کیا قبر میں مردے سنتے ہیں؟

(manhaj-as-salaf, Peshawar)
ڈاکٹر مرتضی بن بخش صاحب حفظہ اللہ کے الفاظ کے ضمنا معنی ہیں.

اس دنیا اور قبر میں زندگی کے تعلق کے اعتبار سے سمجھنے کے بعد اب قبر میں مردے کے سننے کو بھی سمجھ لیتے ہیں،اللہ نے قرآن میں فرمایا:

وَمَا يَسْتَوِي الْأَعْمَىٰ وَالْبَصِيرُ ﴿١٩﴾ وَلَا الظُّلُمَاتُ وَلَا النُّورُ ﴿٢٠﴾ وَلَا الظِّلُّ وَلَا الْحَرُورُ ﴿٢١﴾ وَمَا يَسْتَوِي الْأَحْيَاءُ وَلَا الْأَمْوَاتُ ۚ إِنَّ اللَّـهَ يُسْمِعُ مَن يَشَاءُ ۖ وَمَا أَنتَ بِمُسْمِعٍ مَّن فِي الْقُبُورِ

مفہوم: اور اندھا اور آنکھوں والا برابر نہیں.اور نہ تارکیوں اور روشنی والا برابر ہے. اور نہ چھاؤں اور دھوپ برابر ہے. اور زندہ اور مردے برابر نہیں، اللہ جس کو چاہے سنا دیتا ہے، اور اے نبی آپ ان لوگوں کو نہیں سنا سکتے جو قبروں میں ہیں
(سورۃ فاطر: 35 آیت: 19 تا آیت: 22)

قبر والوں کو کون نہیں سنا سکتا؟ رحمت للعالمین سید المرسلین محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نہیں سنا سکتے. لوگ کہتے ہیں آپ کو کون فیکون عطا کیا گیا ہے؟ جبکہ اللہ تعالی نے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی قبر والے کو نہیں سنا سکتے الا کہ جس کو اللہ چاہے تب سنا سکتے ہیں.

"مسئلہ سماع موتی"
کیا مردے سنتے ہیں؟

یہ کتاب فقہاۓ احناف کی راۓ پر مشتمل ہے. جسکو علامہ آلوسی نے نصنیف کیا.

اس سے ایک اقتباس پیش ہے:
حنفی علماء کہتے ہیں: لہذا تنویر الابصار، اسکی شرح الدر المختار، اسکا حاشیہ طحطاوی اور حاشیہ ابن عابدین، فتح القدیر، ھدایہ، مراقی الفلاح، کنز الدقائق کی شروح، امام ابو حنیفہ، صاحبین اور مشائخ حنفیہ کے مفتی بہ متون سے ثابت ہوا کہ روح نکل جانے کے بعد مردے سنتے نہیں. یہی حضرت عائشہ اور دوسرے اہل علم اور مکاتب فکر کا خیال ہے. نیز علماء احناف نے کسی حنفی عالم کا اس میں اختلاف بھی نقل نہیں کیا ہے.

اور نہ اس سلسلہ میں کسی قسم کھانے والے کو حانث قرار دیا ہے. جیسا کے تفصیل گزر گئ ہے آگے وہ بات ذکر کی جاۓ گی جو ان اقوال کی تائید کرتی ہے..الخ

یعنی معلوم ہوا کہ احناف کے علماء کا اجماع ہے کہ مردے سنتے نہیں ہیں. بعض لوگ کہتے ہیں کہ مردے سنتے ہیں. یہ ابتدا ہے پھر مردوں کو پکارنا، انکو مشکل کشاء ماننا یہ اسکی انتہی ہے اور شرک اکبر تک معاملہ چلا جاتا ہے. مردے سنتے صرف وہ ہیں جس کی دلیل موجود ہے. دلیل صرف دو چیزوں کی ہے جنگ بدر میں مشرکین کو دفن کرنے کے بعد آپ سے بات کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تم سے زیادہ سننے والیں ہیں اس وقت. یہ خاص تھی، خاص موقع تھا، خاص جگہ تھی. اور دوسرا جب ہر مردہ دفن کیا جاتا ہے تو قدموں کی چلنے کی آہٹ کو سن لیتا ہے جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور مسئلہ سماع موتی کا تعلق علم غیب اور برزخ کی زندگی سے ہے اور غیب وہ ہے جو ہم سے مغیر ہے جو ہم دیکھ نہیں سکھتے، سننے سے محسوس نہیں کر سکتے. سواۓ دلیل کے ہمارے پاس کوئ اور ذریعہ نہیں ہے کہ ہم جان لیں. قال اللہ و قال رسول اللہ کے سوا اور کوئ راستہ نہیں ہے. انہیں دو راستوں میں صرف جنگ بدر کا واقعہ اور ہر مردہ جب مر جاتا ہے اسے دفن کر دیا جاتا ہے، اسے دفن کرنے والے جو اسکے ساتھ آتے ہیں دفن کرنے کے لیے، جب وہ جا رہے ہوتے ہیں تو وہ انکے قدموں کی آہٹ سنتا ہے، اسکے دلائل موجود ہیں اسکے سوا کوئ بھی دلیل موجود نہیں ہے کہ مردے اسکے سوا بھی سنتے ہیں.
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: manhaj-as-salaf

Read More Articles by manhaj-as-salaf: 286 Articles with 217509 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
25 Dec, 2016 Views: 919

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