ہزارہ تحریک پاکستان کا سرخیل دیس

(Iftikhar Chohdury, )
انسان آسمانوں پر اڑے خلاؤں میں گھومے صحراؤں میں بھٹکے اپنی ماں اور ماں دھرتی سے کبھی دور نہیں رہ سکتا۔اپنی ماؤں سے دوری کسی کو بھی اچھی نہیں لگتی لیکن کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ ہے خوبصورت زمین ہزارہ مگر آدمی کا ہے مشکل گزارہ

کراچی والوں کو تو تقسیم کے وقت چانس ملا یو پی سی پی لکھنوء اور کہاں کہاں سے پاکستان کی بندر گاہ پر آ کر بیٹھگئے ہم کہاں کہاں گئے ایک بار ۱۹۷۸ میں نوکری کی تلاش میں جدہ سے دمام وہاں سے ایک ربع الخالی پہنچا جب جہاز فضاء میں تھا اور اس کے پر نہیں کھل رہے تھے تو ذہن میں خیال آیا کہ ایک روٹی کے ٹکڑے کے لئے دنیا کے دوسرے بڑے صحراء میں آ گیا ہوں۔اپنی ماں اہل خانہ اور اپنا گاؤں یاد آیا۔پر کھل گئے سوچا میں اکیلا یہاں پہنچا ہوں اپنے آپ کو ابن بطوطہ سمجھ رہا تھا جب جہاز سے اترے تو استقبال کرنے والوں میں لیراں کے گلزار ،چنگڑے کشکے کے بابو شیر زمان اور اشرف ملے تربیلا ٹاؤن شپ کے عرفان۔مجھے بڑی حیرانگی ہوئی معلوم ہوا ارگاس کمپنی میں بے شمار ہزارے وال ہیں یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے تربیلا ڈیم بنانے والی کمپنیوں میں کام کیا تھا۔وقت گزرتا رہا میں بڑا افسر بن گیا ۲۰۰۴ میں ٹویوٹا کمپنی کی طرف سے ملائیشیا جانے کا موقع ملا وہاں مجھے دوسری عالمی جنگ کے شہداء کی نشانی پر لے جایا گیا وہاں بھی میر زمان کالا خان کی قبریں دیکھیں۔حلات نہ پہلے بدلے تھے اور نہ اب بدل رہے ہیں ہزارہ وہ دیس ہے جو تحریک پاکستان کے دنوں میں ریفرینڈم میں اپنا وزن پاکستان کے حق میں نہ ڈالتا تو ہمیں اٹک کے اس پار والے خدائی خدمت گار لے دے گئے تھے۔جلال بابا یہاں سے بابائے قائد اعظم کا ساتھ دینے اٹھے اور ایک دنیا دنیا کے نقشے پر پاکستان وجود میں آ گیا۔اﷲ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہزارے والوں نے قائد اعظم کی لاج رکھ لی چودھری رحمت علی کا الف پاکستان میں آ گیا۔ پرویز بھائی مجھے سر گرم کی کاپی بھیجتے ہیں ان کے دل میں پاکستان کا درد کسی بھی دوسرے ہزارے وال کی طرح کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔۱۹ اکتوبر کے اخبار میں ایک خبر میرے دوست سردار شیر بہادر کے حوالے سے لگی ہوئی تھی۔بہت سوں کو شائد علم نہیں کہ شیر بہادر اور میں تیس سالوں سے دوستی کے بندھن میں جکڑے ہوئے ہیں اﷲ نے انہیں بہادری اور استقامت کی جو طاقت دے رکھی ہے یہ ہم سب دوستوں کی دعاؤں اور اس وقت کے طفیل ہے جو ہم کرنے جدہ اکٹھے گزارا خبر یہ تھی کہ شیر بہادر عمران خان کا این اے ۱۸ میں مقابلہ کریں گے فون کیا تو عمرشیر سے بات ہوئی جس انہوں نے سختی سے تردید کی۔در اصل کچھ لوگ جن کو بری طرح شکست ہوئی ہے وہ نہیں چاہتے کہ شیر بہادر عمران خان کے قریب ہو۔اﷲ کے کرم سے ہم پارٹی کے سینٹر میں بیٹھے ہوئے ہیں جاوید قریشی میرے ساتھ ہیں ہم انہیں کسی صورت دور نہیں ہونے دیں گے وقتی مفادات کے پجاریوں سے ناراضگیاں مستقل جدائی کی کوشش میں کامیاب نہ ہوں گی۔ہزارہ کی بات کرتے کرتے سی پیک کا ذکر مناسب ہے اور تیسری بات بابا حیدر زمان اور پی ٹی آئی کی کروں گا۔سی پیک کا ہزارہ سے گزرنا نوشتہ ء دیوار ہے کسی کا خواب ضرور ہو سکتا ہے لیکن اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ ہزارہ کو لولی پاپ دکھا کر اس کی قسمت سے کھیلے گا تو یہ خواب ہے اور خواب دیکھنے پر کوئی پابندی نہیں۔اس مسئلے پر ہم پہلے پاکستانی اور بعد میں ہزارے وال بن کر دکھائیں گے۔

