تذکرۂ حضرت مولانامفتی عبدالمجید دین پوری شہید رحمہ اللہ

(غلام مصطفی رفیق, karachi)
انہی برگزیدہ وستودہ صفات ہستیوں میں سے ایک ہستی استاذِمحترم حضرت مولانامفتی عبدالمجیددین پوری شہیدرحمہ اللہ کی بھی تھی۔آپ کی شہادت کاسانحہ ایسادلخراش تھاکہ دل ہرگزیقین کرنے کوتیارنہ تھا،چندمنٹ قبل زیارت ہوئی اورکچھ ہی دیربعدیہ اطلاع جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی کہ ’’بڑے مفتی صاحب شہیدکردیئے گئے ہیں‘‘۔

تذکرۂ حضرت مولانامفتی عبدالمجید دین پوری شہید رحمہ اللہ

باقی رہنے والی ذات صرف اللہ تعالیٰ کی ہے،اس جہانِ فانی میں بے شمارلوگ آئے اورچلے گئے،زمانے کی گردش اپنی پُرفریب رفتارسے چلتی رہی اورآنے جانے والوں کانظارہ کرتی رہی،چلے جانے والوں کاذکربھی ان کے وجودکی طرح مٹی میں مل گیا ، لیکن اللہ ہی کی مخلوقات میں سے کچھ رفیع الصفات ،باکمال ہستیاں ایسی بھی گزری ہیں جن کے وجودِمسعودسے تولوگ محروم ہوگئے لیکن نہ صرف یہ کہ ان کانام باقی رہتاہے بلکہ وہ اپنے عظیم الشان علمی اورعملی کارناموں کی وجہ سے جوانہوں نے زمانے کے شدائدکوسہتے ہوئے اورانتھک محنت کے ذریعے عرق ریزی وجانفشانی سے سرانجام دیئے ہوتے ہیں،ہمیشہ کے لئے باقی رہ کرتاریخ کاحصہ بن جاتے ہیں اوربعدمیں آنے والوں کے لئے نشانِ منزل ثابت ہوتے ہیں،اوران کی حیاتِ مستعاردوسروں کے لئے مشعلِ راہ ہواکرتی ہے۔
مت سہل جانوپھرتاہے فلک برسوں *
تب خاک کے پردوں سے نکلتاہے انسان

انہی برگزیدہ وستودہ صفات ہستیوں میں سے ایک ہستی استاذِمحترم حضرت مولانامفتی عبدالمجیددین پوری شہیدرحمہ اللہ کی بھی تھی۔آپ کی شہادت کاسانحہ ایسادلخراش تھاکہ دل ہرگزیقین کرنے کوتیارنہ تھا،چندمنٹ قبل زیارت ہوئی اورکچھ ہی دیربعدیہ اطلاع جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی کہ ’’بڑے مفتی صاحب شہیدکردیئے گئے ہیں‘‘۔آپ کی شہادت پریقین بھی کیسے کیاجاتاکہ بغیرکسی سابقہ آثاروقرائن کے ایک غیرمتنازع،منکسرالمزاج،متواضع صفت، خالص علمی ذوق ومصروفیات رکھنے والے اورسیاسی ومذہبی تنظیموں سے کوسوں دور،ایک بے ضررانسان کواچانک چھین لیاگیا،لیکن قادرِ مطلق علیم وحکیم ذات کے فیصلوں کے سامنے دل ودماغ کوسوائے تسلیم کے کوئی چارۂ کارنہیں،اس کے فیصلے انسانی عقل سے ماوریٰ ہیں۔

