ریحان رند کا نامکمل مشن

(Amin Baloch, )
دنیا میں دوخود ساختہ اورکامن اُصول بنائے گئے ہیں جوکہ انتہائی کامیاب سمجھے جاتے ہیں ایک یہ کہ لوگ اُس کام کے پیچھے دوڑتے اور اس کام کو کرنا چاہتے ہیں جس سے ظاہری طورپر بلواسطہ یا بلاواسطہ ان کو کسی طرح فائدہ مل چکا ہو یا کسی اور کو کوئی کامیاب یا فائدہ مل چکا ہو ۔ دوسرا یہ کہ اس کام سے دور بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں جس کا م سے کسی کو کوئی نقصان پہنچی ہو یا اسے کسی زمانے میں اس کام کو کرتے ہوئے خاطرخواہ کامیابی نہ مل سکی ہو۔ مگر لوگ اندرونی حقائق اور وجوہات کی گہرائیوں تک پہنچنے کی کوئی کوشش نہیں کرتے اور اس کام سے مکمل اور یکساں طورپر قاصر ہیں۔ اگر نقصان ہوا تو اس نقصان کا کیسے تدارک کیا جائے اور آئندہ اس نقصان سے کیسے بچا جاسکے اس طرح کی منصوبہ بندی اور آگاہی کی ہمارے معاشرے میں صدیوں بعد بھی کوئی حل سامنے نہیں آیا۔ بالفرض کسی جگہ یا معاشرے میں ایک چار لوگ ہوں بھی تووہ کچھ کر نہیں سکتے کیوں کہ معاشرے میں ان کے ساتھ اخلاقی، اصولی، سماجی یا مالی تعاون نہیں ہوتی ہے۔

میرے اس ناقص ذہن میں پتا نہیں کیوں یہ خیال آتا ہے کہ ہم اپنے گزرے ہوئے کل کو بھول جاتے ہیں اور آنے والے کل کو صرف تقدیر پر ہی کیوں چھوڑدیتے ہیں یعنی’’ کل جو ہوگا وہ دیکھا جائے گاـ‘‘کے فلسفے پر عمل کرتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں سب سے بڑی خامی اور کوتاہی صرف اور صرف یہی چیز ہے کہ ہم اپنے اور اپنے آنے والے نسلوں کیلئے منصوبہ بندی کرنے سے مکمل قاصر ہیں ۔ہماری معاشرتی زندگی صبح کمایا، شام کھایا کی حد تک محدود ہے۔ نہ ہم گزرے ہوئے کل سے سبق حاصل کرتے ہیں اور نہ ہی آنے والے کل کا مقابلہ کرنے کا سوچتے ہیں ۔ جس کو میں اپنے معاشرے کا سب سے بڑاالمیہ تصور کرتا ہوں اور اس پر سوچ کر حیرانگی بھی ہوتی ہے اور پریشانی بھی۔

حال ہی میں میرے ایک بہت ہی محترم دوست کا بھتیجااور ایک کولیگ فیصل خالد رند کا سگا بھائی ریحان رندجوکہ انتہائی ہونہار اور ذہین طالب علم تھے جوکہ ایک سوچ کو لئے کراچی میں طلب ِعلم کی زندگی بسر کررہا تھا، جوکہ خون کے سرطان کی وجہ سے جان کی بازی ہار گئے۔ ریحان سرطان جیسے دشمن سے تن تنہامعرکہ اس لئے لڑتارہا کہ کل کو اس سے ہمیں لڑنے کا حوصلہ مل سکے تاکہ ہم اس کو شکست دے سکیں۔ اس نے حقیقت میں ہمیں ایک راستہ دکھانے کی کوشش کی مگر ہم اندھیرے میں ہی رہے۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ میں شاید اس جنگ میں لڑتے لڑتے اپنی وجود کھوبیٹھوں مگر آپ لوگوں نے اس دشمن سے لڑنے کیلئے مستقبل میں لیس ہوکر بھرپور دفاع کرنا ہے۔ ہم انتظار کرتے رہے اور ریحان اکیلا لڑتا رہا ۔ہم مشورے کرتے رہے ریحان لڑتا رہا۔ ہم نے کان اور آنکھیں بند رکھی اور ریحان لڑتا رہا۔ جب ہم نے ریحان کو کھو دیا تو تقدیر پر قصہ سمیٹ لیا اور ریحان کو بھول گئے ۔ مگر ایک ماں کو آج بھی ریحان کا انتظار ہے وہ روز دروازے پر نظریں مرکوز کئے ہوئے ریحان کے انتظار میں نین پُرنم ہے۔ جس ریحان کو انہوں نے ہنستے ہوئے گھر سے خدا حافظ کیا وہ ریحان 38دنوں میں ان سے الوداع ہوگئے۔ جس ریحان کو انہوں نے علم کیلئے بھیجا وہ ریحان خاموش واپس لوٹ گئے ۔

