تبدیلی کیسے آئے گی

(Maryam Arif, Karachi)
تحریر: علی رضا
آج جب میں ایک حمام میں بال بنوانے گیا ۔ عید قریب ہونے کی وجہ سے دکان پر بہت زیادہ رش تھا۔لوگوں کی کافی تعداد حمام میں موجود تھی ۔ وہاں میں نے ایک غریب شخص بھی دیکھا تو جو دکان پر بال بنوانے آیا ہوا تھا ۔ رش زیادہ ہونے کی وجہ سے میں گھر واپس آگیا ۔میں نے سوچا تھا جب رش کم ہو جائے تو کچھ دیر تک میں حمام میں بال بنوانے جاؤں گا ۔ تھوڑا وقت گزرا میں پھر دکان میں گیا ۔او ردیکھا میں نے کہ وہ شخص ابھی بھی اپنی باری کا انتظار کر رہا تھا ۔ ا ب اس شخص کی بڑی مشکل سے باری آئی۔ وہ کرسی پر جا کر بیٹھتا ہے ۔ لیکن اچانک ایک اور شخص داخل ہوتا ہے ۔ یہ شخص گاؤں کا ایک بڑا زمیندار تھا۔لوگ اس کی بہت عزت کرتے تھے ۔ جو لوگ حمام میں بیٹھے تھے اس کے آنے کی وجہ سے کھڑے ہو گئے ۔ اس نے غریب شخص کو کرسی سے اٹھا دیا ۔ حجام نے بھی اس کو غصے سے کہا چل اٹھ یہاں پر صاحب کو بیٹھنے دے۔اوروہ امیر شخص حجامت کروانے کے لیے خود اس کرسی پر بیٹھ گیا۔غریب آدمی کو بہت غصہ آیاکہ میں آٹھ گھنٹے سے یہاں بیٹھا ہوا ہوں ۔ ایک تو میری باری بہت مشکل سے آئی دوسرایہ شخص اب آیا ہے اور یہاں سب سے پہلے حجامت کروانے کے لیے بیٹھ گیا ہے ۔ لیکن بے چارہ غریب ہونے کی وجہ سے کچھ نہیں کر سکتا تھا۔اس حجام نے اس غریب بے چارے کے ساتھ اچھا نہیں کیاتھا۔

وہی حجام حکمرانوں کو کہتا ہے ہمارے حکمران عدل نہیں کرتے انصاف نہیں کرتے یہاں تو بہت مہنگائی ہے غریبوں پر ظلم ڈھائے جارہے ہیں۔یہی لوگ حالات کا شکوہ کرتے ہیں۔حکمران تو ایسے ہیں لیکن لوگوں کے ضمیر کیوں سوئے ہوئے ہیں۔۔خود حجام نے کونسا اس شخص کے ساتھ اچھا کیا۔اس کے ساتھ کونسا برابری والا انصاف والا سلوک کیا ہے ۔اس غریب کو غریب سمجھ کر کرسی سے اٹھا دیا جو بے چارہ آٹھ گھنٹے سے اپنی باری کا انتظار کررہا تھا۔لوگ تو خود کو بدلتے نہیں ہیں پھر تبدیلی کیسے آئے۔تبدیلی ہمیشہ نیچے سے آتی ہے۔اگر وہ حجام عدل کرتا تو لوگ بھی اس سے سیکھتے۔اگر لوگ سیکھتے تو پھر معاشرہ سیکھتا ۔ آہستہ آہستہ پھر پورا شہر انصاف پسند کرتا۔

لوگ پھر یہ کہتے کہ جوایک معمولی حجام بھی جس ملک میں عدل چاہتا ہے انصاف چاہتا ہے ۔ تو ہم کیوں نہ عدل کریں ہمارا ملک کیسے ترقی نہ کرے ۔ اس ملک کو بہتر بنانے میں ایک شخص کا کردار بھی بہت کچھ کر سکتا ہے ۔ اگراس ملک میں رہنے والا عدل کو پسند کرتا ہے تو خود بھی عدل کرے۔اس ملک کو بہتر بنانے کے لیے ہرشخص کو اپنا کردارلازمی ادا کرنا چاہئے تب جاکر یہ ملک ترقی کرسکتا ہے ۔ ہمیں اپنے آپ کو تبدیل کرنا ہوگا ہمیں وہ درس سیکھنا ہوگا جو اسلام نے ہمیں سکھایا ہے ۔ لوگ کیوں اسلام سے پیچھے ہٹ گئے ہیں ۔ لوگ اسلامی تعلیمات کو بھول چکے ہیں ۔

اسلام نے تو ہمیں مساوات کا برابری کا حکم دیا ہے۔ ہمارے رسول اﷲ ﷺ کے نزدیک امیر غریب ، آقاو غلام، شاہ وگدا سب برابر تھے۔ لیکن یہاں تو ایک امیر ایک غریب کو پسند نہیں کرتا۔یہاں تو ایک حجام والا ایک غریب کو پسند نہیں کرتا۔ ہمیں اپنے گریبانوں میں جھانکنا ہوگاکہ ہم کیا کر رہے ہیں کیا ہم جو خود کر رہے ہیں وہ ٹھیک ہے ۔ ہم اپنے آپ خود ٹھیک کریں تو معاشرہ سدھر سکتا ہے۔ اگر لوگ ٹھیک نہیں ہیں تو اس پر انگلی اٹھانے کی بجائے پہلے ایک دفعہ اپنے گریبان میں تو جھانک کر تو دیکھ لیں۔ہم کونسا ٹھیک کررہے ہیں۔ ہم اپنے کردار کو ٹھیک کریں اپنے آپ کو ٹھیک کریں تو دوسرے لوگ خودبخود یہ دیکھ کر سبق سیکھیں گے کہ ہمارا ساتھی ایسا کررہا ہے تو ہم کیوں نہیں۔ یقین مانیں اگر یہاں ایک شخص خود کو ٹھیک کرنے کا عزم کر لے پکا ارادہ کر لے کہ لوگ اچھا بنے یا نہ بنے ہمیں تو اچھا بننا ہے تو یہ معاشرہ سدھر سکتا ہے ہمارا ملک بہتر ہو سکتا ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1227 Articles with 501524 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
25 Oct, 2016 Views: 287

Comments

آپ کی رائے