محرم الحرام اور ضابطہ اخلاق

(Muhammad Umar Qasmi, )
جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے آمد ماہ محرم سے قبل ایک تناؤ کی کیفیت کو محسوس کرتا آ رہا ہوں۔ ہمیشہ کی طرح آج بھی اخبار ات میرے سامنے پڑے ہیں۔کہیں امن کمیٹیوں کی منڈی سے ضابطوں کی سبیلیں جاری ہونے کی خبریں درج ہیں اور کہیں انتظامیہ کی طرف سے امن و امان کے بلند و بانگ دعوے۔کہیں وہ مظلوم علماء جنہیں میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ اپنے گھر میں امن نہ کروا سکے آج وہ بھی جبہ و قبہ دستار سجا کر امن کروانے کے لئے سرکاری دفاتر میں بیٹھے ہیں۔کئی بار تو ایسا بھی ہوا کہ یہ حضرات امن و امان کے بلندیاں سر کر نے کے بعد ابھی چائے کی پیالیاں رکھ کر گھروں کو واپس بھی نہیں گئے کہ راستے میں خبر ملی خودکش حملہ آور نے اپنے آپ کو اڑا لیا۔

یہ بات کسی المیہ سے کم نہیں ہے۔ہمارے حکمران سالوں سے امن وامان کے نام پر نہ جانے کتنی دیر سے عوام الناس کو بیوقوف بنا رہے ہیں۔ہر سال امن کانفرنسیں ہوتی ہیں،ہر سال امن کمیٹیوں کے اجلاسات ہوتے ہیں ، ہر سال سیکیورٹی کے فول پروف اور زبردست انتظامات ہوتے ہیں،ہر سال امن وامان کے نام پر کروڑوں کے اخراجات کا استعمال کرتے ہوئے صوبائی و وفاقی وزراء دورے کرتے ہیں،اتنی بھاگ دوڑ،تگ و دو کے بعد بھی یک دم سے بریکنگ نیوز چلتی ہے کہ فلاں جگہ ناخوشگوار واقعہ پیش آیا اور کئی افراد کی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، بس پھر انتظامیہ کی دوڑیں لگ جاتی ہیں ،بیانات کے انبار لگ جاتے ہیں ایک دو افسران کو معطل بھی کیا جاتا ہے ،پھر فوٹو سیشن ہوتے ہیں ، دہشت گردوں کی اسی کمر کو توڑا جاتا ہے جسے کذشتہ کئی سالوں سے توڑتے آرہے ہیں۔بس پھر رات گئی اور بات گئی ، آیندہ محرم الحرام تک کے لئے نئی ’’کمر ‘‘توڑنے کا انتظار کیا جاتا ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ ایسا کب تک چلتا رہے گا،آخر کب تک ہم اپنی نسلوں کو اس آگ کا ایندھن بنائیں گے،آخر کب تک عارضی اقدامات کا سہارا لیا جائے گا۔؟آخر ہماری حکومتیں لڑو اور مرو کی سیاست سے کب باز آئیں گیں۔؟آخر کب ایسی پالیسی مرتب کی جائے گی جس سے اپنے اپنے فکری ،مسلکی،نظریاتی اختلاف رکھنے کے باوجود بھی ہمارے ملک کے عوام مل جل کر ایک پر امن زندگی گزارسکیں۔؟

