لاک ڈاؤن سے یوم تشکر تک۔۔۔آگے کیا ہونے والا ہے؟

(Ishrat Javed, )
’نہایت افسوس کی بات ہے کہ مجھ جیسا ایک امیر شخص بھی پٹرول کی ایک لیٹر قیمت وہی ادا کرتا ہے جو ایک مزدور کرتا ہے ،مجھے دکھ اس بات کا ہے کہ پاکستان میں امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا جا رہا ہے‘،یہ الفاظ تھے عمران خان کے ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے ،بنیادی طورپر یہ ایک بہترین سوچ ہے مگر یہ تو ہے تصویر کا ایک رخ،دوسرا رخ دیکھئے۔۔۔پی ٹی آئی اور اس کے کارکنان 2نومبر کے جشن میں مصروف رہے اور مزدوروں کے خیر خواہ نے جشن مناتے ہوئے گڈانی کے مرتے ہوئے اور جھلستے ہوئے مزدروں کی پرواہ تک نہ کی،ثابت ہوا کہ امیر تو امیر ہی ہے اسے کیا لینا دینا مزدور طبقے سے۔۔۔ہاں لوگوں میں دھاک بٹھانے کے لیے اپنی تقریر مزدروں کے حق میں دینے کے لیے مزدور طبقہ ہونا باعث نعمت ہے۔ایک طرف عمران کے جیالے ڈی جے کی بیٹ پر رقص کرتے ،جشن مناتے رہے اور دوسری طرف پاکستان کے 19مزدوروں کے گھروں میں صف ماتم بچھ گیا مگر اس کا اظہار عمران خان کی تقریر میں بالکل بھی نظر نہیں آیا۔۔۔افسوس در افسوس،کیا یہ مزدور طبقے کے لیے کھلا مذاق نہیں ۔۔ جن مزدوروں کا نام لے لے کرکپتان’ نواز شریف‘ کو تخت بدر کرنا چاہتے ہیں تو ثابت ہوا ہر کوئی اپنی غرض کا غلام ہے۔اب بات کرتے ہیں عمران خان کے دھرنے اور یوم تشکر کی کیونکہ 2نومبر پاکستانی عوام کے لیے نہایت اہمیت کا حامل تھا کیونکہ اس دن کیا ہونے جانا تھا اور کیا ہوا اس کا عوام کو بے چینی سے انتظار تھا۔دیکھا جائے تو اب ہر کوئی اس بات کو تسلیم کر چکا ہے کہ عمران خان کی سوچ اورعمل میں بہت فرق ہے وہ کہتے کچھ ہیں ہوتا کچھ ہے اس کا واضح ثبوت 2نومبر کو اسلام آباد بند کرنے کی سوچ اور یوم تشکر عمل تھاجوآپ سب کے سامنے ہے۔عوام کی بہت بڑی تعداد عمران خان کے 2نومبر کے دھرنے کو یوم تشکر میں تبدیل کرنے پرمایوس ہو گئی اور اس معاملے پر عمران خان کو کڑی تنقید کا بھی نشانہ بنایا گیا جبکہ پاکستان تحریک انصاف نے سپریم کورٹ میں پاناما لیکس کے معاملے پر ہونے والی سماعت کو اخلاقی فتح قرار دیا۔ایسا لگتا تھاکہ اس بار کپتان عمران خان کی کال کے نتیجہ میں ’’تخت ہوگا یا تختہ‘‘لیکن اب بھی کپتان کی کال کا وہی نتیجہ نکلا جو 126دنوں کے پچھلے دھرنے کا تھا ،ان کی جانب سے اچانک احتجاجی کال واپس لینے کے فیصلے پر عمومی طوپر حیرت اور تعجب کا ردعمل دیکھنے میں آیا ، ان کے اس فیصلہ پر نہ تو ان کے جنونی کارکنوں کو کچھ سجائی دے رہا تھا نہ ہی دیگر سیاست دان ا س کا مفہوم تلاش کرسکے ،انہوں نے احتجاج کی کال کافیصلہ واپس لیتے وقت اپنے پارٹی رفقاء تودرکنار اپنے اہم سیاسی حلیفوں سے بھی مشاورت نہیں کی ،بلکہ ایسا لگ رہا تھا کہ ان کا فیصلہ شاید حکومتی ایوانوں کیلئے اتنا حیران کن نہ تھا جتنا ان کے حلیف سیاست دانوں کیلئے تھا۔