سراپا رحمت

(Kiran Waqar, )
ہر سمت جہالت اورظلمت کاگہرا اندھیرا چھایا ہوا تھا۔کفروشرک اور ظلم و استحصال کی نحوست نے عرب معاشرے کویرغمال بنایا ہوا تھا۔ جنگل کاقانون رائج تھا ،طاقت کوحق سمجھا جاتاتھا ۔بیٹیاں زندہ دفن کردی جاتی تھیں۔طاقتور قبائل معاشرتی اقدارکوروندرہے تھے ۔ خاندانی نظام اور پورا معاشرہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا ،انسانیت زوال و انحطاط کی طرف سرک رہی تھی ۔ماں،بہن ،بیٹی اوربیوی کے رشتوں کو پامال کیا جا رہا تھا ،بیت اﷲ میں 360 بت رکھ کر اپنی بگڑی کو سنوارنے کیلئے ان کی قدم بوسی کی جاتی تھی، بیٹیوں کو زندہ درگور کر دیا جاتا لیکن اﷲ تعالیٰ کی ذات اقدس نہایت مہربان اور رحم کرنے والی ہے ا س نے انسان کو زمین میں اپنا نائب مقرر کیا تو اسے صراط مستقیم پر چلانے اور مہذب زندگی گزارنے کے لیے قدم قدم پراپنے پیغمبروں کے ذریعے راہنمائی بھی فراہم کی ہے۔ آدم ؑ جب ایک عرصہ تک توبہ کرتے رہے تو اﷲ تعالیٰ نے ہی آسمان پر وہ دعا نقش کی جسے پڑھ کر آدم ؑ کی توبہ قبول ہو گئی ،قوم لوط ؑ جب گناہ و زیاں کاریوں میں حد سے تجاوز کرنے لگی تو اﷲ تعالیٰ نے انہیں سیدھے راستے پر لانے کیلئے لوط ؑ کو بھیجا ،فرعون کی فرعونیت جب انتہا کو پہنچ گئی اور انسانیت رسوا ہونے لگی تو اﷲ تعالیٰ نے موسیٰ ؑ کو ان کی قوم کی رہنمائی کیلئے بھیجا اور پھر خود ہی ان کو فرعون کی بہت بڑی فوج سے چھٹکارا دلایا ۔اﷲ کی رحمت کے کرشمے زمانے اور وقت کی قیود سے ماورا ظاہر ہوتے رہے ہیں،اس کے لئے اﷲ سے لو اور قدموں میں ثبات ہی شرط قرار پائی ہے۔حضرت ابراہیم ؑ کو بتوں کو توڑنے کی پاداش میں جب نمرود نے آ تش میں پھینکا توحضرت ابراہیم ؑ کے موقف میں تبدیلی تودرکنارنرمی تک نہیں آئی تواﷲ کافرمان جاری ہوا،ترجمہ '' پھر ان کے ذریعے قوم کو سیدھے راستے پر چلنے کی تعلیمات دیں'' ،انبیاء کے ذریعے مختلف ا قوام کی رہنمائی کیلئے آسمانی کتب نازل ہوئیں ۔ انسانیت جب جب گمراہی کی تاریک راہوں پرگامزن ہوئی تب تب ہمارے سچے معبود اﷲ تعالیٰ نے مختلف وسائل سے ہدایت کی روشنی سے منور راہیں انسانیت کیلئے فرش راہ کردیں۔اﷲ جل لا جلالہ کی رحمتوں اور برکتوں کی معراج 12 ربیع الاول کی آخرشب میں ظہور پذیر ہوئی ،اﷲ نے اپنے پیارے اور محبوب پیغمبرحضرت محمد صلی اﷲ وعلیہ وسلم کو دنیا میں انسانیت کیلئے مقدس اوربینظیر تحفہ بنا کربھیجا ۔یہ انسانیت کیلئے رحمتوں سے لبریز ایسا پیمانہ تھا جوان کی تمام تر تشنگی کو سیراب کر سکتا تھا۔آنحضرت محمد صلی اﷲ وعلیہ وسلم کی ذات ہر زاویہ سے اوج کمال پر فائزاورکامل ہے ۔یہ اسی ذات گرامی کا معجزہ ہے کہ انسانی تہذیب کے قرینے تبدیل ہو گئے گھپ اندھیروں کے بطن سے روشنی نے اڑان بھری اور آناََ فاناََ کونین میں اﷲ پاک کا نور جگمگانے لگا ،شکستہ حال اور لاچار لوگوں کو سہارا ملا، یتیموں کو سہارا میسر ہوا ،وہ پیارا نام محمد صلی اﷲ وعلیہ وسلم جس کی برکتیں لا متناہی ،جس کے ذکر کی رفعتیں بے کنار ، لاکھوں درود و سلام اس صاحب لولاک صلی اﷲ وعلیہ وسلم پر جس کا امتی ہونا ہمارے لئے نہ صرف خوش قسمتی کی نشانی ہے بلکہ ہماری نجات کا ذریعہ بھی ہے ۔