وہ خاتون جسے اپنے شوہر سے بھی الرجی ہے

لوگوں میں کسی نہ کسی چیز سے الرجی کا پایا جانا کوئی خاص بات نہیں ہے لیکن 29 سالہ جوہانہ واٹنکن ایسی خاتون ہیں جنہیں نہ صرف اس سرزمین پر موجود سینکڑوں چیزوں سے الرجی ہے بلکہ انہیں اپنے شوہر کی خوشبو سے بھی الرجی ہے-
 

image

جی ہاں جوہانہ واٹنکن ایک ایسی نایاب بیماری کا شکار ہیں جس کے مریض کو انسانوں کی خوشبو سمیت متعدد چیزوں سے الرجی کا سامنا کرنا پڑتا ہے- جوہانہ گزشتہ ایک سال سے گھر میں ہی تعمیر کروائے گئے ایک خاص کمرے میں تنہا زندگی گزارنے پر مجبور ہیں-

5 سال قبل جوہانہ کی ملاقات اسکاٹ سے Minnesota کی ہوپ اکیڈمی میں ہوئی جہاں یہ دونوں ہی استاد کے فرائص سرانجام دے رہے تھے- سال 2013 میں جوہانہ اور اسکاٹ نے آپس شادی کی فیصلہ کیا لیکن دو سال بعد ہی اس خطرناک الرجی نے جوہانہ کی زندگی کو تباہ کردیا-

آغاز میں جوہانہ کا خیال تھا کہ شاید اسے کسی کھانے سے الرجی ہے اسی وجہ سے جوہانہ نے اپنی خوراک تبدیل کردی لیکن اس تبدیلی سے بھی کوئی فائدہ نہیں اور سال 2015 میں ڈاکٹروں نے جوہانہ میں Mast Cell Activation Syndrome جو ایک جینیاتی خرابی ہے کی تشخیص کی-

درحقیقت یہ خلیے ایک ایسے کیمیکل خارج کرتے ہیں جو ہمارے مدافعتی نظام کو بتاتا ہے کب کیسا ردعمل ظاہر کرنا ہے لیکن جوہانہ کے جسم میں موجود یہ خلیے غلط موقع پر٬ غلط جگہ پر غلط کیمیکل خارج کر رہے ہیں-
 

image

اس خرابی کی وجہ سے جوہانہ کا جسم پر سوجن آنے لگتی ہے جو کہ شدید قسم کی ہوتی ہے- بدقسمتی دنیا میں یہ بیماری 9 سال قبل ہی سامنے آئی ہے جس کی وجہ سے اس کے بارے میں معلومات بھی کم ہے-

ماہرین کے مطابق زیادہ تر مریضوں میں اس الرجی کا درعمل ہلکی نوعیت کا ہوتا ہے لیکن جوہانہ میں یہ بیماری شدید نوعیت اختیار کر گئی ہے اور اس کے جسم پر کسی قسم کی کوئی دوائی یا کیمو تھراپی اثر نہیں کر رہی-

جوہانہ صرف 15 قسم کی اشیاﺀ کھا سکتی ہے- اور ان غذاؤں میں سے بھی دن میں صرف ایک قسم کی غذا ہی کھانی اور وہ بھی زیادہ سے زیادہ دو مرتبہ- ان اشیاﺀ پر جوہانہ کا جسم کوئی الرجی ظاہر نہیں کرتا-

اس کے علاوہ جوہانہ کو لوگوں کی خوشبو سے بھی الرجی ہے- اس سے ملنے والوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ بغیر خوشبو کے صابن سے نہائے ہوں٬ انہوں نے کسی قسم کا پرفیوم نہ لگایا ہو اور نہ کوئی ایسی غذا کھائی ہو جس کی بو آتی ہو مثلاً پیاز اور لہسن وغیرہ-
 

image

لیکن اب بیماری اتنی شدت اختیار کر چکی ہے کہ جوہانہ کا شوہر اس کے قریب بھی نہیں بیٹھ سکتا اور یہ دونوں علیحدہ کمروں سوتے ہیں جبکہ رابطے کے لیے اسکائپ کال٬ ای میل اور میسجز کا استعمال کرتے ہیں-

جوہانہ مسلسل اپنی طبی معائنہ کروا رہی ہے اور اسے امید ہے کہ اس کی بیماری کا علاج ضرور دریافت ہوگا لیکن کب تک یہ کوئی نہیں جانتا؟

Disclaimer: All material on this website is provided for your information only and may not be construed as medical advice or instruction. No action or inaction should be taken based solely on the contents of this information; instead, readers should consult appropriate health professionals on any matter relating to their health and well-being. The data information and opinions expressed here are believed to be accurate, which is gathered from different sources but might have some errors. Hamariweb.com is not responsible for errors or omissions. Doctors and Hospital officials are not necessarily required to respond or go through this page.

YOU MAY ALSO LIKE:

29-year-old Johanna Watkins suffers from an extremely rare condition which makes allergic to literally hundreds of things, including the scent of her husband. For the past year, she has been living alone in a specially-built “safe zone” of her house, and claims that every times she leaves this space her body “goes into attack” mode.