شام کا انتظار کرنے لگا۔ معمول کے برعکس میں بن سنور کر مقررہ جگہ پر پہنچ گیا۔ میں نے بینش کو پہلے سے وہاں موجود پایا۔ کچھ دیر ماحول پر خاموشی چھائی رہی۔ پھر میں نے خاموشی کے طلسم کو توڑتے ہوئے کہا کہ بینش آج موسم کی مناسبت سے تم پرستان کی پری لگ رہی ہو۔ میں یقین بھی نہیں کر سکتا تھا کہ تم مجھے اتنی جلدی مل جاؤ گی۔ اگر تم نے میرا محبت بھرا ہاتھ تھام لیا ہے تو پھر یہ عہد کرو کہ زندگی بھر اس عہد کو نبھاؤ گی۔ بینش تم میرے خوابوں کی تعبیر ہو، تمہاری معصوم صورت نے میرے دل کو دیوانہ کر دیا ہے۔ تم مجھے کھلتا ہوا گلاب محسوس ہوتی ہو۔ جس کی مہک میری سانسوں میں ہی نہیں میرے انگ انگ میں بھی رچ بس گئی ہے۔

سورج بہت تیزی سے مغرب کی پستیوں میں ڈوب رہا تھا۔ اور گرمی کی شدت میں کمی آ رہی تھی۔ چونکہ دریائے چناب بھی یہاں سے زیادہ فاصلے پر نہ تھا اس لئے ہوا میں خوشگواری بڑھ چکی تھی۔

شوخ اور چنچل ہوا کا جھونکا بینش کے رخساروں کو جب چھوکے جسم کو گدگداتا تو میں ایک حسین سا لطف اپنے اندر محسوس کرتا۔ بلکہ نشے میں جھومنے لگتا۔ اتنے میں بینش بولی، مجھے علم ہے کہ تم میری یونہی تعریف کئے جا رہے ہو۔ میں اتنی خوبصورت نہیں ہوں۔ اگر خوبصورتی ہے تو تیری آنکھوں میں ہے جس نے مجھے پہلی ہی نظروں میں گھائل پنچھی کی طرح اپنے دل میں اتار لیا تھا۔ میں والدین کی اکلوتی بیٹی ہوں اور میرے والد ملازمت کے سلسلے میں کویت میں ہیں۔ سال میں ایک بار پاکستان آتے ہیں اور ایک دو ماہ رہنے کے بعد وہ پھر واپس چلے جاتے ہیں۔ میں نے میٹرک کا امتحان پاس کر لیا ہے اور مجھے آگے پڑھانے پر میرے والدین راضی نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ضرورت سے زیادہ آزادی اچھی نہیں ہوتی۔ حالانکہ میں پڑھنا چاہتی تھی لیکن والدین کی خواہش کے آگے سر تسلیم خم کر نا پڑا۔ اب صبح سے شام تک ایک ہی روٹین ہوتی ہے لیکن جب سے تم سے آنکھیں چار ہوئی ہیں زندگی نے ایک نئی کروٹ لی ہے اور ہر لمحے میری نگاہوں کو تیری ہی تلاش رہتی ہے۔ اگر تمہیں صبح کو الوداع نہ کر لوں تو سارا دن گزارنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اب تو یوں محسوس ہونے لگا ہے کہ مجھے خود پر قابو نہیں رہا۔ میرے سکون اور تسکین کی دوا اب تیرے پاس ہے۔ بینش اپنا مختصر سا تعارف کروا کر خاموش ہو گئی۔

آؤ بینش آج ہم ہاتھوں میں ہاتھ لے کر یہ قسم کھائیں کہ اگر جئیں گے تو اکٹھے اور مریں گے تو اکٹھے۔ دنیا کی کوئی طاقت ہمیں جدا نہ کر پائے گی۔ میں نے بینش کا چہرہ اپنے ہاتھوں سے اوپر کیا اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر یہ عہد لیا۔ باتوں ہی باتوں میں وقت کے گزرنے کا احساس ہی نہیں رہا اور رات کی سیاہ چادر گرد و نواح کو اپنی لپیٹ میں لینے لگی۔ اس طرح یہ ملاقات ختم ہو گئی اور دونوں اپنے اپنے گھر آ گئے۔ لیکن دونوں کے چہروں پر خوشی کے چشمے پھوٹ رہے تھے۔ اس ملاقات کے بعد کئی بار ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ بینش اکثر بھابی کو ملنے کے بہانے ایسے وقت میں آتی جب گھر میں اکیلا موجود ہوتا بلکہ کئی بار تو بھابی کو دکھانے کی خاطر مجھ سے پڑھائی کے بارے میں پوچھنے لگتی۔ رسمی گفتگو کے ساتھ ساتھ وہ مجھ سے بات کرنے کی راحت سے بھی لطف اندوز ہو جاتی۔ انہیں دنوں میرے امتحان شروع ہو گئے۔ میں امتحان کی تیاری کے لئے اس کھڑکی میں بیٹھ جاتا جہاں سے بینش کا گھر صاف نظر آتا تھا۔ وقفے وقفے سے بینش سامنے آ کر مجھے اپنی نگاہوں کے جام پلاتی اور پھر نظروں سے اوجھل ہو جاتی لیکن میری پیاسی نگاہیں بار بار بینش کو تلاش کرتیں۔ چاہت کی یہ پیاس کبھی کم نہیں ہوپارہی تھی۔

