رانگ نمبر

(Shahhid Iqbal Shami, Attock)
 عامر خان کی فلم پی۔ کے، نے ایک دھوم مچادی ہے،کہیں پر خوشیوں کے ڈھول بجائے جا رہے ہیں اور کہیں پر ماتم کی صفیں بچھی پڑی ہیں،عامرخان نے اس فلم میں ہندو مذہب کے لبادے کو نوچ ڈالا ہے،ذات پات کے اس مذہب کو حقیقت کا آئینہ دیکھانے کی کوشش کی ہے،مذاق مذاق میں ایسی باتیں کر دی جس سے ہندوازم کا اصلی چہرہ دیکھا جا سکتا ہے،عامر خان نے فلم پی کے میں ایک پیغام دیا ہے ان لوگوں کو جو اندھی تقلید میں اپنی دنیا اور آخرت تباہ و برباد کر رہے ہیں،اس فلم نے جہاں اک طرف مشہوری اور کاروبار ی حوالے سے کئی ریکارڈ بنائے ہیں وہی دوسری طرف کئی سوالات بھی کھڑے ہو گئے ہیں،اس فلم کے پیچھے جو بھی مقاصد ہوں وہ اپنی جگہ لیکن جو پیغام دیا گیا ہے اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔
اس فلم کے بعد میں سوچنے لگا کہ ہندوستان میں تو ایک پی کے ،نے بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈال دیا ہے کیا پاکستان میں بھی کوئی پی کے اس طرح کا کام کر سکتا ہے؟کاش یہاں پر بھی کوئی پی کے اٹھے اور ان لوگوں کو بتائے کہ یہاں پر ہر بھی کئی مذہب کے ـمنیجر"ڈر"کا کاروبار کر رہے ہیں،کئی منیجر "رانگ نمبر"پر کالیں کر رہے ہیں اور اپنا "انویسٹمنٹ"دوگنا کر رہے ہیں،کاش کوئی پی کے ان کو بھی بتائے کہ بھائی آپ کے مذہب کے "منیجر"کس کس طرح ان کو لوٹ رہے ہیں؟؟؟ہندوؤں کے بھگوانوں کی قلعی تو کھول دی عامر خان نے پر مسلمانوں کے مذہب کے منیجروں کے بھید کون کھولے گا؟ ۔

کوئی پاکستانی پی کے آکر ان کو بھی بتائے کہ آپ کے مذہب کے منیجر بھی ساری "رانگ نمبر"پر کالیں ملا رہے ہیں یہ منیجر اگر آپ کی کالیں "رائٹ نمبر" پر بھیج رہے ہوتے تو یہاں پر ہر کوئی ایک دوسرے کو کافر نہ کہہ رہا ہوتابلکہ بتا رہا ہوتا کہ ہمارے نبیﷺ تو لوگوں کو مسلمان بنانے آئے تھے ،یہ منیجر دہشت کا کاروبار نہ کر رہے ہوتے بلکہ امن کا درس دے رہے ہوتے کہ ہمارے نبیﷺ تو امن کا پیغامبر بن کر آیا تھا،وہ پی کے بتاتا کہ جو" منیجر" جنت کی ٹکٹیں بانٹ رہے ہیں ان کے بچے آکسفورڈ ،افریقہ اور مدینہ یونیورسٹیوں میں نہ پڑ ھ رہے ہوتے بلکہ جنت کے ٹکٹ لینے کیلئے پہلی صف میں کھڑے ہوتے،دوسروں کے بچوں کو بارود کے سائے میں چھوڑ کر عورتوں کی طرح خود بھاگ نہ آتے یہ سب" رانگ نمبر" ہے۔
پاکستانی پی کے ان کو بتاتا کہ یہ عرس ،میلے اور ختم کے مروجہ طریقے سب" رانگ نمبر" ہیں،اگر رائٹ نمبر ہے تو اس سسکتی بلکتی قوم کو اپنی رقوم دینے کی ضرورت ہے،اپنی زکوٰۃ،صدقات ،نذرونیازمزاروں پردینے کی بجائے مجبورو بے کس انسانوں کو دو،منتوں کے چڑھاوے مزاروں پر دینے کے بجائے غریب عوام کو دو،چندوں کے بکس بھرنے کے بجائے ان مجبور اور بے سہارا عورتوں کو دو جو جہیز نہ ہونے کی وجہ سے بابل کی دہلیز پر اپنے سروں کو چاندی سے سجانے پہ مجبور بیٹھی ہیں یہ منیجر خود تو زردہ پلاؤ کھاتے ہیں اپنے جیب سے ایک پیسہ بھی خرچ نہیں کرتے لیکن اپنے جاہل مریدو ں سے حلوے،کھیر،زردہ و پلاؤ کی دیگیں پکواتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ سب کرو گے تو آپ کے گناہ معاف ہو نگے اور جنت میں اعلیٰ مقام پاؤ گے،ہر درد بیماری کا علیحدہ علیحدہ منیجر بیٹھا ہوا ہے اور اس کا علیحدہ علیحدہ مزار بنا ہوا ہے کوئی کس بیماری کا علاج کر رہا ہے اور کوئی کس کا،اگر منیجر خود بیمار ہو جائے تو سب سے مہنگے ڈاکٹر سے دوائی لیتا ہے،لیکن اپنے مریدوں کو صرف"چھو"سے ٹھیک ہونے پر ایمان رکھواتا ہے ،اپنے بچوں کو انگلش میڈیم سکولوں میں تعلیم دلواتے ہیں،مریدوں کو حکم ہوتا ہے کہ صرف چند لفظ پڑھواؤں اور ہمارے خدمت میں لگا دو تو بیڑا پار لگا دیں گے ۔

