بجلی کی لوڈ شیڈنگ، زندگی مفلوج

(Maryam Arif, Karachi)
تحریر: ریما نور رضوان
بجلی ہمارے لیے بے حد ضروری ہے۔ آجکل کے جدید ترقی یافتہ دور میں ہمارے گھروں میں جتنی بھی ضروریات زندگی کی اشیاء پائی جاتیں ہیں سب کی سب الیکٹرانک ہیں۔زیادہ تر سبھی چیزوں کو استعمال کرنے کے لیے بجلی استعمال ہوتی ہے اور ہمارے یہاں بجلی کا بحران ہے۔

موبائل فون چارچ کرنا ہو کہ ہیئر ڈراییر یا پھر جوسر مشین ہر ہر چیز بجلی کی فراہمی کی ہی باعث بہتر طور پر کام کرتیں ہیں۔ مشین کے استعمال سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ کام نمٹاے جاسکتے ہیں۔

بجلی کی کمی کی باعث عام انسان کی زندگی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے انسان مشکلات میں گھر جاتا ہے۔ ہمارے یہاں بجلی علی الصبح سے ہی بجلی کی فراہمی معطل کردی جاتی ہے۔ایسا لگتا ہے بجلی ہمیں مستند ڈاکٹر کی ہدایت پر مہیا کی جا رہی ہے۔ ڈھائی گھنٹہ صبح، ڈھائی گھنٹہ دوپہر،ڈھائی گھنٹہ،رات اگر یہ بجلی بند نہ ہوء تو ہماری صحت پر اثر ہوگا۔ ہماری اچھی صحت کے لیے یہ شیڈول ترتیب دیا گیا ہے۔
راتوں رات بھی بجلی بند ہوجاتی ہے۔اچانک بجلی کے غائب ہونے پر ہر انسان گرمی میں الجھن و غصہ میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ بنیادی ضروریات ہی ہمیں میسر نہیں نہ ہی کوئی ہمارا پرسان حال ہے۔دنیاوی امور با احسن طریقے سے نمٹانے کے لیے بجلی کا ہونا اشد ضروری ہے۔

سارا دن تو بجلی کی آنکھ مچولی ، ٹائمنگ سے آنے جانے میں صرف ہوجاتا ہے۔ ایسے میں کام متاثر ہوتا ہے کوئی بھی اک کام ڈھنگ سے پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ پاتا ہے۔روز کے لگے بندھے کام ہی بمشکل پورے ہو پاتے ہیں۔ہماری حکومت میں جو بھی کرسی کو سنبھالتا سبھی کا دعویٰ ہوتا ہے کہ بجلی کی فراہمی کو ممکن بنائیں گے۔ روزگار کی فراہمی کو ممکن بنائیں گے۔غریب کا خاتمہ ہوگا۔تعلیم عام کرینگے۔ ہمارے تمام بنیادی مسائل کو حل کرنے والے عزم و یقین دلانے والے۔ بجلی کانہ ہونا یہ مسئلہ وقت کے ساتھ ساتھ طول ہی پکڑ ے جارہا ہے اور اس مسئلے سے نکلنے کے لیے کوئی خاص اقدامات بھی نہیں کیے جارہے ہیں۔ نہ ہی کروائے جارہے ہیں۔ یوں سمجھیں اس طرف کسی کی توجہ ہی نہیں۔ بجلی ضرورت ہے اور ضرورتیں وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہی چلی جاتیں ہیں۔

اس مسئلے پر حکومت کو سنجیدگی سے غوروفکر کرنا چاہیے۔اگر حکومت اس سلسلے میں خاطر خواہ اقدام نہ اٹھائے گے تو یہ مسئلہ ہنوز برقرار رہے گا۔ عوام بھی کب تک صبروتحمل کا مظاہرہ کرے گی۔ عوام بھی متبادل راستہ تلاش کرلے گی۔ جسے عرف عام میں کنڈا سسٹم کہتے ہیں۔ یہ معاشرتی برائی ہے جس کی ذمہ دار ہماری حکومت ہوگی۔ اس لیے بجلی کی سستی اور آسان فراہمی حکومت دے تاکہ قوم خوشحال اور ترقی پر گامزن ہوسکے۔
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1232 Articles with 502821 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Oct, 2016 Views: 397

Comments

آپ کی رائے