شریعت کی بنیاد قرآن و حدیث ہے جس میں تبدیلی اور مداخلت ناقابل برداشت

(Syed Farooq Ahmed Syed, India)
ڈاکٹر مولانا محمد عبدالسمیع ندوی

اسلامی شریعت کی بنیاد قرآن و حدیث ہے جو قیامت تک کے آنے والے انسانوں کے لئے سرچشمہ ہدایت ، دستورحیات اور زندگی گزارنے کے لئے انسائیکلوپیڈیا کی حیثیت رکھتا ہے۔ شریعت اسلامی ، مسلم پرسنل لاء میں تبدیلی ، احکامات الٰہی سے سرمو انحراف اور روگردانی کے مترادف ہے۔ جسے ادنیٰ درجہ کا مسلمان بھی برداشت نہیں کرسکتا۔ قرآن انقلابی کتاب حضور ﷺ پیغمبر انقلاب اور آپ کی امت بھی انقلابی امت کہلاتی ہے۔ اﷲ اور اُس کا رسول اور رسول عربی محمدﷺ کا لایا ہوا دین مسلمانوں کو دنیا کی ہر چیز سے محبوب ہے۔ اپنے والدین سے بھی زیادہ عزیز ، اولاد سے بھی زیادہ عزیز ، تمام ہی لوگوں سے زیادہ عزیز ، اُن کی تجارت و کاروبار اور مال و دولت سے بھی زیادہ عزیز ۔ مسلمان ان تمام چیزوں میں نفع و نقصان کو برداشت کرسکتے ہیں مگر اﷲ و رسولؐ ، دین شریعت اور قرآن کے بارے میں کبھی بھی سمجھوتہ نہیں کرسکتے۔

قرآن پاک اﷲ کا حکم اور امت مسلمہ کی روح ہے ، وہ تڑپتے دل کی فریاد اور سسکتی روح کا علاج ہے۔ اس نے درندہ صفت انسانیت کو جھنجھوڑ کر ایک حیات آفرین پیغام دیا۔ ظلم و بربریت کی خونیں خاک میں بستے ہوئے انسانوں کو امن و انصاف عطا کیا۔ اس نے ناآشنائے علم و فن کو ساربان اور سالار کارواں بنایا۔ وحشت و جہالت کی تاریکیوں میں علم و عرفان کے دیئے روشن کئے ، مردہ دلوں میں ایمان و یقین کی آتش فسردہ کو فروزاں کیا۔ دین اسلام کی عظمت کا سکہ انسانیت کے دلوں میں بٹھایا۔ اس نے گونگوں کو زبان عطا کی ، فصاحت و بلاغت کے شہ سواروں کو چیلنج کیا۔ اس نے احتسابِ نفس اوراحتسابِ کائنات سے دنیا کو روشناس کردیا اور پوری انسانیت کو بیدار کر کے ان کے دلوں میں عزت و حرمت ، امانت و دیانت ، عصمت و عفت ، مروت و شجاعت ، کرم و سخاوت اور صالح معاشرہ کی تعمیر کی ، اس کے ایک ایک لفظ ایک ایک کلمہ ایک ایک حرف اور ایک ایک طرزتعبیر نے کائنات پر گہرا اثر ڈالا۔ اس کے پیغام نے ناخواندہ و جاہل معاشرہ کو قدوسیوں کے مقام بلند پر کھڑا کردیا۔

تعجب اس بات پر ہے کہ اس قرآن مقدس نے اس قدر حیرت انگیز کارنامہ صرف تیئس (۲۳) برس کی قلیل مدت میں انجام دیا۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون سی کرشمہ سازی ہے ، وہ کون سا جادو ہے ، اس میں وہ کون سی کیمیائی طاقت ہے جس نے مردم گری اور افراد سازی کا کام اس قدر محیرالعقول تابانی کے ساتھ کیا۔ دراصل بات یہ ہے کہ کلام اﷲ قرآن کریم کے متعلقات اتنے عظیم و بلند ، نتیجہ خیز ہیں جن سے زیادہ رفعت و بلندی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا جن کی شوکت و سلطنت اور قوت و عظمت کے آگے کائنات کا ذرہ ذرہ جبین نیاز خم کرتا ہے۔

اس کے متعلقات پر طائرانہ نظر ڈالنے سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ یہ کلام ذات واحد کا کلام ہے جو تمام صفات کمالیہ کا گنجینہ ہے جو بادشاہوں کا بادشاہ ، حاکموں کا حاکم اور آقاؤں کا آقا ہے۔ ازل سے ابد تک جس کا سکہ جاری و ساری ہے۔ جس کی اجازت کے بغیر درخت کا پتہ بھی ہل نہیں سکتا۔ مرغزاروں میں شادابی نہیں آسکتی اور خزاں رسیدہ چمن میں بہار نہیں آسکتی۔ جس کی خدائی کے آگے تمام مخلوق ساکت و صامت رہتی ہے جس کی تعریف و توصیف کی کسی قلم و زبان میں طاقت ہی کہاں ہے ؂
فرش زمیں سے عرش بریں تک
تیرے ہی جلوے تیرے ہی سائے
ہر ایک ذرہ تیرا ہی مظہر
'اﷲ اکبر اﷲ اکبر
/ذرے کو چاہے خورشید کردے
/صحرا کو چاہے گلزار کردے
/سب ایک قطرہ تو ہے سمندر
'اﷲ اکبر اﷲ اکبر