پاکستانی پی۔ کے، یہ بھی بتاتا کہ بھائی 14سو سال پہلے آپ کے راہنما شہادت کے اعلیٰ منصب پر فیض ہو گئے لیکن تمہارے منیجر آپ کو چند دن ان کی یاد منواتے ہیں اور آپ کی ساری جمع پونجی پر جھاڑوپھیرکر کامیابی کی سند دے کر اگلے سال تک اڑن چھو ہو جاتے ہیں اگر یہ رائٹ نمبر پرکال جارہی ہوتی تو آپ کو بتاتے کہ بھائی وہ آپ کو پٹوانے کیلئے تلوار سے اپنا سر نہیں کٹو اگئے،وہ آپ کو گلیاں اور روڈ بند کروانے کیلئے اپنا کنبہ ذبح نہیں کروا گئے بلکہ وہ حق سچ کیلئے اسلام کیلئے اور دنیا کو امن کا گہوارہ بنانے کیلئے اپنی ،اپنے کنبے کی جان فدا کر گئے لیکن آپ کے منیجر آپ کو صرف اپنے جسم اور مخالفین کے دل زخمی کرانے کیلئے مختلف قسم کے حربے بتا رہے ہیں پاکستانی پی کے آپ کو بتاتا کہ ایک دوسرے کے ساتھ بھائی چارہ قائم کرو،اپنے مال کو یوں سڑکوں پر نہ بہاؤ بلکہ غرباء کی فکر کرو ان کے کام آؤ،ان کے دکھوں کا مداوہ کرو ،جھونپڑوں میں رہنے والوں کو گھر بنا کر دو،بیماروں کیلئے ادویات کا بندوبست کرو یہ سب جو آپ کر رہے ہیں یہ سب "رانگ نمبر"ہے۔

پاکستانی پی کے ان کو بتاتا کہ یہ مزاروں پر چادریں نہ چڑھاؤ بلکہ غرباء میں چادریں بانٹو،ہٹے کٹے "منیجروں" کو اپنے صدقات، خیرات اور صدقات کے پیسے نہ دو بلکہ جو ان کے اہل اور حقدار ہیں ان کو ان کا حق پہنچاؤ،ہر جگہ ڈیڑھ اینٹ کی مسجد نہ بناؤ بلکہ ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑوں ،سیرت کے نام پر لاکھوں روپیہ خوش الحان خطیبوں اور گانے کی طرز پر نعتیں پڑھنے والوں پر خرچ نہ کرو بلکہ نبی کی حقیقی سیرت کو اپناؤ آپ کا نبی تو خود بھوکا رہتا تھا اور بھوکوں کو کھانا کھلاتا تھا ،مار کھا کر بھی دشمن کو دعائیں دیتا تھالیکن آج اس کے منیجر اپنے مخالفین کو اپنی مسجدوں میں داخل نہیں ہونے دیتے مخالفین کو ہاتھ ملانا گناہ سمجھتے ہیں ،اپنی مسجد سے دھکے دے کر باہر نکالتے ہیں،دن رات لاؤڈ سپیکر لگا کراپنوں ،بیگانوں کا جینا دوبھر کرتے ہیں پاکستانی پی کے ان کو بتاتا کہ نبی کی حقیقی سیرت کو اپناؤ،توڑو نہیں جوڑو،صرف باتوں ،نعروں اور تقریروں سے "رانگ نمبر "نہ ملاؤ۔

آج مسلم معاشرے خاص کر پاکستانی معاشرے کو ایک پی کے، کی ضرورت ہے جو ان کو حقیقت کا آئینہ دکھلائے ان کو حقیقی اسلام کا چہرہ دکھائے،سچے کھرے اور حقیقی مسلمانوں کی خصوصیات بتائے ان پر عمل پیرا ہونے کی تحریک دے،مذہب کے علاوہ یہاں پر ہماری سیاست،تجارت اور خاص کر میڈیا کو بھی ایک پی کے کی ضرورت ہے جو اپنی 90فیصد کالیں "رانگ نمبر"پر ملا رہا ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shahhid Iqbal Shami

Read More Articles by Shahhid Iqbal Shami: 41 Articles with 25634 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
31 Oct, 2016 Views: 393

Comments

آپ کی رائے