عبید اللہ سندھی کا فکر۔۔۔معاشرے کے پسماندہ طبقات کی سیاسی تربیت

(Dr. Muhammad Javed, Karachi)
جمہوری نظام کی روح چونکہ جمہور کی آواز اور ان کی مرضی کا نام ہے،لہذا سب سے اہم بات انسانی معاشرے میں سیاسی وجمہوری شعور کی موجودگی ہے جس کے بغیرافراد معاشرہ ایک صحت مند جمہوری نظام تشکیل نہیں دے سکتے۔معاشرے کی یہ شعوری تربیت جس کا تعلق حقوق سے آگاہی،انفرادی واجتماعی حقوق کی ادائیگی، معاشرے کے مسائل کی وجوہات کا فہم، مسائل کے حل کے لئے درست حکمت عملی،ذاتی مفادات کی بجائے اجتماعی مفادات کی اہمیت۔ووٹ اور الیکشن کے طریقہ کار کی اہمیت و شعور۔اور قیادت کے چناؤ کے لئے شخصیات کے کردار کو پرکھنے کی صلاحیت اور افراد معاشرہ کی کردار سازی۔ یہ وہ پہلو ہیں جن کا جاننا ہر فرد معاشرہ کا حق اور اس کی ذمہ داری ہے۔

مولانا عبید اللہ سندھی جو کہ انگریزوں کے تسلط سے آزادی حاصل کرنے کی تحریک میں ایک نمایاں کردار رکھتے تھے، انہوں نے غلام ہندوستان کو آزادی کے بعد ایک بہترین سیاسی نظام کی تشکیل کے حوالے سے فکر کی طرف رہنمائی کی۔ بہترین سیاسی نظام کی تشکیل کے لئے انہوں نے سیاسی تربیت کو اہم اور بنیادی حیثیت دی ہے۔یہی وجہ تھی کہ جب مولانا سندھی چوبیس سالہ جلا وطنی کے بعد وطن واپس لوٹے تو انہوں نے ہندوستانی معاشرے میں سیاسی تبدیلی کے لئے جو پرو گرام مرتب کیا اس میں سب سے اہم کام یہ تھا کہ قوم کے نوجوانوں میں تنظیم اور شعور پیدا کیا جائے اس کے لئے انہوں نے’’۱۰ دسمبر ۱۹۳۹ء کو منعقدہ مدرسہ الرشاد گوٹھ پیر جھنڈا سندھ میں تنظیم قائم کر دی تھی‘‘ (1) مولاناکیونکہ اس بات پہ کامل یقین رکھتے تھے کہ بغیر تنظیم یا جماعت بندی کے کبھی بھی معاشرے میں کوئی اچھی تبدیلی کے لئے کام نہیں کیا جا سکتا۔لہذا انہوں نے نوجوانوں کے لئے باقاعدہ ایک تنظیم کا ماڈل پیش کیا۔اس میں انہوں نے سیاسی تعلیم کو پھیلانے پہ اولاً زور دیا تاکہ معاشرے کو وہ افراد جو کہ سیاسی شعور نہیں رکھتے انہیں سیاسی جدو جہد،سیاسی نظام اور اس کی اہمیت وہ طریقہ کار سمجھایا جائے۔اور اگر ان کے پاس تعلیم کی کمی ہے جس کی وجہ سے وہ سیاسی اداروں کے طریقہ کار یا اہمیت کو نہیں سمجھ سکتے تو ان کی بنیادی تعلیم کے لئے کام کیا جائے۔اور ساتھ ساتھ انہیں سیاست کی اہمیت سے بھی باخبر کیا جائے۔لہذا مولانا نے سندھ ساگر پارٹی میں جو بنیادی مقصد متعین کیا وہ یہ تھا کہ’’ہمیں سب سے پہلے جو کام کرنا چاہئے وہ یہ کہ کسی قومی امتیاز کے بغیر خواہ امیر،کاشتکار،خواہ ہنر مند ،مرد خواہ عورت کو تعلیم سے مستفید کریں ،تعلیم کی روشنی حاصل کرنے کے بعد ہی وہ صحیح طور پر(سیاسی)بات کو سمجھیں گے اور اس پر عمل کریں گے۔‘‘(2)

