نبی ٔ مکرم ﷺ بحیثیت پیغمبر انقلاب

(Ghulam Abbas Siddiqui, Lahore)
جب زمین پر ظلم حد سے بڑھ گیا انسانیت میں ناانصافی عام ہوگئی طاقتور کمزوروں کو اپنا غلام بنا کر رب بننے میں ہمہ تن گوش مصروف ہوگئے ،ایسے وقت میں مظلوم انسانیت مسیحا،نجات دہندہ کیلئے ترس رہی تھی تو دنیاوی خداؤں کا غرور خاک میں ملانے ،اپنی ربوبیت کے عملی نفاذ،تکمیل دین کے لئے رب کائنات نے بالآخر ہادیٔ سبل،مولائے کل،آمنہ کے دریتیم حضرت محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰﷺ کو دنیا میں 8 ربیع الاؤل (بمطابق مولانا احمد رضا خان بریلوی،فتاوی رضویہ 412/26 رسالہ نطق الہلال )9 ربیع الاول1عام الفیل دو شنبہ کے وقت بمطابق عیسوی تقویم 22/20 اپریل 571ء (الرحیق المختوم) کو اس دنیا میں بحیثیت نبی ٔ آخر الزماں مبعوث فرمایا ۔

جب آپ ﷺ تشریف لائے تو قیصری وکسریٰ کے کبھی نہ بجھنے والے آتش کدے بج گئے ،عیسائی،یہودی نجومیوں،راہبوں اورکاہنوں کی پریشانی بڑھ گئی کہ اب ہم سے نبوت ورسالتﷺ نکل کر حضرت اسماعیل ؑ کی نسل میں منتقل ہوگئی ۔میرے کریم آقاﷺ جب آئے تو آتے چلے گئے ،جب بڑھے تو بڑھتے چلے گئے ،جب پھیلے تو پھیلتے چلے گئے ،چھائے تو چھاتے چلے گئے ۔کیوں؟ اس لئے آپ ﷺ کا کاز، مشن انسانیت کیلئے انتہائی مفید ،کامیابی پر مبنی تھا۔مکہ مکرمہ کے یتیموں ،مظلوموں ،بے سہاروں،غریبوں نے جب آمنہ کے دریتیم ﷺ کا ہمہ جہت پروگرام ،مشن سنا تو دیوانہ وار آپ ﷺ کے گرد جمع ہوگئے ،دنیاوی خداؤں ابو جہل،ابولہب ودیگر بے چین ہوگئے کہ ہمارے خوساختہ دین باطل، اقتدار کو خطرہ لاحق ہوگیا ۔اگر حضرت محمد ﷺ ایسے ہی دعوت حق دیتے رہے تو ہمارا باطل نظام زمین بوس ہوجائے گا لہٰذا اسے بچانے کیلئے عملی اقدام کئے جائیں ۔مکہ کے فرعونوں نے بہت زیادہ اوچھے ہتھکنڈے استعمال کئے لیکن دعوت حق کو روکنے میں کامیاب نہ ہوسکے ،ظلم وستم کی ایسی داستان رقم کی کہ نبی ٔ مکرم ﷺ کے دیوانے،پروانے،مستانے،جاں نثار صحابہ کرام ؓ پکار اٹھے "اے اﷲ کے رسول! اﷲ کی مدد کب آئے گی؟" اس پر اﷲ رب العزت نے حوصلہ دیتے ہوئے کہا کہ "اﷲ کی مدد قریب ہے "۔تاریخ شاہد ہے کہ نبی ٔ کریم ﷺ کے کسی صحابی ؓ نے کفار کے ظلم وستم سے تنگ آکر دعوت حق سے انحراف نہیں کیا ، مکہ کے فرعونوں نے بہت کوشش کی کہ پیغمبر اسلام ﷺ اپنے انقلابی پروگرام سے دستبردار ہوجائیں یا کچھ ہماری بات مان لیں کچھ اپنی مگر ناکامی ۔