جب اس ذات صاحب الوجود کا یہ کلام ہے تو اس کی شان و جلوہ گری اس میں کیسی نہ ہوگی؟ پھر یہ کلام جس مقرب فرشتے کے ذریعے نازل ہوا اس کا مقام یہ کہ وہ سیدالملائکہ ، افضل الملائکہ سب سے افضل اور اﷲ کے سب سے مقرب فرشتے ہیں۔ قرآن مجید میں بھی جن کی تعریف آئی ہے کہیں انھیں روح القدس کہا گیا ، کہیں روح الامین ، کہیں طاقت والا ، کہیں عرش کے پاس مقیم رہنے والا اور کہیں انھیں امین کا خطاب دیا گیا۔
اِنَّہُ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ کَرِیْمٍ ذِیْ قُوَّۃٍ عِنْدَ ذِیْ الْعَرْشِ مَکِیْنٍ مُطَاعٍ ثَمَّ أمِیْنْ
’’یہ کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام ایک معزز ، طاقتور قاصد ہے۔ عرش پر ان کا مقام سب سے بلند ہے۔ جن کی طاقت تاریخی حقائق اور قرآنی شواہد سے بھی معلوم ہوتی ہے۔‘‘

آپ نے قومِ لوط کی بستیوں کو اپنے بازوؤں سے اٹھایا ، آسمان پر لے جا کر نیچے پٹخ دیا اور قوم ثمود پر ایک زبردست چیخ ماری جس کی وجہ سے پوری قوم وہیں ڈھیر ہوگئی۔ چشمِ زدن میں آسمان سے اُتر آنا اور زمین سے اوپر چلے جانا ، آپ کی سرعت و طاقت کی دلیل ہے۔ اس عظیم طاقتور فرشتے کے ذریعہ سے یہ قرآن نازل ہوا ، اس ذاتِ گرامی پر جو خلاصۂ کائنات ہے ، زمین و آسمان کی تخلیق ہی جس کے لئے ہوئی ، جس میں تمام انسانی کمالات جمع کردیئے گئے ، وہ ذات جو غریبوں کا ملجاء ، ضعیفوں کا ماویٰ ، یتیموں کا سہارا ، بیواؤں کی آس ، مظلوموں کا حامی اور پوری انسانیت کا محسن ہے ، جس نے اپنے اعلیٰ اخلاق و کردار سے اپنی مثالی تعلیم و تربیت سے ایک عظیم انقلاب اور صالح معاشرہ کی تعمیر کی اور قرآنی دستور حیات کے مطالعہ سے قوم کو متمدن اور مہذب بنایا ، جس کی مدحت و منقبت کے لئے ’’سفینہ چاہئے اس بحر بیکراں کے لئے‘‘ تو پھر یہ قرآن عظیم کیوں نہ ہوگا ، اس میں کرشمہ سازی کیوں نہ ہوگی؟ جس کا اتارنے والا امین واسطہ امین جس پر نازل ہوا وہ امین اور نازل بھی ہوا ایسی جگہ جسے اﷲ تعالیٰ نے البلدالامین کہہ کر پکارا۔ اور نزول کے لئے سیدالشہور ماہِ رمضان اور لیلۃ القدر کا انتخاب اس کے عظمت کی دلیل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کی عظمت مسلّم ہے اس میں علم و معرفت کے خزانے بھی ہیں اور معاشرت و تجارت کے اصول بھی اس میں تغیر پذیر زمانے کے لئے روشن ضابطہ بھی ہے اور متمدن دنیا کے لئے ضابطہ اخلاق بھی۔ آج اگر دنیا رفعت و عظمت حاصل کرنا چاہتی ہے تو صرف قرآن اور قرآن کی وجہ سے کرسکتی ہے۔ عزت و سکون اگر نصیب ہوسکتا ہے تو اسی قرآن کی بدولت قابل قدر اور لائق مبارکباد ہیں وہ لوگ جو خدمت قرآن سے وابستہ ہیں ، قرآن پڑھتے ہیں ، پڑھاتے ہیں ، سیکھتے ہیں ، سکھاتے ہیں اور قرآن کی دعوت کو عام انسانوں تک پہنچاتے ہیں۔ جو قرآن کو سینوں سے لگائے رکھتے ہیں اور اس کی عزت ، عظمت اور خدمت ہی میں اپنی توقیر و عزت سمجھتے ہیں اور اس کی حفاظت اور صیانت کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں۔موجودہ حالات میں دنیا بھر کے مسلمانوں کی کامیابی پوشیدہ ہے صرف علم دین کی جستجو ، علماء دین کی صحبت ، دعوت دین کے کاموں میں جڑے رہنے خدمت دین کرنے اور دینی امور کی انجام دہی اور قرآن کی تعلیمات کی نشرواشاعت میں لگے رہنے میں اور حقیقت یہی ہے جو اﷲ کا ہوجاتا ہے اﷲ اس کا حامی و مددگار بن جاتا ہے ؂
بوقت شام سورج سے حکومت چھین لیتا ہے
وہ صبحوں میں ستاروں کی قیادت چھین لیتا ہے
قرینے سیکھ لو اس کی زمیں پہ چلنے پھرنے کی
تکبر کرنے والوں سے وہ دولت چھین لیتا ہے
کبھی کشتی بچا لیتا ہے طوفانوں کے نرغوں سے
کبھی ساحل پر تیراکوں سے ہمت چھین لیتا ہے
اُس کے عدل پر قائم ہے ہر تاریخ انسانی
وہ کم ظرفوں سے ایوان حکومت چھین لیتا ہے
٭٭٭
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: syed farooq ahmed

Read More Articles by syed farooq ahmed: 44 Articles with 18132 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 Nov, 2016 Views: 747

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