’’دارالامن ‘‘میں درندگی کا کھیل

(Faisal Farooq, )
اعلیٰ پولیس افسران فوری مستعفی ہوں

کان پک جاتے ہیں جعلی کارکردگی کی کہانیاں سن سن کر ،لنڈے بازار کے تھڑے کی طرح پولیس نے مال مسروقہ سجا کر رکھا ہوتا ہے اور کمال ڈھٹائی اور ایکٹنگ کی انتہا کرتے ہوئے اپنے ان کا رناموں کا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہوتے ہیں جن کا حقیقت سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہوتا جبکہ اخبارات میں چھپنے والا تلخ اور کڑوا سچ جسے پولیس کے لئے حلق سے نیچے اتارنا مشکل ہے کہ پنجاب میں اشتہاریوں کی گرفتاری میں گوجرانوالہ پو لیس کا مسلسل ا ٓخری نمبر پر ہے اور اس سے بھی نیچے کوئی اور نمبر ہوتا تو وہ بھی بلاشبہ گوجرانوالہ پولیس کا ہی ہوتا ،من مانی تفتیش ،جھوٹے پر چے اور جزا و سزا پر اختیار کی اندھی خواہش نے اس فورس کو باقاعدہ غنڈہ فورس کی شکل دے رکھی ہے جو پیسے کھا کرہتھکڑی لگے ملزموں کو بھی بیچ چوراہے میں بچھا کر پیٹنے سے باز نہیں آتی ،جعلی پولیس مقابلوں کی ایف آئی آر دیکھیں ایک ہی بچگانہ کہانی ملے گی کہ’’ درجنوں مقدمات میں ملوث اشتہاری ملزمان اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ۔۔۔کیا ملزمان نے تاقیامت اپنے ہی ساتھیوں کے ہاتھوں مرنے کا معاہدہ کر رکھا ہے یا اشتہاریوں کاپولیس کی گولی سے مرنا منع ہے ۔۔۔اتنا کمزور سکرپٹ تو تیسرے درجے کی پنجابی فلموں کا بھی نہیں ہوتامگر ستم یہ کہ پولیس کی وہی ظالمانہ اور فرسودہ فلم چل رہی ہے اور کچھ حلقوں کی طرف سے داد و تحسین کے ڈونگرے بھی برسائے جا رہے ہیں ، بچپن میں کہاوت سنی تھی خوشامد بری بلا ہے اور دیکھا یہ ہے کہ اس بلا سے بڑی لعنت کوئی نہیں ہے تاجر تنظیموں ،موبائل ایسوسی ایشنوں کے’’ پولیس کے مارے ہوئے‘‘ نمائندے ان نکمے نکھٹو اور پرلے درجے کے نالائق پولیس افسران کو بھی پھولوں کے گلدستے پیش کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے ان کا یقین ہے کہ پولیس کی مرضی کے بغیرکوئی جائز و ناجائز کاروبار ہو نہیں سکتا ، اب تو پولیس کی حالت یہ ہے کہ کسی کے منہ سے پولیس افسرکی تعریف سنیں تو یقین کر لیں کہ یہ شخص خود ضرور کسی دو نمبر دھندے میں ملوث ہے ۔کسی عام شہری سے پوچھ کے دیکھیں وہ آپ کو بتا دے گا کہ رات کو کہاں کہاں جوئے کی محفلیں سجتی ہیں اور کس کس جگہ پر جام چھلکائے جاتے ہیں ، حسن و شباب کا انتظام کہاں سے کرناہے اور کہاں انسانی نسل کو ملیا میٹ کر دینے والا زہر بکتا ہے ۔۔۔۔ لیکن پتا نہیں تو صرف پولیس کو ۔۔ حرام کامال کھا کھا کر اندھے بہرے بن کر اورکانوں میں خوشامد کی مدھر موسیقی ٹھونس کر یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے معاشرے پر بہت بڑا احسان کر دیا ہے ۔۔۔ تازہ قیامت تھانہ اروپ میں ڈھائی گئی ہے۔۔جو شہر سے زیادہ دور واقع نہیں مگر لگتا ہے کہ شاید یہ کسی جنگل کی کہانی ہے ،جعلی دارالامن میں شیخوپورہ سے ایک جواں سالہ خاتون کو ڈکیتی کے زیورات بیچنے کے الزام میں گرفتار کر کے لایا گیا اور شنید ہے کہ وہ بدقسمتی سے ’’منہ متھے‘‘ بھی لگتی ہو گی ۔۔۔ ویسے تھانے میں تو میلے کچیلے کپڑوں میں رلی ہوئی بھکارن بھی چلی جائے توسپاہی سے لے کر ایس ایچ او تک سب اپنی غلیظ نظروں سے اسکا پورا وجود ناپنے لگتے ہیں، اس خاتون کے ساتھ بھی ایساسلوک ہی ہوا جسکی ایک تھانے جیسی گندی ،بدبو دار اورناپاک جگہ پر توقع کی جاسکتی تھی ،نہ جانے کس کس نے اس ملزمہ کی مجبوری کا فائدہ لیا،بعد میں خبر باہر نکلی تو نیچے سے اوپر تک کے تمام وردی والے بھیڑئیے واقعہ کی حقیقت چھپانے کے لئے جھوٹ پہ جھوٹ گھڑنے لگے ،ایک شخص کا کام کہا جانے لگا جو ملازم نہیں تھا ، گویاوردی والے سارے تو ’’اس وقت‘‘ نوافل کی ادائیگی میں مصروف تھے ، ۔۔۔۔اعلیٰ افسران تو کئی دنوں تک تھانے کے اندر زیادتی کو ماننے سے ہی انکار کرتے رہے ۔زیادتی کرنے والے کو ایس ایچ او کا دوست تو کبھی محرر کا دوست بتایا جاتا رہا ، اخباروں میں خاتون کے ساتھ زیادتی کا واقعہ نمایاں ہوا تو انکوائری کاڈرامہ لکھنے کی ذمہ داری ایک پیٹی بھائی افسر کے سپرد کر دی گئی ،جس نے اعلیٰ فسروں کی منشا کے مطابق گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنے کے لئے ان سپاہیوں پر نزلہ گرا یا جو عام طور پر ایسے مواقع میسر آنے پر محرومین میں شامل ہوتے ہیں اور ایس ایچ او کو تواے ایس آئی بنانے کی سزا دے کر اسکی نوکری بچا لی گئی ،غضب ہے خدا کا ۔۔۔تھانے میں عورت کی آبرو ریزی ہوئی ہے اور ایس ایچ او تک کو فارغ نہیں کیا گیا۔۔۔ اس انوکھے انصاف پرانسانی حقو ق کے تحفظ کا ایک اور ایوارڈتو بنتا ہی ہے ۔۔یہی نہیں اور سن لیں ۔۔پولیس افسران اب اس واقعہ کو عورت کی رضامندی سے تعبیر کر رہے ہیں ۔۔یعنی کوئی عورت اپنی مرضی سے تھانے میں جا کے جسم پیش کر سکتی ہے،یہ برائی نہیں ۔۔۔؟ یوں بھی اب زنا بالجبر کی بات کھل ہی گئی ہے اس تو اچھی بھلی عورت کو’’گشتی‘‘ قرار دینے میں کونسی دیر لگتی ہے ،اس تصور سے تووجود لرز اٹھتا ہے کہ خدانخواستہ میاں بیوی یا ساس بہو گھر میں جھگڑ کرتھانے پہنچ جائیں تو یہ وردی والے یہ درندے بھنبھوڑ ہی تو ڈالیں گے قابو آنے والی کسی بھی عورت کو۔۔۔ سوال یہ ہے کہ ایک عورت کی عزت اس جگہ محفوظ نہیں جسے دارالامن کہتے ہیں تو اس معاشرے میں کہاں محفوظ ہوگی جہاں پولیس کی سرپرستی میں پلنے والے غنڈوں ،بدمعاشوں اور لفنگوں کی تعداد بہت زیادہ ہے ، ہم نے آپکے انسانی حقوق کے ایوارڈ ’’ساڑنے‘‘ ہیں جب آپکی ناک کے نیچے ملزمہ عورتوں سے تھانوں میں بستر پر لٹا کر’’ تفتیش‘‘ کی جا رہی ہے۔تھانے میں زیادتی ثابت ہونے کے بعد اعلیٰ افسران میں ذرہ برابر بھی اخلاقی جرات ہوتی توانہیں فوری مستعفی ہوجاناچاہئے تھا مگر شرم و حیا کی کمی کے سبب ایسانہیں ہوا،تاجر تنظیموں کے وہ نمائندے جو پولیس جیسی غنڈہ فورس کو پھولوں کے ہار پہناتے ہوئے نہیں تھکتے یہ بتائیں کہ وہ حالیہ واقعہ کے بعد ان نکمے پولیس افسران کو جوتوں کے ہار پہنانے کب جا رہے ہیں۔۔۔؟
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Faisal Farooq

Read More Articles by Faisal Farooq: 77 Articles with 29365 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 Dec, 2016 Views: 570

Comments

آپ کی رائے