تعمیر معاشرہ میں رحم دلی کے اثرات

(Khalid Fuaad, )
تحریر: ڈاکٹر حسن عبدالباقی
کسی بھی دین و مذہب میں پیار و محبت الفت و مودت اور رحم دلی کی اس قدر تاکید و تائید نہیں کی گئی جس قدر شدت و اہتمام کے ساتھ اس اخلاقی فضیلت و بلندی کی دعوت اسلام نے دی ہے۔اور آسمانی کتاب قرآن حکیم و سنت نبوی میں اس موضوع کے فضائل و اہمیت کو جابجا بیا ن کرکے ملت اسلامیہ کو اس عمل کے اختیار کرلینے کا حکم دیا گیا ہے۔ہر ذی شعور و صاحب عقل و بصیرت جانتا ہے کہ اسلام اجتماعی زندگی میں باہمی تعلق و اہمیت کو واشگاف الفاظ میں بیان کرتاہے تو ایسے میں بدیہی امر ہے کہ یہ عمل اس وقت تک قابل عمل نہیں ہو سکتا تاوقتیکہ انسانوں کے دلوں میں محبت و الفت اور پیار و درگزری کا عنصر اعلیٰ درجہ میں پنہاں ہو۔اور یہ کوئی اچھنبے کی بات نہیں قرآن نے ملت اسلامیہ کے پہلے گروہ کی سابقہ اور بعد از اسلام قبول کرنے کی زندگی کا شاندار انداز میں تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ’’یاد کرو اﷲ تعالیٰ کی نعمت کو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی پس تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی ہوگئے،اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پہنچ چکے تھے تو اس نے تمہیں بچالیا اﷲ تعالیٰ اسی طرح تمہارے لئے اپنی نشانیاں بیان کرتاہے تا کہ تم ہدایت پالو‘‘(سورۂ آل عمران:۱۰۳)بس ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام نے دشمنی کو دوستی میں بدل دیا ۔۔اس امر میں شبہ و تردد نہیں کہ نفرت و غلظت اور عداوت دوفریقوں کے مابین اس حدتک دوریاں پیداکرنے کا موجب بن جاتی ہے کہ ہر لمحہ اور ہر آن اپنے مخالف کو زیر کرنے کیلئے منصوبہ بندی تندہی سے مرتب کی جاتی ہے۔اور اس کی وجہ سے دومخالف گروہوں فرقوں ،لوگوں کی زندگی اجیرن بن جاتی ہے ان کا چین و سکون برباد ہوجاتاہے اور راحت و آسانی ختم ہوجاتی ہے۔

اس لئے ضروری ہے کہ مسلمان طبقے کے قلب و جگر اور عقل میں رحم دلی اور محبت و درگزر و برداشت کا مادہ پیدا کرنے کیلئے ان کی اخلاقی و فکری اور روحانی تربیت کی ضرورت ہے۔اور یہ عمل تعلیم و تربیت کے مجال سے احسن انداز میں پایہ تکمیل کو پہنچ سکتاہے۔اس لئے ضروری ہے کہ بچہ کو ابتدا ہی میں محبت و رحمت کا پیام سمجھا دیا جائے اور اس کو والدین ،اعزاہ و اقارب اور بڑوں کے مقام و مرتبہ سے بھی آگاہی دے دی جائے کہ وہ اپنے آپ کو ماں باپ و بڑوں کے سامنے کمزور و نحیف اور عاجز و ذلیل سمجھے چہ جائیکہ ان کے آمنے سامنے سینہ زوری کے ساتھ بدکلامی کرنے کا مرتکب ہو۔۔ اور اس کو یہ بھی بتایا جائیکہ اپنے سے چھوٹے پر کس طرح شفقت کا معاملہ کیا جاتاہے اور بڑوں کا احترام کس طرح بجا لانا ضروری ہے۔دوسری جانب جب بڑا ہوکر جوان و تواناں اور طاقتور اور عاقل و بالغ ہوجائے گا اور پھر خود سے قرٓن و سنت کا مطالعہ کرے گا تو اس کیلئے کوئی پریشانی و تکلیف اور دقت نہیں ہوگی احکامات شرعیہ کو پورا کرنے میں۔اگر اس امر کا اہتمام کرلیا گیا تو بعید نہیں کہ ایک خاندان سے محبت و الفت کی منتقلی و فروغ کے نتیجہ میں سارا معاشر ہ امن و رحمت کا خوبصورت چمنستان بن جائے۔

