چلہ کلاں آ گیا

(Ghulam Ullah Kiyani, )
چلہ کلاں کے لغوی معنی’’ 40بڑے ‘‘ہے۔یعنی شدت کی سردی کے چالیس ایام۔ایسی ٹھنڈ جو خون کو بھی جما دے۔شاید’’ کانگڑی‘‘ اور’’ فیرن‘‘ اسی وجہ سے ایجاد ہوئے۔منفی ڈگری درجہ حرارت میں پانی کے نلکے جم کر پھٹ جاتے ہیں۔معروف جھیل ڈل جم جاتی ہے۔ یوں تو چلہ پرانے زمانے میں اولیائے کرام کی جانب سے دنیا و ما فیھا سے بے خبر اور دور کسی پاک جگہ ، پہاڑ یا جنگل میں اﷲ کو یاد کرنے کی مناسبت سے جانا جاتا رہا ہے۔ چلہ یعنی چالیس دن۔ چالیس دن اﷲ تعالیٰ کی عبادت۔ رھبانیت اگر چہ اسلام میں منع ہے،یعنی انسان کو دنیا ترک کرنے اور جنگل اور بیابانوں کی راہ لینے کی ہر گز اجازت نہیں۔ ہمیں حقوق اﷲ اورحقوق العباد دونوں کی ہدایت ہے۔ اﷲ اور اس کے بندوں کے حقوق لازمی ہی نہیں بلکہ لازم و ملزوم ہیں۔بلکہ اﷲ کے بندوں کے حقوق پر بہت زیادہ توجہ دی گئی ہے اور تاکید ہے۔یہ بھی کہانیوں میں درج ہے کہ چلہ کے دوران لوگ غائب بھی ہو جاتے تھے۔ کچھ لوگ جنات پر غلبہ پانے کے لئے بھی چلے کاٹتے تھے۔ لیکن زیادہ تر چلوں کا تعلق عبادت سے جوڑا گیا ہے۔ آج کے دور میں دین کی تبلیغ پر جانے والے چالیس ایام تبلیغ کے لئے لگائیں تو وہ اسے بھی چلہ قرار دیتے ہیں۔ لیکن زیر بحث چلہ کلاں، دراصل سردی سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کا کشمیر کی ثقافت اور تہذیب سے تعلق ہے۔ شدید سردی کے 40دن۔ یہ دن 22دسمبر یا 9پوہ سے شروع ہوتے ہیں۔ کڑاکے کی سردی۔ پھر چلہ خورد ہے۔ پھر چلہ بچہ۔ چلہ کا فارسی میں مطلب چالیس ہے۔ یوں چلہ خورد کا مطلب کم سردی کے چالیس دن ہو سکتا ہے۔تا ہم چلہ خورد چلہ کلاں کے بعد 20دن کو کہتے ہیں۔ چلہ خوردکے بعد کے 10 ایام کوچلہ بچہ کہا جاتا ہے۔ اس طرح 21دسمبر سے 31جنوری تک چلہ کلاں، یکم فروری سے 20فروری تک چلہ خورد(چھوٹے )، 21فروری سے یکم مارچ تک چلہ بچہ ہوتا ہے۔ ’’چلہ کلاں ‘‘ ایک بار پھر 21دسمبر سے آ گیا ہے۔جسے ہم خوش آمدید کہتے ہیں۔دھند یا کہر، چلہ کلاں نہیں۔بلکہ ان کا بھی اسی موسم میں راج رہتا ہے۔ اس کی وجہ سے پنجا ب اور کے پی کے میں نظام زندگی درہم برہم ہو جاتی ہے۔ حادثات رونما ہوتے ہیں۔جی ٹی روڈ اور موٹر ویز پر گاڑیاں چلانا مشکل ہو جاتاہے۔ جہازوں اور ٹرینوں کے شیڈولز میں خلل پڑتا ہے۔