رہی بات با با جی کی تو میرے بزرگ ہیں اور ہزارے وال تحریک میں میرے قائد بھی ہیں۔ان کی تضحیک کرنے کی ہمت کوئی نہیں کر سکتا پرویز خٹک بھی انہی کے ہم عمر ہیں چار چھ سال پیچھے ہو سکتے ہیں ساتھ میں کئی اسمبلیوں میں بھی رہے ہیں یہ ان کی ان سے چھیڑ چھاڑ ہے میں کسی صورت ان کی جانب سے بابا جی کی تضحیک نہیں سمجھتا۔بابا جی کے پاس عمران خان دو بار آ چکے ہیں اور اببھی ان کی عزت و احترام میں کمی نہیں کی جاتی۔لہذہ میرے پیارے ہزارے وال اسے دل پر نہ لیں۔رہی بات ایک ایم پی اے کی تو انصاحب کو پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کے اراکین کا حال جاننا ہو گا۔یہ عمران خان ہی ہے جس نے اپوزیشن کو بھی برابر فنڈز دئے ہیں۔

آبشاروں چناروں کے اس دیس میں سیاحت سے ایک انقلاب آنے والا ہے امن و امان کی صورت حال بہتر ہو رہی ہے۔دوستو! اس بات کو یاد رکھنا سی پیک منصوبہ ۵۰ سالہ پرانا ہے گوادر کے گرم پانیوں تک رسائی کے لئے روس نے جبر سے کوشش کی مات کھا گیا چائینہ یہی کام پیار سے کر رہا ہے وہ کوئی ہم پر احسان نہیں کر رہا اسے جن پانیوں تک پہنچنے میں ہزاروں میل کا سفر کرنا پڑتا تھا وہ اب چند ہزار کلو میٹرز سے کر لے گا۔اس منصوبے کو انڈیا اسرائیل امریکہ مکمل نہیں ہونے دیں گے اس کے لئے وہ لسانی علاقائی لڑائیاں کرانے میں مشغول ہیں بس ایک بات یاد رکھئے عدم برداشت پاکستان کو شدید نقصان پہنچائے گا۔ہزارہ بذات خود ایک الگ شناختی علاقہ ہے اس کے عوام پاکستان سے لاہور کراچی کوئٹہ پشاور سے بڑھ کر پاکستانی ہیں۔ان کا دل نہیں ٹوٹنے دیا جائے گا۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Engr Iftikhar Ahmed Chaudhry

Read More Articles by Engr Iftikhar Ahmed Chaudhry: 407 Articles with 162425 views »
I am almost 60 years of old but enrgetic Pakistani who wish to see Pakistan on top Naya Pakistan is my dream for that i am struggling for years with I.. View More
25 Oct, 2016 Views: 409

Comments

آپ کی رائے