معاشرے میں اکثریتی طبقہ جب پسماندہ ہو تو وہاں سیاسی شعور کی بھی لا محالہ کمی ہو جاتی ہے۔اور پھر خاص طور پہ ہندوستان میں ایک قوم انگریزوں کی بد ترین غلامی میں مبتلا رہنے کے بعد ایسے سماج میں ڈھل چکی تھی جہاں ایک طرف جاگیرداروں نے جو کہ انگریزوں کے حاشیہ نشین تھے ۔جنہیں انگریزوں نے غداری کے سلسلے میں جاگیریں عطا کی تھیں اور انہیں اپنے مقاصد کے لئے ستعمال کیا تھا۔انہیں جاگیرداری نظام کی صورت میں ایک ایسا نظام بھی دیا جس کے ذریعے وہ زیادہ سے زیادہ آبادیوں کو زمینوں سے بے دخل کر کے انہیں اپنا دست نگر بنا کر ان کا استحصال جاری رکھیں۔ہندوستان میں انگریزوں کے جاری کردہ اس جاگیرداری نظام نے معاشرے کے اکثریتی محنت کش کسان طبقے کو غلامی کی بدترین شکلوں میں مبتلا کر دیا۔اس طرح جاگیر دار نے انہیں پسماندہ رکھا انہیں اپنی زمینوں پہ بیگار کیمپوں کی طرح استعمال کیا۔اور اس طرح نسل در نسل انسانوں کی لاتعداد آبادیاں بنیادی انسانی حقوق سے محروم اس جاگیرداری نظام کی نذرہو گئیں۔جاگیر داروں کا اپنے علاقوں پہ اس قدر تسلط تھا کہ ان کی مرضی کے بغیر کو ئی بھی انسان اپنے بارے میں نہیں سوچ سکتا تھا۔جاگیرداروں نے انہیں تعلیم،صحت اور بنیادی ضروریات سے ہمیشہ محروم رکھا۔جس کی وجہ سے وہ جانوروں کی طرح صرف مال برداری کرتے تھے انہیں کچھ پتہ نہیں تھا کہ ان کے ارد گرد کیا ہو رہا ہے۔نظام کون چلاتا ہے ،سیاسی ادارے کیا ہوتے ہیں،بس جاگیردار جو کہتا تھا وہ اسے بجا لاتے۔لہذا ملک کے طول و عرض میں سیاسی نظاموں کے کرتا دھرتا صرف جاگیردار طبقہ تھا ان ہی کی نسلیں پڑھ لکھ کر اداروں میں وزیر،وغیرہ بنتیں انگریزوں نے ان ہی کی نسلوں کو آگے بڑھایا ،اور انہیں اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا۔رہ گیا پسماندہ محنت کش طبقہ تو وہ نسل در نسل جہالت،غربت اور محرومی کی زندگی گذراتا رہا۔مولانا سندھی کو اپنے معاشرے کے اس پسماندہ طبقے کی حالت کو دیکھ کر ترس آتا تھا وہ بے حد افسردہ ہوتے تھے۔وہ چاہتے تھے کہ اس اکثریتی طبقے کا زیادہ حق ہے کہ وہ اپنے ملک کے سیاسی اداروں میں کر دار ادا کریں۔اور جب وہ سیاسی داروں میں جانے کے قابل ہو جائیں گے تو یقیناً اپنے مسائل کو بھی بہتر نداز سے حل کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔اور ظالم اور استحصالی طبقے کے تسلط سے چھٹکارا ملے گا۔لہذا مولانا سندھی نے اپنا زیادہ زور اور توجہ اسے طبقے پہ مر کوز رکھی آپ لکھتے ہیں
’’’ہمیں پسماندہ طبقے کی اصلاح کرنی چاہئے کیونکہ جب تک ہمارے اس طبقے کی اصلاح نہ ہو گی تب تک ملک میں کوئی بھی سود مند کام ہونا مشکل ہے۔‘‘(3)

