صوفیہ اور بھکتی تحریک کے ادبی اثرات:ایک کثیر لسانی مطالعہ

(Safdar Imam Qadri, India)
 عرب و ایران میں اسلام اور تصوّف کے آغاز اور توسیع کے جو بھی مدارج رہے ہوں،ہندستان میں اہلِ اسلام کی آمد سے جو سماجی اختلاط قائم ہوا ،اُس سے مذہبی ،تعلیمی ،سماجی اور اقتدار کی صورتِ حال میں گو نا گوں تبدیلیاں سامنے آئیں ۔انھیں نہ عرب و ایران کی روایات سے مکمّل طور پر جوڑا جا سکتا ہے اور نہ ہی ہندستان کے مقامی باشندگان بالخصوص برہمن اور بودّھوں یا جینیوں کی مذہبی اور سماجی رسومیات کا پورا پورا پر تَو تسلیم کرنا چاہیے ۔کہنے کو یہ تاریخ کا ایک عام سا واقعہ ہے کہ ساتویں صدی عیسوی سے لے کر بارھویں صدی عیسوی تک ہندستان میں مختلف راستوں اور مقاصِد کے تحت مسلمان وارِد ہوئے جن میں سے کچھ اپنے مقاصد میں ناکام ہوکر بھی واپس ہوئے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اُن میں سے بعض افراد کی نسل در نسل نے یہاں حکومتیں قائم کیں ۔چند تبلیغِ مذہب میں فقیرانہ وَشی اختیار کر کے کوچہ کوچہ اور قریہ قریہ پھرے اور عوامی سوطح پر مذہب کے پیغام کو عام کرنے میں منہمک ہوگئے ۔آنے جانے اور بود و باش اختیار کرنے کا یہ سلسلہ ہر ملک و قوم کا مقدّر ہے اورتہذیبِ انسانی کے ارتقاکی ایک عمومی راہ ہے۔ لیکن ہندستان میں مسلمانوں کی آمد ہندستانی تاریخ و تہذیب کے لیے ایک عام سی بات نہیں سمجھی جاسکتی۔بھلے یہ اہالیانِ عرب اور کچھ حد تک ایران و عراق یا دوسرے ممالک کے لیے ایک معمولی سا تاریخی واقعہ ہی رہا ہو ۔
ہندستان میں مسلمانوں کی آمد اور ابتدائی چار پانچ سو برسوں میں اس ملک کے اقتدار کی حصو لیابی مورّخین کی دلچسپی کا بنیادی موضوع ہے لیکن اِس دَور میں ہندستان کی مذہبی، لسانی اور فلسفیانہ اساس کی جو تشکیلِ نو ہوئی ،ادب کے ایک طالب علم ہونے کے ناطے اِس کے متعلّقات پر ہمیں علاحدہ طور پر غور و فکر کر نے کی ضرورت ہے ۔آریہ ،بودھ اور جین مذاہب یا سنسکرت،پراکرت اور پالی زبانوں کے کار پر دازوں کی تاریخ میں دوٗر دوٗر تک ہم مشربی کا کوئی طَور دکھائی نہیں دیتا ۔دراویڈیوں کو آریائی اقوام نے اِس طرح پَسپا کیا کہ کئی ہزار سال تک ملک کے خاص اور مرکزی علاقوں میں وہ کہیں دیکھے نہیں جاسکے۔ دراویڈی زبان اور قوم کے اثرات تو اُس عہد کی نسلی منافرت میں یوں بھی ممکن نہیں تھے۔آریاؤں پر جب بودھ اور جین قابض ہوتے ہیں تو پوری تاریخ میں کہیں ایک بار بھی وہ سنسکرت زبان اور تہذیب کے ساتھ کسی رشتے میں بندھے ہوئے نہیں پائے جاتے ۔بودھ اور جین کے آپسی رشتوں کا یہ حال ہے کہ کوئی بھی بودھ پالی زبان سے باہر نہیں نکلتا اور جینیوں کا طَور یہ کہ اُن کی تبلیغ میں صرف اور صرف پراکرتوں کا ہی استعمال ہو رہا تھا۔پورے ملک میں شاید بود و باش اور زندگی کرنے کا وہ پیمانہ ہی وضع نہیں ہوا تھا جس میں دو اقوام یا دو زبانوں کے افراد مِل جُل کر جی سکتے تھے اور اپنی اپنی زبانوں میں کاروبارِ حیات کو مکمّل کر سکتے تھے ۔سب الگ الگ اور آزادانہ جزائر بن کر خود کو ایک دوسرے سے بے خبر اور علاحدہ طور پر قائم رکھنے کی مہم میں مشغول تھے ۔