دیکھئے سرداران مکہ اکٹھے ہوکر آپ ﷺ کے چچا حضرت ابو طالب کے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے ابو طالب !سارا مکہ آپ کی عزت کرتا ہے آپ کی وجہ سے آپ کے بھتیجے (محمدﷺ)کو کوئی کچھ نہیں کہتا ۔اب آپ بوڑھے ہوگئے ہیں آپ کسی وقت بھی اس دنیا سے کوچ کر سکتے ہیں ،ہم چاہتے ہیں کہ آپ اپنی زندگی میں ہمارا فیصلہ کردیں تاکہ آپ کے دنیا سے جانے کے بعد ہمارے اور محمد (ﷺ) کے درمیان جنگ وجدل کا سماں نہ پیدا ہو۔سرداران مکہ نے بڑی چابک دستی سے کام لیتے ہوئے حضرت ابو طالب سے کہاکہ آپ محمد (ﷺ) سے پوچھ لیں اگر وہ دولت،عورت،حکومت چاہتے ہیں تو ہم دینے کو تیا ر ہیں ۔محمد (ﷺ) جتنی دولت کا مطالبہ کریں گے ہم دے دیں گے ،جس عورت پر ہاتھ رکھیں گے اس سے ان ﷺ کا نکاح کروا دیں گے ،حکومت مانگیں گے تو حکومت دے دیں گے ،ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ محمد (ﷺ) ہمارے (باطل)دین کی مخالفت نہ کریں اور اپنے موقف میں لچک پیدا کرلیں ۔

سرداروں کی بات سن کر حضرت ابوطالب نے نبی ٔ کریم ﷺ کو بلوایا اور کہا کہ اے میرے بھتیجے دیکھو! یہ سردار کتنی پیاری اور مناسب بات کہہ رہے ہیں اب تم اپنے موقف میں کچھ لچک پیدا کرلو ان کی کچھ مان لو یہ دولت،عورت،حکومت دینے کو تیار ہیں ،ان کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ دعوت حق روک دویااپنے موقف میں لچک پید ا کرلو ۔مگر پیغمبر اسلام ﷺ نے فرمایا چچاجا ن! یہ کافر اگر میرے دائیں ہاتھ پر سورج اور بائیں ہاتھ پر چاند رکھ دیں تو میں تب بھی ا پنے (انقلابی مشن،غلبہ ٔ دین کی)دعوت حق سے باز نہیں آؤں گا ۔یہاں تک کہ اﷲ مجھے غلبہ عطاء فرمادے یا میں اس راستے میں کام آجاؤں۔

یہ پروگروام ،مشن ،کاز کس قدر اہم ،ہمہ گیر،دائمی تھا ڈاکٹر اسرار ؒ رقمطراز ہیں کہ "لیکن اس میں بھی ہرگز کوئی شک نہیں کہ "داعی ٔ انقلاب" کا اطلاق اگر نسل آدم کے کسی فرد پر بتمام وکمال ہو سکتا ہے تو وہ صرف حضرت محمد رسول اﷲ ﷺ ہیں ! اس لئے کہ تاریخ انسانی کے دوران اور جتنے بھی انقلاب آئے وہ بشمول انقلاب فرانس و انقلاب روس سب کے سب جزوی تھے اور ان سے حیات انسانی کے کسی ایک گوشے ہی میں تبدیلی رونما ہوئی جیسے انقلاب فرانس سے سیاسی نظام اور ہیت حکومت میں اور انقلاب روس سے نظام معیشت کے تفصیلی ڈھانچے میں جب کہ نبی ٔ اکرم ﷺ نے جو انقلاب عظیم دنیا میں برپا کیا اس سے پوری انسانیزندگی میں تبدیلی رونما ہوئی اور عقائد ونظریات ،علوم وفنون،قانون واخلاق ،تہذ یب وتمدن ،معاشرت ومعیشت اور سیاست وحکومت الغرض حیات انسانی کا کوئی گوشہ بھی بغیر بدلے نہ رہا۔