پسماندہ طبقوں کی اصلاح سے مولانا کی یہی مراد تھی کہ انہیں تعلیم کے زیور سے آراستہ کر کے انہیں سیاسی شعور دیا جائے۔کیونکہ عام طور پہ جاگیردار طبقہ ہی سیاسی اداروں میں منتخب ہو کر جاتا تھا۔اور آج بھی یہی حالت ہے کہ ملک کے سر مایہ دار اور جاگیردار طبقہ ہی اپنے دھن ،دھونس اور دھاندلی کی بنیاد پہ انتخابات جیت کر ملک کے قانون ساز اداروں میں چلے جاتے ہیں اور پھر ملکی اور قومی وسائل کو خوب لوٹتے ہیں۔ ایک طرف انہوں نے عوام کو جاہل اور پسماندہ رکھا ہوا ہے، جس کی وجہ سے وہ درست فیصلہ کرنے کی اہلیت سے بھی محروم ہیں، لہذا ہر دفعہ استحصالی طبقہ برسر اقتدار آنے کے بعد اپنے آپ کو عوامی نمائندہ اور جمہوریت کا علمبردار قرار دیتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ بحیثیت مجموعی پوری قوم زوال کی طرف گامزن ہے۔اکثریتی طبقہ کے سیاسی حقوق سلب ہیں ان کی رائے کی خاص اہمیت نہیں ہے اور نہ ہی متوسط اور نچلے طبقے کے افراد سیاسی اداروں میں جانے کا سوچ سکتے ہیں،جب تک انہیں کسی سرمایہ دار جاگیر دار طبقے کی حمایت حاصل نہ ہو۔لہذا سیاسی عدم مساوات کا یہ ماحول مولانا سندھی کے وقت ہندوستان میں موجود تھا اور اس وقت بھی موجود ہے۔اسی سیاسی عدم مساوات کی وجہ سے سیاسی اداروں میں پسماندہ اور نچلے طبقے کے افراد کی شرکت نہیں ہوتی ، اور نہ ہی وہ اس بات کا شعور رکھتے ہیں کہ جمہوری اداروں کی تشکیل میں ان کی اہمیت کیا ہے،ان کو جھوٹے سچے خواب دکھانے والے سے سیاستدان کس قدر نصف صدی سے انہیں دھوکہ دے رہے ہیں اور کس طرح پوری قوم کو بیرونی سامراجی طاقتوں سے قرض لے کر ملکی وسائل کو گروی رکھ رہے ہیں،عام آدمی غربت، مہنگائی اور جہالت کے اندھیروں میں گم ان سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کا آلہ کار بنا ہوا ہے۔

مولانا چاہتے تھے اور آج بھی اس کی ضرورت ہے کہ ملک کے نوجوانوں کی سیاسی تربیت ہو کیونکہ نوجوان طبقہ ہی کسی قوم کا سرمایہ ہوتا ہے اور حقیقی تبدیلی لانے کے لئے نوجوان ہی بہتر اور نتیجہ خیز جدو جہد کر سکتے ہیں ،لہذا انہوں نے نوجوان کی سیاسی تربیت کے لئے ہی سیاسی پارٹی کا آغاز کیا ، ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہان پوری لکھتے ہیں
’’فارورڈ بلاک کے طور پہ مولانا جو گروپ کانگریس کے اندر منظم کرنا چاہتے ،جس کے ذریعے کانگریس کو اس کے اصول و مقاصد سے ہٹنے نہ دیتے اور رہنمائی کا کام لینا تھا،اس کا نام مولانا نے جمنا نربدا سندھ ساگر پارٹی رکھا تھا اسے صرف کانگریس کے اندر ہی ایک فارورڈ بلاک کے طور پر کام نہ کرنا تھا،بلکہ یہ کانگریس کے باہر بھی اک منظم جماعت تھی جس کے سامنے نوجوانوں کی سیاسی تعلیم و تربیت کا ایک مکمل نظام تھا۔‘‘(4)

مولانا سندھی نے جلاو طنی کے دور میں مختلف معاشروں کا تجزیہ کیا ،اور ان معاشروں میں ہونے والے انقلابات کا تجزیہ کیا ،اور اپنے نظریات کو مزید مستحکم کیا،مولانا نے دیکھا کہ جو جو انقلابات دنیا کے مختلف ممالک میں رو نما ہوئے ان کے پیچھے پسماندہ اور غالب طبقات کی جنگ تھی،انہوں نے اس امر کا بھی تجزیہ کیا کہ جس معاشرے میں غریب اور پسماندہ طبقات منظم ہو گئے اور انہوں نے سیاسی شعور حاصل کر لیا ،تو انہوں نے اپنے ملکوں میں استحصالی طبقات کے تختے الٹ دئیے اور انہیں برے انجام سے دو چار کر دیا۔اس عمل میں انہوں نے کسی کو معاف نہیں کیا،چاہے وہ استحصالی طبقات مذہبی یا غیر مذہبی ان کا تعلق جس قوم ،قبیلے سے تھا انہیں انجام سے دو چار کر دیا۔مولانا سندھی اسی تجر بے کی روشنی میں ہندوستان میں بھی اقتدار اور وسائل پہ قابض طبقے کو خبردار کرتے ہیں کہ وہ ظلم و استحصال سے باز آ جائے اور پسماندہ طبقات کی حالت کو دیانت دار ی سے بہتر بنانے کے لئے اقدامات کرے وگرنہ وہ اگر منظم ہو گئے تو انہیں برے انجام سے دو چار ہونا پڑے گا۔۷ مارچ، ۱۹۳۹ء کو مولانا سندھی وطن لوٹے تھے واپسی پہ انہوں نے اپنے پہلے خطاب میں کہا
’’اگر تمہارے امرا نے غربا کی خیر خواہی نہ کی تو تمہارا بھی وہی حشر ہو گا جو بخارا کے مسلمانوں کا ہو چکا ہے۔‘‘(5)

