نادان لڑکیاں ( دوسری قسط)

(umama khan, kohat)
چلو کوئی بات نہیں اگر احمد نہیں ہے تو تم تو ہو نا تم سے ہی بات کر لوں گا -

نہیں نہیں میں بھی نہیں ہوں زیادہ گھبراہٹ کی وجہ سے وہ الٹا سیدھا بولنے لگی تھی -

ہاہاہاہا--- فون کی دوسری طرف سے ایک طویل قہقہہ لگایا گیا فون کرنے والا جی بھر کر محظوظ ہوا تھا
یار کتنی معصوم ہو تم نام کیا ہے تمہارا پیاری لڑکی -

میں آپ کی یار نہیں اوکے اور کیوں بتاؤ اپنا نام دفع ہو جاؤ-- اس اس پر غصہ بھی آیا اور عقل بھی کہ کوئی اسے تنگ کر رہا ہے اس نے غصے سے فون بند کیا - پھر بجا اور بجتا ہی رہا اس نے نہیں اٹھایا - پھر مسیج آنے لگے ہر مسیج میں ایک نیا پیغام---

پیاری لڑکی نام کیا ہے تمہارا -- کیا کھاتی ہو تم جو ایسا سریلا آواز ہے تمہاری آواز نے مجھ پر ایسا جادو کیا ہے کہ دل چاہتا ہے کہ تمہارے قدموں میں بچھ جاؤں ---

مسیج پر مسیج اس کا ان باکس بھر گیا--- اگلے کئی دن ایسے ہی مسیجز اور کالز آتے رہے اس کا سارا دھیان بٹ گیا تھا فون اٹھاتی نہیں تھی لیکن فون بجتے ہی فون کی طرف ضرور دیکھتی تھی اگر نہیں بھی بجتا تب بھی دیکھتی تھی کی اب بج کیوں نہیں رہا- مسیج آتے تو پڑھتی نہ آتے تو پہلے والے پڑھتی اور بار بار پڑھتی - چند دنوں میں ہی ہوگیا تھا لیکن ہو گیا اور ٹھیک نہیں ہوا تھا --اب وہ ہر روز اس کے مسیجز پڑھتی اور اس کو سوچے جاتی سوچے جاتی - فون کرنے والا بھی کافی مستقل مزاج تھا روز مسیجز اور کالز کرتا اس کا ان باکس نئے سرے سے بھرنے لگتا----

مائی سویٹ ہارٹ تمہیں کیا کہہ کر بلاؤں--- کوئی تو نام ہوگا تمہارا --- چلو نام کا اچار ڈالنا ہے بھلا خود ہی سوال خود ہی جواب---- تمہاری خوبصورت آواز سن کر میں تم سے محبت کرنے لگا ہو آج سے تم ہی میرا سب کچھ ہوں میری زندگی، میری موت ، میرا ہنسنا ، میرا رونا، میرا جاگنا، میرا سونا، ------ سنو سویٹ ہارٹ تم خود پہ اتراؤ کہ تمہیں حماد قریشی نے چاہا ہے بہت سی لڑکیاں مجھ پر فدا ہے مگر میں تمہاری خوبصورت آواز اور انداز پر فدا ہوا ہوں -

سچی بات تھی اب یہ مسیجز پڑھنا پریشے کو اچھا لگتا تھا اس کی چھوٹی سی دنیا تھی اور اس چھوٹی سی دنیا میں ایسے خوبصورت آواز والے اور ایسی خوبصورت باتیں کرنے والے شامل نہیں تھیں اب جب بھی وہ اکیلے ہوتی چھت پر-- کمرے میں --- کپڑے استری کرتے--- کالج جاتے ہوئے--- نماز پڑھتے --- تلاوت کرتے ہوئے-- ہر پل ہر لمہہ وہ اسی کے بارے میں سوچنے لگی تھی دن رات اس کا دھیان اس فون والے کی طرف ہوگیا تھا- کبھی کبھی وہ بہت ہی فنی مسیج کرتا پری دل کھول کر ان مسیجز پر ہنستی تھی- جس دن اس کے مسیجز نہ آتے تو وہ بہت چڑ چڑی ہوجاتی تھی کئی ہفتے ایسے ہی چلتا رہا - ایک دن اس کی کال آئی تو پریشے نے جانے کیا سوچ کر اٹھا لیا- لیکن چپ رہی۔ جاری ہے)
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: umama khan

Read More Articles by umama khan: 22 Articles with 39382 views »
My name is umama khan, I love to read and writing... View More
13 Dec, 2016 Views: 813

Comments

آپ کی رائے
bohat achaaaaaaaaaaaaaaa likh rahi ho umama khan alfaz nahi zabardast
By: Zeena, Lahore on Dec, 16 2016
Reply Reply
0 Like
than k u zeena sis
By: umama khan, kohat on Dec, 16 2016
0 Like
bhot alla outsdanding kya khob novel likha hy apny exellent
By: Abrish anmol, Sargodha on Dec, 15 2016
Reply Reply
0 Like
thank u so much abrish
By: umama khan, kohat on Dec, 16 2016
0 Like
zaberdast tum ne to jese seher trai ker deya.boht acha ja raha he tumhara novel perhne me maza arha he.
By: Nawaf Ahmed Khan, K.S.A on Dec, 15 2016
Reply Reply
0 Like
thx nawaf bhai
By: umama khan, kohat on Dec, 15 2016
0 Like
Nice..
By: Hussain, Karachi on Dec, 15 2016
Reply Reply
0 Like
thx
By: umama khan, kohat on Dec, 17 2016
0 Like
very nice
By: mini, mindi bhauddin on Dec, 15 2016
Reply Reply
0 Like
thx sis
By: umama khan, kohat on Dec, 15 2016
0 Like
shabash,,,,,,not bad at all,,,,it is todays reality
By: HuKhan, Karachi on Dec, 15 2016
Reply Reply
0 Like
thank u so much hukhan bhai
By: umama khan, kohat on Dec, 15 2016
0 Like