انوکھا کیک

(Fatima Ishrat, )
آج ہم کافی عرصے بعد شاہانہ کی طرف جارہے تھے... جو کہ ہماری سب سے پیاری سہیلی ہے.. اسنے دھمکی جو دے ڈالی اگر نہ آئے تو ناراض ہوجائیگی... بس پھر امی جان سے اجازت لی.. اور اسکے گھر جانے کیلئے نکل گئے.. جیسے ہی وہاں پہنچے.... اس نے کافی گرم جوشی سے استقبال کیا ...باربار مصافحہ کرتی رہی ..جیسے خود کو یقین دلارہی ہو کہ واقعی ہم آگئے ہیں!!. ..
ہر دو گھڑی بعد ہماری تعریف شروع کردیتی ہم جھینپ جاتے.... پھر جب لوازمات رکھے گئے تو ہم دل میں مطمئن سے تھے کہ سب بازار سے لائے گئے ہیں... مگر جب آنٹی کے منہ سے یہ سنا کہ یہ سب شاہانہ نےخود بنایا ہے!!!
اسقدر حیران ہوئے کہ ہماری آنکھیں باہر نکل آئیں اگر وہ نہ جھنجوڑتی تو مبادا باہر ہی گرجاتیں... آنٹی نے تفصیلا بتایا کہ بی اے کرنے کے ساتھ ساتھ انکی بیٹی گھر کے کام میں بھی ماہر ہوتی گئ... اسے شوق بھی بہت تھا..آنٹی خود اکثر بیمار رہتی تھیں.. اور کیک تو ایسا بناتی کہ لوگ انگلیاں تک کھاجائیں.....بس کیک انا باقی تھا جب وہ آیا تو ہم اسے دیکھتے رہ گئے وہ کسی شاہکار سے کم نہ تھا!!!
.اسکا ذائقہ لاجواب.. اتنا لذیذ اور نرم سا کہ بندہ بس کھاتا ہی جائے ..!!! اور ہم تو تھے سدا کے پھوہڑ ...مگر اک بات جو اس دن ہمارے ذہن سے چمٹ گئ... اور وہ یہ تھی کچھ بھی ہو اب ہم نے بھی کیک بنانا ہے...!!
بس جی دل ہی دل میں مضبوط ارادے کرلیئے اور کمر کس لی.... حالانکہ یہ ہمارے لئے جوئے شیر لانے کے مترادف تھا... مگر ہم نے بھی سوچ لیاتھا کہ ایڑی چوٹی کا زور لگا دینگے مگر پیچھے نھیں ہٹیں گے... بتا دینگے کہ ہم بھی سگھڑ ہیں کچھ کر سکتے ہیں... امی جان پھر ہمیں سدا کی نالائق نہیں کہیں گی... ہم نے دن میں ہی خواب دیکھنا شروع کردیئے...!!!!
کہ کسطرح کیک سے ہم مشہور ہوگئے... ہمارا نام اب بہترین شیف کی لسٹ میں آنے لگا.. لوگ ہم سے ملنے کیلئے ترس رہے ہیں امی جان ہماری بلا ئیں لیتی نہیں تھکتیں... ابھی ہم اپنے خیالوں سے لطف اندوز ہو ہی رہے تھے کہ آنٹی کی آواز آئ.. "پڑھائ کیسی جارہی ہے؟ "
تو ہم ہڑ بڑا کر خوابوں کی دنیا سے باہر آئے...
ہم نے تھوڑا توقف سے کہا.. "اے ون"...!!!
انہوں نے خوب دعائیں دیں پھر شاہانہ سے باتیں کرکے ہم گھر آگئے... مگر کیک کا منصوبہ اب بھی چٹان کی طرح سخت تھا..
امی جان کو بس اتنا بتایا سب اچھا رہا شاہانہ کے سگھڑاپے کو اور لذیذ کیک گول کرگئے... ورنہ ابھی لیکچر شروع ہوجانا تھا... البتہ بھابھی جان... اور اظہر کو سب کچھ بتادیا... !!!
ہمیں شروع سے ہی گھر کے کاموں سےعموما اور کچن کے کاموں سے خصوصا اللہ واسطے کا بیر تھا... اسکی بڑی وجہ یہ تھی کہ ہم شروع سے کتابی کیڑا رہے... کوئ ایسا سال نہ گزرا تھا جسمیں ٹاپ نہ کیا ہو.. اوراس کے ساتھ اپنا بھر پور خیال رکھتے ... اللہ نے بھت ہی خوبصورت صورت سے جو نوازا تھا... گھر کے کاموں سے بھاگتے تھے اور یہ دوڑ لمبی ہی ھوتی گئ جسکا رہ رہ کہ امی جان کو دکھ رہتا...!!!!
حال ہی میں ایم بی بی ایس کرکے فارغ ہوئے تھے... بہت اچھے نمبرز لئے.. جسکا جشن بھی منایا گیا...اب امی جان کی فکر مزید بڑھ گئ تھی. .کیونکہ اب انھیں اک بر کی تلاش تھی مگر اس سے پہلے ہمیں گھر داری سکھانی تھی...ہم بھی خوب تھے...بچوں کے ساتھ مل کر بچے بن جاتے...ابھی ہاؤس جاب کا آغاز ہونا باقی تھا کہ بیچ میں کیک آگیا.. اب دن ہو یا رات ہر وقت کیک ہی سر پر سوار رہتا... !!!!
آخرکار وہ دن بھی آہی گیا.... جب ہمیں کیک بنانا تھا اور ہم ہر چیز پہلے سے منگواکے رکھ لی تھی اور کہہ دیا تھا کہ کچن آج ہمارے لئے بکڈ ہے.... ہم نے انٹرنیٹ سے بہترین ریسپی نکالی... اسکی ویڈیو کو کوئ 8 .. 10 بار دیکھا.... ازبر کرلی.. اور دل سے انٹرنیٹ والوں کو بہت سی دعائیں دیں جنھوں نےہمارا کام اتنا آسان کردیا تھا .!!!
.. اب بہت سی دعاؤں کے ساتھ... دوپٹہ کمر کے گرد لپیٹ کر... شیف کیپ پہن کرجو کہ ہم نے بڑے شوق سے لی تھی ..کچن کے اندر داخل ہوچکے تھے.. کیونکہ مستقبل میں ہمارے اک معروف شیف بننے کے امکان جو سنہرے تھے... ہم نے سب اجزاء نکال کر باہر رکھ لئے... اور ترکیب کے مطابق کام شروع کردیا... جو جو چیز ڈالتے جاتے وہ ہٹادیتے تاکہ کنفیوژن پیدا نہ ہو... ابھی چند مراحل ہی عبور کئے تھے کہ اظہر آدھمکا...
"بہنا! کیا ہورہا ہے؟ '
"کیک بنایا جارہا ہے."!!.. خوشی سے پھولتے ہوئے ہمارےمنہ سے نکلا تھا...
"اچھا واقعی.؟' یقین نہیں آرہا.'..!!! ذرا میں اپنی آنکھیں مسل لوں.. کیونکہ مجھے خواب کا گماں ہورہا ہے... شرارت سے بولا
"دیکھ لو اچھے سے اور یقین کرلو.. ہم اتنے بھی نکمے نھیں...." ہم غصے سے آگ بگولہ ہوچکے تھے...
"جی جی.!!!.. کچھ کچھ دکھائ تو دے رہا ہے... جیسے آپکے چہرے پے جگہ جگہ میدہ لگا ہوا ہے.. کچن میں بکھرا سامان.. جس نے اسکی اصل حالت ہی بگاڑ دی ہے. ہاتھ میں پکڑا چمچہ جس سے آمیزہ ٹپک ٹپک کے زمین بوس ہوچکا ہے.. اور بیچاری آپکی ٹوپی جو سفید کی جگہ اب کالی, پیلی ,نیلی ہوچکی ہے." ہنستے ہنستے اس کے پیٹ میں درد ہونے لگا.. !!!!

