ہر گھر کی مہمان ’’بیٹی‘‘

(Shahid Raza, Karachi)
بزرگ کہتے ہیں کے بیٹے ماں کے لاڈلے ہوتے ہیں اور بیٹی باپ کی،بیٹوں کا اپنا گھر ہوتا ہے اور بیٹیوں کا اپنا گھر بھی پرایا ہوتا ہے،بیٹے رخصت نہیں ہوتے پر بیٹیاں رخصت ہو جاتی ہیں،بیٹیاں پوری زندگی ایک ہی بات سنتی ہیں سدھر جاؤ،کام صحیح کرو تم کو اپنے گھر جانا ہے کیا کرو گی وہاں کیسے اپنا گھر چلاؤ گی وغیرہ وغیرہ بیٹی کے دل و دماغ میں یہ بات بیٹھا دی جاتی ہے کے تمہارا گھر یہ نہیں جہاں تم پیدا ہوئی ہو بلکہ تمہارا گھر وہ ہے جہاں تم کو رخصت ہو کر جانا ہے،بیٹیاں اپنے گھر جانے کا انتظار کرنے لگتی ہیں آخر وہ دن آہی جاتا ہے جب بیٹی ماں اور باپ کے گلے لگ کر کہتی ہے اچھا اماں خدا حافظ میں اپنے گھر جا رہی ہوں،اماں پتا نہیں اب کب ملاقات ہو گی،اماں پتا نہیں وہاں کا ماحول کیسا ہو گا ،اماں میں پرائی تھی پر تھی تو آپ کی بیٹی ،اماں میں کوشش کروں گی آپ کی عزت کا خیال رکھوں آپ کی تربیت کا خیال رکھوں ،بیٹی رخصت ہو جاتی ہے جب ماں باپ گھر واپس آتے ہیں تو احساس ہوتا ہے ہم نے کھویا کیا اور پایا کیا،گھر میں سکوت کا عالم ہوتا ہے،بیٹے اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہو جاتے ہیں،در و دیوار سے اب چہکنے کی آوازیں نہیں آتیں،کوئی بھی درد ہو کوئی پوچھنے نہیں آتا،بیٹی کی آواز کانوں میں گوجتی ہے جیسے کہہ رہی ہو اماں سر میں درد ہے تو سر دبا دوں ،طبیعت خراب ہے تو ڈاکٹر کے پاس لے چلوں،اماں صبح کی چائے تیار ہے ،اماں آپ کا کھانا گرم ہے،اماں میں نے اپنے ہاتھوں سے آپ کے لئے روٹیاں بنائیں ہیں،اماں میری زندگی بھی آپ کو لگ جائے،باپ گھر پر آتا ہے تو بیٹی بھاگی بھاگی آتی ہے ’’سلام ابو‘‘کیسے ہیں آج تھک گئے ہیں اچھا میں آپ کے لئے اچھی سی چائے بناتی ہوں کھانا بھی گرم ہے لے کر آتی ہوں ،پھر ماں باپ کو بیٹی کا احساس ہوتا ہے، بہنوں سے بھائیوں کی محبت کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ،پھر احساس ہوتا ہے بھائیوں کو جب بہن رخصت ہو کر اپنے گھر چلی جاتی ہے ،پوری زندگی بیٹیاں اپنے گھر میں سنتی ہیں پرائے گھر جانا ہے ،پرائے گھر چلی جاتی ہیں تو پھر سنتی ہیں ’’پرائے گھر سے آئی ہے‘‘تو جب سب کچھ بیٹیوں کا پرایا ہے تو ذرا سوچیں لڑکیوں کا اپنا کیا ہے -

اس آرٹیکل کو لکھنے کا مقصد یہ ہے کے دنیا میں دو رشتے اﷲ نے بنائے ہیں ایک حقیقی، ایک مجازی ،حقیقی رشتے جیسے ماں،باپ ،بہن، بھائی وغیرہ جو نہ دنیا میں ٹوٹتے ہیں اور نہ آخرت میں،اور کچھ رشتے مجازی ہوتے ہیں جیسے شادی وغیرہ جہاں شوہر کا موڈ خراب ہوا تین لفظ کہہ دیتا ہے ’’طلاق طلاق طلاق‘‘اور رشتہ ختم ہو جاتا ہے ،شادی کا رشتہ تو ان تین الفاظ سے ٹوٹ جاتا ہے لیکن ماں باپ بہن بھائی کا رشتہ کسی لفظ سے نہیں ٹوٹتا ،خدارا بیٹیوں کو یہ بات اس طرح سمجھائیں کے میری لاڈلی ہر لڑکے کے دو گھر ہوتے ہیں ایک دنیا میں ایک آخرت میں اسی طرح بیٹی کے تین گھر ہوتے ہیں ایک ماں باپ کا،دوسرا شوہر کا،تیسرا آخرت کا ،بیٹی کو کبھی اپنے آپ سے جدا نہ سمجھیں یاد رکھیں بیٹیاں ہی ہوتی ہیں جو ماں باپ کے جنازے سے لپٹ کر فریاد کرتی ہیں،بیٹیاں ہی ہوتی ہیں جو ماں باپ کے مرنے کے بعد بھی اُن کو ہر خوشی و غم کے موقع پر یاد رکھتی ہیں خدارا بیٹیوں کی قدر کریں ورنہ جب وہ آپ کوگھر میں نظر نہیں آئیں گی تو بہت یاد آئیں گی اور اُسوقت آپ اتنے مجبور ہوں گے کے نہ اپنی مرضی سے بیٹیوں سے مل سکتے ہیں اور نہ اپنے پاس بُلا سکتے ہیں۔
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shahid Raza

Read More Articles by Shahid Raza: 162 Articles with 151793 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 Nov, 2016 Views: 1078

Comments

آپ کی رائے
Thanks app kay article ka topic kia hai
By: shahid raza, karachi on Dec, 02 2016
Reply Reply
0 Like
Susral k rang anokhy, by mini,,,thanks for reply
By: mini, mindi bhauddin on Dec, 02 2016
1 Like
shahid bhai,,, bhot acha article hai ye sach hai k auraat ka koi ghar nhi hota,, mera bhi aisa kuch article hai but wo funny hai ,, good job
By: mini, mindi bhauddin on Dec, 02 2016
Reply Reply
0 Like