ریحان خود اپنے کیس سے واقف بھی تھا اور ڈاکٹروں سے اس سلسلے میں مسلسل بات چیت اور مشورہ بھی خود کیاکرتے تھے۔حالانکہ کسی بھی شخص کا قصہ تمام کرنے کے لئے ایک جملہ ’ـ’کہ میں کینسر میں مبتلا ہوں ‘‘ کافی ہے مگر ریحان کو اس بات کا علم ہونے کے باوجود بھی ریحان پُر اُمید اور پُرسُکون تھے اور اسے یقین بھی تھا کہ وہ اس مرض کو شکست دیگا اور اپنے قوم کی مستقبل میں اس مرض سے چھٹکارہ پانے کیلئے باقاعدہ ایک تحریک کے انداز میں مہم چلائے گا۔

ریحان بے گھر نہیں تھا، ریحان گھر سے باغی نہیں تھا جو کراچی میں بیٹھ کر گھر سے دور گھروالوں سے دور زندگی بسر کررہا تھا۔ اسے خواہ مخواہ تنہائی کی زندگی بسر کرنے کا کائی شوق نہیں تھا۔ ریحان ایک سوچ کو لئے ۔ ایک فکر کو لئے آگے بڑھنا چاہتا تھا۔جس کیلئے وہ دیارغیر میں شام کے اوقات میں کوچنگ سینٹر میں کوچنگ کرتے ہوئے اپنے تعلیمی اخراجات کو پورا کرتے ہوئے صبح کے اوقات میں خود ایک تعلیمی ادارے میں علم کی کھوج لگا رہا تھا کیوں کہ ریحان کو خضدار میں ایک تعلیمی ماحول میسر نہیں تھا اس لئے انہوں نے کراچی کو ترجیح دی اور تنہائی کا انتخاب کیا ۔ریحان نے جس مشن کا سوچ اپنے ذہن میں رکھ کر کام کا آغاز کیاتھا وہ اس میں اپنے مطابق کامیاب جارہا تھا مگر اس دوران میں ان کا اچانک سے سرطان کے ساتھ مقابلہ آن پڑا اور انہیں ایک مہینے کے اندر اندر دیمک کی طرح ختم کردیا۔

