آج مظلوموں کی آہ پر سب خاموش ہے !

(Inayat Kabalgraami, )
میرے ایک دوست کے بھائی نے مجھے اپنا ایک قصہ سنایا ،کہا کہ میں ایک بنگلے میں کام کیا کرتاتھا میں جس بنگلے میں کام کیا کرتا تھا اس سے توڑا سا آگے ایک بنگلے میں ایک چاچا رہا کرتے تھے ،اس کو سب جنگلی چاچا کہتے تھے اس کے گھر کے سامنے اگر کوئی بچہ کھیل کود کرتا تھا تو جنگلی چاچا اس پر بہت ہی زیادہ غصہ کرتے اور اس بچے کو مارنے کیلئے دوڑ تے تھے بچہ بھی بھاگ کر خود کو مار سے بچا لیتا، میں نیا نیا گیا ہواتا وہاں پر ایک دن کام کاج سے فارغ ہوکر میں نے اپنے مالک کے بچے کا گیند اٹھا یااور بنگلے سے باہر نکل گیا اور اس ہی بنگلے کے سامنے کھیل نے لگا جو بنگلہ جنگلی چاچا کا تھا پر مجھے علم نہیں تھا ،میں اپنی کھیل میں مگن تا کہ اس دوران جنگلی چاچااپنے بنگلے سے باہر نکلے اور مجھے پکڑ کر مارنا پیٹھناشروع کردیا میں کیوں کے تیرا سال کا تھا روتا ہوا اپنے مالک کے پاس چلا گیااور جنگلی چاچا کا شکوہ کیا کے مجھے بہت مارا جس پرمیرے مالک نے کہا تو باہر کیوں گیا اور چاچا کے بنگلے کے پاس جانے پر خصوصی ڈانٹ پڑی ،اور میں اس دن ساری رات رو رو کر گزاری ،اس واقعہ کے کچھ دن بعد میرے مالک کی بہن آئی تی تو اس کا بیٹا جنگلی چاچا کے بنگلے کے سامنے کھیل رہا تھا تو اس کو بھی چاچا نے ایک آد تھپڑ لگا دیا جس کی اطلاع جب میرے مالک کو ہوئی تو اس گھر موجود بچوں کا بیٹ اُٹھایا اور سیدے جنگلی چاچا کے گھر پر پہنچ گیا،گنٹھی بجائی تو چاچا باہر نکلا تو مالک نے بیٹ سے اس کی کوٹائی شروع کردی کافی شور شرابے کے بعد مالک کو لوگوں نے اپنے گھر کے گیٹ کے اندر کیا اور گیٹ باہر سے بند کردیا اور جنگلی چاچا کوبرا بولا کہنے لگے ۔ یہ واقعہ سن ۲۰۰۲ کا ہے ۔ اس کو لکھ نے کا مقصدیہ ہے کے جب ایک غریب مظلوم کا بچہ پیٹھ رہا تا تو اس وقت اس ہی کو ڈانٹ پڑ رہی تی لیکن جب رشتہ دار کے بچے کا نمبر آیا تو غصہ بھی آیا اور بدلہ لینے کیلئے جانا بھی پڑگیا ۔ اس ہی طرح جب حلب میں لوگ مررہے تے تو اس وقت کوئی نہیں بھول رہا تھا ،لیکن جب روس کے سفیر کو ترکی میں ایک پولیس کے جوان نے معض اس لیئے قتل کیا کے ہم حلب کا بدلہ لینگے ،تو ساری دنیا چیخ پڑی اقوام متحدہ ،امریکا ،جرمنی ،اور بھی بہت سارے ممالک نے اپنا اپنا رد عمل پیش کیا اس میں کچھ اسلامی ممالک بھی شامل حال رہے ،ٹھیک یہ بات قانونن غلط ہے کہ مگر اس بات کو بھی یا د رکھوجو روس نے شام کے شہر حلب میں کیا،کیاوہ صحیح ہے ۔دنیا کے کون سی قانون میں لکھا گیا ہے کہ آپ ظلم بھی کرو اور رد عمل آئے تو خود کو مظلوم ظاہرکرنے کیلئے پوری دینا کو سر پر بھی اُٹھا لوں ۔شام کے شہر حلب میں گزشتہ چار سالوں سے قتل وتشدد کا جو سلسلہ جاری تھا وہ گزشتہ مہینے اس وقت نقطہ عروج پر پہنچ گیا جب شامی فوجیوں نے روس اور ایرانی وعراقی ملیشیا حزب اﷲ سب نے مل کر بڑے پیمانے پر عام شہریوں کا قتل کیا۔ بچوں، بوڑھوں اور خواتین کو بھی نہیں بخشا گیا۔ بیسویں صدی کے بدترین ڈکٹیٹروں لینن اسٹالن ہٹلر اور ماؤ کی جانب سے کرائے گئے قتل عام کو چھوڑدیں تو ماضی قریب کی تاریخ میں اس طرح کے کسی قتل عام کی کہیں مثال نہیں۔ پوری دنیا اس پر عملاً خاموش رہی کہیں آواز بھی اُٹھی تو محض رسمی طور پر اور خانہ پری کے لئے۔ پاکستا ن بھی خاموش تماشائی بنا بیٹھا ہے۔آج مظلوموں کی آہ پر سب خاموش ہے ، اس قتل عام کے رد عمل کے طو رپر ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں روسی سفیر کو قتل کردیاگیا اس کے فوراً بعد امریکی سفارت خانہ کے باہر بھی فائرنگ ہوئی اگر چہ اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا لیکن احتیاطی کارروائی کے طور پر امریکہ اور امریکی اتحادیوں کے تمام سفارت خانے اور دیگر مراکز بند کردئے گئے۔ ابھی انقرہ کی خبروں پر رد عمل کا سلسلہ جاری ہی تھا کہ جرمنی کے شہر برلن میں ایک مارکیٹ پر ٹرک کے زرعیہ حملہ ہوا جس میں ایک درجن افراد ہلاک اوربڑی تعداد میں زخمی ہوئے ہیں۔ دنیا بھر میں اس کے خلاف بھی رد عمل کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوگیا ہے اور ایک مرتبہ پھر اسلام اور مسلمانوں کی طرف انگلی اُٹھائی جارہی ہے اور آثار وقرائن بتاتے ہیں کہ ایک مرتبہ پھر دھرپکڑ اور اشتعال انگیز بیان بازیوں کا سلسلہ شروع ہوجائے گا اور امریکہ اور مغرب میں رہنے والے مسلمان شک کے دائرے میں آجائیں گے اسلامی دہشت گردی پر تقریر وتحریر کا سیلاب سا آجائے گا۔ لیکن اس کے برعکس جب بھی مسلمانوں پرظلم کے خلاف کسی نے آواز اُٹھائی تووہ انتہاپسند کہلویا جاتا ہے۔امریکا کا نومنتخب صدر کو ایک مرتبہ پھر سے مسلمانوں کے خلاف موضوں مل گیا اور اس پر اس نے اپنا بیان بھی جاری کردیا ،کہا کہ میری بات سچ ثابت ہورہی ہے جو میں نے مسلمانوں کے بارے میں کہی اورکہا کہ یہ بات سو فیصد درست ہے کہ دنیا میں جتنی بھی دہشتگردی ہے اس کے پیچھے مسلمانوں کا ہاتھ ہے ۔جناب ڈونلڈ ٹرمپ صاحب پوری دنیا آپ کے ملک سے تنگ ہے پر چاہے وہ ملک مسلم ہو یاغیر مسلم اس کی واجہ آپ کی دہشتگردی اور انا پرستی ہے ، اس وقت دنیا کے بہت سارے نیوز چینل بشمول پاکستان کے سب کے سب صرف جرمنی کے واقعہ کو ہی فوکس کر رہے ہیں ،جبکہ حلب اور شام کا تبصرہ کہی پر نظر نہیں آرہا ہے ۔آج دنیا کو جو بھی شام کے صورتحال معلومات حاصل ہوتی ہے وہ صرف سوشل میڈیا سے ہی حاصل ہوتی ہے، ورنہ تو دنیا کو یہ بھی نہیں معلوم ہوتا کہ کب شام میں شام زندگی ڈھل چکی ہے۔ ملک شام کی موجودہ صورت حال جو بھی ہو لیکن ایک بات تو طے ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کا نزول یہیں ہوگا اور اس بات کو تمام اسلام دشمن طاقتیں بہت اچھے طریقے سے جانتی ہیں،لیکن شاید انہیں یہ نہیں معلوم کہ خدا کا فرمان ان کے آلات جنگ و حرب سے ماوراء ہے، جن جنگی آلات کے ذریعہ آج معصوموں کو قتل کیا جارہا ہے، سب دھرے کے دھرے رہ جائیں گے۔ لیکن افسوس ہوتا ہے ان نام نہاد اسلامی ممالک پر جو مجرمانہ طور پر چپی سادھے بیٹھے ہیں،ایک طرف مسلمان قتل کئے جارہے ہیں اور دوسری طرف ان دشمنان اسلام سے معاہدہ ہورہا ہے۔ کہاں گئی وہ غیرت اسلامی؟ آج جرمنی کے شہر برلن کے واقعہ یا روسی سفیر کے قتل کا واقعہ ہو ہر طرف مذمت مذت کی صدا بلند ہو رہی ہے ،اس صدا کو بلند کرنے والوں میں مسلمان بھی ہے اور غیر بھی ،ٹھیک ہے مذمت ہونی بھی چاہی یئے مگر صرف اس دہشتگردی کی نہیں جو کسی تنظیم کی جانب سے ہو مذمت اس دہشتگردی کی بھی ہونی چاہی یئے جو کسی ریاست کی طرف سے بھی ہو ۔خدارا اب بن کرو اس دوغلی پالسی کو سب انسانو ں کو ایک نظر سے دیکھوں اگرظلم کرنے والا مسلمان ہے تو بھی غلط اگرغیر مسلم ہے تو بھی غلط ہے ،ظلم مسلمان پر ہورہا ہے تو بھی مذمت کریں اگر غیر مسلم پر ہورہا ہے تو بھی مذمت ہو نی چاہی یئے۔ دنیا میں امن کیلئے یہ بہت ضروری ہے ،اﷲ سے دعا ہے کہ یا اﷲ تمام مسلمانوں پر اپنا خصوصی کرم فرما اور ان کی حفاظت کریوں (آمین)
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Inayat Kabalgraami

Read More Articles by Inayat Kabalgraami: 16 Articles with 10415 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Dec, 2016 Views: 435

Comments

آپ کی رائے