غربت․․․ایک بلا

(Sana Ghori, Karachi)
 حکومت اپنے طور سے تمام اقدامات مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ کرنے کے دعوے کرتی ہی نظر آتی ہے۔ نوازحکومت کے دعوے چاہے کسی اور معاملے میں سچ ثابت ہوئے ہوں یا جھوٹ، البتہ موٹروے کے منصوبے سے لے کر گرین بسوں اور اورینج ٹرین کے منصوبے تو انتہائی احسن طریقے سے انجام دیے گئے۔ یہ اور بات کہ نواز حکومت کے اکثر منصوبے فقط پنجاب ہی کو نوازتے آئے ہیں۔ چلیے جی کسی کا تو بھلا ہو، لیکن بھلا کرتے ہوئے بھی زندگی کے تمام شعبہ ہائے زندگی پر نظر ڈالی جاتی تو کیا ہی اچھا ہوتا۔ اب یہ کہنا کہ حکومت کی سمت درست ہے ٹھیک ہی ہوگا، لیکن سمت کے تعین کے بعد کا سفر اکثر تمام حکومتوں کے پانچ سال مکمل کر جاتا ہے اور یوں نئی آنے والے سمت کا تعین کرنے اور اس پر چلنے کے بس دعوے ہی کرتے رہ جاتے ہیں۔ ورنہ جب ایک آدمی جانتا ہے کہ پاکستانی عوام کوکن مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے تو کیا حکومت کے ایوانوں میں بیٹھے افراد پاکستان کے بنیادی مسائل سے آگاہ نہیں ہوں گے؟ جن میں سب سے اہم مسئلہ غربت ہے۔

غربت مرمر کے جیے جانے کا نام ہے، یہ ایک مستقل اذیت، مسلسل تکلیف کی کیفیت ہے، اپنے سامنے اپنے پیاروں کو بیماری جھیلتے اور مرتے دیکھنا، آنکھوں میں بچوں کو پڑھانے کا خواب لیکن حالات کے ہاتھوں مجبور ہوکر ان کا بچپن کی ورکشاپ کی نذر کردینا، ہر روز کسی خواب کسی خواہش کی میت اٹھانا، یہ ہے غربت، اور اس کے اثرات بھی اتنے ہی ہول ناک ہیں، جو پورے معاشرے کو متاثر کرتے ہیں
اس حوالے سے اعداد و شمار انتہائی خطرناک ہیں۔

اس حوالے سے حکومتی حلقوں اور بعض ماہرین اقتصادیات اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کی سمت درست ہے، تعلیم، صحت، خوراک، سماجی تحفظ و دیگر بنیادی حقوق کے حوالے سے موثر کام ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غربت میں بتدریج کمی آرہی ہے، تاہم ان منصوبوں کا دائرہ کار دوردراز علاقوں تک پھیلانے کی ضرورت ہے۔

غربت کے خاتمے کے عالمی دن پر ’’ایکسپریس‘‘ کے زیراہتمام منعقدہ ایک سیمینار میں شرکاء نے کہا کہ پاکستان کی چالیس فی صد آبادی غربت کا شکار ہے، جس کی وجہ سے دہشت گردی، جرائم و دیگر معاشرتی مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے، غربت کے خاتمے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کرنا ہوں گے، غربت کا حل صنعت کاری ہے، اس سے نہ صرف روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے بل کہ معیشت بھی بہتر ہوگی۔
 
سیمینار کے شرکاء کا یہ کہنا سو فی صد درست ہے کہ غربت کی وجہ سے دہشت گردی، جرائم اور معاشرتی مسائل میں اضافہ ہورہا ہے، لیکن ان مسائل کی جڑ یعنی افلاس کی طرف کم ہی توجہ دی جاتی ہے۔