ریحان ہماری غفلت کی وجہ سے ہم میں نہ رہ سکے۔ ہم نے اپنے ریحان کیلئے بروقت اقدامات کرنے کی ہمت ہی نہیں کی تو اس سے بڑی غفلت کیا ہوسکتی ہے۔ ہم نے انتظار کیا اور من ہی من میں سوچا کہ آج حکومت کچھ کریگی، کل فلاں ٹرسٹ کچھ کریگا، آج فلاں لیڈر اعلان کریگا، کل فلاں مخیر آدمی اخراجات اپنے ذمہ اٹھا کر ریحان کا اعلاج کروائے گا اس انتظار میں نہ کسی نے کچھ کیا اور نہ ہی ہمارے قدم اٹھے۔نتیجتاََ یہ ہوا کہ ریحان ہم میں نہ رہے اور ہم ہاتھ ملتے رہے اور ریحان جیسے انسان اور ہونہار طالب علم کو کھودیا۔انہی باتوں پر میں اپنے آپ اور اپنے معاشرے کے باسیوں کو کوستا ہو ں کہ ہم کس حد تک ناکارہ ہوکر رہ گئے ہیں کہ ہمارے معاشرے کے اسکولوں میں پڑھنے والے معصوم بچے ایک اعلان پر گھر سے دیئے گئے جیب خرچی 20روپے کو ریحان کی زندگی کیلئے جمع کراسکتے ہیں اور ہمارے بڑے کاروباری حضرات، آفیسرصاحبان اور زمینداران کو توفیق ہی نہیں ہوتی ۔ ہم ریحان کے درد کو ،ریحان کے مرض کو اپنا سمجھتے تو یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ آج معاملہ بہت ہی مختلف ہوتا بلکہ برعکس ہوتا۔

ہمارے ہاں اگر کوئی عمدہ ہسپتا ل ہوتا جیسے دوسرے صوبوں میں ہیں، تعلیمی معیار اور ادارے بھی ہوتے جیسے دوسرے صوبوں میں ہیں تونہ ریحان کراچی جاتے اور نہ ہم سے دور ہوتے اور نہ ہی وہاں کے ہسپتال میں بے یارومددگار پڑا رہتے۔اور آج وہ ہمارے درماین ہوتے۔ مگر پھر بھی بات آکر ایک نقطے پر رُک جاتی ہے کہ ہم نے ریحان کیلئے آخرکیاہی کیاہے ؟؟؟

ریحان جان ہم بہت شرمندہ ہیں کہ آپ نے ہماری آنکھیں کھینچ کر کھولنے کی کوشش تو کی مگر ہم ہی ہیں جو اندھیرے سے نکل کر آپ کے دکھائے راستے کو پھر سے بھول بیٹھے ہیں ۔آپ ہی نے کہا تھا ریحان۔۔ کہ میں شاید نہ رہوں مگر آپ لوگوں نے لڑنا ہے۔۔ ریحان ۔۔نہیں۔۔ ہم نہیں لڑرہے ہیں۔ آپ کے جانے کے بعد دشمن (سرطان ) کے ساتھ جولوگ لڑ رہے ہیں ہم اُن کی بھی خبر گیری نہیں کرتے لڑنا تو کوسُوں دور۔۔ ریحان ہم نے صرف آپ کو کھودیا مگر اب بھی ہم یہ سوچنے سے بالکل قاصر ہیں کہ آپ کو کیسے کھودیا ؟آخر کون سی کمی رہ گئی کہ آپ کو ہم نہ بچا پائے ؟

ریحان آپ نے کچھ کرنے کا سوچا تھا مگر اُس دشمن نے آپ کا خواب چکنا چور کردیا اور ہمیں بھی بے ہمت کردیا کہ ہم لڑ نے کی جرت بھی نہیں کرسکے۔ یقیناہم نے آپ کے درد کو صرف آپ کا ہی درد سمجھا اور آپ کی طرف دھیان بھی نہیں دیا ۔

ریحان آپ نے یہی سوچا تھا نا؟؟؟۔۔ کہ میری کم ہمت عوام اور علاقہ دار وں کیلئے ایک کِرن بن جاؤں اور ان کیلئے آگے کچھ کردکھاؤں۔ آپ نے علاقہ بدری کی زندگی بھی ہمارے لئے برداشت کی۔ ایک وقت میں پڑھا اور ایک وقت میں اس پڑھائی کے اخراجات کی خاطر پارٹ ٹائم اکیڈمیوں کے چکر کاٹتے رہے۔ اپنے تمام تر ضروریات زندگی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اس خواب کی تعبیر کو لئے محنت کرتے رہے؟