حضرت مفتی صاحب شہیدرحمہ اللہ کی جدائی،آپ کی شخصیت وکمالات،اوصاف ومحاسن،علمی تبحراورفقہی ذوق پرلکھنے والوں نے خوب لکھااورہرایک نے اپنے احساسات،جذبات،حضرت سے تعلق وارادت اورعقیدت کاخوب اظہارکیا۔حضرت استاذِمحترم شہیدرحمہ اللہ میں ذاتی شخصیت کے لحاظ سے دووصف نمایاں تھے:ایک تواضع وعاجزی کااوردوسرامحبت وشفقت کا۔آپ کی حیاتِ مبارکہ میں جب کوئی آپ کی شخصیت کاتصورذہن میں لئے آتا اورپھرجب آپ کواپنی آنکھوں سے دیکھتاکہ چال چلن میں اتباع نبویؐ کی جھلک اوررفتارپیغمبری کاعکس،لہجہ محبت آمیز،گفتگومیں نرمی،ہرایک سے خندہ پیشانی سے ملنا، تومتاثر ہوئے بغیرنہ رہتا۔شایدشہادت جیساعالی مرتبہ ملنے کے اسباب میں سے ایک حکمت یہ بھی ہواورحقیقت یہ ہے کہ ایسے ہی گوشۂ گمنامی میں رہنے والے متواضع اوردرویش صفت لوگوں کواللہ تعالیٰ بامِ عروج تک پہنچاتے ہیں اورشہرت سے نوازکرہردل عزیزبنالیتے ہیں۔

حضرت مفتی صاحب شہیدرحمہ اللہ اپنی سادگی وبے نفسی میں حقیقتًاسلف کی تصویرتھے،آپ کی سادہ پوشی اوردرویشی سے یہ اندازہ لگانامشکل تھاکہ آپ جامعہ بنوری ٹاؤن جیسے عالمی ادارے کے استاذِ حدیث اور دارالافتاءکے مسئول ہیں۔ہمارے تمام اکابردیوبندرحمہ اللہ کی یہ خصوصیت اورنمایاں امتیازہے کہ علم وفضل کے سمندرسینے میں جذب کرلینے کے باوجودان کی تواضع،فنائیت اورللہیت انتہاء کوپہنچی ہوئی تھی اوروہ شہرت ونام ونمودسے کوسوں دورتھے۔

چنانچہ بانیٔ دارالعلوم دیوبند،حجۃ الاسلام،قاسم العلوم والخیرات حضرت مولاناقاسم نانوتوی رحمہ اللہ علوم وفنون کے بحرِناپیداکنارتھے،ان کی عمیق ودقیق تصانیف سے ان کے بلندرتبے کاکچھ اندازہ ہوتاہے،لیکن ایسے بلندپایہ ووسیع علم کے باوجودبے نفسی کایہ عالم تھاکہ خودفرماتے ہیں :’’جس طرح صوفیوں میں بدنام ہوں اسی طرح مولویت کادھبہ بھی مجھ پرلگاہواہے،اس لئے پھونک پھونک کرقدم رکھناپڑتاہے، اگریہ مولویت کی قیدنہ ہوتی توقاسم کی خاک تک کا پتہ نہ چلتاجانوروں کے گھونسلابھی ہوتاہے میرے لئے یہ بھی نہ ہوتااورکوئی میری ہواتک نہ پاتا‘‘۔ (ارواح ثلاثہ)

امام العصر،محدث وقت علامہ محمدانورشاہ کشمیری رحمہ اللہ علم وفضل،وسعت مطالعہ،منقولات ومعقولات اورقوت حافظہ میں اپناثانی نہیں رکھتے تھے،لیکن اس کے باوجودمحدث العصرعلامہ سیدمحمدیوسف بنوری رحمہ اللہ کی زبانی سنئے وہ فرماتے ہیں:
’’ایک مسئلہ میں کشمیرکے علمائ کااختلاف ہوگیا،علامہ انورشاہ کشمیریؒ تصفیہ کے لئے کشمیرتشریف لے گئے ،فریقین کے دلائل سننے کے بعدحضرت بنوریؒ کواپنافیصلہ لکھنے کاحکم دیاتوآپ نے شاہ صاحب کے نام کے ساتھ ’’الحبرالبحر‘‘کے تعظیمی القاب لکھ دیئے، حضرت شاہ صاحبؒ نے دیکھاتوقلم ہاتھ میں لیکرزبردستی یہ الفاظ مٹادیئے اورتنبیہی لہجہ میں فرمایا:’’آپ کوصرف مولانامحمدانورشاہ لکھنے کی اجازت ہے‘‘۔(حیات انور)