ہندستان میں مسلمانوں کی آمد کے ذرائع ،راستوں اور مقاصد پر غور کریں تو یہ بات بہت آسانی سے سمجھ میں آتی ہے کہ مسلمانوں کے الگ الگ گروہ اور قبائل کی ہندستان میں آمد اس ملک میں کثیر لسانی اور کثیر مذہبی صورتِ حال کا نقطۂ آغاز ہے ۔ہندستان کے مختلف علاقوں میں دراویڈی ،سنسکرت، پالی اور پراکرت جیسی مستند زبانیں موجود تھیں ۔مسلمانوں کے مختلف گروہ عربی ،فارسی اور تُرکی زبانوں کے ساتھ یہاں پہنچتے ہیں ۔ ہندستان کی سر زمین پر اُس وقت کم از کم ان سات زبانوں میں کام کرنے والوں کی موجودگی ایک نئی تاریخ کا پیش خیمہ بن جاتی ہے ۔یہ تمام زبانیں کلاسیکی اہمیت کی حامل تھیں ۔اہلِ عرب کو لسانی اشرافیت ثابت کرنے کے مرحلے میں ایرانیوں سے زبردست مقابلہ کرنا پڑا تھا ۔عجم نے یہ ثابت کیا کہ وہ گونگے نہیں ہیں۔ عربی کی مذہبی فضیلت کے باوجود اہلِ ایران اپنے عہدِ قدیم اور بعد از اسلام تاریخ کو لسانی اور تہذیبی سطح پر جوڑتے ہوئے ایک آزادانہ تہذیبی شناخت کے دعوے دار رہے اور تاریخ و تہذیب کے معاملے میں اہلِ عرب سے انھوں نے کبھی شکست قبول نہیں کی۔نتیجے کے طور پر عربی اور فارسی میں لین دین اور یگانگت کا ماحول پہلے ہی سے بڑھ چکا تھا جو رفتہ رفتہ تُرکی سے بھی شیر و شکر ہونے سے گریز کی خوٗ نہیں اپناتا ہے ۔یوں بھی اہلِ عرب کو غیر مذاہب کے افراد کے ساتھ جینے اور بود و باش اختیار کرنے کا خاصا تجربہ تھا ۔مذہبی امور اور سماجی معاملات کو خِلط مِلط کرکے دیکھنے کا رویّہ وہ عرب میں بھی نہیں اپناتے تھے اور کفّارِ مکّہ یا عیسائیوں اور یہودیوں کے ساتھ اُن کا سلوک نہایت معقول اور مساویانہ رہا تھا ۔
ہندستان میں مسلمانوں نے زبان اور مذہب کی ہم مشربانہ لَے کو بہ غور سمجھا اور عرب و ایران میں اِن کے جو ابتدائی اسباق انھوں نے پڑھے تھے،اُس کے وسیع پیمانے پر اطلاق کی ہندستان میں انھیں نئی دنیا حاصل ہو گئی ۔زبانوں اور قوموں کی اِس بھیڑ کو انھوں نے ساتھ ساتھ جینے اور ایک دوسرے کو قائم رہنے دینے کی کوشش کے ساتھ جس نئے تجربے میں تبدیل کیا، وہ دنیا کی تاریخ میں شاید ایک انوکھا اور پہلی بار آزمایا جانے والا نسخہ تھا ۔امیر خسرو نے جب یہ کہا:’’زبانِ یار من تُرکی و من تُرکی نمی دانم‘‘تویہ صرف ایک عاشقانہ معذرت نہیں تھی بلکہ یہ ہندستان کی اُس عہد کی لسانی خواہشات اور ضرورتوں سے اُپجاہوا ایک بڑا سوال تھا۔سیکھنے اور سمجھنے کے لیے جب خوش گوار ماحول ہو تو اُس کے نتائج بڑے کارگر طور پر سامنے آتے ہیں ۔ہندستان میں عورت اور شودر کو تعلیم کے مواقع سے دور رکھا گیا تھا۔ اسلام نے ہر مرد اور عورت کے لیے حصولِ علم کو فرض مانا۔یہ بھی ایک سچّائی ہے کہ مساوات اور عمومی تعلیم کا رنگ ہندستانی اقوام کو بلا شبہہ سب سے زیادہ بھایا ہوگا ۔اِس وجہ سے بھی ہندستان میں مسلمانوں کی اُس وقت کی زندگی اُس لسانی، تہذیبی اور مذہبی اعتبار سے وقفۂ صفر کو پُر کرنے میں کامیاب رہی۔