رہی آپ ﷺ کی انقلابی جدوجہد تو واقعہ یہ ہے کہ اس اعتبار سے بھی نسل انسانی کی پوری تاریخ میں کوئی دوسری مثال موجود نہیں ہے کہ کسی ایک ہی شخص نے انقلابی فکر بھی پیش کی ہو ،پھر دعوت کا آغاز بھی خود ہی کیا ہو،پھر تنظیمی مراحل بھی آپ ﷺ ہی نے طے کئے ہوں اور پھر اس انقلابی جدوجہد کو کشمکش اور تصادم کے جملہ مراحل اور ہجرت وجہاد وقتال کی تمام منازل سے گزارکر کامیابی سے ہمکنار بھی کردیا ہو اور یہ نہایت ،محیرالعقول کارنامہ اور حد درجہ عظیم معجزہ ہے نبی ٔ اکرم ﷺ کا کہ آپ ﷺ نے ایک فرد واحد سے دعوت حق کا آغاز فرما کر کل 23 برس (اور وہ بھی قمری) کی مختصر سی مدت میں اعلاء کلمتہ اﷲ کا حق ادا فرما دیا سرزمین عرب پر د ین حق کو بالفعل غالب ونافذ فرما دیا۔"

جب اقتدار کو شدید خطرہ لاحق ہوتا نظر آیا تو دارالندوہ میں کافی غور خوض کے بعد طے پایا کہ سراج المنیرکا سورج غروب کردیا جائے ،قدرت ان کی احماقانہ باتوں،فیصلوں پر مسکرا رہی تھی کیونکہ جو سورج قدرت طلوع کر چکی تھی اسے اب دنیاوی خدا غروب نہیں کر سکتے تھے۔اﷲ رب العزت نے اپنے محبوبﷺ کی حفاظت ہجرت کا حکم دے کر فرمائی ۔مدینہ منورہ میں سکونت عطاء کی ،جہاں آپ ﷺ کو اقتدار ،حکومت،اتھارٹی کی حیثیت سے سب مذاہب وقبائل نے تسلیم کرلیا۔اﷲ کی زمین پر اﷲ کا دین اسلام،نظام خلافت قائم ہوگیا ،انقلاب پیغمبرﷺ کی فیوض و برکات ،روحانیت کا ظہور ہونے لگا ،امن وآشتی،عدل وانصاف ،خدمت خلق،بڑوں کا احترام،چھوٹوں پر شفقت،انسانیت نوازی،رب کائنات کی عبادت احکام الٰہی کے نفاذ کی صورت میں ہونے لگی ،لوگ اسلام کی طرف متوجہ ہوئے طاقت وقوت میں اضافہ ہونے لگا تو دنیاوی خداؤں نے مرکز اسلام کو ختم کرنے کیلئے جنگیں مسلط کیں ۔پیغمبر اسلام ﷺ نے نور اسلام،مرکز اسلام ،ادارہ ٔ خلافت کو قائم اور دنیاوی خداؤں کو شکست فاش دینے کیلئے 100 غزوات، جنگیں،سرایا لڑے،لڑوائے،جس سے اﷲ کی حاکمیت کو مزید تقویت ملی ۔

جب ا سلام،نظام اسلام،نظام حکومت پوری طاقت سے زمین پر قائم ہوگیا تو قدرت نے اعلان کردیا کہ اے محمد عربی ﷺ کے ماننے والو!تمہارا دین میں نے تمہارے لئے مکمل کردیا ،اپنی نعمت کو تم پر پورا کردیا۔نبی ٔ کریم ﷺ جس مقصد کیلئے آئے تھے وہ پورا ہوگیا۔اے لوگو!میرے محبوب حضرت محمد ﷺ دنیا سے جہالت ،بغاوت کے نظاموں کو ختم کرکے صر ف اور صرف میرا نظام ،میری حکومت،میری رٹ قائم کرنے آئے تھے جس میں وہ کامیاب وکامران ہوئے تم اس سنت رسول ﷺ ہمیشہ زندہ رکھنا،اب میں رب کائنات اپنے محبوب سے ملاقات کا حد درجہ مشتاق ہوں ۔اے محبوب ! اب میرے پاس تشریف لے آئیے ۔بالآخر 12 ربیع لاول 11 ہجری آخر دن دو شنبہ (متفق علیہ) کو آپ ﷺ نے اپنے رفیق اعلیٰ کی رخت طرف سفر باندھا ۔اس موقعہ پر اہل بیت عظام ؓ،صحابہ کرام ؓ کس قدر غم ہائے بیکراں میں مبتلا تھے اختصار سے بیان کرنا یہاں مناسب نہیں سیرت النبی ﷺ کی کتب سے مطالعہ کیا جاسکتا ہے ۔