ہم وہی چمچہ لیکر اسکے پیچھے دوڑے... وہ تب تک بھاگ گیا تھا چیتے کی طرح تیز دوڑتا تھا.... اور ہم ہانپنے لگے تھے.... !"!!
"دھڑام"!.... چمچہ گرچکاتھا. .. ذرا سانس سنبھلی تو کیک کا خیال آتے ہی کچن کی طرف لپکے.. شکر کچھ جلا نھیں تھا... پھر شام تک انتھک محنت سے ہم نے بالاآخر کیک تیار کر ہی لیا.. جیسے ہی اوون سے باہر نکالا اس سے چکھنے لگے تو وہ تنور کی طرح گرم تھا.. ہم نے ٹھنڈا کرنے کیلئے رکھ دیا.. سجاوٹ کی..!!!
اور.. سب کو بتانے جا ہی رہے تھے مگر سب پہلے سے جمع تھے اور ہم سے زیادہ شدت سے منتظر تھے.. دل ہی دل میں بے حد خوش ہوئے اور فورا کیک لینے پہنچے.... سب سے پہلے ہم نے ابا حضور کی پلیٹ میں کیک رکھنا چاہا.. جب کیک کانٹنے لگے تو بڑی دقت سے اک چھوٹا پیس الگ ہوسکا.!!!.
ہمیں سمجھ نھیں آیا ایسا کیوں ہورہا ہے جب ابا حضور نے کیک منہ میں ڈالا تو ایسا لگ رہا تھا انھیں بڑی مشقت کرنی پڑرہی ہے چبانے میں، کچھ دیر کے بعد وہ اتنا کہہ پائے یہ انکی زندگی کا انوکھا کیک ہے جو آج سے قبل کبھی نھیں کھایا... اور دعا دیتے ہوئے کمرے میں چلے گئے باقی سب ابا حضور کی حالت دیکھکر ہمیں مشکوک نگاہوں سے دیکھنے لگے... پھر ہر اک کیک نہ کھانے کا بہانہ کرنے لگا...
بھیا اور بھابھی بولے.. "ارے ہمارا پیٹ تو بھرا ہوا ہے بعد میں کھالیں گے عمدہ ہی بنا ہوگا.". اور فورا چلتے بنے!!!!

