ماہ محرم کا آغاز ہمیشہ یذیدیت ، فرعونیت اور طاغوطیت کیلئے ایک سبق کی حیثیت رکھتا ہے

(Syed Anis Bukhari, Karachi)
ماہ محرم غم و اندوہ کا ایک ایسا خونچکاں مہینہ ہے جس میں آل رسول کے ساتھ ہونے والے مظالم ہمیں حسینیت اور یذیدیت میں حق و باطل کی پہچان کرواتے ہیں۔ مظالم سے لبریز اور خون میں نہایا ہو ا محرم کا مہینہ جسے ہم ہجری سال کا پہلا مہینہ کہتے ہیں یہ ماہ و سال کے ان بارہ دروازوں میں کھلنے والا وہ پہلا ماہ ہے جو کھلتے ہی اپنے اندر سینکڑوں مظالم کی کہانیاں،پر تشدد واقعات اور جبر و ستم سے لبریز ایسے دلدوز اور رنج و غم کے المناک حادثات لئے ہوئے ہے جو ہمیں خون کے آنسو رلاتا ہے ۔ مگر نہ جانے ہماری غیرت اسلامی اور اہلبیت سے محبت اور مودت، کہاں دفن ہو چکی ہے کہ ایک ایسے ماہ جسمیں ہر طرف خون ہے، العتش، العتش کی فریا د ہے، معصوم بچوں کی آہ وبقا ء ہے، دلدوز چیخیں ہیں، مخدرات اہلبیت کی چیخ و پکار ہے، ہر طرف شامیانوں میں آگ لگی ہوئی ہے۔ رسول کی بیٹیاں بے پردہ اپنی آبرو کی حفاظت کیلئے سر بکف ہیں، بچوں کے منہ پر طمانچے مارے جا رہے ہیں اور ہم اتنے بے غیرت اور بے حس ہو چکے ہیں کہ اپنے رسول کے اس خاندان پر ہونے والے مظالم کو بھول کر جان بوجھ کر یذیدیت کی جانبداری میں ایک دوسرے کو اس خون و کشت میں نہائے ہوئے ماہ محرم کی مبارک باد یں دیتے ہوئے تھکتے نہیں کہ انکی غیرت شاید مر چکی ہے۔جیسے ہی محرم کا خون الود چاند نمو دار ہوا میرے موبائل فون پر لوگوں کی محرم کے نئے سال کی مبارکباد وں کا تانتا بندھ گیا اور میں تھا کہ اس ماہ کی نسبت سے اہلبیت پر ہونے والے ان مظالم کو یاد کر رہا تھا جو ان پر ڈھائے گئے۔ایسے مظالم کہ جن پر آسمان رو رہا تھا اور زمین شرم کے مارے گڑی جا رہی تھی کہ اسکے سینے پر مظلومین کا خون بہا کر قیامت تک نہ بھلائی جانے والی ظلم کی داستانیں رقم کی جا رہی تھیں۔ اصل میں ہم ظلم و بربریت اور غم و خوشی کے آداب سے اتنے نا اشناء ہو چکے ہیں کہ ہم اپنے نبی کی اہلبیت پر ڈھائے جانے والے مظالم اور اپنے اسلاف کی قربانیوں کو بھلا کر جان بوجھ کر ایک ایسا ماحول پیدا کرنا چاہتے ہیں کہ ہم ان تمام مظالم اور قربانیوں کو بھول جائیں اور ہم انہیں پس پشت ڈال کر ایسے حالات کی داغ بیل ڈالنے میں مصروف ہیں جس میں واقعہ کربلا کا خاتمہ ایک خارجی طبقے کی اولین ترجیح ہے جو یذیدیت کے ان مظالم کو چھپاکر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے لوگوں کے اذہان سے نکالنا چاہتا ہے تاکہ حسینیت کا نا م لینے والے مٹ جائیں ۔ مگر ایسی مکروہانہ چالیں چلنے والے اور انتہائی قبیح سوچ کے مالک شاید یہ نہیں جانتے کہ حسینیت کا علم رہتی دنیا تک قائم رہنے کیلئے بلند ہے اور اسے لاکھ کوششوں کے باوجود مٹانے کے درپے لوگوں کیلئے اسے جھکانا نا ممکن ہے ۔ محرم تو غم کا مہینہ ہے اور ایسے خانوادے کا غم جس کے ذکر کے بغیر درود بھی مکمل نہیں ہوتا ۔ ہمارے سال کا آغاز اور اختتام قربانیوں پر منتج ہے۔ غریب و سادہ و رنگین ہے داستان حرم۔۔۔۔۔۔ نہایت اسکی حسین ابتدا اسماعیل۔۔۔محرم کے مہینے کا آغاز ہمیں یذیدیت اور حسینیت میں فرق کرنے کاپیغام دیتا ہے مگر ہم ا س سے یکسر چشم پوشی کرتے ہوئے اپنے اسلاف کی ارواح کو تکلیف پہنچاتے ہوئے ایک دوسرے کو اس ماہ کے شروع میں مبارک باد دیتے ہیں جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ حسین اور انکی اولاد کی بے بہا اور نا قابل فراموش قربانیاں ہمارے لئے کوئی اہمیت نہیں رکھتیں اور ہم اہلیبیت کے غم کو اپنا غم نہیں سمجھتے۔ اسلام کا نام بلند کرنے کیلئے اپنے خاندان کو قربانیوں کیلئے پیش کر نا ایک ایسا جذبہ اور ایثار تھا جو آجتک نہ کوئی پیش کر سکا اور نہ ہی قیامت تک پیش کیا جا سکے گا۔ وقت کے افق پر نمو دار ہونے ولا محرم الحرام کا چاند اپنے ذردی مائل چہرے سے نمو دار ہوتے ہی حسین کو ماننے والے اس سال کا آغاز اہلیبیت کی ساتھ ہونے والے مظالم کی یادسے کرتے ہیں کہ یہی فطری انداز ہے جس سے زندگی کا آغاز ہوتا ہے یعنی ایک نومولود بچہ جب اس دنیا میں آتا ہے تو اسکی پہلی آواز رونے کی ہی ہوتی ہے جس سے ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ رونے کی کتنی اہمیت ہے۔ حسین کو ماننے والے اس سال کا آغاز غم، اضطراب، بے چینی، رونے ، گریہ کرنے اور آنسوؤں کو بہا کر کرتے ہیں تاکہ نبی کی آل پر ڈھائے جانے والے ظلم و ستم کو یاد کر کے انہیں پرسہ دیا جائے مگر کچھ لوگ ا س مہینے کے تقدس کو پا مال کرتے ہوئے اسے زندگی کے آغاز کی علامت کے طور پر یذیدیت کی یاد میں مبارک بادیں دیتے ہوئے مناتے ہیں جبکہ تا قیامت اس میں خوشی اور انبساط کی کیفیت کو تلاش کرنے والے شاید یہ بھول چکے ہیں کہ یہ ایک ایسا غم ہے جس میں چھ ماہ کے پیاسے بچے کو شش مونہاں تیر داغ کر بربریت کی داستان کو رقم کیا گیا، یہ ہمارے لئے ایک ایسی غمناک اور پر آشوب شروعات ہے جس میں معصومین کا پانی بند کیا گیا، اسکی شروعات ایسے خونچکان مہینے سے شروع ہوتی ہے جس میں بربریت کی تاریخ رقم کی گئی، یہ ایک ایسی شروعات ہے جس میں رسول اکرم کے نواسے نے اپنے نانا کے دین کو بچانے کیلئے بربریت اور ظالمین کے اس گلشن پر ان وحشیانہ حملوں کو اپنے اہل و عیال اور اپنے رفقاء کے خو ن کا عطیہ دیکر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ایک ایسی تاریخ رقم کردی جس میں حق ہمیشہ کیلئے غالب آ گیاور اور یذیدیت کے گلے میں ہمیشہ ہمیشہ کیلئے رہنتی دنیا تک لعنت کا ایسا طوق ڈال دیا گیا جسے اسکے ماننے والے آج بھی نہ اتار سکے اور اسکے لئے ایسی بھونڈی اور شرمناک روایات