چاہت کیا ہے

(Abrish anmol, Sargodha)
محبت کیا حسین احساس ہے محبت بھلا کب لفظوں کی محتاج ہے یہ توبہت خاموشی سے اپنا راستہ بناتی ہے دل پر حکمرانی کرتی ہے دہڑ کنوں میں دھڑکتی ہے کسی ساز کی مانند کسی سریلے گیت کی طرح جو کانوں میں مٹھاس کھولتے ہے محبت آنکھوں میں ٹھنڈک ہے اک مسکراہت ہے ناز ک ہونٹوں پر کسی خوشبوں کی طرح ہے محبت ہاتھو ں میں اٹھنے والی دعا ہے محبت آنکھوں میں بہتا اک ایسا جذبے ہے جس آج تک کوئی نا سمجھ پایا اس کوئی صورت نہیں ہے یہ نظر بھی نہیں آتی ہے اس کی کوئی آخری حد بھی نہیں ہے بس مسلسل جاری رهنے والا احساس ہے محبت چھپے لفظوں ھر پل اظہار کا نام ہے بہت خوبصورت جذبہ ہے اک آرزو ہے اک تمنا ہے لبوں پر رهنے والی دعا ہےالتجا ہے

چا ہت

چاہت کیا ہے کوئی کسی کو کتنا چاہ سکھتا ہے چاہت کی آخری حد ہے کیا وقت کے ساتھ یہ ختم ہو سکہتی ہے کیا ...کیا حالات کے بد ل جانے پر بدل جاتی ہے کیا محبت کا وقتی جذبات سے کوئی تعلق ہے محبت اگر دل میں اتر جا ے تو کیا اس کی واپسی ممکن ہے سخت حالات تلخ روائیں اس جذبے کو بے معنی کرنے میں کامیاب ہو سکھتے ہے کیا سوچ پر پابندی ممکن ہے کسی کے خیال کو دل میں اترنے سے روکا جا سکھتا ہے کیا دل پر کسی کا زور چل سکھتا ہے کیا دل کی سلطنت پر کسی کو حکمرانی ھاصل ہے

ہر گز نہیں محبت وقتی جذبے کا نام نہیں ہے یہ اگر اک بار دل پر دستک دیں دے تو اس چو کٹ سے واپس نہیں موڑتا پھر حالات جیسے بھی ہو روائیں اور لهجے روح کو چھنجوڑ کیوں نا دیں کوئی بھی اس کو دل تک پہنچنے سے نہیں روک سکھتا محبت کے راستے میں کانتے بچانے والوں کے اپنے ہاتھ بھی زخمی ہوتا ہے وه تو نگھے پاؤں کانٹوں کو روندتے ہوے اگے بڑھ جاتی ہے محبت اک ایسا جذبہ ہے اس کو جیتنا روکنے کی کوشش کرو یہ اتنی ہی شدت سےبڑهتی ہے محبت ہوا کی مانند ہے جو بہ ظا ہر نظر تو نہیں آتی لیکن اس کی طاقت زمین میں موجود ہر شے کو ہلا کر رکھ دیتی ہے محبت اس مشل کی مانند ہے جو جلتی رہے تو چاروں طرف آجالا کر ے رکھتی ہے اس کو بجھانے کی کوشش کرو گے تو خود کو بھی نہ ختم ہونے والے اندهیرے میں پاؤ گے محبت کی روشنی کسی کو نقصاں نہیں دیتی لیکن اس کا اندهیرا وجود کے اندر تک چاھ جاتا ہے اس کی حرارت وجود میں جلتی رہتی ہے اور دل کو پگلاتی رہتی ہے اس کی تپش سے بہنے والے آنسو سیدھا دل پر گرتے ہے اور گرتے ہی چلے جاتے ہے

محبت کیا حسین احساس ہے محبت بھلا کب لفظوں کی محتاج ہے یہ توبہت خاموشی سے اپنا راستہ بناتی ہے دل پر حکمرانی کرتی ہے دہڑ کنوں میں دھڑکتی ہے کسی ساز کی مانند کسی سریلے گیت کی طرح جو کانوں میں مٹھاس کھولتے ہے محبت آنکھوں میں ٹھنڈک ہے اک مسکراہت ہے ناز ک ہونٹوں پر کسی خوشبوں کی طرح ہے محبت ہاتھو ں میں اٹھنے والی دعا ہے محبت آنکھوں میں بہتا اک ایسا جذبے ہے جس آج تک کوئی نا سمجھ پایا اس کوئی صورت نہیں ہے یہ نظر بھی نہیں آتی ہے اس کی کوئی آخری حد بھی نہیں ہے بس مسلسل جاری رهنے والا احساس ہے محبت چھپے لفظوں ھر پل اظہار کا نام ہے بہت خوبصورت جذبہ ہے اک آرزو ہے اک تمنا ہے لبوں پر رهنے والی دعا ہےالتجا ہے-
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abrish anmol

Read More Articles by Abrish anmol: 27 Articles with 41332 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
29 Dec, 2016 Views: 1513

Comments

آپ کی رائے
بہت خوب صورت اظہار خیال کیا گیا ہے۔میری نظر میں بنا صلہ کے سب کچھ اپنے محبوب پر وار دینے کا نام محبت ہے۔
By: Zulfiqar Ali Bukhari, Rawalpindi on Mar, 17 2017
Reply Reply
0 Like
apka boht shukriya
By: abrish, Sargodha on May, 02 2017
0 Like
Very nice what you do in the great words great definition, it is written up nice too very good write me I wish you always be happy
By: kinza, lahor on Dec, 29 2016
Reply Reply
0 Like
There is one very good abresh up like me up and all the way up to love topk granary is the rule, the beast on the allah up in the tar is ev enabled pen
By: Anaam, Bhalwal on Dec, 29 2016
Reply Reply
0 Like
abdul kabeer bahi and zenaa umama api ap sub ka bhot bhot shukriya
By: Abrish anmol, Sargodha on Dec, 29 2016
Reply Reply
0 Like
Very Nice article.
waiting for next article on other topics..........
By: Abdul Kabeer, Okara on Dec, 29 2016
Reply Reply
0 Like
nice :)
By: Zeena, Lahore on Dec, 29 2016
Reply Reply
0 Like
very very very nice sister
By: umama khan, kohat on Dec, 29 2016
Reply Reply
0 Like