عمران خان کے مؤقف کے حامی ڈاکٹر طاہر القادری کے لیے دھرنے کو مؤخر کرنا کسی’شاک ‘ سے کم نہیں تھااسی لیے انہوں نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے ’انا ﷲ و انا الیہ راجعون‘ پڑھااور کہا کہ یہ تحریک انصاف کا اپنا فیصلہ ہے، میرے پاس موجودہ صورتحال میں الفاظ نہیں ہیں اور مجھے تاحال کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔ عمران خان کے روالپنڈی کے ہیرو’شیخ رشید‘ نے تو باقاعدہ اس اعلان کے بعد اپنا فون تک بند کر دیا اور ناراضگی اور غم کی کیفیت میں 2ڈسپرین لے کے سو گئے،ان تمام باتوں کا اظہار خود شیخ رشید نے نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ان کا اس حوالے سے مزید کہنا تھا کہ میں وقتی طور پر شدید غصے اور دکھ میں تھا مگر بعدمیں میں نے عمران کے فیصلہ کو تسلیم کیا۔پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سعید غنی نے اس معاملے پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ’’ ایک اور نیازی نے ہتھیار ڈال دئیے، کارکن مار کھاتے رہے لیکن عمران خان پہاڑی سے نیچے نہیں اترے لیکن دھرنا ختم کرنے کے بعد پی ٹی آئی والے عمران خان کی تلاشی لیں ساتھ ہی انہوں نے حکومت کو خبردار کیا کہ بلاول بھٹو کے مطالبات نہ مانے گئے تو پیپلز پارٹی تحریک چلائے گی‘‘۔ادھر پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی بہن آصفہ بھٹو زرداری نے پی ٹی آئی کے فیصلے پر ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں عمران خان کو ’یوٹرن خان‘ قرار دیا۔عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما زاہد خان نے کہا کہ اس تمام صورتحال میں عوام کا نقصان ہوا جس کے ذمے دار دونوں فریقین ہیں، مریضوں کو ہسپتال، بچوں کو اسکول اور لوگوں کو دفاتر جانے کیلئے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ احتجاج کرنا الگ بات ہے لیکن کسی شہر کو بند کرنا الگ بات ہے نیزتحریک انصاف کے اعلان پر زاہد خان نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یوم تشکر کس بات پر منائیں گے یہ تو وہ جانتے ہیں کہ کس بات پر شکر ادا کریں گے لیکن انہیں کل کے جلسے میں حکومت کی مذمت ضرور کرنی چاہیے تھی۔اے این پی کے رہنما نے کہا کہ اس تمام صورتحال میں حکومت کو فائدہ ہو گا کیونکہ جو بھی فیصلہ ہوگا وہ موجودہ قوانین کی روشنی میں ہو گا، سپریم کورٹ ازخود تو آئین میں کوئی ترمیم نہیں کر سکتی اور اسے موجودہ آئین کے مطابق ہی فیصلے کرنے ہیں۔وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے کہا کہ ملک پر ایک اور حملہ ناکام ہو گیا، مجھے اْمید تو کم ہے لیکن پھر بھی اْمید کرتی ہوں کہ وہ اس شرمندگی سے سبق سیکھیں گے۔