امام احمد رضا - ترجمانِ فکر اسلامی

(Ghulam Mustafa Rizvi, India)
داعیانہ فہم و فراست کے ساتھ امام احمد رضا محدث بریلوی(۱۸۵۶ء۱۹۲۱-ء) نے دین متین کی خدمت کا فریضہ انجام دیا۔ جس کے باعث آپ کی خدمات میں وسعت و گہرائی اور گیرائی ہے، ساتھ ہی تحقیق و تدقیق اور فکر و شعور کی بالیدگی بھی ہے۔آپ کی تحقیقات علمیہ سے استفادہ کر کے قوم کی تعمیر و ترقی کا فریضہ انجام دیا جا سکتا ہے۔ آپ نے ایسے دور میں جب کہ انگریزی اقتدار سے یاسیت کے اندھیرے چھا چکے تھے اپنے حوصلہ افزا افکار سے قوم کے وجود کو تاب ناک بنا دیا۔

افق ہندستان پر جتنی تحریکیں ابھریں خواہ وہ دینی ہوں یا سیاسی، سماجی ہوں ہو یا تعلیمی یا فکری ان تمام سے متعلق امام احمد رضا کے افکار قرآن، حدیث اور تعلیمات سلف و صالحین کی روشنی میں قوم کی رہ نمائی کرتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ آپ کی خدمات سے استفادہ امت مسلمہ میں دینی بیداری اور باطل نظریات کے تدارک میں معاون اور ممکن العمل ہے۔آپ نے قرآن مقدس کے چشمۂ صافی سے استفادہ کیا۔ کسی بھی علم و فن کی معاملہ ہو، آپ ہر ایک میں قرآن مقدس کو ہی اپنا رہ نما بناتے ہیں، اسی سے رجوع و استفادہ کی ترغیب و تعلیم دیتے ہیں۔ اپنے معاصر دانش ور پروفیسر حاکم علی بی اے کو نصیحت آمیز انداز میں قرآنی احکام سے رجوع کی تعلیم دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:
’’محب فقیر سائنس یوں مسلمان نہ ہو گی کہ اسلامی مسائل کو آیات و نصوص میں تاویلات دور از کار کر کے سائنس کے مطابق کر لیا جائے۔ یوں تو معاذاﷲ اسلام نے سائنس قبول کی، نہ کہ سائنس نے اسلام۔ وہ مسلمان ہو گی تو یوں کہ جتنے اسلامی مسائل میں اسے خلاف ہے سب میں مسئلہ اسلامی کو روشن کیا جائے۔ دلائل سائنس کو مردود و پامال کر دیا جائے۔ جابجا سائنس ہی کے اقوال سے اسلامی مسئلہ کا اثبات ہو۔‘‘
(نزول آیات فرقان بسکون زمین و آسمان،ص۵۶،ادارۂ تحقیقات امام احمد رضا کراچی۲۰۰۵ء)

۱۹؍ویں صدی میں ہندستان پر قبضے کے بعد انگریز نے مسلمانوں کو ہر طریقے سے تباہ کرنے کے لیے لائحۂ عمل بنایا۔ داخلی و خارجی طور پر جو کچھ سازشیں اپنائی گئی تھیں ان کے زیر اثر مسلمان نیم جاں ہو چکے تھے۔ علم و فن، سیاست و تمدن کی راہ سے بھی اسلامی فکر و بصیرت چھینے کے لیے انگریز نے ہر حربہ آزمایا۔ نظام تعلیم میں لادینی افکار رائج کیے گئے جس سے الحاد و بے دینی کو راہ ملی، اقبالؔ نے اسی تناظر میں کہا تھا:
خوش تو ہیں ہم بھی جوانوں کی ترقی سے مگر
لبِ خنداں سے نکل جاتی ہے فریاد بھی ساتھ
ہم سمجھتے تھے کہ لائے گی فراغت تعلیم
کیا خبر تھی کہ چلا آئے گا الحاد بھی ساتھ