قائم کرنا چاہتے ہیں جسے وہ اسلام کے رنگ میں ڈھال کر کربلا کے اس واقعے کہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے لوگوں کے اذہان سے محو کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور اسکے لئے وہ روز عاشور سے لیکر روز قیامت تک بھی لگے رہیں تو واقعہ کربلا کی یاد لوگوں کے اذہان سے نہ نکال پائینگے کیونکہ جب تک حسین کے چاہنے والے زندہ ہیں وہ مساجد میں، امام بارگاہو ں میں، گلیوں میں بازاروں میں، شاہراہوں پر اپنا اور اپنے بچوں کا خون بہا کر کربلا کی اس یاد کو ہمیشہ زندہ و جاوید رکھیں گے۔ حق و باطل اور طاغوتی اور شیطانی قوتوں کا یہ معرکہ جو کربلا سے شروع ہوا ہے حسین کے ماننے والے اپنی بھرپور قوت اور جذبہ ایمانی سے مسمار کرتے ہوئے ا س پر ہمیشہ فاتح رہینگے اور یذیدیت کا اصل چہرہ دکھاتے ہوئے وہ اپنے خو ن کے آخری قطرے کو بہا کراسلام کے چمن کی آبیاری کرتے رہینگے خواہ انہیں اسکے لئے حسین کی طرح کتنے ہی سر نیزوں پر چڑھانے پڑیں کہ یہ انکی غیرت اسلامی اور یذید ملعون و مطعون کا مقابلہ ہے جو ابد تک جاری رہیگا۔انسانوں کا تعلق خواہ کسی مذہب یا پھر فرقے سے ہو مگر حسینیت کے آگے ہر ایک خمیدہ ہے اسطرح کی قربانی نہ تو کسی قوم اور مذہب میں دی گئی اور نہ ہی قیامت تک کوئی دے سکے گا کربلا میں شہید ہونے والے طاغوتی سازشوں کے آگے نہ تو جھکے اور نہ ہی انکے ماننے والے اور ان سے مودت کرنے والے کبھی پیچھے ہٹیں گے۔ ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ غم حسین کو مٹانے والے ، کربلا میں دئے جانے والے سبق کو بھلانے والے، حسینیوں سے انکی وحدت چھیننے والوں کو ہمیشہ اپنے اتحاد کے ذریعے ناکام بنا کر یذیدیت کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ختم کرکے محرم کے اس ماہ حزن اور یزیدیت کے مکروہ چہرے سے پردہ اٹھا کر اس ماہ میں غم کے بجائے ایک مکروہ چال کے ذریعے اس ماہ کے ساتھ اپنی لاتعلقی اور وابستگی ظاہر کرتے ہوئے اس غمناک ماہ محرم کی عزاداری پر ہنسنے والوں اور خوشی منانے والوں کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے نیست و نابود کرکے کربلا کے اس درس کو عام کرنا ہے جس سے دشمن کی صفحوں پر لرزہ طاری ہو جاتا ہے۔ حسینیت ذندہ باد یذیدیت مردہ با۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Syed Anis Bukhari

Read More Articles by Syed Anis Bukhari: 93 Articles with 65246 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
05 Oct, 2016 Views: 580

Comments

آپ کی رائے
انیس بھائی اچھا کالم لکھا ہے مولا آپ کے قلم کو مزید طاقتور بنائے
By: نعلین عباس, mandi bahwaldin on Oct, 09 2016
Reply Reply
0 Like

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