انسانی اقدار کے عظیم انقلاب کی بہاریں

(Ghulam Mustafa Rizvi, India)
بقلم: پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد نقشبندی
چاند چمک رہا ہے…ستارے کھل رہے ہیں، نور کی پھوار پڑرہی ہے… اچانک غلغلہ بپا ہوا، ایک ندا دینے والاندا دے رہا تھا…لوگو! صدیوں سے جس ستارے کا انتظار تھا دیکھو دیکھوآج وہ طلوع ہوگیا…آج وہ آنے والاآگیا…وادی مکہ کے سناٹے میں یہ آواز گونج گئی… سب حیران کہ یہ ماجرا کیا ہے؟…کس کا انتظار تھا… کون آرہا ہے؟…ہاں سونے والو! جاگ اٹھو! آنے والا آگیا…نور کی چادر پھیل گئی، میلوں کی مسافتیں سمٹ گئیں،بصرائے شام کے محلات نظر آنے لگے... سارے عالم میں اُجالاہوگیا، ہاں یہ کون آیا سویرے سویرے؟… وہ کیا آئے رحمت کی برکھا آگئی،نور کے بادل چھاگئے، دوردور تک بارش ہورہی ہے، حد نظر تک نور کی چادر تنی ہے، عجب سماں ہے، عجب منظر ہے!…ایسا منظر تو کبھی نہ دیکھا تھا! … تاریکیاں چھٹ گئیں، روشنیاں بکھر گئیں، جدھر دیکھو نور ہی نور، جدھر دیکھو بہار ہی بہار…تازگی انگڑائیاں لے رہی ہے، مسرتیں پھوٹ رہی ہیں، رنگینیاں اپنا رنگ دکھا رہی ہیں،سارا عالَم نہایا ہوا ہے، ذرے ذرے پر مستی چھائی ہوئی ہے… ہاں یہ اُجلا اُجلا سا سماں، یہ مہکی مہکی سی فضا ئیں، یہ مست مست ہوائیں جھوم جھوم کر جشنِ بہاراں کے گیت گارہی ہیں۔

ہاں بہار آئی بہار آئی… زندگی میں بہار آئی، دماغوں میں بہار آئی، دلوں میں بہار آئی، روحوں میں بہار آئی، علم وحکمت میں بہار آئی، تہذیب وتمدن میں بہار آئی، فکروشعورمیں بہار آئی، عقل وخرد میں بہار آئی… برسوں کی ہتھکڑیاں کٹ گئیں، صدیوں کی بیڑیاں ٹوٹ گئیں، گھٹی گھٹی سی فضائیں بدل گئیں، مندی مندی سی آنکھیں روشن ہوگئیں،بجھی بجھی سی طبیعتیں سنبھل گئیں، رندھی رندھی سی آوازیں کنکھنانے لگیں… ڈوبتے ہوئے اُبھر نے لگے، سہمے ہوئے چہکنے لگے، روتے ہوئے ہنسنے لگے، صدیوں کے دبے ہوئے، پسے ہوئے سرفراز ہونے لگے، خون کے پیاسے محبت کرنے لگے، ہارنے والے جیتنے لگے… بکھرے ہوئے خیال یک جا ہوگئے، منتشر قوتیں سمٹ گئیں، ضعیف وناتواں ایک قوت بن کر اُبھرے اور دنیا نے پہلی مرتبہ جانا کہ انسان احسن تقویم میں بنایا گیا، ’’اشرف المخلوقات‘‘ کے منصب عالی پر فائز کرکے خلافتِ الٰہیہ سے سرفراز کیا گیا… زندگی نے ایسا سنگھار کیا کہ سب جھانکنے لگے،سب دیکھنے لگے، سب تکنے لگے، سب بلائیں لینے لگے، سب فدا ہونے لگے، سب آرزوئیں کرنے لگے، سب تمنائیں کرنے لگے، وہ کیا آئے کائنات کا ذرہ ذرہ دل کش ودل رُبا معلوم ہونے لگا۔

ہاں آج ان کی آمد آمد ہے، آج عید کا دن ہے، آج خوشی کا دن ہے… ایسا حسین انقلاب آیا کہ دنیا نے اس سے پہلے کبھی نہ دیکھا تھا…ایسی بہار آئی کہ دنیا نے اس سے پہلے کبھی نہ دیکھی تھی…ایسا حسین انقلاب آیا کہ دنیا نے اس سے پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔ ہاں ؎
بے مثال کی ہے مثال وہ حسن
خوبیِ یار کا جواب کہاں؟
ترسیل پیغام میلاد:
نوری مشن مالیگاؤں
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulam Mustafa Rizvi

Read More Articles by Ghulam Mustafa Rizvi: 261 Articles with 145477 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
05 Dec, 2016 Views: 336

Comments

آپ کی رائے