علم و فن کا جو تصور اسلام نے دیا اس کا مطالعہ یہ واضح کرتا ہے کہ دنیا میں جو کچھ علم و فن کی بہاریں ہیں وہ مسلم علما و محققین، اصحابِ علم و فن کی ہی بدولت ہیں۔ اسلام کے مقابل جتنے علوم رائج کیے گئے ان میں عمومی طور پرانسانیت کے لیے تباہی و بربادی کا پیغام ہے۔ دوسری طرف طبعی و سائنسی علوم کے ذریعے مسلمانوں نے وہ اصول و مبادیات وضع کیے جن سے ترقی کی راہیں ہم وار ہوئیں۔ جب کہ اسی راہ پر جب یورپ چلا تو دنیا نے ایٹم کے منفی استعمال کا وہ تجربہ جھیلا جس سے انسانی قبا تار تار ہو کر رہ گئی۔ سائنس جب تک اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اپنا سفر طے کرے گی، راحت پہنچائے گی۔ امام احمد رضا نے در حقیقت سائنس کو اسلام کا خادم بنا دیا۔ قرآن مقدس کی روشنی میں سائنس اور دوسرے علوم کی جانچ وپرکھ کا جو ضابطہ عطا کیا وہ آج بھی ہمارے لیے لایق عمل اور رہ نما ہے۔

یورپی نو مسلم دانش ورڈاکٹر محمد ہارون،سابق پروفیسر کیمبرج یونی ورسٹی(م۲۰۰۸ء) نے مشاہدہ و مطالعہ کے بعد کہا تھا: ’’ آپ (امام احمد رضا)کا نظریہ تھا کہ سائنس کوکسی طرح بھی اسلام سے فایق اور بہتر تسلیم نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی کسی اسلامی نظریے ، شریعت کے کسی جز یا اسلامی قانون سے گلو خلاصی کے لیے اِس کی کوئی دلیل مانی جاسکتی ہے ۔ اگر چہ وہ(امام احمد رضا) خود سائنس میں خاصی مہارت رکھتے تھے لیکن اگر کوئی اسلام میں سائنس سے مطابقت پیدا کرنے کے لیے کوئی تبدیلی لانا چاہتا تھا آپ اُسے ٹھوس علمی دلائل سے جواب دیتے تھے۔‘‘
(امام احمد رضا کی عالمی اہمیت،ص۸۔۹، نوری مشن مالیگاؤں)

امام احمد رضا نے انگریز کی سازشوں اور اُن کے اسلام مخالف منصوبوں سے قوم کو باخبر کرنے کی غرض سے علم و فن کے درجنوں گوشوں پر اعلیٰ معیار کی کتابیں تصنیف فرمائیں۔ وہ تصور علم دیا جس میں عزم محکم ہے، حوصلۂ تابندہ ہے۔ آپ کی علمی تنقیدات سے اسلامی علوم کی عظمت اور صہیونی علوم کی اصلیت ظاہر ہو جاتی ہے، فرماتے ہیں:
’’یورپ والوں کو طریقۂ استدلال اصلاً نہیں آتا۔‘‘(نزول آیات فرقان، ص۵۵)

اہل یورپ(یہود و نصاریٰ) کا ہر کام چاہے ایجادات و اختراعات سے متعلق ہو یا سیاسی و سماجی مسائل سے متعلق ہو، اسلام دشمنی کا مظہر ہوتا ہے۔انھیں استدلال کی اسی لیے تمیز نہیں کہ استدلال سے اسلام کی حقانیت و سچائی کا نور پھوٹتا ہے،بے شک! استدلال کی قوت اسلام میں ہے۔ اسلام سے رجوع میں ہی نجات ہے، اسی میں کام یابی ہے، اسی تناظر میں درج ذیل تصانیف رضا کا مطالعہ اور ان میں غور و خوض قوم کے تعلیمی و تعمیری ورثہ میں ترقی کا سبب بنے گا، ارباب علم و فکر ان تصانیف سے استفادہ کر کے قومی عروج و ترقی کے لیے ذہن سازی کریں:
(۱) المحجۃ المؤتمنۃ فی آیۃ الممتحنۃ ……تفسیری مباحث پر مبنی یہ کتاب ہندستان کے سیاسی حالات میں مسلمانوں کی اسلامی فکر سازی کا پیش خیمہ ثابت ہوئی-مطبوعہ رضا اکیڈمی ممبئی
(۲) کفل الفقیہ الفاہم فی احکام قرطاس الدراہم ……عمرانیات و معاشیات کے موضوع پر عربی زبان میں تحریر کی، اردو ترجمہ بھی شایع ہے-مطبوعہ رضا اکیڈمی ممبئی
(۳) کشف العِلۃ عن سمت القبلۃ……ہیئت و فلکیات کے موضوع پر اہم کتاب- مطبوعہ بریلی و کراچی و ممبئی
(۴) فوزمبین دررد حرکت زمین ……حرکت زمین کے رد میں اسلامی سائنسی اصولوں پر مبنی ناقابل تردید دلائل سے آراستہ کتاب، مغربی فلاسفہ کے لیے آج بھی ایک علمی چیلنج- مطبوعہ بریلی و ممبئی و کراچی
(۵) نزول آیات فرقان بسکون زمین و آسمانٍٍٍٍٍٍٍ……قرآنی دلائل سے مزین ایمان افروز کتاب-مطبوعہ ممبئی و کراچی
(۶) الکلمۃ الملہمہ فی الحکمۃ المحکمۃ……فلاسفہ کے قدیم افکار کے رد میں تصنیف کی - مطبوعہ ممبئی و کراچی
(۷) معین مبین بہر دور شمس و سکون زمین……سائنسی موضوع پر امریکی ہیئت داں البرٹ ایف پورٹا کی پیش گوئی کے رد میں سائنسی استدلال سے مزین تحریر-مطبوعہ بریلی وممبئی و کراچی
(۸) رسالہ درعلم لوگارثم……علم لوگارثم پر علمی دقائق سے پر تحریر- مطبوعہ ممبئی وکراچی
(۹) مقامع الحدید علیٰ خدالمنطق الجدید……فلاسفہ و سائنس کے طبعی افکارپر اسلامی فکر و نظر کی توضیح-مطبوعہ مبارک پور، بریلی، ممبئی ولاہور