جیسے ہی میں امتحان سے فارغ ہوا۔ مجھے شدید بخار رہنے لگا۔ قریبی ڈاکٹر سے چیک کروایا۔ کئی دن تک دوائی وغیرہ بھی لی لیکن کوئی افاقہ نہ ہوا۔ بالآخر مجھے سرکاری ہسپتال میں داخل کروا دیا گیا۔ ڈاکٹر مناسب علاج کر رہے تھے۔ عزیز و اقارب مسلسل مزاج پرسی کے لئے آ رہے تھے لیکن وہ چہرہ جس کی مجھے تلاش تھی جس کے پاس میری بیماری کاعلاج تھاوہ مجھے نظر نہیں آ رہا تھا۔ ایک دن بینش کی والدہ مجھے دیکھنے کے لئے ہسپتال آئیں۔ جب کمرے میں داخل ہوئی تو میں نے سمجھا کہ شاید بینش بھی ساتھ ہو گی لیکن بینش کو ساتھ نہ دیکھ کر تڑپ کر رہ گیااور دل سے ایک ہوک سی اٹھی کاش بینش بھی اپنی والدہ کے ساتھ مجھے دیکھنے آجاتی اور میں اسے دیکھ کر اپنے دکھ اور بیماری بھول جاتا۔

بینش کو ملے کافی دن گزر چکے تھے۔ اس لئے میں ہسپتال سے اکتا چکا تھا۔ پھر چند دنوں بعد ہسپتال سے چھٹی ہو گئی اور میں گھر آ گیا۔ دوپہر کے وقت جب گھر کے سبھی افراد سو رہے تھے اور میں جاگ رہا تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی اور ساتھ ہی بینش گھر میں داخل ہوئی۔ مجھے کمرے میں اکیلا پا کر مجھ سے چمٹ گئی۔ میں تو پہلے ہی اس کی محبت میں پاگل ہوا جا رہا تھا۔ میں نے بھی اپنی بانہیں کھول کر بینش کو اپنی آغوش میں سمیٹ لیا اور کچھ دیر تک دونوں سکتے کی حالت میں رہے۔ پھر گلے شکوے شروع ہو گئے۔ میرا یہ اصرار تھا کہ بینش تمہیں ہسپتال آنا چاہئے تھا میں تمہارا منتظر رہا لیکن تمام لوگ آئے صرف تم نہ آئی تو محسوس ہو رہا تھا کہ میں تمہارے بغیر ادھورا سا رہ گیا ہوں۔ گوشہ تنہائی میں دونوں کا اکٹھے بیٹھنا خطرے سے خالی نہ تھا اس لئے بینش دوبارہ ملنے کا وعدہ کرکے واپس چلی گئی۔ پھر بینش باقاعدگی سے میری خیریت دریافت کرنے آنے لگی۔ ہماری محبت دنوں سے مہینوں اور مہینوں سے سالوں میں ڈھلتی چلی گئی۔ ہمارا ہر دن اور ہر رات خوشگوار گزرنے لگی وہ خوشبو کی طرح آتی اور گھر کو مہکا کر چلی جاتی میں اسی خوشبو کے سہارے اپنی بیماری بھول جاتا ۔

پھر ایک دن مجھے یہ خبر ملی کہ بینش کے والد کویت سے آ گئے ہیں چونکہ دونوں گھروں میں ملنا جلنا بہت زیادہ ہو گیا تھا اس لئے میں بھی ان سے ملنے کے لئے بینش کے گھر گیا اور بینش کے والد بھی ہمارے گھر آئے۔ میں اس بات پر خوش تھا کہ بینش کے والد مجھے پسند کرنے لگے ہیں اور اب بینش سے ملنے میں کوئی امر مانع نہیں تھا۔