ایسا نہیں ہے کہ ہندستان میں مسلمان حکمراں یا تاجر اور مذہبی مبلّغین کوئی جادو کی چھڑی لے کر یہاں پہنچے تھے اور اس سے ہندستانی سماج کو مختلف انداز کی تبدیلیوں سے آشنا کرانے میں وہ ایک جھٹکے میں یوں ہی کامیاب ہوگئے۔ یہ صحیح ہے کہ عرب و ایران سے کثیر مذہبی اور کثیر لسانی اصولیات کے ساتھ وہ واردِ ہند ہوئے تھے لیکن انھیں ان اصولوں کو عمل کی زنجیروں میں باندھنے کے لیے ہندستان جیسی زرخیز تجربہ گاہ میسّر آئی جہاں سماج مختلف طبقوں میں بَٹا ہوا تھا اور سطح در سطح استحصال کے پیمانے قائم تھے۔ ہندستانی عوام کو اپنی سماجی بے چارگی اور Contradictions نے اسلام کے دروازے تک پہنچایا ہوگا۔ یہ اسلام مسلمان بادشاہوں کی طرف سے پیش کیا ہوا کوئی مذہبی تحفہ نہیں تھا۔ ایسا بھی نہیں کہ مسلم حکمراں جبریہ مذہب کی تبلیغ کے درپَے تھے۔ دلّی سلطنت کے مستقل قیام سے پہلے بارھویں صدی تک تو مسلمان حکومت کے اعتبار سے اتنے طاقت ور بھی نہیں تھے کہ ا س ملک پر اپنی قوّت کے سہارے اپنے مذہب کو پھیلا سکیں۔ محمود غزنوی سے بہادر شاہ ظفر تک مسلم حکمرانوں کی جو تاریخ موجود ہے، اُس میں ایک ہاتھ کی انگلیوں پر گننے والے ایسے بادشاہ بھی شاید ہی ملیں جنھوں نے اپنی رعایا پر اپنا ذاتی مذہب تھوپنا پسند کیا ہو۔تھوڑی بہت مثالیں جہاں جہاں تاریخ میں محفوظ ہوئی ہیں، وہ سیاسی مصلحتوں کے تحت ہیں اور ان کا حکومت پھیلانے سے تو رشتہ قائم کیا جاسکتا ہے لیکن وہ مذہب کی تبلیغ سے ہرگز متعلّق نہیں۔
ساتویں صدی عیسوی سے بارھویں صدی عیسوی تک ہندستان کے تہذیبی نقشے میں جو تبدیلیاں نظر آتی ہیں، انھیں بہ غور ملاحظہ کرنے سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ملکی سطح پر کچھ بنیادی تبدیلیاں رونما ہونے والی ہیں۔ آریائی، بودھ اور جین اقوام کے بعد اب اہلِ اسلام سے جو مقامی باشندگان کا ہم وار رشتہ قائم ہوا، اِس نے بڑی زبانوں کے تفوّق کے مقابلے علاقائی بولیوں اور اُن کے اَن گڑھ ادب کی پہچان کے لیے معقول مواقع فراہم کیے۔ مورّخین جس مذہبی اور سماجی اصلاح کی تحریک کی بات گیارھویں بارھویں صدی کے بعد کے دَور سے متعلّق قرار دیتے ہیں ، حقیقت یہی ہے کہ اِن پانچ صدیوں میں مقامی ضرورتوں اور مسلمان اقوام کے پاس موجود علمی و ادبی سہولیات کے بیچ جو قومی سطح پر اشتراک کی صورت پیدا ہوئی، اُسی میں ایسی گنجایشیں نکلیں کہ بدّوؤں اور اَن پڑھوں کی زبان میں علما اور فصحا محوِ گفتگو دکھائی دیتے ہیں۔ دیکھتے دیکھتے کمزور اور پس ماندہ اقوام اور برادریوں کے افراد تعلیم و تدریس اور مذہبی تبلیغ و اصلاح کے کاموں میں سرگرداں نظر آنے لگتے ہیں۔ بودھوں کے وقت کمزور طبقوں کے استحکام کی جو صورت پیدا ہوئی تھی، اُسے تھوڑی مدّت میں ہی برہمنی سازشوں نے پیچھے ڈھکیل دیا تھا اور سماج کی داخلی اصلاح کا کام رُک گیا تھا۔