یہ صرف ایک جھلک ہے، تصانیف رضا جن کی تعداد ہزار کے لگ بھگ ہے ان میں علم و تحقیق کا دریا رواں دواں ہے، درجنوں علمی مباحث قلم رضا سے تحریر ہو کر منصۂ شہود پر آئے ہیں۔ خوشہ چینانِ بزم علم وفن نے مطالعہ و تجزیہ کے بعد اسلوبِ رضا، علم رضا، فکر رضا، نثر و نظمِ رضا کا کھلے طور پر اعتراف کیا ہے اورآپ کو اپنے عہد کا ’’عبقری‘‘ اور ’’نابغہ‘‘ مانا ہے جب کہ تحقیقاتِ رضویہ کا فیضانِ علمی آج بھی رہ بر و رہ نما ہے۔مجموعہ فتاویٰ ’’فتاویٰ رضویہ‘‘ (قدیم ۱۲؍جلدیں-جدید۳۰؍جلدیں) تو علم و فن کا انسائیکلو پیڈیا ہے۔ جس کی گہرائی و گیرائی سے متعلق مولانا کوثر نیازی فرماتے ہیں:
’’فقہ حنفی میں ہندستان میں دو کتابیں مستند ترین ہیں۔ ان میں سے ایک ’’فتاویٰ عالم گیریہ‘‘ ہے جو دراصل چالیس علما کی مشترکہ خدمت ہے۔ دوسرا ’’فتاویٰ رضویہ‘‘ ہے جس کی انفرادیت یہ ہے کہ جو کام چالیس علما نے مل کر انجام دیا وہ اس مرد مجاہد نے تنہا کرکے دکھا دیا ۔ اور یہ مجموعہ ’’فتاویٰ رضویہ‘‘ ’’فتاویٰ عالم گیریہ‘‘ سے زیادہ جامع ہے ۔ اور میں نے جو آپ کو امام ابو حنیفہ ثانی کہا ہے وہ صرف محبت یا عقیدت میں نہیں کہا بلکہ ’’فتاویٰ رضویہ‘‘ کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ بات کہہ رہا ہوں کہ آپ اس دور کے ابو حنیفہ ہیں۔ آپ کے فتاویٰ میں مختلف علوم و فنون پر جو بحثیں کی گئی ہیں ان کو پڑھ کر بڑے بڑے علما کی عقل دنگ رہ جاتی ہے ۔ کاش کہ اعلیٰ حضرت کی حیات اس دور کو میسر آجاتی تاکہ آج کل کے پے چیدہ مسائل حل ہوسکتے ۔ کیوں کہ آپ کی تحقیق حتمی ہوتی، مزید کی گنجائش نہ ہوتی۔‘‘
(امام احمد رضا ایک ہمہ جہت شخصیت،ص ۳۰۔۳۳، رضا اسلامک مشن بنارس )