ان نت نئے ضابطہ اخلاقوں کی مارکیٹ میں میرے سامنے اس وقت بھی ملی یکجہتی کونسل کا وہ ضابطہ اخلاق اپنی بے بسی کا رونا رو رہا ہے جسے نوے کی دہائی میں اس وقت کے اکابر علماء نے فرقہ ورانہ کشیدگی کو ختم کرنے کے لئے ترتیب دیا تھا۔ان دنوں روز بروز شیعہ سنی کشیدگی میں اضافہ ہو رہا تھا۔روز ہی شیعہ سنی قتل و غارت کی خبریں اخبار ات کی زینت بنتیں تھیں۔ایک آگ تھی جو ہر طرف پھیل چکی تھی لیکن اسی دوران وطن عزیز پاکستان کی چند معاملہ فہم شخصیات آگے بڑھیں ،جن میں مرحوم قاضی حسین احمد،مولانا ضیاء القاسمی، مولنا شاہ احمد نورانی، ڈاکٹر اسرار احمد ،مولانا سمیع الحق اور علامہ ساجد نقوی نمایاں تھے۔ان حضرات نے آپس میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا تا کہ دہشت گردی،شدت پسندی، قتل وغارت گری جیسے سنگین مسئلے کا حل نکالا جا سکے ،اور طویل مشاورت کے بعدانتہائی خوش اسلوبی کے ساتھ ایک سترہ نکاتی ضابطہ اخلاق ترتیب دیا۔جس کہ انتہائی اہم اور نمایاں نکات کچھ اس طرح تھے۔
۱۔اختلاف اور بگاڑ کو دور کرنے کے لئے ایک اہم ضرورت یہ ہے کہ تمام مکاتب فکر ،نظم مملکت اور نفاذ شریعت کے لئے بنیاد پر متفق ہوں چنانچہ اس مقصد کے لئے ہم ۳۱ سرکردہ علماء کے بائیس نکات کو بنیاد بنانے پر متفق ہیں۔
۲۔ہم ملک میں مذہب میں کے نام پر دہشت گردی اور قتل غارت گری کو اسلام کے خلاف سمجھتے ہیں،اس کی پر زور مذمت کرنے اور اس سے اظہار برات کرنے پر متفق ہیں۔
۳۔کسی بھی اسلامی فرقہ کو کافر اور اس کے افراد کو واجب القتل قرار دینا غیر اسلامی اور قابل نفرت ہے۔
۴۔اہل بیت اطہارؓ و امام مہدی ، عظمت ازواج مطہرات ؓ، عظمت صحابہ کرام ؓاور نبی کریم ﷺ کی عظمت و حرمت ہمارے ایمان کی بنیاد اور جز ہے اور آنحضور ﷺکی کسی طرح کی توہین کے مرتکب فرد کے شرعاََو قانوناََموت کی سزا کا مستحق ہونے پر ہم متفق ہیں اس لئے توہین رسالتﷺکے ملکی قانون میں ہم اس ہر ترمیم کو مسترد کر دیں گے اور متفق و متحد ہو کر اس کی مخالفت کریں گے۔
۵۔ایسی ہر تقریر سے گریز و اجتناب کیا جائے گاجو کسی بھی مکتب فکر کی دل آزاری اور اشتعال کا باعث بن سکتی ہو۔
۶۔شر انگیز اور دل آزار کتابوں،پمفلٹوں اور تحریروں کی اشاعت ، تقسیم و ترسیل نہیں کی جائے گی۔
۷۔اشتعال انگیز اور نفرت انگیز مواد پر مبنی کیسٹوں پر مکمل پابندی ہوگی اور ایسی کیسٹیں چلانے والا قابل سزا ہوگا۔
۸۔دل آزار ، نفرت آمیز اور اشتعال انگیز معروں سے مکمل احتراز کیا جائے گا۔
۹۔دیواروں ،ریل گاڑیوں،بسوں اور دیگر مقامات پر دل آزار نعرے اور عبارتیں لکھنے پر مکمل پابندی ہوگی۔
۱۰۔تمام مسالک کے اکابرین کا احترام کیا جائے گا۔
۱۱۔تمام مکاتب فکر کے مقامات مقدسہ اور عبادت گاہوں کے احترام و تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔
۱۲۔جلسوں ،جلوسوں،مساجداور عبادت گاہوں میں اسلحہ خصوصا غیر قانونی اسلحہ کی نمائش نہیں ہوگی۔
۱۳۔عوامی اجتماعات اور جمعہ کے خطبات میں ایسی تقریریں کی جائیں گی جن سے مسلمانوں میں اتفاق پیدا کرنے میں مدد ملے۔
۱۴۔ عوامی سطح پر ایسے اجتماعات منعقد کئے جائیں گے جن سے تمام مکاتب فکرکے علماء بیک وقت خطاب کر کے ملی یکجہتی کا عملی مظاہرہ کریں۔
۱۵۔مختلف مکاتب فکر کے متفقات اور مشترکہ عقائد و نکات کی تبلیغ اور نشر و اشاعت کا اہتمام کیا جائے گا۔
۱۶۔باہمی تنازعات کو افہام و تفہیم اور تحمل و رواداری کی بنیاد پر طے کیا جائے گا۔
۱۷۔ضابطہ اخلاق کے عملی نفاذ کے لئے ایک اعلی اختیاراتی بورڈ تشکیل دیا جائے گا جو اس ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی شکایات کا جائزہ لے کراپنا فیصلہ صادرکرے گااور خلاف ورزی کے مرتکب کے خلاف کاروائی کی سفارش کرے گا۔

یہ وہ سطور ہیں جو ان شخصیات کی سنجیدگی ، حسن ادراک،معاملہ فہمی کی آئینہ دار ہیں، اور تمام مکاتب فکر کے جید علماء کے دستخط بھی موجود ہیں۔جیسے جیسے وقت کی گرد پڑتی گئی اور یہ ضابطہ اخلاق بھی کہیں گرد آلود ہو کراہل اقتدار کی آنکھوں سے اوجھل ہو گیا۔لیکن پاکستان کے تمام مکاتب فکرآج بھی اس ضابطہ اخلاق کی اہمیت و افادیت کو تسلیم کرتے ہوئے بارہا نفاذ کا مطالبہ کر چکے ہیں،جبکہ پاکستان علماء کونسل پنجاب میں اور پاکستان امن کونسل سندھ میں قانون سازی کے لئے ضابطہ اخلاق کے مسودے بھی پیش کر چکی ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اہل اقتداربغیر کسی سوچ و بچار کے اور بے نتیجہ نشستوں میں وقت ضائع کئے بغیر اس ضابطہ اخلاق سے گرد ہٹائیں اور آنے والی نسل پر احسان کرتے ہوئے ہی سہی اسے قانون سازی کے بعد فوری طور پر لاگو کریں اور عمل درآمد کروانے کی مخلصانہ کوشش کریں ۔

تاریخ ہمیں یہی بتاتی ہے کہ کامیاب قومیں اپنے آنے والے مستقبل کے لئے کئی کئی دہائیاں پہلے اقدامات کرنا شروع کر دیتی ہیں۔ہمارے اہل دانش نے اس مسئلے کی حساسیت کو محسوس کرتے ہوئے اسکا حل نکال کر کئی سال پہلے ہی حکمرانان وقت کی دہلیز تک پہنچا دیا ہے۔اگر اب بھی غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا گیا تو یقین جانیئے یہ قوم آپ کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔
اعداد سنگ میل ہیں گمراہ کن بہت
یارو! قدم قدم پہ شمار قدم کرو
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Umar Qasmi

Read More Articles by Muhammad Umar Qasmi: 16 Articles with 12730 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 Oct, 2016 Views: 544

Comments

آپ کی رائے
Nice points, youth should be careful; some fanatic elements may misuse their pure feelings for their aims...
By: Abdulhakeem Ismaeel, Zahedan, Iran on Oct, 07 2016
Reply Reply
0 Like