ایران اور کشمیر میں چلہ کلاں ایک اہم جشن کا نام ہے۔ جشن بہاراں کی طرح شدید سردی کی آمد کا جشن۔ چلہ کلاں کیا ہے۔ یہ دو الفاظ کا مجموعہ ہے۔ دونوں فارسی کے جملے ہیں۔ ظاہر ہے ان کا فارس یا ایران سے ایک خاص تعلق ہے۔ اس لئے بھی کہکشمیر کو ایران صغیر کہتے ہیں۔ ابچلہ کلاں کشمیر میں زبان زد عام ہے،راولپنڈی اور اسلام آباد، لاہور ، دہلی تک اس کا چرچاپہنچتا ہے۔دھند اس کی مشترکہ روایت ہے۔ یہ شہرت اس لئے نہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں 166دن سے ہڑتالیں، کرفیو ، مظاہرے ہو رہے ہیں۔ کشمیریوں پر پیلٹ، پاوا کی فائرنگ ہو رہی ہے۔ زہریلی گیسوں کی شیلنگ کی جاتی ہے۔ ہزاروں افراد ہسپتالوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ سیکڑوں کو بینائی سے محروم کیا گیا ہے۔ان میں بچوں کی تعداد زیادہ ہے۔پیلٹ فائرنگ کے شکار سیکڑوں طلبا ء و طالبات اس بار امتحانات نہ سکے۔ بھارت نے ان کا مستقبل تاریک کر دیا ہے ۔بھارت کی جمہوریت کشمیر میں نظر نہیں آتی۔وہاں کشمیریوں پر بدترین مظالم اور قتل عام کی پریشانیوں سے زیادہ سیاستدانوں کو کرسی کی فکر ہے۔ یہ خطہ ان دنوں شدید سردی کی لپیٹ میں ہے۔ خون کو جما دینے والی سردی۔ کشمیر کے لداخ ریجن میں دراس ایسا علاقہ ہے جس کا درجہ حرارت منفی 40ڈگری تک پہنچ جاتا ہے۔ کرگل جنگ کے دوران اس علاقہ سے گزرہوا تو چلہ کلاں کا احساس سختی سے ہونے لگا۔گلگت بلتستان کی دوسری طرف بھارت کے قبضہ میں یہ علاقہسائیبیریا کے بعد دوسرا سرد ترین علاقہ ہے۔ سائیبیریا میں جب شدید سردی ہوتی ہے تو وہاں کے پرندے فرار ہو کر وادی کشمیر بھی آ جاتے ہیں۔ وادی میں ’’ہوکر سر‘‘، جیھیل ڈل، جھیل ولراور دیگر جھیلیں ان مہمان پرندوں کیچہک سے گونج جاتی ہیں۔ راولپنڈی اسلام آباد میں بھی ان مہمان پرندوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔ان پرندوں کے ساتھ دلفریب داستانیں وابستہ ہیں۔ لیکن انہیں جاسوس پرندے یا سراغ رساں کبوتر نہ سمجھا جائے۔سائیبیریا اور کشمیر کا تعلق قدیم لگتا ہے ۔اب روس اور پاکستان کے تعلقات میں بہتری آ رہی ہے اور معاہد بھی ہو رہے ہیں۔ یہ مثبت پیش رفت ہے۔کڑاکے کی اس سردی کو کشمیری خوب انجوائے کیا کرتے تھے۔ برفباری۔ ہاتھ میں کانگڑی(دہکتے کوئلوں سے بھری مخصوص انگیٹھی، جس کا بھارتی فورسز کے خلاف کوئلہ بم کے طور پر بے تحاشا استعمال ہوا)۔ فرن(چوغہ) زیب تن۔ سماوار(کشمیری تھرماس جس میں کوئلے دہکتے ہیں) کی چائے۔ سردیوں میں وادی میں تعلیمی اداروں کو اڑھائی ماہ کی تعطیل ہوتی ہے۔ آج کل سرینگر میں معروف جھیل ڈل بھی جم چکی ہے۔یہاں کبھی چلہ کلاں کے جشن کا اہتمام ہوتا تھا۔