فکر رضا کا ایک اہم نکتہ ’’وقت‘‘ کا صحیح و درست استعمال ہے۔ آپ کی زندگی وقت کی قدر ظاہر کرتی ہے۔جس قدر دینی و علمی اور تحقیقی کام آپ نے انجام دیے انھیں دیکھا جائے تو حیرت بڑھتی جاتی ہے، اور آپ پراﷲ کریم کی عطا و نوازش کا جلوہ کھل کر سامنے آجاتا ہے۔آپ نے ایسے عہد میں جب کہ انگریز نے اغواے فکر کے تمام حربے آزما ڈالے تھے اسلامی عقائد و تعلیمات کی حفاظت و صیانت کے لیے ہزار کے قریب کتابیں قوم کو عطا کر کے وقت کی قدر سکھائی ہے۔ آپ کے نزدیک باطل عقائد سے پر کتابوں کا مطالعہ ناروا اور مضرہے اور ان میں انہماک تضییع اوقات۔ امام احمد رضا ایسی تعلیم میں مشغول ہونا فضول اور حرام قرار دیتے ہیں، فرماتے ہیں:
’’جو چیز اپنا دین و علم بقدر فرض سیکھنے میں مانع آئے حرام ہے اس طرح وہ کتابیں جن میں نصاریٰ کے عقائد باطلہ مثل انکار وجود آسمان وغیرہ درج ہیں ان کا پڑھنا بھی روا نہیں۔ واﷲ تعالیٰ اعلم۔‘‘
(فتاویٰ رضویہ (جدید) جلد ۲۳، ص ۵۳۳،برکات رضا پوربندر گجرات)

موجودہ حالات میں جب کہ علم و فن حاصل کیے بغیر اسلام مخالف نظریات کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا ضروری ہے کہ مسلمان قرآن کے آئینے میں ہر علم و فن میں موشگافی کریں۔ دین کا علم پہلے حاصل کریں، اور پھر جدید علوم سائنس و فلسفہ، معاشیات و سیاسیات، سماجیات و عمرانیات، حیاتیات و طبیعیات سبھی میں آگے بڑھیں، امام احمد رضا کی مبارک زندگی اس کی مثال ہے کہ ہر ہر علم و فن میں آپ یکتاے روزگار نظر آتے ہیں۔ آپ نے عہد غلامی میں حوصلہ افزا تاریخ رقم کی۔ سیوطی و غزالی، رازی و ابن عربی، مجدد الف ثانی و شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی کے علم کی یاد تازہ کر دی۔ گزری کئی صدیوں میں آپ جیسی تہ دار اور ہمہ جہت شخصیت کوئی اور نظر نہیں آتی۔آپ کے معاصرین، یا متاخرین کی تصانیف کی علمیت اپنی جگہ لیکن جیسی تحقیقی بصیرت تحقیقات رضویہ میں ہے اسے منفرد و ممتاز اور فائق ہی کہا جا سکتا ہے۔ اور پھر آپ کی تحقیقات و تحریرات میں موجودہ عہد کے مسائل کا حل موجود ہے اس لیے ایک صدی گزر جانے کے بعد بھی تصانیف رضا کی افادیت کم نہ ہوئی بلکہ زمانے کو ان کی ضرورت ہے۔ان میں اسلاف کرام کی صدیوں کی کاوشات کا نچوڑ ہے۔

اسلامی بنیادوں پر سائنسی علوم کے احیا و فروغ کے لیے فکر رضا کی روشنی میں تلامذہ و خلفاے رضا نے بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ مقصد یہی تھا کہ مسلمان جدید فتنوں کے مقابلہ کے لیے معاصر علوم سے آگاہ ہو کر اسلامی تعلیمات پر استقامت اختیار کرلیں۔ اسلام کے عظیم داعی شاگردِ رضا مولانا عبدالعلیم میرٹھی رضوی فرماتے ہیں:
’’رائل ایشیاٹک سوسائٹی آف شنگھائی( Royal Asiatic Society of Shanghai ) کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے میں نے واضح کیا تھا کہ سائنس اور مذہب کے باہمی تضادکا مفروضہ صرف غلط فہمیوں کی بنیاد پر ہے اور مجھے انتہائی مسرت ہوئی کہ میری اس بات کو غیر معمولی طور پر سراہا گیا۔ بلا شبہہ جن لوگوں کے نزدیک مذہب اور سائنس کے مابین تضاد موجود ہے وہ حقیقتاً مذہبی نظریہ کو غلط معانی دیتے ہیں، وہ در اصل مذہب نہیں ہے وہ دیومالائی قصے ہیں اور توہمات کے سوا کچھ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مذہب بہ ذات خود ایک سائنس ہے۔‘‘
(سائنس کے فروغ میں مسلمانوں کا حصہ، مترجم رضا فاروقی، مشمولہ تبرکات مبلغ اسلام، ص۴۹۱،اویسی بک اسٹال گوجراں والہ ۲۰۰۴ء)