اس سب کے بعدایک تو یہ سوال اٹھتا ہے کہ آخرعمران خان کو یو ٹرن کہنے والے کیا چاہتے تھے،کیا2نومبر کا دھرنا واقعی کرپشن کے خلاف تھا یا حکومت کے ۔۔۔کیا ان کے دل و دماغ اس بات کے انتظار میں تھے کہ ایک 4دن کی بچی اور آرمی کے جوان کی شہادت کے علاوہ اور بھی لاشیں گرتیں،پاکستانی عوام ایک دہشت میں گرفتار تھے کہ آخر 2نومبر کو کیا ہو گا؟مگر یہ اﷲ کا خاص کرم ہوا کہ ملک میں امن و امان کی صورت کا راستہ بنا ورنہ جو کچھ ہوتااس کا نقصان تو غریب عوام کو ہی ہونا تھا کیونکہ عمران خان خودتو جیل کے سلاخوں کے پیچھے جانے کے خوف سے بنی گالہ سے باہر نہیں نکلے تھے اور پارٹی اور کپتان کی محبت میں کارکن پولیس کے تشدد کا شکار ہو رہے تھے۔لاک ڈاؤن کے مؤخر ہونے کے بعد بند شاہراہیں کھلنا شروع ہوگئیں جبکہ معمولات زندگی بحال بھی ہوگئے واضح رہے کہ لاک ڈاؤن کے لیے اسلام آباد پہنچنے کے راستے میں کئی پی ٹی آئی کارکنان زخمی اور گرفتار ہوئے جبکہ مظاہرین کی جانب سے جلاؤ گھیراؤ کے واقعات بھی سامنے آئے۔اب سوال یہ اٹھ رہے کہ بحران ٹل گیا یا بریک آئی ہے اور دھرنے کی منسوخی سے کس کی جیت ہوئی اور کس کی ہار ہوئی؟اس حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما سینیٹر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ ’’ یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ یہ حکومت کی فتح ہے یا اپوزیشن کی کیونکہ اس کا دارومدار سپریم کورٹ کی اگلی کارروائی پر ہو گا‘‘۔

کپتان کے یو ٹرن نے یہ تو واضح کر دیا کہ منجھے ہوئے سیاستدانوں کے برعکس جب کپتان کو اس قسم کی صورتحال کاسامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ کوئی درمیانی راستے نکالنے کے لیے عجلت میں ہی فیصلہ کرڈالتے ہیں اور اپنے حلیفوں کو اس قابل نہیں سمجھتے کہ ان کی مشاورت سے کوئی سیاسی راستہ نکالیں ،حقیقت میں کپتان عمران خان سیاست کی روایتی چالبازیوں میں الجھنے کے بجائے جو صحیح سمجھتے ہیں کرگزرتے ہیں یہاں عوام کی سوچ میں ایک واضح تقسیم ہے جسے سمجھنا ضروری ہے ،40سال سے کم عمرنوجوانوں کی اکثریت انکی پیروکار ہے یہ وہ جنونی نوجوان ہیں جو سیاسی چالبازیوں اور شعبدہ بازیوں سے متاثرنہیں ہوتے انہیں ایک چالاک اور زیرک سیاسی رہنما لبھانے میں ناکام ہوگئے ہیں انہیں کپتان عمران خان کے غلط یا جلد بازی کے فیصلوں سے زیادہ غرض نہیں وہ اسے ایک سچا اور کھرا رہنما سمجھتے ہیں ،دلچسپ حقیقت ہے کہ 25سے35سال کے نوجوانوں کی اکثریت انہیں انکی اسی خوبی کی بنا پر پسند کرتی ہے جو 40سال سے اوپر عمروالے لوگوں کو نہیں بھاتی،یہ بات بھی درست ہے کہ اگر کپتان لاک ڈاؤن کا لفظ استعمال کرنے کی غلطی نہ کرتے تو شاید حکومت کو بھرپور ڈنڈا چلانے اور طاقت کے استعمال کا جواز فراہم نہ ہوتا،نہ پولیس کی ایک بڑی تعداد جلسے میں آنے والوں سے الجھتی اور نہ کنٹینرزلگتے اور نہ آنسو گیس ،ربڑ کی گولیوں اور ڈنڈوں کی ضرورت پڑتی۔