چند لفظوں کی کہانی

(Zahid Mehmood, )
وہ جب پیدا ہوئی تو اسکی ماں کو طعن وتشنیع کا سامنا کرنا پڑا کہ ہمیں وارث چاہئے تھا لیکن یہ پیدا ہوگئی اسکی تعلیم و تربیت پہ کوئی توجہ نہ دی گئی ابھی بمشکل 14 سال کی تھی تو اسکی شادی کر دی گئی اسکا خاوند جسکی عمر 40 سال تھی اس سے بہت پیار کرتا تھا اور اسی پیار کے نتیجے میں اسکے 5 سال میں ہی 4بچے ہوگئے اور شادی کے 8 سال بعد اسکا خاوند ایک حادثے میں فوت ہوگیا-

3بچے اور ایک بچی تھی کہاں جاتی ؟ گھروں میں کام شروع کردیا بچوں کو کھلایا پلایا بچے تعلیم میں دلچسپی نہیں لیتے تھے لیکن بچی جسکا نام سعدیہ تھا بہت قابل تھی اور بہت شوق سے تعلیم حاصل کرتی اس نے فیصلہ کیا اسکا ہر ممکن ساتھ دے گی لڑکی نے میٹرک کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کیا بھائی کالج جانے سے روکنے لگے کہنے لگے کہ یہ کالج کس لئے جائے گی ماں نے اسے پھر بھی کالج میں داخلہ لے کر دے دیا بھائی خاموش ہوگئے کیونکہ انہیں اپنے اخراجات کے لئے ماں کی ضرورت پڑتی تھی اور پھر انکی بہن شام کو ٹیوشن بھی تو پڑھاتی تھی لہٰذا باامر مجبوری خاموش ہوئے وقت گزرتا گیا اور سعدیہ نے تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ہی نوکری بھی شروع کردی اور اپنی ماں کاسہارا بن گئی اور ماں کو کام کرنے سے منع کردیا اور ایک سال ہی میں اسکی ترقی بھی ہوگئی اسی دوران ہی اسے اپنے کولیگ ساجد سے جو کہ اسی کے محلے کا تھا سے محبت ہوگئی اور دونوں ایک بہترین زندگی گزارنے کے خواب دیکھنے لگے بھائی راضی نہ ہوئے کیونکہ صرف اپنے کام سے کام رکھتا اور انکے بھائیوں کی  محفل سے دور رہتا تھا اور وہ اس سے حسد کرتے تھے لیکن سعدیہ نے اپنی ماں سے اجازت لی اور کورٹ میرج کر لی بھائیوں سے یہ سب برداشت نہ ہوا ، (غیرت )جاگی، اور سعدیہ کو اسکے خاوند سمیت قتل کر دیا ۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Zahid Mehmood

Read More Articles by Zahid Mehmood: 53 Articles with 27149 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Oct, 2016 Views: 455

Comments

آپ کی رائے