مغربی تہذیب و ثقافت سے مرعوب ہمارا مسلمان

(Mufti Muhammad Waqas Rafi, )
اس وقت تمام عالم انسانیت جس طرح مغربی تہذیب و ثقافت پر فریفتہ اور اس سے متاثر ہے ، مغربی وضع قطع اور مغربی طور و طریق اپنانے میں فخر محسوس کرتا ہے اور اسلامی تہذیب کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتا ہے وہ کسی طرح بھی محتاج بیاں نہیں ۔ اوروں کو چھوڑئیے خود مسلمانوں کی اکثریت وضع قطع، رہن سہن ، چال چلن اور لباس میں مغربی قوموں کے نقش قدم پر چلنا اپنے لئے قابل فخر سمجھتی ہے اور سرکارِ دوعالم صلی اﷲ علیہ وسلم اور حضرات صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کے نقش قدم پر چلنا باعث ننگ و عار خیال کرتی ہے ۔ بقول شاعر:
وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں یہود
یہ مسلمان ہیں جنہیں دیکھ کر شرمائے ہنود

اس لادینی ماحول میں سب سے بڑا جہاد یہ ہے کہ مسلمان غیروں کی مشابہت چھوڑ کر اسلامی تہذیب اپنائیں ، لباس ، وضع قطع، چال ڈھال ، نشست و برخاست، سلام و کلام ٗ غرض زندگی کے تمام شعبوں میں سرکارِ دوعالم صلی اﷲ علیہ وسلم کی سنتوں اور ہدایتوں پر عمل کریں او غیروں کی مشابہت سے بچنے کی پوری پوری جدو جہد کریں ، ورنہ رہی سہی کسر بھی نکل جائے گی اور بچی کھچی باقی عزت بھی خاک میں مل جائے گی اور نصرت خداوندی سے مسلمان بالکل ہی محروم ہوجائیں گے ۔

حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ترجمہ:جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی تو وہ انہی میں سے ہوگا۔‘‘ (احمد ، ابو داؤد ، مشکوٰۃ)

مطلب یہ ہے کہ جو شخص کافروں اور فاسقوں فاجروں کی مشابہت اختیار کرے گا وہ کل قیامت کے دن انہی لوگوں کے ساتھ اٹھایا جائے گا ۔ اور جو شخص نیک لوگوں اور اﷲ والوں کی مشابہت اختیار کرے گا تو وہ کل قیامت کے دن انہی نیک اور اﷲ والے لوگوں کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔

پس اس حدیث میں ان لوگوں کے لئے بہت بڑی بشارت ہے جو لباس ، وضع قطع ، چال چلن اور دیگر طور طریقوں میں نیک لوگوں اور اﷲ والوں کی مشابہت اختیار کرتے ہیں ۔ اور اس کے برخلاف ان لوگوں کے سخت ترین وعید ہے جو کافروں اور فاسقوں فاجروں کی مشابہت اختیار کرتے ہیں۔

اسی طرح جو مرد عورتوں کی مشابہت اختیار کرتے ہیں یا جو عورتیں مردوں کی مشابہت اختیار کرتی ہیں ان کے لئے بھی احادیث مبارکہ میں سخت سے سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں ۔ چنانچہ حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ’’ ترجمہ: اﷲ تعالیٰ کی لعنت ہے ان مردوں پر جو عورتوں کی مشابہت اختیار کرتے ہیں اور ان عورتوں پر جو مردوں کی مشابہت اختیار کرتی ہیں ۔‘‘ (بخاری ، مشکوٰۃ)

ایک اور حدیث میں آتا ہے حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما ہی سے مروی ہے کہ : ’’ ترجمہ:رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے ان مردوں پر جو عورتوں کی مشابہت اختیار کرتے ہیں اور ان عورتوں پر جو مردوں کی مشابہت اختیار کرتی ہیں ۔ نیز آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا :تم انہیں اپنے گھروں سے نکال دو ! ۔‘‘ (بخاری ومشکوٰۃ)

آج کل معاشرہ میں یہ چیز زیادہ مقبول ہورہی ہے کہ لڑکوں کو لڑکیوں کا لباس اورلڑکیوں کو لڑکوں کا لباس پہناتے ہیں اور نوجوان مرد و عورت اس سیلاب کے بہاؤ میں بہہ رہے ہیں، یہ طرز بھی یورپ و امریکہ کے تاب کاروں سے شروع ہوا ہے ، ان کے نزدیک یہ فیشن اور فخر کی چیزہے۔

چناں چہ ایک جگہ کا واقعہ ہے کہ کسی جگہ دعوت تھی ، مرد اور عورت ایک ہی جگہ موجود تھے ، ایک نو عمر کو دیکھا گیا کہ رواج کے مطابق میز پر کھانا لگا رہا ہے ، کسی کی زبان سے یہ نکل گیا کہ : ’’ لڑکا بڑا ہونہار ہے ، سلیقہ مندی سے کام کر رہا ہے ‘‘ اس پر پیچھے سے آواز آئی کہ : ’’میاں کیا فرما رہے ہیں ؟ یہ لڑکا نہیں میری لڑکی ہے ‘‘ ان صاحب نے پیچھے مڑ کر دیکھا اور ایک نظر ڈال کر کہا : ’’معاف کیجئے ! مجھے معلوم نہ تھا کہ آپ اس کی والدہ ہیں ‘‘ اس نے فوراً جواب دیا کہ : ’’ میاں ! آپ صحیح دیکھا کیجئے !میں والدہ نہیں اس کا والد ہوں ۔‘‘

بہرحال مذکورہ بالا احادیث سے معلوم ہوا کہ جو خوش قسمت مسلمان اس لادینی ماحول میں طعن و تشنیع کے سینکڑوں تیر کھاکر سرکارِ دوعالم صلی اﷲ علیہ وسلم کی مبارک سنتوں پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کرتے ہیں ان کو سو (۱۰۰) شہیدوں کا ثواب ملتا ہے۔ چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ترجمہ: جس نے میری امت کے فساد اور بگاڑ کے وقت میری سنت کو مضبوطی سے تھام لیااس کے لئے سو (۱۰۰) شہیدوں کا ثواب ہے۔‘‘(مشکوٰۃ)

نیز ایسا شخص جنت میں سرکارِ دوعالم صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ ہوگا ۔ چنانچہ حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ’’ترجمہ: جس نے نیری سنت سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا۔‘‘(ترمذی و مشکوٰۃ)

یقیناً اگر آدمی سچے دل سے قرآن پاک اور احادیث مبارکہ کی نورانی تعلیمات کا مطالعہ کرے اورپھر انہی کی روشنی میں مذہب اسلام کو سمجھنے کی کوشش کرے تب کہیں جاکر اس کے دل میں اسلامی تہذیب و ثقافت کی رفعت و عظمت اور اس کی اہمیت و افادیت جگہ پکڑتی ہے اور یورپ و مغرب کی گندی تہذیب و ثقافت اور اس کا ناپاک کلچر اپنا دم توڑنے لگتا ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mufti Muhammad Waqas Rafi

Read More Articles by Mufti Muhammad Waqas Rafi: 186 Articles with 136174 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Oct, 2016 Views: 538

Comments

آپ کی رائے