سائنس کا مطالعہ جب بھی قرآن کی روشنی میں کیا جائے گا اسلام کا حسن نکھر کر سامنے آئے گا، اسلام کی سچائی ذہن و فکر کی بزم کو روشن و منور کر دے گی۔ امام احمد رضا نے سائنس کی اسی مثبت حیثیت کو اجاگر کر کے قرآن سے مسلمانوں کو قریب کیا ہے۔ اور آپ کی مقبولیت کا یہ بھی ایک سبب ہے جس کی بنیاد پر اسلامی معاشرہ میں امام احمد رضا کے نام و کام کی گونج سنائی دیتے رہتی ہے۔نو مسلم ڈاکٹر محمد ہارون نے اسلامی حکمت و دانائی کے تناظر میں مشنِ رضا کی اس خوبی کو اپنے مقالہ Islam and Limits of Science میں ان الفاظ میں اجاگر کیا ہے:
’’ہمارا بنیادی مقصد بہر صورت یہ ہونا چاہیے کہ ہمیں پیغمبر اسلام صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی حکمت و دانائی کو دوبارہ سے بحال کرنا ہے، یہ مقصد حیات حضرت امام احمد رضا خاں بریلوی رحمۃاﷲ تعالیٰ علیہ کا تھااور یہی نظریہ تمام اسلامیان اہل سنت کا ہونا چاہیے۔‘‘
(اسلام اور سائنس کے حدود، ص۴۸،رضا اکیڈمی برطانیہ۲۰۰۶ء)

یاد رکھیے! کام یابی و کامرانی صرف اسلام میں ہے، اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے میں ہے، امام احمد رضا کے نزدیک اسلامی احکام کو فوقیت حاصل تھی، وقت اور حالات کے دھارے اسی سبب آپ کی فکر کو زیر نہ کر سکے، آپ کی اسلامی حمیت کو ختم نہ کر سکے، اکابر نے باطل کی تیز و تند آندھیوں سے چمن اسلام کی حفاظت کی خاطر جو قربانیاں پیش کیں انھیں کی جھلک امام احمد رضا نے زمانے کو دکھلا دی، حکیم محمد حسین بدر علیگ نے سچ کہا: ’’آپ نے وہی فریضہ ادا کیاجو حضرت مجدد الف ثانی اور شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمہمااﷲ نے اپنے وقت میں انجام دیا تھا۔‘‘
(سات ستارے، ص۴۲،کنزالایمان سوسائٹی۲۰۰۶ء)

امام احمد رضا نے مسلمانوں کی معاشی و تعلیمی، اعتقادی و فکری رہ نمائی کی غرض سے ۱۳۳۱ھ/۱۹۱۲ء میں ۴؍نکاتی منصوبہ ’’تدبیر فلاح و نجات واصلاح‘‘ اور۱۳۳۰ھ / ۱۹۱۱ء میں دس نکاتی منصوبہ (مطبوعہ فتاویٰ رضویہ، رضا اکیڈمی ممبئی، جلد ۱۲)پیش کیا جس کا مقصد مسلمانوں میں اسلامی بصیرت کے ساتھ ساتھ تعلیمی استعداد و لیاقت پیدا کرنی تھی، اس منصوبے کی اسی دور میں اشاعت ہوئی، راقم نے اپنے ایک مقالے میں ان منصوبوں کا تجزیہ علمی و تعلیمی نقطۂ نظر سے کیا ہے…… بہر کیف!ان نکات میں قومی لحاظ سے رہ نمائی کا وہ ضابطہ موجود ہے جس میں آفاقیت کے ساتھ ساتھ قوت عمل کی تحریک بھی ہے۔اس وقت کے سیاسی حالات جن میں ایمانی بصیرت کے خاتمہ کے سامان کیے جا چکے تھے ان نکات میں حوصلہ افزا فکر کے ساتھ ساتھ اسلامی تشخص کا مکمل دستور بھی ملحوظ رکھا گیا، ان نکات کی بابت برطانوی دانش ور ڈاکٹر محمد ہارون لکھتے ہیں:
’’یہ تعلیمی پالیسی خواہ وہ ہمارے اپنے اداروں کا نظام تعلیم ہو یا دیگر لوگوں کا مقرر کردہ نظام تعلیم ہو، ہر ایک کے لیے یک ساں اہمیت کی حامل ہے۔ اگرچہ امام احمد رضا نے یہ نکات تقریباً ایک صدی قبل پیش فرمائے تھے، لیکن ان کی اہمیت اور افادیت سے آج کے موجودہ نظام تعلیم میں بھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔‘‘
(امام احمد رضا کے جدید اصلاحی اسلامی تعلیمی نظریات،ص۱۹،رضا اکیڈمی یوکے۲۰۰۵ء)