ایک رات جب محلے کے سبھی لوگ گہری نیند سو رہے تھے۔ دروازے پر دستک ہوئی۔ میرا بھائی گھر پر موجود نہیں تھا۔ وہ کسی کام سے گاؤں گیا ہوا تھا۔ میں نے دروازہ کھولا تو باہر بینش کی والدہ کھڑی نظر آئی۔ میں انہیں دیکھ کر ششدر رہ گیا اور بے ساختہ بولا کہ خالہ جی کیا بات ہے۔ بینش کی والدہ بہت گھبرائی ہوئی تھی انہوں نے گھبراہٹ کے عالم میں بتایا کہ بینش کے والد کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی ہے انہیں فوراً ہسپتال لے جانا پڑے گا۔ اگر زحمت نہ ہو تو تم ہمارے ساتھ چلو۔ میں تو پہلے ہی اس خاندان میں شامل ہونے کے لئے بے تاب تھا چنانچہ ہمدردی دکھانے کا یہ بہترین موقع تھا۔ ہم بینش کے والد کے ساتھ رات کے اندھیرے میں ٹیکسی کے ذریعے ہسپتال پہنچے۔ جہاں فوری طور پر طبی امداد فراہم کر دی گئی۔ بینش اور اس کی والدہ بھی ہسپتال میں موجود تھیں ہمدردی کے بہانے میں بینش سے باتیں کرتا جا رہا تھا اور اپنے دل کی بھڑاس نکالنا چاہتا تھا۔ دل ہی دل میں بینش کے والد کو دعائیں دے رہا تھا جس نے ہم دونوں کو اتنا قریب کر دیا۔

پھر سات دن تک ہسپتال میں، میں نے اور بینش نے خوب انجوائے کیا۔ کچھ دنوں بعد بینش کے والد گھر منتقل ہو گئے۔ میں اب مزاج پرسی کے بہانے بینش کے گھر پہنچ جاتا اور گھنٹوں پر مشتمل گفتگو چلتی رہتی۔ وقت اتنا تیزی سے گزر رہا تھا کہ انہیں احساس ہی نہیں ہوا کہ بینش کے والد کی چھٹی ختم ہو رہی ہے بلکہ بینش کے والد ایک ایسا فیصلہ کر چکے تھے جس سے ہمارے تمام سپنے چکنا چور ہونے والے تھے۔ وہ فیصلہ بینش اور اس کی والدہ سمیت کویت جانا تھا چونکہ بیماری نے انہیں اور بھی بزدل بنا دیا تھا۔ اس لئے وہ چاہتے تھے کہ زندگی کے جتنے دن بھی باقی ہیں اکٹھے گزاریں۔

ایسی ہی ایک شام جب میں بینش کے گھر میں داخل ہوا تو بینش نے اپنے والد کا یہ فیصلہ سنایا اور کہا کہ اب ہماری محبت کا کیا انجام ہو گا۔ ہم نے تو ساتھ رہنے کی قسمیں کھائی تھیں ان کا کیا بنے گا۔ ہم دونوں اس فیصلے سے بجھ گئے۔ مجھ میں اتنی قوت نہیں تھی کہ بینش کو روک لیتا اور نہ ہی بینش میں اتنی طاقت تھی کہ وہ اس فیصلے کو چیلنج کرتی۔ بالآخر وہ منحوس دن بھی آن پہنچا۔ جب بینش کو اپنے والدین کے ساتھ کویت جانے کے لئے لاہور روانہ ہونا تھا۔

بھیگی ہوئی پلکوں، اداس دلوں اور پریشان چہروں کے ساتھ دونوں ایک دوسرے سے جدا ہو گئے۔ ان دونوں میں سے کوئی بھی اپنا کیا ہوا عہد نہ نبھا سکا۔
................
فیاض کو بنک میں آفیسر گریڈ میں ملازمت مل گئی اس لئے وہ لاہور شفٹ ہو گیا۔ فیاض کی درد بھری داستان سن کر اسلم کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ اس نے فیاض کو حوصلہ دیا کہ زندگی میں ایسے حادثات ہوتے رہتے ہیں۔ یہ ضروری نہیں کہ انسان جس چیز کی خواہش کرے وہ اسے مل بھی جائے۔ اس لئے صبر کرو اور زندگی کا نئے سرے سے آغاز کرو شاید کوئی پری چہرہ تمہیں زندگی بھر سہارا دینے کے لیے آمادہ ہوجائے۔

یہ حوصلہ بھری باتیں کہہ کر اسلم فیاض سے اجازت لے کر واپس اپنے گھر چلا گیا۔یوں اس محبت بھری کہانی جو نہ ختم ہونے والی پیاس کی صورت دھار چکی تھی اختتام کو پہنچی ۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Aslam Lodhi

Read More Articles by Aslam Lodhi: 575 Articles with 292106 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Oct, 2016 Views: 940

Comments

آپ کی رائے