غریب پینشنراور پی ٹی سی ایل انتظامیہ کی ہٹ دھرمی

(Muhammad Arshad Qureshi (Arshi), Karachi)
ایک تو یہ ریٹائیرڈ ملازمین پینشن نہ بڑھنے اور روز بروز مہنگائی سے پریشان حال ہیں تو دوسری جانب انتظامیہ کی جانب سے انہیں طبی سہولیات نہ ہونے کے برابر میسر ہیں اگر کسی ملازم یا اس کے بیوی بچوں کو کوئی خطرناک بیماری ہوجاتی ہے تو انتظامیہ کی جانب سے یا تو کہا جاتا ہے کہ اس بیماری کا علاج کمپنی قوانین کے تحت کمپنی کی زمہ داری نہیں ہے یا پھر کہا جاتا ہے کہ اس کے علاج کے اخراجات پچاس فیصد پینشنر کو برداشت کرنے ہونگے اور پچاس فیصد کمپنی دے گی اب ان سے کوئی پوچھے کہ جس پینشنر کی پینشن کئی سالوں سے نہ بڑھائی گئی ہو وہ کہاں سے طبی اخراجات برداشت کرے گا ۔
پاکستان ٹیلی گراف اینڈ ٹیلی فون (ٹی اینڈ ٹی ) موجودہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹیڈ کہلانے والی کمپنی جو مختلف بہانوں سے اپنے غریب ریٹائیرڈ ملازمین کی پینشن کو ناجائز طریقے سے روکے ہوئے ہے ہر سال بجٹ میں حکومت کی اعلان کردہ پینشن میں اضافے کو یکسر مسترد کرکے اپنی من مانی کررہی ہے اور اعلان کے کئی ماہ بعد اپنی مرضی سے پینشن میں معمولی سا اضافہ کردیتی ہے جو آٹے میں نمک برابر بھی نہیں ہوتا ۔ پی ٹی سی ایل ملازمین کو کئی دفعہ رضاکارانہ ریٹائیر منٹ اسکیم کے نام پر دھوکا دیا گیا اور تاحال یہ سلسلہ جاری ان ریٹائیرمنٹ اسکیموں کو بظاہر رضاکارانہ کا نام دیا جاتا ہے اور ملازمین کے مستقبل کے تحفظ کی ضمانت دی جاتی ہے خوب سبز باغ دیکھا کر ساتھ ڈرایا دھمکایا جاتا ہے پچیس سال کمپنی کو اپنی خدمات پیش کرنے والوں کو ایک لیٹر میں فارغ ملازم دیکھا یا جاتا ہے بار بار خوبصورت اشتہاروں کے ذریعے معصوم ملازمین کو جال میں پھنسایا جاتا ہے اور اگرملازمین اس اسکیم کو استمال نہ کریں تو انہیں شدید زہنی اور مالی طور پریشان کیا جاتا ہے دور دراز علاقوں میں تبادلے کردیئے جاتے ہیں اور احتجاج کرنے پر کہا جاتا ہے کہ کمپنی قوائد و ضوابط کے تحت معمول کے تبادلے ہوتے رہتے ہیں لیکن وہ تبادلے پچیس سال تک نہیں ہوتے صرف اسکیم لینے سے انکار پر ہوتے ہیں ۔

جب ٹی اینڈ ٹی جو کہ سونے کا انڈہ دینے والی مرغی کی طرح ایک ادارہ تھا تو اسے تمام انڈے بیک وقت حاصل کرنے کی خاطر فروخت کیا گیا ادارے کی فروخت میں وہ بندر بانٹ ہوئی کہ خدا کی پناہ بہتی کنگا میں سب نے ہاتھ دھوئے اور ملازمین ادارے کے ساتھ تباہ و برباد ہوتے چلے گئے جہاں ایم این اے ، ایم پی اے اور سینیٹرز کے کوٹے پر بھی ٹیلیفون کا کنکشن لینا محال تھا اب سڑکوں پر دکان لگا کر بیچا جارہا ہے پھر بھی کامیابی حاصل نہیں ہورہی اور اس کا نزلہ ملازمین پر گرایا جارہاہے ۔ کچھ عرصے پہلے خوب شور سنائی دیا کہ پی ٹی سی ایل کی نجکاری میں شدید بے ضابطگیاں ہوئی ہیں کرپشن بھی کی گئی ہے بیس سے پچیس ارب روپے سالانہ منافہ دینے والے ادارے کو اپنے ذاتی مفادات حاصل کرنے کے لیئے بیچ دیا گیا جس سے نہ صرف ملازمین اور ادراے کو شدید نقصان پہنچا بلکہ وطن عزیز کو بھی نا قابل تلافی نقصان برداشت کرنا پڑا،لیکن وہ شور بھی بس محض سیاسی مقاصد کے حصول کے لیئے تھا جو جھاگ کی طرح بیٹھ گیا نہ کوئی ایکشن نہ کوئی انکوائری نہ کوئی رسمی کمیٹی ہی بنی۔