غربت کے خاتمے کے عالمی دن پر بہت سے سیمنار منعقد کیے گئے۔ بہت بحث مباحثہ ہوا۔ وہی کچھ جو ہر سال ہوتا ہے۔ فرق تھا تو بس اتنا کہ وہ اعداد و شمار جو ہر سال موصول ہوتے ہیں وہ ذرا مختلف تھے، اور یہ فرق تو ہر سال ہی ہوتا ہے۔ دراصل منصوبہ بندی کی کمی نے پاکستان میں غربت کو خطرناک حد تک بڑھا دیا ہے۔ آبادی جس تناسب سے بڑھتی گئی اس اعتبار سے وسائل میں اضافہ نہیں ہوا۔ وسائل کی کمی یا وسائل کو درست سمت میں استعمال نہ کرنے کی وجہ سے جہاں دیگر مسائل پیدا ہوئے اور بڑھے وہیں غربت کا دائرہ بھی دن بہ دن وسیع ہوتا گیا۔

ایک رپورٹ کے مطابق اعدادوشمار میں اونچ نیچ کرکے چیزیں بہتر کر دی جاتی ہیں، جب کہ حقیقت میں معاملات مختلف ہوتے ہیں۔ 3ہزار 30 روپے ماہانہ آمدن کے حوالے سے 30فی صد لوگ غریب ثابت ہوئے ہیں، اب حکومت نے اس کے انڈیکیٹرز بڑھائے تو غربت میں بھی اضافہ دکھائی دیا۔ یوں اس وقت پاکستان میں 39.5فی صد لوگ غریب تر ہیں، روزگار کی شرح57فی صد ہے جب کہ ایک شخص کی جگہ 5لوگ کام کر رہے ہیں۔ دوسری طرف غیرسرکاری اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں 60 فی صد سے زاید لوگ خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں، اگر عدم مساوات کا جائزہ لیں تو صورت حال انتہائی پیچیدہ ہے اور سب سے زیادہ متاثر خواتین ہیں۔

غربت خود ہی ایک مسئلہ نہیں یہ بہت سے خوف ناک مسائل کو جنم دینے کا سبب بھی ہے۔ ہمارے یہاں یہ سارے مسائل اپنے بھیانک ترین شکل میں نظر آتے ہیں۔ غربت کی ایک اولاد جہالت ہے۔ یہ جہالت ہی ہے جس کے باعث غریب گھرانوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو بہ آسانی مذہب کے نام پر بہکادیا جاتا ہے۔ غربت اور جہالت کا یہ ملاپ فرقہ واریت کا ایندھن بنتا ہے اور خودکش حملہ آوروں کی پرورش کرتا ہے۔ ڈاکے، راہ زنی اور دیگر جرائم کی جڑ بھی یہی غربت ہے۔

سرکاری اعدادوشمار کچھ بھی کہیں، لیکن ہمیں جو غربت اپنے اردگرد سسکتی نظر آتی ہے اسے دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ہمارے دیس کی کل آبادی کا ساٹھ فی صد یا اس سے کچھ کم افلاس کا شکار ہے۔ ساٹھ فی صد․․․یعنی ملک کی اکثریت غربت کے سائے تلے جی رہی ہے۔ ایسے میں دہشت گردی، جہالت اور جرائم ہمارا مقدر نہیں ہوں گے تو کس کی قسمت بنیں گے۔ اتنے اہم مسئلے پر جو ہمارے دیگر بہت سے مسائل کی بنیاد ہے حکم راں کتنی توجہ دیتے ہیں؟ اس سے ہم سب واقف ہیں۔ غربت کسی خیراتی اسکیم سے ختم نہیں کی جاسکتی، اس کے لیے موثر اور طویل منصوبہ بندی کرنی ہوگی، جس میں سب سے اہم روزگار اور تعلیم کا فروغ ہے۔ اب دعوؤں اور وعدوں سے کام نہیں چلے گا، اگر پاکستان کو ایک پُرامن اور ترقی یافتہ ملک بنانا ہے تو پوری لگن کے ساتھ غربت کے خاتمے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔ یہ کوئی معجزہ نہیں، بس نیت اور منصوبہ بندی کی ضرورت ہے، جس کے بعد غربت یکسر ختم نہیں ہوتی تو کم ازکم اتنا ضرور ہوگا کہ غریبوں کی زندگی زندگی بن جائے اور ان کے لیے اندھیروں میں امید کے دیپ جل اٹھیں۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sana Ghori

Read More Articles by Sana Ghori: 305 Articles with 179018 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Oct, 2016 Views: 787

Comments

آپ کی رائے