رحم دلی و درگزری اور برداشت کی صفت کا فائدہ یہ ہوتاہے کہ دلوں میں نفرت و غلظت کا خاتمہ ہوجاتاہے ،خشک مزاجی و تندی پر کنٹرول آتاہے اور اس کے نتیجہ میں دشمن دوستی کے مثالی رشتہ میں بدل جاتی ہے۔جیساکہ کہ قرآن حکیم میں ورد ہے کہ’’نیکی اور بدی برابر نہیں ہوتی۔برائی کو بھلائی سے دفع کرو پھر وہی جس کے اور تمہارے درمیان دشمنی ہے ایسا ہوجائے گا جیسے دلی دوست‘‘سور ۂ فصلت:۳۴)۔ پیا ر و محبت ایک ذریعہ ہے جس سے لوگوں پر رحم کرنے کی وجہ سے وہ اﷲ کے رحم و کرم کا حقدار ٹھہرتاہے اور یہی ایک وسیلہ و سبب ہے کہ ج سکے سبب اﷲ تعالیٰ لوگوں کی بخشش یوم حساب کے دن فرمائے گا‘‘جیسے ارشاد ہوا قرآن میں’’بیشک مؤمن آپس میں بھائی ہیں اور صلح کراؤ بھائیوں کے مابین اور ڈرو اﷲ سے شاید کہ تم پر رحم کرے‘‘سورۂ الحجرات:۱۰)۔بہت سارے مسلمانوں کے رویے اور طرزعمل ایسے ہیں کہ جن سے کتاب و سنت ایک لمحہ بھر کیلئے بھی اتفاق نہیں کرتے کیوں کہ اس میں شیطان اور اس کے حواریوں کی جانب سے اس قدر اثرو رسوخ اور ان قوتوں کا غلبہ ہوچکا ہوتاہے کہ جس کے نتیجہ میں مسلمانوں کے مابین نفرت و عداوت اور دشمنی کا نا ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوجاتاہے ،انہی مصاعب و مشکلات کا ثمر فاسد یہ ظاہر ہوتاہے کہ محبت و الفت مؤمن بھائیوں کے مابین ایک شرمندہ تعبیر معلوم ہوتاہے کہ یہ صرف کتابوں میں لکھا اور پڑھا تو جاسکتا ہے اس بارے میں خوابوں میں دلکش مناظر سے لطف اندوز تو ہواجاسکتاہے مگر امر واقع میں اس اعلیٰ پیمانہ کے اخلاق کی کوئی عملی تعبیر نہیں مل سکتی۔جیسا کہ خواب میں حسین مناظر محبت و موددت کے دیکھے مگر بیدار ہوکر اسے فراگذاشت کردیا یا پھر اس نے یاد تو کیا کہ اعلیٰ و مثالی رشتہ بھائیوں کے مابین ہونا چاہئے مگر اس کو اختیار نہیں کیا۔