اظہر کو ہم نے جانے نہیں دیا وہ بیچارا منت سماجت کرتا رہا مگر اک نہ سنی اور اسکے منہ میں کیک ڈال کر ہی دم لیا جیسے ہی ٹکڑا اندر گیا اسنے قے کر ڈالی... ہمارے دل کو دھچکا لگا...!!!
"ہم نے پوچھا سب خیر تو ہے؟"
وہ معصوم سی شکل بناکے کہنے لگا..
"بہنا !!یہ کیک ہے یا سیمنٹ جو گھل ہی نھیں رہا جس سےچبانے کیلئے لوہے کے دانت کی ضرورت ہے... میرا تو جبڑا ہی ہل گیا.. اف!! چینی کا تو دور دور تک پتہ نھیں .. نمک ہی نمک بھر دیا.... اتنے لزیزت کیک کھائے ہیں مگر ایسا پتھریلا ...اور. انوکھا کیک آج تک نھیں کھا یا.. اللہ بچائے!!!! ایسے کیک سے..."" !!!!
اور ایسا غائب ہوا جیسے گدھے کے سر سے سینگ...
ہم تو حیران کیک کو تکتے رہ گئے آخر اک لقمہ ہم نے بھی لیا کیک کا اور جیسے ہی منہ کو لگا... اک زور دار چیخ نکلی کیونکہ وہ اتنا عجیب سا تھا کہ مزید زبان پر رہتا تو بندہ چکرا جاتا... !!!!
امی جان پاس بیٹھی سب دیکھ رہی تھیں پھر ہمارے قریب آکر وہ سنائیں کہ ہم سر پر پاوں رکھ کر جو بھاگے تو اپنے کمرے میں ہی آکر پناہ لی....
اسکے بعد ہم نے کیک سے توبہ کرلی... مگر امی جان نے نھیں بخشا.. روزانہ اتنی مشق کروائ کیک کی... کہ اک دن ہم واقعی لذیذ کیک بنانےمیں کامیا ب ہوگئے...!!!
قارئین! آپ کو کیسا لگا ہمارا تجربہ؟ ضرور بتائیےگا !
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Fatima Ishrat

Read More Articles by Fatima Ishrat: 30 Articles with 19408 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
13 Oct, 2016 Views: 540

Comments

آپ کی رائے