مولانا سندھی نے اپنے فکر کی روشنی میں سندھ میں اول درجے میں سیاسی تربیت کا کام شروع کرنے کا پرو گرام بنایا۔کیونکہ اس وقت سندھ میں پسماندگی بہت زیادہ تھی ،دوسرا مولانا سندھی کا تعارف زیادہ تھا،کیونکہ ماضی میں مولانا نے اداروں میں کام کیا تھا اور یہاں کا فی عرصہ قیام کیا۔لہذا وہ سندھ کے عوام کی نفسیات سے بھی بخوبی واقف تھے۔اور سمجھتے تھے کہ یہاں کے نوجوانوں میں اتنی صلاحیت موجود ہے کہ وہ تبدیلی کے لئے کام کر سکتے ہیں۔لہذا’’جلا وطنی سے واپسی کے بعد انہوں نے سندھ کو اپنے سیاسی خیالات کی تجربہ گاہ بنانے کا فیصلہ کیا،وہ چاہتے تھے کہ سندھ میں ان کے اصولوں کے مطابق ایک ایسی حکومت قائم ہو جائے جو ہندوستان کے دوسرے صوبوں کے لئے مثالی ثابت ہو۔‘‘(6)

مولانا سندھی نے اپنے سیاسی کام کا جب آغاز کیا،تو ان کے بنیادی مقصد یہ تھا کہ نوجوانوں کی تربیت کو اول درجہ حاصل ہو تاکہ آنے والے وقت میں سیاسی عمل کی تشکیل اور بہتر تبدیلی کے لئے انہیں تیار کیا جا سکے۔اس حوالے سے انہوں نے ایسے ادارے بنانے کا پرو گرام مرتب کیا جس میں نوجوانوں کی سیاسی تربیت کی جائے۔وہ چاہتے تھے کہ نوجوانوں کو تشدد سے بچا کر کر انہیں عدم تشدد کی بنیاد پہ بہترین سیاسی شعور سے بہرہ مند کر کے اس قابل بنایا جائے تاکہ وہ آگے چل کر ایک عادلانہ سیاسی نظام تشکیل دیں سکیں۔ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہان پوری عدم تشدد کی پالیسی کے حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں
’’مولانا سندھی کے نزدیک یہ اصول بذاتہ مقصود نہ تھا،بلکہ وہ نوجوانوں کی تعلیم و تربیت کے ساتھ لازم تھا۔تعلیم وتربیت کا جب بھی کوئی نظام بنایا جائے گا۔اس کے بہترین نتائج کے حصول کے لئے امن و پر سکون ماحول کی ضرورت ہو گی۔عہد غلامی میں جب تحریک آزادی زوروں پر چل رہی تھی،ملک میں ہل چل مچی ہوئی تھی اور حکومت کسی قسم کے تشدد کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہ تھی،ضروری تھا کہ عدم تشدد پر اپنے اعتقاد کے اعلان و اظہار کے ساتھ کوئی گوشہ عافیت تلاش کر یا جائے،جہاں اصحاب استعداد کی تربیت ہوتی رہے اور تحریک کو ذہنی،فکری اور افرادی قوت سے کمک پہنچائی جاتی رہے۔‘‘(7)

مولانا سندھی چاہتے تھے کہ نوجوان خصوصاً مسلمان نوجوان سیاسی تربیت حاصل کریں اور اپنی الگ سیاسی تنظیم بنانے کی بجائے ہندوستان میں موجود قومی سیاسی جماعت میں شریک ہو کر بہتر کردار ادا کریں۔ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہان پوری لکھتے ہیں۔
’’مولانا سندھی ضروری سمجھتے تھے کہ مسلمان سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے وہ اپنی الگ تنظیم قائم نہ کریں،بلکہ ملک کی کسی بڑی قومی اور ترقی پسند جماعت میں شریک ہو جائیں۔‘‘(8)