پیغمبر انقلاب ﷺ کا مشن مکمل ہوگیا پیغمبر اسلام ﷺ اس دنیا ئے فانی سے رخصت ہو گئے تو صحابہ کرام ؓ نے اس غم ہائے بیکراں کے باوجود رسول رحمت ﷺ کے انقلاب کو قائم ودائم رکھنے کیلئے تین دن اور تین راتیں مشاورت کرکے سیدنا ابو بکر صدیقؓ کو خلیفہ ٔ بلا افصل کی حیثیت سے مسند خلافت پر بیٹھایا ۔اس طرح تاریخ انسانی میں پہلی بار خلافت نبوت سے امت کی طرف منتقل ہوئی ۔اور یہ سلسلہ صدیو ں چلتا رہا ۔30 سالہ عہد خلافت راشدہ ؓ،عہد سیدنا امیرالمومنین معاویہ ؓ ،عہد ثانی عمر ؒتک معیاری ترین نظام حکومت کی صورت میں جبکہ خلافت اموی،خلافت عباسیہ ،خلافت عثمانیہ تک پیغمبر اسلام ﷺکا انقلا ب کمی پیشی کے ساتھ قائمودائم رہ کر فیوض وبرکات دنیا میں لوٹاتا رہا ۔1924 ء کو اسلام کی مرکزیت خلیفہ عبدالحمید ؒ کو خلافت سے جبراً ہٹا کر ختم کردیا ۔ تب سے آج تک مسلمان پیغمبر انقلاب ﷺ کے بپا کردہ انقلاب،نظام کی فیوض وبرکات ،روحانیت سے محروم تسبیح کے دانوں کی طرح بکھرے ہوئے ہیں ،جنھیں اقوام،قبیلوں ،ذاتوں،ملکوں میں تقسیم کرکے عالم کفر ان پر پھر سے دور جہالت کا وہی نظام مسلط کئے ہوئے ہے جسے پیغمبر دوجہاں ﷺ نے ختم کیا تھا۔

آج دنیا ترس رہی ہے کہ پھر سے محمد ﷺ کے ماننے والے وہی انقلاب کرہ ارض پر لائیں جس نے انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نجات دلا کر ایک رب کائنات کا بندہ ،غلام بنا دیا تھا ۔لیکن دنیا کے خداؤں کو ایسا کسی صورت قبول نہیں۔وہ ہر صورت اﷲ کی رٹ کو اپنے زیر نگیں رکھنا چاہتے ہیں ۔

ان حالات میں محمد عربی ﷺ کا کلمہ پڑھنے والوں پر فرض عائد ہوتا ہے وہ دنیا میں قرون اولیٰ کی یاد تازہ کرنے کیلئے کرہ ارض کے مسلمانوں کو وحدت میں لانے کیلئے ایک خلیفہ ٔ اسلام کی قیادت وسیاست میں متحد ہوکر اپنی جمعیت کو لازوال استحکام بخشیں اگر مسلم حکمران ایسا کریں تو یہ فرض عین چند دنوں میں ادا ہوجائے گا اور امت مسلمہ پھر سے زندہ ہو جائے گی ۔دنیا کے خداؤں کا عروج زوال میں بدل جائے گا ۔اﷲ کی حاکمیت عملاً قائم ہو جائے گی ۔اگر مسلم ریاستوں کے حکمران ایسا نہیں کرتے تو امت مرحومہ کے مسلمانوں کو اس فرض منصبی کی ادائیگی کیلئے میدان عمل میں اترنا ہوگا جو نبی ٔ کریم ﷺ کی طرح باطل کو رد کرنے کے ساتھ انکار کا نعرہ ٔ مستانہ لے کر اٹھیں اور اﷲ کی زمین پر اﷲ کا نظام قائم ودائم کردیں،یہ دن امت مسلمہ کی لازوال ترقی کا دن ہوگا ۔آئیے پیغمبر اسلام ﷺ کا انقلاب بپا کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کریں تاکہ اسلام، پیغمبر اسلام ﷺ سے کئے ہوئے عہد سے وفا کرسکیں۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulam Abbas Siddiqui

Read More Articles by Ghulam Abbas Siddiqui: 264 Articles with 162875 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 Dec, 2016 Views: 732

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