یقینا جلسہ کرنا عوام کا حق ہے اس لیے ان کو روکنا اور ان پر تشدد کرنا شرمناک اور قابل مذمت ہے جبکہ اس حوالے سے حکومت کا موقف یہ سامنے آیا کہ جن رکاوٹوں کا سامنا پی ٹی آئی کے کارکنوں کو کرنا پڑا اس کا سبب حکومت نہیں بلکہ اسلام آباد بند کرنے کا اعلان تھا۔اس حوالے سے چوہدری نثارنے موقف دیاکہ ا گر کوئی یہ کہے کہ یہ رکاوٹیں عمران خان کے جلسے کو روکنے کے لیے تھیں تو غلط ہے نیز ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے جو فیصلہ کیا اس میں نہ کسی کی جیت ہے نہ ہار، اگر کسی کی جیت ہوئی ہے تو وہ پاکستان کی ہوئی اور ہمیں اس کا اعتراف کرنا چاہیے‘‘۔

جہاں تک ہم جانتے ہیں کہ جوڈیشل کمیشن تو ابھی تک بنا بھی نہیں صرف اس پر اتفاق ہوا ہے اور اگر سپریم کورٹ چاہے تو وہ ایسے کسی بھی فیصلے کو کالعدم قرار دے سکتی ہے توجشن کس بات پر منایا جارہا ہے۔اگر سپریم کورٹ نے فیصلہ کپتان اور وزیر اعظم دونوں کو نااہل قر ار دے دیا تو پھر کیا ہوگا؟ نواز شریف پھر سرخرو ہوتے ہیں توکیا پھر کپتان اسی وزیر اعظم کو تسلیم کرلیں گے جس کا نام نواز شریف ہے؟ جی جی وہی نواز شریف جس کو عمران خان جعلی وزیراعظم تصور کرتے ہیں۔صرف یہی نہیں بلکہ عمران خان نے تو نواز شریف کو اپنی تقاریرمیں پانامہ شریف اور شہباز شریف کو سرکس شریف اور شوباز شریف جیسے القابات سے پکارتے ہیں۔تو ثابت ہواتحریک انصاف کے یہ ساڑھے تین سالہ ہنگاموں نے تبدیلی لائی یا نہ لائی ہو مگر طویل ڈرامہ معاشرے میں عدم برداشت اور طوفان بدتمیزی کا کلچر ضرور آیا ہے۔اگر ایک جانب ’’گلو بٹ‘‘ کے کردار نے جنم لیا تو دوسری طرف ’’اوئے‘‘ جیسی اصطلاح بھی فروغ پائی ہے۔

اب بات کرتے ہیں یوم تشکر کی تقاریر کی۔تو حسب روایت وہی ہوا جو ہمیشہ ہوتا چلا آرہا ہے۔عمران خان نے کہا کہ ’پرویز خٹک آج آپ پاکستان کے ہیرو بن چکے ہیں، میں ان کو پاکستان کی عوام کی طرف سے خراج تحسین پیش کرتا ہوں، خیبر پختونخوا سے آنے والے قافلے پر جس طرح کی شیلنگ کی گئی اس سے ایسا لگ رہا تھا جیسے اس میں شامل لوگ پاکستانی نہیں بلکہ دشمن ہیں خیبر پختونخوا سے آنے والے قافلے پر دشمن سمجھ کر ظلم کیا گیا، شریف برادران اپنی کرپشن بچانے کے لیے پاکستانیو ں کو آپس میں لڑا رہے ہیں، انہیں پاکستانیو ں پر اس طرح کا ظلم کرتے ہوئے شرم آنی چاہئے تھی، میں اس دن کا انتظار کر رہا ہوں جب نواز شریف اور شہباز شریف جیل میں ہوں گے جب سے پاناما لیکس کا معاملہ سامنے آیا ہے ایک جانب پانامہ شریف روز کسی سڑک کا فیتہ کاٹ رہے ہیں تو دوسری جانب سرکس شریف ڈرامے کر رہے