مولانا سندھی نے اس سلسلے میں جمنا نربدا سندھ ساگر پارٹی (جو کہ کانگریس کے اندر ایک فارورڈ بلاک کے طور پہ بنا نے کی تجویز دی)،بیت الحکمت وغیرہ قائم کئے۔’’مولانا سندھی کا ارادہ تھا کہ بیت الحکمت کی شاخیں ملک کے ہر حصے میں قائم کی جائیں،لیکن جو شاخیں قائم ہوئیں وہ سندھ اور پنجاب میں قائم ہوئیں۔دارالحکومت دہلی کے بعد سندھ اور پنجاب مولانا سندھی کی علمی و سیاسی سرگرمیوں کے سب سے بڑے میدان تھے۔۔۔۔کراچی میں بیت الحکمت کی شاخ کراچی مدرسہ مظہر العلوم(محلہ کھڈا )میں قائم تھی‘‘(9) گوٹھ پیر جھنڈا میں’’۲۴ ،دسمبر ۱۹۳۹ء کو دارالرشاد میں بیت الحکمت کی شاخ قائم ہوئی۔‘‘(10) ’’گورو پہوڑ تحصیل شکار پور(ضلع سکھر)میں مولانا سندھی کے عقیدت مندوں نے بیت الحکمت کی شاخ قائم کی۔مولانا سندھی ؂مرحوم نے اس کا افتتاح کیا تھا۔مولانا غلام مصطفیٰ قاسمی اس کے صدر مدرس تھے۔‘‘(10) اس کے علاوہ’’شہداد کوٹ میں بیت الحکمت کی ایک شاخ قائم ہوئی،اس کے سر پرست مولانا غلام مصطفیٰ قاسمی اور سیکرٹری مولوی عزیز اللہ جروار تھے۔‘‘(11)

اور ’’ضلع لاڑکانہ میں بیت الحکمت کی دوسری شاخ گوٹھ پیر بخش بھٹو میں قائم ہوئی اس کے سر پرست نواب نبی بخش بھٹو تھے اور سیکرٹری مولانا غلام مصطفیٰ قاسمی تھے۔‘‘(12)اور اسی طرح ’’بیت الحکمت کی ایک شاخ بہاول پور کے ایک مقام دین پور میں قائم ہوئی تھی۔‘‘(13)

مذکورہ بالا تمام اداروں کے مقاصد پہ بات کرتے ہوئے مولانا سندھی نے اپنے خطبہ افتتاح محمد قاسم ولی اللہ تھیولجیکل سکول ،مورخہ ۲،اگست ۱۹۴۴ء،بمقام شہداد کوٹ،ضلع لاڑکانہ ،سندھ میں فرمایا’’یہ اسکول اور کالج ہم اس لئے شروع کرتے ہیں کہ اپنے نوجوانوں میں سیاسی شعور پیدا کر دیں۔‘‘(14)

مولانا سندھی نے ’’مورخہ ۲۲؍۲۴ مارچ ۱۹۳۴ء محمد قاسم ولی اللہ تھیالوجیکل کالج لاہور کے قیام کا اعلان کیا‘‘(15)

اس کے مقاصد بیان کرتے ہوئے مولانا نے لکھا ہے کہ’’محمد قاسم ولی اللہ تھیالوجیکل کو ہم یورپ کے اول درجہ کے کالجوں کا ہم رتبہ بنانا چاہتے ہیں۔‘‘(16)

مولانا سندھی محمد قاسم ولی اللہ تھیالوجیکل کالج کے اغراض و مقاصد میں بیان کرتے ہیں کہ یہاں سے فارغ التحصیل ہونے والے سیاسی تربیت یافتہ افرادمعاشرے کی خدمت خلق کے لئے تنظیمیں بنانے اور طبقہ علماء سے مذہبی و سیاسی تعلیم وتربیت کا کام لے۔لکھتے ہیں
’’(ج)طبقہ علماء ان سیاسین کی رہنمائی میں خدمت خلق کی جماعتیں بنائے گا۔ملک کے ادنیٰ طبقہ کو مذہبی اور سیاسی تعلیم دے گا۔ان کے اقتصادی حالات کو درست کرنے کے لئے کواپریٹو سسٹم جاری کرے گا۔
(د)ادنیٰ طبقہ کوووٹ کی قیمت سمجھائے گااور کسی پارٹی کو ان کے ووٹ سے ناجائز فائدہ حاصل نہیں کرنے دے گا۔‘‘(17)

