قدرت کے اشارے اور پاکستان

(Muhammad Abdul Munem, )
اس دنیا میں کوئی بھی کام محض اتفاقاَ نہیں ہوتا بلکہ ہر کام کے پیچھے قدرت کی کوئی نہ کوئی مصلحت اور راز ضرور ہوتا ہے۔ ہم اپنے ساتھ بہت سے پیش آنے والے واقعات کو محض اتفاق سمجھ کر چھوڑ دیتے اور ان کے پیچھے ہوئے قدرت کے اشاروں کو نہیں سمجھتے۔ اگر ہم اپنی زندگی کوپیچھے مڑ کر دیکھیں تو ہمیں بہت سے کام ایسے نظر آئیں گے جنہیں ہم نے کچھ اور سوچا تھا مگر ہو کچھ اور گیا۔ ہم اس الجھن میں پڑے رہتے ہیں کہ اگر ایسے نہ ہوتا تو ویسے نہ ہوتا۔یوں نہ کرتے تو یوں نہ ہوتا۔ ہم کیوں کیسے ایسے اور ویسے سے باہر آتے ہی نہیں ہیں۔ ہم نہیں سوچتے کہ ہماری محنت اور مرضی کے باوجود وہ کیوں نہیں ہوا جسے ہم بہت چاہتے تھے اور ہماری عدم توجہی اور مرضی کے خلاف وہ کیوں ہو گیا جو ہم چاہتے بھی نہیں تھے۔

آئیے قدرت کے ان اشاروں کو ذرا اپنے پاکستان کے حوالے سے سمجھنے کی کوشش کرتےہیں۔تحریک پاکستان میں اللہ والوں کی شمولیت تائیدِ خداوندی کا اشارہ تھا۔ حضرت پیر جماعت علی شاہ علیہ الرحمتہ نے دل کھول کر مسلم لیک کو مالی سپورٹ فراہم کی۔ آپ نے اپنے لاکھوں مریدوں کو مسلم لیک کی حمایت کا حکم دیا اور کہا کہ میرا جو مرید اس وقت مسلم لیک کی حمایت نہیں کرے گا میرا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ کسی شرپسند نے آپ سے سوال کیا کہ کیا قائداعظم مسلمان ہیں تو آپ نے کہا کہ مجھے پورے بر صغیر میں اس جیسا کوئی مسلمان نظر نہیں آتا۔ پیر مانکی شریف نے جگہ جگہ جا کر نظریہ پاکستان کو خوب اجاگر کیا۔ امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمتہ کے خلیفہ خاص حضرت مولانا عبدالعلیم صدیقی علیہ الرحمتہ کو کافی زبانوں پر عبور تھا آپ اردو عربی فارسی کے علاوہ انگلش اور چائنا کی زبانوں پر بھی مکمل عبور رکھتے تھے لہٰذا آپ نے بیرون ملک نظریہ پاکستان کی اہمیت اور ضرورت کو دنیا کے مختلف ممالک میں جا کر اجاگر کیا جس کی بنا پر قائداعظم نے آپ کو سفیراسلام کا لقب عطا کیا ۔ اس کے علاوہ بےشمار علمائے کرام تحریک پاکستان کا ہراول دستہ تھے۔

تمام اسلامی ممالک میں صرف پاکستان کا ایٹمی طاقت بننا محض اتفاقی نہیں ہے خدا کسی کو کوئی طاقت دیتا ہے تو وہ یوں ہی نہیں ہوتی۔قدرت کے ان اشاروں کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے کہ خدا آپ سے کیا کام لینا چاہتا ہے۔ دشمن جتنے بڑے اور زیادہ ہوں اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ خدا آپ سے اتنا ہی بڑا کام لینا چاہتا ہے۔ یہ آئے دن معدنیات کی کانیں دریافت ہوتا یوں ہی نہیں ہے۔ وزیرستان میں عرب ممالک سے بھی بہتر اور زیادہ تیل دریافت ہوا ہے۔ چنیوٹ میں دنیا کے بہترین سونے کی کان کا دریافت ہونا بھی قدرت کے اشاروں میں سے ہے۔

کرپٹ سیاستدانوں نے پاکستان کو لوٹنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی مگر پاکستان پھر بھی قائم ہے اور اس پوزیشن میں ہے کہ اگر کسی نے اس سر زمین کو نشانہ بنایا تو وہ بچے گا نہیں۔ حملہ کرنے والے کا نام صرف تاریخ میں رہ جائے گا اور بس۔

اللہ والوں کے ارشادات یوں ہی نہیں ہیں۔ اسلام آباد کے حضرت امام برّی علیہ الرحمتہ نے یوں ہی نہیں کہہ دیا تھا کہ یہاں ایک شہر آباد ہوگا جس کا نام اسلام کے نام پر رکھا جائے گا اور وہ اسلام کا قلعہ ہو گا۔ صوفی برکت علی شاہ علیہ الرحمتہ یوں ہی نہیں کہہ گئے کہ وہ وقت بہت قریب ہے جب پاکستان کی ہاں اور ناں پر پوری دنیا کے فیصلے ہوں گے۔پیر مقصود علی شاہ کہتے تھے پاکسان دنیا کا امیر ترین ملک ہو گا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے آپ کو پہچانیں اور قدرت کے اشاروں کو سمجھیں۔ دنیا میں وہی لوگ اور قومیں کامیاب ہوتی ہیں جو قدرت کی رضا اور اشاروں کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور اسی کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالتے ہیں۔
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Abdul Munem

Read More Articles by Muhammad Abdul Munem: 20 Articles with 11917 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
20 Oct, 2016 Views: 502

Comments

آپ کی رائے