شیخ العرب والعجم حضرت مولاناسیدحسین احمدمدنی رحمہ اللہ اکثرتحریرات کے اخیرمیں اپنے آپ کو’’ننگِ اسلاف‘‘ لکھاکرتے تھے،کسی نے دریافت کیاتوفرمایا:
’’...اپنی نفس پرستی اورکسل مندی کی بنائ پرکوراہی رہا،اس بنائ پراپنے آپ کوننگِ اسلاف لکھتاہوں،یہ لکھناتکلفًانہیں بلکہ حقیقت میں اپنے اسلاف کرام قدس اللّٰہ اسرارہم کے لئے ننگ وعارہی ہوں‘‘۔(سلوک وطریقت)

محدث العصر،بانیٔ جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن، حضرت مولاناسیدمحمدیوسف بنوری رحمہ اللہ اس بات کوبھی پسندنہیں فرماتے تھے کہ آپ کومہتمم یاصدرمدرس یاشیخ الحدیث لکھاجائے،خودفرماتے تھے کہ :
’’واللہ میں نے یہ مدرسہ اس لئے نہیں بنایاکہ مہتمم یاشیخ الحدیث کہلاؤں‘‘جلال میں آکرفرماتے’’اس مقصدپرلعنت‘‘ پھرفرماتے ’’اگرکوئی مدرسہ کااہتمام اوربخاری شریف پڑھانے کاکام اپنے ذمہ لے لئے تومجھے خوشی ہوگی اورمیں ایک عام خادم کی طرح سے مدرسہ کاادنیٰ سے ادنیٰ کام کرنے میں بھی عارمحسوس نہیں کروں گا‘‘۔(محدث العصر نمبر بینات)

استاذِمحترم حضرت مولانامفتی عبدالمجیددین پوری شہیدرحمہ اللہ بھی ان تمام صفات میں سوفیصداپنے اسلاف کے نقشِ قدم کے پیروتھے،اکثرجامعہ کے مغربی گیٹ سے تشریف لاتے اورمسجدکے وضوخانے میں وضوفرماکرکنگھی فرماتے،رومال سے چہرہ پونجھتے ، پھررستہ کے ایک طرف ہوکرچلتے،کبھی رستہ کے درمیان یالوگوں کے جھرمٹ میں چلتے نہیں دیکھے گئے اورنہ ہی آپ کے دائیں بائیں، آگے پیچھے لوگوں کاہجوم نظرآیا۔

دارالافتاء کی طرف تشریف لاتے توبالکل دیوارکے قریب ہوکرچلتے ہوئے تشریف لاتے،آپ کی نگاہیں زمین پرجمی ہوئی ہوتی تھیں اوراخیرکے ایام میں جب اعذارکی بنائ پرعصارکھنے لگے تواس اندازِ چلن میں مزیدعاجزی اورتواضع کاپہلونمایاں ہوگیاتھا۔ شمائل میں سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق جوروایات ملتی ہیں حضرت مفتی صاحب شہیدؒصحیح معنوں میں ان کاپَرتووعکس تھے۔ آپ کی ہراداسے حبّ نبوی واتباع پیغمبری چھلکتی ہوئی نظرآتی تھی۔اورآپ اس دعائے نبویؐ کے حقیقی مصداق تھے:
’’اللّٰھم اجعلنی فی عینی صغیراً وفی اعین الناس کبیراً‘‘۔

ہمیشہ اپنے آپ کومٹاکرگمنامی میں رکھا،ریاونمودسے بہت دورتھے،ایک مرتبہ دورانِ درس درجہ تخصص کی کلاس میں نصیحت فرماتے ہوئے ارشادفرمایاتھاکہ:
’’تخصص کرلینے سے کوئی مفتی نہیں بن جاتا،البتہ مسائل کے تلاش کاطریقہ معلوم ہوجاتاہے،ہمیں خودکوئی مفتی کہتاہے توشرم آتی ہے ہم اس لقب کے مستحق نہیں‘‘۔