مولانا سندھی کی یہ سیاسی تربیت و عمل کی کوششیں قابل تحسین تھیں ان کا مرکز عمل نوجوان طبقہ تھا وہ اس سے کافی پر امید تھے لیکن بدقسمتی سے انہیں اتنا وقت میسر نہیں آیا کہ وہ ان اداروں کو مضبوط و مستحکم کر سکتے اور ان کے نتائج حاصل کر سکتے او رملک میں کوئی بڑی سیاسی تبدیلی کے لئے کام کر سکتے ۔ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہان پوری لکھتے ہیں
’’بیت الحکمت کا منصوبہ مولانا کی تمنا ہی نہ تھی جو مولانا اپنے ساتھ لے گئے بلکہ مولانا نے جو آرزو کی تھی اسے عمل میں بھی لے آئے تھے اور ایک حد تک انہوں نے اس میں کامیابی بھی حاصل کر لی تھی۔لیکن اسے جاری رکھنا مولانا مرحوم کے ہم فکر اہل علم اور ان کے معتقدین کا کام تھا۔ان کی عدم توجہ اور بے عملی کے لئے مولانا سندھی مرحوم کی ذات کو الزام نہیں دیا جا سکتا۔‘‘(18)

مندرجہ بالا بحث سے یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ مولانا سندھی پسماندہ سماج کے نوجوانوں کو اور خاص طور پہ عام طبقات کے اندر سیاسی بیداری،ووٹ کی قدرو قیمت اور اجتماعی جدو جہد،خدمت خلق کے جذبے و عمل کو فروغ دینا چاہتے تھے۔اس کے لئے وہ روایتی مدارس کی بجائے اس طرح کے کالجز تشکیل دینا چاہتے تھے جو کہ یورپ کے مقابلے کے ہوں جہاں سے نکلنے والے طلباء نظاموں کی تشکیل میں کردار ادا کرسکیں۔ اس تناظر میں آج ملک میں قائم مختلف اداروں کا تجزیہ کیا جا سکتا ہے کہ وہ کس قدر دور جدید اور یورپ کے تعلیمی داروں کا مقابلہ کرنے کی سکت رکھتے ہیں۔اور خاص طور پہ ایسے ناموں سے قائم ادارے جہاں مولانا سندھی کا نام لیا جاتا ہو، ان کو بطور خاص پرکھنے کی ضرورت ہے۔۔۔
ّ(حوالہ جات)
1۔شاہجہان پوری ،ابو سلمان،ڈاکٹر،مو لانا عبید اللہ سندھی حیات و خدمات،لاہور،دارالکتاب،۲۰۰۷ء ،ص۳۵۲
2۔ایضاً،ص۳۳۴
3 ۔ایضاً،ص۳۳۵
4۔ایضاً،ص۳۵۲
5 ۔ایضاً،ص۳۲۹
6۔ایضاً،ص۳۷۲
7۔ایضاً،ص۳۵۰
8۔ایضاً،ص۳۵۱
9۔ ایضاً،ص۳۵۸,۳۵۹
10۔ایضاً،ص۳۶۰
11۔ایضاً،ص۳۶۰
12۔ایضاً،ص۳۶۱
13 ۔ایضاً،ص۳۶۲
14 ۔ایضاً،ص۳۶۲
15۔محمدسرور،پروفیسر،خطبات ومقالات مولانا عبید اللہ سندھی(ترتیب وتقدیم مفتی عبد الخالق آزاد)لاہور،دار التحقیق والاشاعت،لاہور۲۰۰۲ء ،ص۴۸۶
16۔ایضاً،ص۴۳۲
17 ۔ایضاً،ص۴۴۶
18۔ایضاً،ص۴۵۴
19۔ایضاً،ص۳۶۲
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr. Muhammad Javed

Read More Articles by Dr. Muhammad Javed: 104 Articles with 70352 views »
I Received my PhD degree in Political Science in 2010 from University of Karachi. Research studies, Research Articles, columns writing on social scien.. View More
18 Nov, 2016 Views: 640

Comments

آپ کی رائے