طیب اردگان کا دورہ ،ترقی ٔپاکستان کی ایک کرن

(Ghulam Abbas Siddiqui, Lahore)
ترکی اور پاکستان امت مسلمہ مرحومہ کے اہم ترین ممالک ہیں جن کی حیثیت ساری دنیا میں تسلیم شدہ ہے ترکی نے کبھی بھی اصولوں پر سودے بازی نہیں کی ،ہر دور میں ترکی پاکستان کے شانہ بشانہ رہا ،ترکی کی ترقی کا راز اس کی جرأت مندانہ اصول پرست قیادت ہے جو طیب اردگان اور اس کی ٹیم کی شکل میں ہے جسے ساری ترک قوم کی بھر پور حمایت حاصل ہے چند ماہ قبل جب فوجی بغاوت نے سر اٹھایا تو بغاوت کو ناکام بنانے کیلئے ترک عوام اور انتظامیہ نے بھر پور کردار ادا کیا جو طیب اردگان کی قیادت پر الاعلان اظہار اعتماد ہے۔دوسری طرف پاکستان واحد اسلامی دنیا کا ایٹمی طاقت کا حامل ملک ہے جو عالم کفر کوآنکھوں نہیں بھاتا ۔عالم کفر کی منظم سازش رہی ہے کہ امت مسلمہ کو تقسیم کرکے ان پر حکومت کی جائے جس میں وہ کامیاب ہوگئے ہیں ۔آج امت مسلمہ کی ایک بڑی طاقت ہونے کے باوجود ذلت آمیز غلامی کے دور سے گزر رہی ہے ۔جس کی بنیادی وجہ اتحاد واتفاق،وحدت اسلامی کی شدید کمی ہے ۔اس کمی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کفر ایک مسلم ملک کو دوسرے کے خلاف استعمال کرتا ہے اور اپنا مقصد نکال کر اسے بھی سرخ جھنڈی کھا دیتا ہے ۔ان حالات وواقعات اور حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے دنیا بھر سے مسلم درد رکھنے والے اہل قلم نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ مسلم دنیا کو ایک اسلامی بلاک کی صورت میں وحدت کی شکل میں ڈھال دیا جائے اور اس بلاک کا ایک امیر یا سربراہ ہو جو امت مسلمہ کے مشترکہ مفادات کا دفاع کرے اور ساری امت اس کی پشت پر کھڑی ہو اس طرح کرنے سے امت مسلمہ کی طاقت محفوظ ،ایک ہاتھ میں آجائے گی ۔ ہمارے نزدیک یہ کام مسلم حکمرانوں پر فرض عین ہے جو وہ نہیں کر پا رہے یا اس سے چشم پوشی اختیار کئے ہوئے ہیں جس کے باعث امت نت نئے گھمبیر مسائل کی دہلدل میں دھنستی جارہی ہے ۔حالیہ سعودی عرب اور حوثی باغیوں کی کشیدگی ہمارے سامنے ہے امت کی کوئی سربراہی نہ ہونے کے باعث فیصلہ تو دور کی بات امت طرف تماشہ نبی ہوئی ہے ۔یہ اہم نقطہ اس لئے اتھایا جا رہا ہے کہ آج کل ترک صدر طیب اردگان پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے ہیں انھوں نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے بھی خطاب کیا ،صدر ،وزیراعظم او راہم پاکستانی قیادت سے بھی ملاقاتیں کیں۔حالیہ دورہ ٔ پاکستان یقیناً پاکستان اور ترکی کی ترقی اور تعلقات کی مضبوطی میں سنگ میل ثابت ہوگا ،رابطہ کاری کی کئی اہم راہیں کھولیں گی ،مبصرین کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان کی گوادر بندرگاہ پر تجارتی سرگرمیوں کے بعد دوسری بڑی کایمابی ترک صدر طیب اردگان کا دورہ ٔ ہے ۔برصغیر میں پاکستان دشمن عناصر پاکستان کے خلاف طوفان بدتمیزی برپا کئے ہوئے ہیں ان حالات میں ترک صدر کا دورہ ٔ پاکستان دشمن کو ایک اہم پیغام ہے کہ مسلمان ایک ہیں ترکی کسی بھی مشکل وقت میں پاکستان کی پشت پر کھڑا ہو گا۔

اس دورہ کی اقتصادی ،معاشی،سیاسی اعتبار سے اہمیت اپنی جگہ پاکستان کیلئے بہت اہم ہے لیکن اگر پاکستانی قیادت اور ترک صدر مل بیٹھ کر اس دورہ ٔ کو معنی خیز اس طرح بنائیں کہ امت کے انتشار کو وحدت میں بدل کر اﷲ ورسول ﷺ کا حکم پورا کردیں توسونے پر سہاگا ثابت ہوگا ۔پھر کسی مسلمان ملک کواقوام متحدہ کے در پر انصاف کی بھیک مانگنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی( یاد رہے کہ اسلام دشمنوں کے پاس اپنے فیصلے نہ کروانے کا حکم دیتا ہے جس کی خلاف ورزی ساری امت مسلمہ مرحومہ کر رہی ہے مسلم حکمران اس نافرمانی سے بچنا چاہتے ہیں تو وحدت کی طرف آنا ہی ہوگا) ۔ترکی اورپاکستانی قیادت اگردنیا بھر کے مسلم ممالک کو ایک پلیٹٖ فارم متحد کرنے کا اعلان اس دورہ پر کریں تو یہ دورہ یا ٔملاقات مزید معنی خیز اور امت کیلئے ہمیشہ فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے ۔

ترک صدر کے دورہ ٔ پاکستان پر فضول خرچی کا نظارہ بھی دیکھنے کو خوب ملا،مسلم حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ سادگی کو اپنائیں نمود نمائش پر اپنا سرمایہ خرچ کرنے کی بجائے عوام کی فلاح وبہبود پر خرچ کریں تو ا س نمود ونمائش سے کہیں زیادہ فائدہ ہوگا ۔پاکستانی حکمرانوں کو کسی بھی ملک کے سربراہ کے دورہ ٔ پاکستان پر سادگی کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے ۔جو سرمایہ نمودونمائش پر لگایا وہ تعمیری کام میں لگایا جائے ۔بہرکیف ترک صدر کا دورہ ٔ پاکستان ایک نیک شگون ہے جو پاکستان اور ترک عوام میں محبت واخوت اور بھائی چارے میں اضافے اورترقیاتی کاموں میں ایک دوسرے کی معاونت کا باعث نبے گا ۔اﷲ تعالیٰ سے دعا ہے کہ امت مسلمہ کو امت وسط،امت واحدہ بنا دے تاکہ دشمن کی چالوں،حملوں کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو سکے۔(امین)
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulam Abbas Siddiqui

Read More Articles by Ghulam Abbas Siddiqui: 264 Articles with 162829 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Nov, 2016 Views: 282

Comments

آپ کی رائے