سبحان اللہ!کتنی عجیب بات ہے کہ ایک شخص پاکستان بھرکے سب سے معروف اورمستنددارالافتاء کے مسئول کے عہدہ پرفائزہوںاورجن کے فتوی کوعوام میں حتمی فیصلہ سمجھاجاتاہو ان کی کسرنفسی اورفنافی اللہ کایہ حال ہے۔

جس طرح ظاہری صفات کمالیہ سے متصف تھے اسی طرح باطنًابھی اونچے مرتبہ پرفائزتھے،ظاہرہے کہ:
’’سیرۃ المرء تنبئی عن سریرتہ‘‘۔انسان کی ظاہری سیرت اس کے باطن کاآئینہ ہوتی ہے۔

طلباواحبا ب ومتعلقین سے محبت بھی بے انتہاء تھی،کبھی کبھارازراہِ تنبیہ واصلاح عتاب بھی فرمافرمادیتے مگرفورًاہی دلجوئی کرکے مطمئن کردیتے،اک مسکراہٹ سے ساری تلخی ختم فرمادیتے ۔اللہ تعالیٰ نے علم وعمل کارعب عطافرمایاتھا،قریب جاتے ہرشخص گھبراتامگرجوقریب ہوگیاوہ گرویدہ ہوجاتا،بلاتفریق ہرشخص سے خندہ پیشانی ومسکراہٹ سے ملتے اورہرممکن تعاون فرماتے۔

بندہ تخصص سے فراغت کے بعداپنے کچھ ساتھیوں کے ہمراہ ایک مدرسہ میں خدمت کے لئے حاضرہوااگرچہ وہ کوئی مشہور یااعلیٰ تعلیمی معیارکاادارہ نہ تھاتاہم یہ کہاگیاکہ کسی مشہوردینی شخصیت کی تصدیق لازمی ہے،ہماری نظریں حضرت استاذِمحترم شہیدرحمہ اللہ پرمرکوزہوئیں،ساتھ ساتھ ہمت بھی نہیں ہورہی تھی کہ اتنے سے کام کے لئے حضرت کوزحمت دیں،تصدیق ودستخط لیناعجیب سا محسوس ہورہاتھا،بہرحال ہمت کرکے حاضرخدمت ہوئے اورصورتحال بتلائی،بڑے مفتی صاحب شہیدرحمہ اللہ نے نہ صرف یہ کہ تائیدی وتصدیقی کلمات تحریرفرمائے بلکہ دستخط فرماکرمہربھی عنایت فرمائی کہ یہ بھی اس پرلگادی جائے اورہرساتھی کے لئے الگ الگ تحریرلکھی،نہ انکارفرمایانہ کسی اورکے پاس جانے کامشورہ دیا۔اس طرح کے بے شمارواقعات ہیں۔

اس سے اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ طلباپرکس قدرشفیق ومہربان تھے،اوران کے قلب میں طلباکے لئے وہی محبت،درد اورجذبہ موجزن تھاجوایک مشفق والدکے دل میں اپنی حقیقی اولادکے لئے ہوتاہے،بلکہ یہ روحانی رابطہ اس خونی رشتے سے کہیں بڑھ کرمضبوط اورپختہ ہواکرتاہے۔

متعلقین،احباب اورلاتعدادشاگرداپنے اس عظیم استاذ،مشفق ومتواضع شخصیت سے محروم ہوگئے اورحقیقت یہ ہے کہ:
’’تعرف النعمۃ عندالفقدان‘‘۔نعمت کی صحیح قدراورپہچان چھن جانے کے بعدآتی ہے۔

حق تعالیٰ حضرت استاذِ محترم مفتی عبدالمجیددین پوری شہیدؒکی قبرمبارک پراپنی رضوان ورحمتوں کی بارش برسائے اوران کے درجات عالیہ کومزیدارفع واعلیٰ بنائے اورجنت الفردس میں بلندمقام عطافرمائے،آمین۔
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: غلام مصطفی رفیق

Read More Articles by غلام مصطفی رفیق: 14 Articles with 9614 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
31 Dec, 2016 Views: 668

Comments

آپ کی رائے