تاریخِ ہند کے اِسی موڑ پر صوفیۂ کرام اور سَنت یا بھکت اصحاب کا ورود ہوتا ہے۔ جَین مُنیوں اور رِشیوں کی سرگرمیاں بھی اِسی زمانے میں سامنے آنے لگتی ہیں۔ جنوبی ہندستان میں شنکراچاریہ نے بھی مذہبی اصلاح کی کوششیں شروع کی تھیں۔ تمل ناڈو میں متعدّد رِشی سامنے آتے ہیں جو برہمنی مذہبیت کے خلاف سماجی اصلاح کی غرض سے بہت کچھ کہنا چاہتے ہیں۔ ہندو مذہب کی متعدّد دھاراؤں اور پنتھوں کو للکارنے والے افراد جگہ جگہ اُبھرنے لگے۔ مہاراشٹر میں سماجی بیداری کی یہ آگ کچھ ایسا شعلہ بن کر بھڑکی جس نے تہذیبی اور ثقافتی اعتبار سے نئے مہاراشٹر کی بنیاد رکھی۔ یہ سلسلہ پنجاب اور غیر منقسم ہندستان کے پنجاب اور سندھ کے حصّے میں کچھ ایسے بڑھا جہاں ایک نئے مذہب کی صرف داغ بیل ہی نہیں پڑی بلکہ یہ مذہب صوفی سنتوں کے باہمی رشتوں پہ مُہرِ تصدیق ثبت کرتا ہے۔ وسطی ہندستان میں ہرچند کہ بادشاہت کا زور بہت تھا لیکن ہرجگہ صوفی اور سنت اُبھرنے لگتے ہیں ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بادشاہت کے متوازی سماجی اور مذہبی اصلاح کی ذمّہ داری انھوں نے خود اپنے کاندھوں پر اُٹھارکھی ہے۔ ماگدھی اور اَردھ ماگدھی کے علاقے میں جہاں کبھی بودھوں کا زبردست اثر تھا، اُس خطّے میں بھی صوفی سنتوں کا ایک سلسلہ دکھائی دیتا ہے جو مشرقی اتّر پردیش ، بہار، بنگال، موجودہ بنگلہ دیش، آسام اور اُڑیسہ تک پہنچتا ہے۔جنوب سے شمال تک اور ہندستان کے مشرق سے مغرب تک صوفی سنتوں کا کارواں در کارواں موجود ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ بادشاہت کے متوازی صوفی سنتوں کا یہ غیر رسمی ادارہ قومی سطح پر اپنا وجود تسلیم کرانے میں کامیاب رہا۔
ایسا نہیں ہے کہ یہ تمام صوفیہ ایک ہی اندازِ نظرپر کاربند تھے۔ ہمارے بھکت اور سنت بھی مختلف مکتبِ خیال سے تعلق رکھتے تھے۔ اِن میں سے اکثر تصوّرات کی سطح پر کبھی کبھی متضاد اور مخالف رُخ بھی ظاہر کرتے ہیں۔ ایک دوسرے کے عقیدت مند آپس میں کبھی کبھی آویزشوں میں بھی مبتلا ہوتے تھے۔ سب ایک دوسرے سے مل کر بھی نہیں چل رہے تھے۔ اکثر اپنے ہی اُخروی مقاصد میں فنا اور دنیا کی دوسری باتوں سے بے خبر انداز سے جینے کے عادی رہے۔ بارھویں سے سترھویں اٹھارھویں صدی عیسوی کے عرصے کو جائزے کی بنیاد بنائیں تو مندرج ذیل باتیں واضح طور پر سامنے آتی ہیں:
۱۔ صوفیہ کے مختلف مکاتب آپس میں کسی رسّا کشی میں مبتلا نہیں اور مذہب کے عملی اور سماجی پہلوؤں پر زیادہ توجّہ دی جاتی ہے۔