یہی وجہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ جو ستر ماؤں سے بھی زیادہ اپنی مخلوق سے محبت و پیار کرتاہے نے انسانوں کو حضرت یوسف ؑ کے قصہ و حکایت کو بیان کرکے عملی نمونہ کو اختیار کرنے کا بین واقعہ سنا کردعوت دی ہے کہ اس عمل کو مسلمان اپنی زندگیوں میں رائج کرلیں۔کہ حضرت یوسفؑ کے بھائیوں نے ان سے نفرت و حسد کے نتیجہ میں انہیں ہر قیمت نقصان پہنچانے کا ارادہ کیا اسی لئے ان کے قتل کا منصوبہ بنا یا اور پھر انہیں تاریک کونے کی آغوش میں پھینک کر گھر واپس پلٹ کراپنے والد حضرت یعقوبؑ بتایا کہ یوسف کو بھیڑیا کھا گیایہ اس کی خون آلود قمیص و کرتاہے ،اس کے نتیجہ میں حضرت یعقوب کا دل دولخت ہوا اور پھر انہیں بھائیوں نے حضرت یوسف کے دوسرے بھائی پر الزام لگادیا کہ اس نے مصر میں چوری کی ہے ،اس سب واقعہ سے معلوم ہوتاہے کہ حضرت یوسف ؑ کے بھائیوں کو ان کی اور ان کے بھائی اور والد کی نگہداشت و حفاظت سے کوئی غرض نہیں تھی مگر یہ سب جاننے کے باوجود حضرت یوسفؑ نے درگزر کرتے ہوئے اور وسعت قلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان سے کوئی شکوہ نہیں کیا کیوں کہ انبیا علیھم السلام تمام عالم کیلئے رحمت اور سلامتی کا پیام لیے ہوئے ہوتے ہیں۔جب حضرت یوسف کو اﷲ نے عز ت و عظمت سے نواز کر شاہ مصر بنایا تو’’اپنے تخت پر ماں باپ کو اونچا بٹھایا اور سب اس کے سامنے سجدے میں گرگئے تب کہا اباجی یہ میرے پہلے خواب کی تعبیر ہے ،میرے رب نے اسے سچا کردکھایا ،اس نے میرے ساتھ بڑا احسان کیا جب کہ مجھے جیل خانے سے نکالااور آپ کو صحرا سے لے آیا ،اس اختلاف کے بعد جو شیطان نے مجھ میں اور میرے بھائیوں میں ڈال دیا تھا میرا رب جو چاہے اس کیلئے بہترین تدبیر کرنے والاہے اور وہ بہت علم و حکمت ولاہے‘‘۔(سورۂ یوسف:۱۰۰)

حضرت یوسف علیہ السلام نے کھلے دل سے اس بات کو قبول کیا کہ جو کچھ بھی ان کے اپنے اور بھائیوں کے درمیان مشکل و پریشانی اور تکالیف و نفرت کا سلسلہ چلا وہ شیطان کی شرارت و سازش کا نتیجہ تھا ۔اس لئے لابد ہے کہ مسلم سماج اور معاشرہ آپس میں روادری و برداشت کو فروغ دے ،والدین کے ساتھ اچھائی و بھلائی والا معاملہ کرے، پڑوسیوں پر احسان، وعدہ پورا کرے،سچائی خیر کو لوگوں کے ساتھ اختیار کرے بیوہ اور یتیم کے سروں پر شفقت کا ہاتھ رکھے۔معلوم ہونا چاہئے کہ مسلم سماج پر زکوٰۃ کی فرضیت کا مقصد ہی یہ ہے کہ معاشرے کے سبھی طبقات میں برابر تعاون و ترابط اور علاقہ باہمی استوار ہوجائے کہ امیر انسان غربا کا احساس کریں ،رحم دلی کو خاندانوں اور پڑوسیوں میں فروغ ملے ، خریدنے والا اور پیچنے والا ایک دوسرے پر رحم و درگزر کرے جیسے نبی کریم ؐ کا فرمان عالی شان ہے کہ ’’اﷲ رحم کرے اس پر جو درگزر کرنے کو اختیار کرلے ،اگر وہ خریدتا ہے یا بیچتاہے اوروہ فیصلہ کراتاہے یا اس کے بارے میں فیصلہ کیا جاتاہے سبھی امور میں درگزرووسعت قلبی اور رحمت و مودد ت کو اختیار کرے یعنی کہ ہر معاملہ میں اپنے حق کو حاصل کرنے میں نرمی کا معاملہ اختیار کرتاہے‘‘۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Khalid Fuaad

Read More Articles by Khalid Fuaad: 22 Articles with 10235 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 Dec, 2016 Views: 383

Comments

آپ کی رائے