پی ٹی سی ایل کو خریدنے والی کمپنی ایتصلات نے اوائل میں تنخواہوں اور پینشن میں اضافہ اپنی مرضی سے کرنا شروع کردیا جس پر ملازمین نے شدید احتجاج کرتے ہوئے عدالتوں کا رخ کیا جس پر ملک کی اعلی ترین عدالت نے قوانین کی باقاعدہ تشریح کرکےپی ٹی سی ایل اور پی ٹی ای ٹی کو اپنے ملازمین اور پینشنروں کو وہی اضافہ دینے کاحکم صادر فرمایا جو فیڈرل گورنمنٹ اپنے ملازمین اور پینشنروں کو دیتی ہے اس فیصلے کے باوجود انتظامیہ کے کان پر جوں تک نہ رینگی اس کے بعد بھی یکے بعد دیگرے ایسے کئی فیصلے عدالتوں سے آئے جسے انتظامیہ نے یکسر مسترد کردیا یہاں سب سے حیران کن امر یہ ہے کہ آج تک کسی بھی عدالت نے انتظامیہ کے خلاف سوموٹو اقدام نہیں اٹھایا اور نہ ہی اپنے فیصلوں پر من و عن عملدارآمد نہ کرنے پر انتظامیہ کے خلاف کوئی بھی حکم صادر فرمایا۔ایک تو یہ ریٹائیرڈ ملازمین پینشن نہ بڑھنے اور روز بروز مہنگائی سے پریشان حال ہیں تو دوسری جانب انتظامیہ کی جانب سے انہیں طبی سہولیات نہ ہونے کے برابر میسر ہیں اگر کسی ملازم یا اس کے بیوی بچوں کو کوئی خطرناک بیماری ہوجاتی ہے تو انتظامیہ کی جانب سے یا تو کہا جاتا ہے کہ اس بیماری کا علاج کمپنی قوانین کے تحت کمپنی کی زمہ داری نہیں ہے یا پھر کہا جاتا ہے کہ اس کے علاج کے اخراجات پچاس فیصد پینشنر کو برداشت کرنے ہونگے اور پچاس فیصد کمپنی دے گی اب ان سے کوئی پوچھے کہ جس پینشنر کی پینشن کئی سالوں سے نہ بڑھائی گئی ہو وہ کہاں سے طبی اخراجات برداشت کرے گا ۔

یہاں ایک بہت اہم بات قارئین کے گوش گذار کرتا چلوں کہ ملازمین کی جانب سے آج تک جتنی درخواستیں جمع کروائی گئی ہیں اور ان پر عدالتی فیصلے آئے ہیں انہیں مختلف طریقوں سے حکم امتناعی کے حصول اور ملازمین کے خلاف کیسز میں انتطامیہ نے ہر سال جتنا سرمایہ استمال کیا وہی اگر اپنے پینشنروں کو روکے گئے اضافے کی صورت میں ہی دے دیتی تو شائید کچھ گھروں کے چولھے جل جاتے ۔
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Arshad Qureshi

Read More Articles by Muhammad Arshad Qureshi: 130 Articles with 84091 views »
My name is Muhammad Arshad Qureshi (Arshi) belong to Karachi Pakistan I am
Freelance Journalist, Columnist, Blogger and Poet.​President of Internati
.. View More
12 Nov, 2016 Views: 509

Comments

آپ کی رائے