یہی ہماراتوشہ آخرت ہے ،یہی ہمارے پاس جنت کی کلید ہے 12ربیع الاول کا دن اپنے اندر محبت ،شفقت ،رحم دلی اور اخوت کا جذبہ لے کر آتا ہے کہ بغض ،عداوت، شکوک و شبہات اور وہموں کے سارے بادل آنکھ جھپکتے ہی چھٹ جاتے ہیں ،رسول اﷲ صلی اﷲ وعلیہ وسلم کے اسوہ حسنہ اور آپکی تعلیمات پر عمل کرنے سے جھونپڑیوں میں رہنے والوں نے نصف دنیا پر حکومت کی ،رسول اﷲ صلی اﷲ وعلیہ وسلم کی آمد سے کفرو الحاد کے قصرات میں زلزلہ بپا ہو گیا قیصرو کسریٰ کے محلات لرز اٹھے اندھیری راتوں کے چھائے سیاہ بادل چھٹ گئے ۔سراپارحمت سرورکونین حضرت محمد صلی اﷲ وعلیہ وسلم کی آمد سے پوری فضا یوں معطر ہو گئی کہ عرب و عجم مہک اٹھا ۔
تم آئے تو جہاں بھر میں سویرا کر دیا تم نے
میرے آقا اندھیرے میں اجالا کر دیا تم نے

لیکن نہایت افسردہ ہوں کہ چودہ سو سال قبل سرورکونین حضرت محمد صلی اﷲ وعلیہ وسلم کی آمد پر جو فتنے دفن ہو گئے تھے آج انہوں نے پھر سر اٹھا لیا ہے یہودو و ہنود چیلوں اور بھیڑیوں کی طرح امت مسلمہ کے جسموں کو نوچ اور بھنبھوڑرہے ہیں لیکن ان بھیڑیو ں سے بچانے والا کوئی نہیں ۔مضبوط ایمان والے صحابہ کرام ؓ نے تو کفر کے اسلام پر بڑھتے حملوں کو روک کر اسلام کا بول بالا کیا تھا لیکن آج ایک ارب بیس کروڑ مسلمانوں میں سے کوئی ایک ایسا نہیں جو امت مسلمہ کا شیرازہ بکھرنے سے بچائے ۔آج ہماری دعائیں بے اثر ہو چکی ہیں ،ہمارے دل زنگ آلود ہو چکے ہیں ۔میں اگر گنبد خضریٰ تک پہنچ پاتا تو روضہ اقدس کی دیواروں سے لپٹ کر بارگاہ الٰہی میں یہ فریاد کرتا ۔اے رحیم وکریم رب اپنے پیارے محبوب سرورکونین حضرت محمد صلی اﷲ وعلیہ وسلم کے وسیلہ سے بھٹکی ہوئی امت کو سوئے حرم بلا لیجئے میرے پروردگار آپ تو ماں سے زیادہ مہربان اور باپ سے زیادہ شفیق ہیں ۔تیری بارگاہ میں جو سرورکونین حضرت محمد صلی اﷲ وعلیہ وسلم نے میدان عرفات میں عرب کی شدید گرمی آگ پھینکتے سور ج اور بھٹی کی مانند دہکتے اور تپتے ہوئے صحرا میں اونٹنی پر بیٹھ کر امت کیلئے تیرے حضورجو دعائیں مانگیں انہیں شرف قبولیت عطا فرما۔ سرورکونین حضرت محمد صلی اﷲ وعلیہ وسلم کی مقدس آنکھوں سے ہمارے لئے آنسوؤں کی جھڑیاں لگتی رہیں سرورکونین حضرت محمد صلی اﷲ وعلیہ وسلم کل میدان حشر میں جب ہر طرف نفسا نفسی کا عالم ہوگا، انسان بھوک و پیاس سے بے حال ہوں گے جب ماں بچے سے بیٹا باپ سے بھائی بہن سے اور بیوی اپنے خاوند سے نا آشنائی کا اظہار کرے گی، جب یاردوست ایک دوسرے سے منہ موڑیں گے ،جب غلام و خدام ٹکا سا جواب دیں گے ،جب دنیاوی رشتہ داریاں کچے دھاگے کی مانند ٹوٹ جائیں گی ۔ اس وقت سرورکونین حضرت محمد صلی اﷲ وعلیہ وسلم ہماری محبت میں بے چینی سے حشر کے میدان میں موجود ہوں گے او ر اﷲ سے رحم کی درخواست کر کے زارو قطار آنسو بہا رہے ہوں گے۔ سارے نبی ’’نفسی نفسی ‘‘ پکار رہے ہوں گے اور آپ’’ امتی امتی ‘‘کی التجا بارگاہ الٰہی میں گزار رہے ہوں گے۔ اس وقت ہمیں پناہ بھی آپ کی چادر ِ نبوت تلے ہی ملے گی ۔ سرورکونین حضرت محمد صلی اﷲ وعلیہ وسلم اگر اﷲ کو آپ کی ذات اقدس سے محبت نہ ہوتی اور آپ کی شفاعت کا وعدہ نہ کیا ہوتا تو ہم پر پتھروں کی بارش ہوتی ہم پہ آسمان سے آگ کا مینہ برستا بپھری ہوئیں آندھیاں ہمیں پٹخا پٹخا کر مارتیں ہولناک زلزلے ہمارے سیاں کار وجود کو تہہ زمین میں لے جاتے، سیلاب ہمیں کوڑا کرکٹ کی مانند بہا لے جاتے اور ہماری پھولی ہوئی بدبو دار نعشیں عبرت کی داستاں بن جاتیں ۔ہمار ے چہروں کو مسخ کر دیا جاتا۔ ہم پر قومِ عادو ثمود کی تاریخ دہرائی جاتی ،ہم صرف سرورکونین حضرت محمد صلی اﷲ وعلیہ وسلم کی وجہ سے اور سرورکونین حضرت محمد صلی اﷲ وعلیہ وسلم کی رو رو کر تاریک راتوں میں کی گئیں عبادات کے دوران کی گئی آہ و گریہ زاری کی بدولت بچے ہوئے ہیں ہم انگریزوں کے غلام تھے ذلیل و رسوا تھے ہمارے بزرگوں نے مل کر سرورکونین حضرت محمد صلی اﷲ وعلیہ وسلم کا واسطہ دے کر اﷲ تعالیٰ سے ایک مملکت خدادادکیلئے التجا کی اور اﷲ تعالیٰ نے ہمیں رمضان المبارک کی پاک ساعتوں اور لیلۃ القدر کی جلیل القدر رات میں پاکستان عنایت کر دیا مگر ہم نے اﷲ سے بد عہدیوں کاسرورکونین حضرت محمد صلی اﷲ وعلیہ وسلم اورجنت کی جانب جانے والے راستے میں پہاڑ کھڑا کر رکھا ہے کیونکہ بنی اسرائیل کی طرح ہم نے ایک الگ اسلامی ریاست کا تقاضا اس لئے کیا تاکہ عبادت الٰہی کو سرعام اور آزادنہ ادا کر سکیں جو ہمیں عطا بھی ہوا اس کے با وجود آج تک ہم ذہنی اور عملی طور پر انگریزوں کی غلامی سے آزاد نہیں ہوئے ۔آج بھی اجتماعی طورپر ہمارے کرداروافکار میں مغرب کی تہذیب کارنگ جھلکتا ہے ہمارے لباس سے یہود کا نقش آشکار ہے۔ ہمارے نغموں میں شیطانیت جھلکتی ہے ۔ہماری محبت میں فانی دنیا کی روشنی اور فکر و طلب کاعکس ہے ۔حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ سرورکونین حضرت محمد صلی اﷲ وعلیہ وسلم نے فرمایا ’’ تمہارا ایک لشکر ہندوستان سے جنگ کرے گا اور اﷲ تعالیٰ ان کو فتح دے گا اور وہ ان کے حکمرانوں کو بیڑیوں سے جکڑ کر لائیں گے اﷲ ان کے گناہ بخش دے گا پھر وہ واپس آئیں گے ۔جب بھی واپس آئیں تو وہ ابن مریم کو شام میں پائیں گے ۔‘‘ہم نے اس فرمان کی روشنی میں جہاد کشمیر اور فروغ اسلام کو جاری رکھنا تھا کیونکہ یہی غزوہ ہند تھا لیکن ہم نے لبرل ازم اور سیکو لر ازم کی چادر اوڑھ رکھی ہے اور خود کو مغرب کی تہذیب میں پنہاں کر کے مہذب گرداننے لگے ہیں اور یہی آج ہماری بربادی کا سبب ہے ۔میں چاہتی ہوں کہ میں گنبد خضریٰ سے لپٹ کرز ارو قطار آہ و گریہ کروں کہ اﷲ ہمیں اس متعصبانہ اور آپس میں ہی ایک دوسرے کیخلاف جھگڑکر طاقت کا مزہ چکھنے والے عذاب سے بچا لیکن میں کیا کروں مدینہ منورہ اور گنبد خضریٰ بڑی دور ہے
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Kiran Waqar

Read More Articles by Kiran Waqar: 6 Articles with 2378 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
13 Dec, 2016 Views: 234

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