امام احمد رضا کی سیاسی رہ نمائی بھی قرآن کے آئینے میں تھی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ تحریکات جن کی امام احمد رضا نے مخالفت کی تھی وقت اور حالات نے ان کی اصلیت کھول کر رکھ دی۔ دنیا نے دیکھا کہ جن بنیادوں پر امام احمد رضا کی مخالفت کی گئی تھی وہ کھوکھلی تھیں، مخالفت کرنے والے مشرک لیڈران کی تجاویز آنکھیں بند کر کے تسلیم کر رہے تھے اور ان کا نتیجہ صرف تباہیِ مسلمین کی صورت میں سامنے آیا، مشرکین کی اسلام مخالف پالیسی کھل گئی۔ امام احمد رضا کے سیاسی افکار میں گہرائی تھی، ملت اسلامیہ کا درد تھا، انھیں اسلام کا وقار عزیز تھا، اسی لیے وہ اتحاد اسلامی کے قائل تھے۔ اتحاد کے وہ نعرے جن سے اسلامی تشخص جاتا رہے اس کی وہ شدید مخالفت کرتے تھے، اور یہی دور اندیشی اور حکمتِ مومنانہ بعض نادانوں کو نہیں بھائی، جب کہ ہونا تو یہ تھا کہ امام احمد رضا کی فکر وبصیرت سے استفادہ کر کے امت مسلمہ میں اسلامی بنیادوں پر اتحاد کی راہ ہم وار کرنے کی طرف پیش قدمی کی جاتی، اور بچے کچھے ملی سرمائے کو داؤ پر لگانے سے احتراز کیا جاتا،عربی کے ممتاز استاذ ڈاکٹر ظہور احمد اظہرؔ نے مشاہدے کی بنیاد پر لکھا:
’’ان کی فکر کو حدود میں قید کرنے کی سعی لا حاصل بھی ہوئی اور ان کی شخصیت کو بھی چھپانے اور ڈھانپنے کے جتن ہوتے رہے مگر جس فکر کا محور ومرکز حضرت مصطفی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ہوں بھلا وہ کہیں حدود و قیود کو قبول کر سکتی ہے اور جس شخصیت کو فکر قرآنی نصیب ہو اسے اندھیروں میں تو نہیں چھپایا جا سکتا۔‘‘(مجلہ امام احمد رضا کانفرنس،ص۱۴،ادارۂ تحقیقات امام احمد رضا کراچی۲۰۱۱ء)

الحمدﷲ! اب حالات تیزی سے بدل رہے ہیں منفی افکار دم توڑ رہے ہیں۔ امام احمد رضا کی دینی و علمی خدمات کا شہرہ بڑھتا اور پھیلتا چلا جا رہا ہے۔ امام احمد رضا نے فکر اسلامی کی حفاظت و ترجمانی میں جو عظیم ذخیرۂ علم عطا کیا ہے اس کی اشاعت و توسیع ہم سب کی ذمہ داری ہے، اس سے جہاں ہماری قومی تاریخ کا دھارا ارتقا پذیر ہو گا وہیں نسلِ نو کے لیے تعمیری ذہن سازی کا سبب بھی ہوگا۔تمام اہل سنت کو چاہیے کہ اتحاد اہل سنت کے لیے امام احمد رضا کے علمی نوادرات و آثار سے اکتساب فیض کریں۔ یہی ہم سب کی ذمہ داری ہے، یہی وقت اور حالات کا تقاضا ہے، ہر فن، ہر شعبۂ علم و تحقیق میں امام احمد رضا کے افکار کو رہ نما بنا لیا جائے تو یاسیت کے اندھیرے دم ٹوڑ دیں گے اور امید کے اجالے ذہن و فکر میں خوش گوار انقلاب برپا کریں گے:
اے جوئے آب بڑھ کے ہو دریاے تند و تیز
ساحل تجھے عطا ہو تو ساحل نہ کر قبول
٭٭
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulam Mustafa Rizvi

Read More Articles by Ghulam Mustafa Rizvi: 262 Articles with 146556 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Nov, 2016 Views: 981

Comments

آپ کی رائے