ہیں۔ خیبر پختونخوا سے لوگ ہتھیار لے کر آئے ہیں، لیکن مجھے کوئی ہتھیار نظر نہیں آیا اور نہ ہی تحریک انصاف نے کبھی انتشار کی سیاست کی ہے۔ لوگ حکمرانوں سے اتنے تنگ ہیں کہ وہ چاہتے ہیں کہ ان سے جلد از جلد جان چھڑائی جائے۔یہ تو وہ تنقیدتھی جو عمران خان نے یوم تشکر کے موقع پر کی تو دوسری طرف جلسے کے اختتام کے فوری بعد وزیر مملکت اطلاعات مریم اورنگزیب اور طارق فضل نے کہا کہ اْمید تھی کہ دھرنا ختم کرنے کے بعد عمران خان جلسے میں کوئی مثبت بات کریں گے تاہم انھوں نے یوم تشکر کے نام پر اپنی سرکشی جاری رکھی۔وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ اْمید تھی کہ عمران خان اپنے جلسے میں پاکستان کے دیگر اہم مسائل کے ساتھ ساتھ کشمیر کے ایشو پر بھی بات کریں گے لیکن عمران خان اور ان کے ساتھیوں کا ہدف صرف حکومت تھی۔ نوازشریف کا مقابلہ کرنا ہے تو ان جیسا ظرف بھی خود میں پیدا کریں۔یوم تشکر کے نام پرعمران خان اوران کے ساتھیوں نے سرکس سجایا، بے ادب شخص ہمیشہ نامراد رہتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں عمران خان اب گڈ بوائے بن جائیں۔ عمران خان جیسا یوٹرن لینے والا شخص نہیں دیکھا، تحریک انصاف ایک کالا چشمہ پارٹی بن چکی ہے، جو رات کی تاریکی میں تو جلسے کرسکتی ہے تاہم دن میں جلسے کرنے سے قاصر ہیں۔ عمران خان سپریم کورٹ کی توہین کے مرتکب ہونے کے ساتھ ساتھ عدالتی مفروربھی ہیں، جلسے میں 10 لاکھ افراد کی شرکت کے دعوے پر مسلم لیگ نواز کے رہنما نے کہا کہ حیران ہوں 6 ہزار کرسیوں پر 10 لاکھ افراد کیسے بیٹھ گئے، یہ پی ٹی آئی کا ہی کارنامہ ہے اور وہ ایسا کرسکتے ہیں۔جبکہ پرویز خٹک نے پختون اور پنجاب کا نعرہ لگا کر ریاست سے نا انصافی کی۔پی ٹی آئی نے جشن تو منا لیا ہے اب رہی بات سپریم کورٹ کے فیصلے کی توسپریم کورٹ چاہے تو پندرہ دن میں فیصلہ کردے چاہے تو ڈیڑھ سال تک لے جائے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ آگے کیا ہو گا۔یہ جشن آج سے چار ماہ پہلے بھی منایا جا سکتا تھا جب نواز شریف نے خود ٹی او آرز کا اختیار سپریم کورٹ کو دینے کا کہا تھا مگر اپوزیشن اس وقت ’میں نہ مانوگا‘ کی رٹ لگائے اس بات پر مصر تھی کہ پہلا احتساب نواز فیملی کا ہی ہو گا اور اسی بنا پر سات ما ہ کی محنت رائیگاں ہوئی۔جس سپریم کورٹ نے پہلے تو سیاسی معاملات میں مداخلت سے انکار کرتے ہوئے ٹی او آرز کا معاملہ ایوان پر چھوڑا تھا آج اسی نے پانامہ کا معاملہ حل کرنے کا ذمہ اٹھایا ہے ۔مگر اس ساری صورت حال سے عوام کو کیا فائدہ پہنچا ہے ؟5دن پنجاب سمیت پورا پاکستان میدان جنگ بنا رہا اور اس دوران ایک معصوم بچے کی ہلاکت اور اعلیٰ افسر کی شہادت کا ذمہ دار کس کو ٹھہرایا جائے؟
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ishrat Javed

Read More Articles by Ishrat Javed: 69 Articles with 52599 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
09 Nov, 2016 Views: 290

Comments

آپ کی رائے