ایران میں آج بھی جشن بہاراں کی طرحچلہ کلاں منایا جاتا ہے۔ ایران میں چلہ کلاں کے جشن کے دوران تعطیلات ہوتی ہیں۔ ایرانی جشن مناتے ہیں۔ اس تعلق کی ایرانیوں کو شاید کوئی خبر نہ ہو ۔ وہ گیس پائپ لائن دہلی سے آگے کشمیر پہنچا دینے کا بھی سوچیں یا کشمیر کو راولپنڈی سے ہی کوئی کنکشن پہنچانے پر غور کیا جائے۔ شاہ ہمدان کا کشمیر۔امام خمینی بھی کشمیری تھے۔ لیکن امریکہ سے ایٹمی معاہدے کے بعد ایران نے پاکستان کے ساتھ تعلق پر از سر نو غور کیا ہے۔کمال ہے امریکہ نے ایران اور بھارت کو پاکستان کا نعم البدل بنانے کی مہم جوئی شروع کی ہے۔ بھارت اسی تعلق کی وجہ سے ایران میں بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے۔

موسمی تبدیلیوں کے بعد چلہ کلاں کشمیر سے نکل کر ہندوستان اور پاکستان میں بھی پھیل گیا ہے۔ اس لئے بھی کہ اب جگہ جگہ بڑی تعداد میں کشمیری موجود ہیں۔کشمیر میں سردیوں میں سورج بادلوں میں چھپا رہتا ہے۔ اسے’’کٹکوش‘‘کہاجاتا ہے۔ یعنی آسمان سے سردی برستی ہے۔ دھند، کہر۔ یہی حال شمالی ہندوستان اور پنجاب کا ان دنوں رہتاہے۔ جہازوں کی سیکڑوں پروازیں، ٹرین سروس منسوخ کر دی جاتی ہیں۔ دھند میں کچھ نظر نہیں آتا۔سردی کے ریکارڈ ٹوٹ جاتے ہیں۔

یہ’’ دربار مو‘‘ ہے۔حکمرانوں کے دربار اور درباری سرینگر میں سردی کی آمد کے ساتھ ہی اپنیدفاتر سمیت جموں منتقل ہو جاتے ہیں۔صرف حکمرانوں کے تحفظ کے لئے۔ دہائیوں بعد بھی یہ روایت چلی آ رہی ہے۔ آج دفاتر سرینگر سے 300کلو میٹر دور جموں میں ہیں۔ یہ سول سکریٹریٹ سے وابستہ دفاتر ہیں۔گرمیوں کے 6ماہ سرینگر میں اور سرما کے 6ماہ جموں میں۔ ان دفاتر کا عملہ ہی نہیں بلکہ پورا ساز و سامان منتقل ہوتا ہے۔ شاہی دربار کی منتقلی۔ راجوں مہاراجوں کا مزاج اور روایات آج بھی کشمیری قوم پر مسلط ہے۔ اسے عمر عبد اﷲ اور اب محبوبہ مفتی بھی نہ بدل سکیں۔ ان کے مزاج بھی راجوں مہاراجوں والے ہیں۔اب چلہ کلاں نے جموں کا بھی رخ کر لیا ہے۔ جموں جو سیالکوٹ کا کبھی جڑواں شہر تھا۔ ائر مارشل(ر)اصغر خان، چوہدری غلام عباس کا شہر۔ اب چلہ کلاں نے دربار مو کا جواز بھی ختم کر دیا ہے۔ شاید حکمرانوں کو اب اشارہ مل جائے اور ہوش میں آنے کی کوشش کریں۔ اب عوام کو چلہ کلاں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر راہ فرار کا کیا فائدہ۔ ییہ اب جموں ہی نہیں بلکہ دہلی، لاہور تک پہنچ رہا ہے۔ اس نیپنجاب کو بھی نہیں بخشا۔موسم کی بری تحقیر ہوچکی۔ یہاں تک طنزاً کہا گیا کہ لیڈر ملاقات کریں تو موسم کی بات تو نہیں کریں گے۔ لیکن بدلتے موسم اپنا لوہا منوا رہے ہیں۔ جب یہ خود بدلے تو ان کے بارے میں آراء بھی لوگ بدلنے پر مجبور ہوئے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 574 Articles with 220238 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
19 Dec, 2016 Views: 512

Comments

آپ کی رائے