گھروالوں کو آپ کی دوری کااحساس اور دکھ ضرور تھا مگر وہ اس امید پر صابر تھے کہ ریحان کے خواب کی تعبیر اور مشن کی تکمیل ہو اور وہ اس معاشرے میں ایک مسیحا بن کر آجائے۔ مگر ۔۔۔۔ریحان بھائی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہم سب کچھ کرسکتے تھے لیکن ہم نے اس کام کو ایک دوسرے پہ ڈال دیا ۔ قصور وار ہم ہی ہیں جو ایسے چپ بیٹھے کہ جیسے سب ٹھیک چل رہا ہے ۔ ریحان۔۔۔۔۔ آپ کے ساتھ جو ہوا وہ صرف آپکو اور امی ابو کو پتا ہے ۔ ان کو ہی پتا ہے کہ نوجوان پھول جیسے بیٹے کو اس طرح کھودینا کتنا تکلیف دہ ہے۔ صرف انہیں ہی معلوم ہے کہ بے سروسامانی کے عالم میں کیسے بے بس ہوتا ہے انسان؟؟؟

ہم ریحان کی نامکمل مشن کو شاید کبھی بھی پایہ تکمیل تک نہ پہنچا سکیں لیکن ریحان کے ساتھ جوکچھ ہوا اس پر جو وقت کافی دقت اور پریشانی میں گزرا یہ قصہ بیان کرنا مجھ جیسے انسان کیلئے ممکن نہیں اور رہی بات ہماری عوام اور رعایہ کی ہم لوگ اگر کسی کام کو کرنے کی ضرورت محسوس بھی کرتے ہیں تو ایک ہزار ایک بار سوچتے ہیں یہاں تک کہ ہم پھر اس نتیجے پر پہنچ جاتے ہیں کہ اس کام کرنے کی نہ جرت اور نہ ہمت رہتی ہے۔ہم اس کام کے تمام مثبت پہلومنفی پہلوؤں میں تبدیل ہوجاتے ہیں ۔ریحان رند کی اگر بات کی جائے تو وہ ایک شخص نہیں جو گزرگئے تو بس ہماری فُل اسٹاپ لگ گئی۔ نہیں ہمیں اپنے معاشرے میں موجود ریحانوں(عوام) کیلئے سوچ رکھنی چاہیئے یہ دن صرف ریحان کے اہل خانہ اور خضدار والوں پر نہیں آئی اس کیلئے ہمارے تمام طبقہ افکار کے لوگوں کو ذہنی، جسمانی،نظریاتی،مالی اور سماجی طورپر ہر وقت تیار رہنا چاہیئے تاکہ کل کلاں خدانہ خواستہ کوئی انسان اگر ایسی وقت سے دوچار ہوجائے تو جس طرح ریحان کے ساتھ ہوا ویسا نہ ہو۔ اگر دیکھا جائے تو ہم نے ریحان کے ساتھ بڑا ظلم کیاکیوں کہ ہمارا معاشرہ ان عوامل کیلئے دفاعی پوزیشن میں نہیں ہے نہ ریحان سے پہلے تھی اور نہ ریحان کو کھودینے کے بعد ہے۔ اب بھی اگر کوئی فلاحی ٹرسٹ یا ادارہ ایک آواز بلند کرتا پھر رہا ہے تو تب بھی ہم اس سے اپنے آپ کو بری الذمہ سمجھتے ہیں کسی بھی معاشرے کا سب سے بڑا المیہ اس سے زیادہ کیا ہوسکتا ہے۔ہونا یہ چاہیئے کہ سب ایک اجتماعی پلیٹ فارم پر یکجا ہوکر ریحان کی نامکمل مشن کوپایہ تکمیل تک پہنچائیں ۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Amin Baloch

Read More Articles by Amin Baloch: 7 Articles with 4739 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 Oct, 2016 Views: 478

Comments

آپ کی رائے