۲۔ بھکت اور سنت ہندو مذہب کے سماجی پہلوؤں کو اصلاحی نقطۂ نظر سے دیکھتے ہیں اور مذہب کے انفرادی اور اجتماعی تصوّرات میں توازن قائم کرناچاہتے ہیں۔
۳۔ چھے سات سو برسوں میں شاید ہی کوئی صوفی یا بھکت نظر آئے جو غیر ضروری طور پر کسی مذہب یا بالخصوص دوسرے مذاہب کی بُرائی کرتا ہوا ملے۔ اس کے برعکس مذہبی امور کو خیر سگالی اور میل جول کے سماجی حربے کے طور پر دیکھنے کا ایک عمومی شعور فروغ پاتا ہے۔
۴۔ شریعت یا مذہبی رسومیات پر زور گھٹنے لگتا ہے اور اس کی جگہ پر ذاتی مجاہدہ اور فلاحی اعمال کو مذہبی پہچان عطا ہوتی ہے۔ یہ باتیں صوفی اور سنت دونوں حلقوں میں دکھائی دیتی ہیں۔
۵۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض صوفیہ اور مختلف سنت اُس عہد کی سکّہ بند اور مستند زبانوں کے ماہرین میں شمار ہوتے تھے لیکن اس کے برعکس اِن میں ایک بڑا طبقہ ایسا تھا جسے رسمی تعلیم کے دروازے تک پہنچنے کے کبھی مواقع حاصل نہیں ہوئے۔ لیکن دونوں انداز کے صوفی اور سنتوں نے اپنے ہم وطنوں کی سماجی اور مذہبی اصلاح کے اُمور پیشِ نظر رکھے اور اِس بڑے مقصد کو ہمیشہ توجّہ میں رکھا۔
۶۔ صوفی سنتوں کو بہ خوبی یہ معلوم تھا کہ ہمیں اپنی بات مقامی اور عوامی زبانوں میں پیش کرنے میں زیادہ کامیابی حاصل ہوگی۔ دکن اور مہاراشٹر میں اس کے سب سے ابتدائی تجربے ہوئے جو بڑھتے بڑھتے پنجاب اور ملتان یا بہار اور بنگال تک پہنچے ۔ کامیابی ہر جگہ صوفی سنتوں کے قدم چوم رہی تھی۔
یہ تمام اصلاحی تحریکیں جس دَم قدم سے مستحکم ہوئیں، وہ مقامی زبانوں کی ادبی وراثت تھی۔ یہ کہاں ممکن تھا کہ نام دیو، رامانند، تُکا رام، گورکھ ناتھ، رامانُج، کبیر داس، گیانیشور، وارث شاہ، بُلھے شاہ، گرونانک اور بابا فرید عربی، فارسی یا سنسکرت زبانوں میں اپنی بات پیش کرتے اور عوامی طور پر ان کے سننے والوں کا ایک حلقۂ اثر قائم ہوتا۔ ایسا ہونا ہوتا تو ہندستان میں برہمن واد کی بنیادیں کبھی کمزور نہ پڑتیں اور نہ کبھی بَودھ پورے ملک میں پھیل پاتے یا مسلمانوں کو ہی یہ موقع حاصل ہو پاتا۔ اصلاحی تحریک کے اِن کارپردازوں کو عوام کی زبانوں کا احترام اور انھی میں اُن سے گفتگو کرنے کا طَور اختیار کرنا اصولی اعتبار سے اِن اصلاحی تحریکوں کی رگوں میں دوڑنے والا وہ تازہ خون تھا جسے تاریخ میں شاید ہی کبھی استعمال کیاگیا ہو۔ زبانوں کی بنیاد پر چھوٹی بڑی قومیتوں اور بے اعتبار آبادیوں کو عزّت بخشنا وہ حقیقی اصول تھا جس نے بھکتی تحریک کو قومی سطح پر اتنی طاقت بخشی جس سے ہندستان کی سماجی ، مذہبی اور لسانی تشکیلِ نو کا کام پورا ہو سکا۔ کمال تو یہ ہے کہ اس عمل میں بادشاہت کا مستحکم ادارہ بھی ساحل سے ہی تماشا دیکھنے کے لیے مجبور ہوا اور آخرکار صوفی سنتوں کا ادارہ سماجی اور لسانی طاقت کی بنیاد پر ہندستان کی تشکیلِ نو کے فرائض ادا کرنے میں کامیاب ہوا۔
اِن اصلاحی تحریکوں کے اغراض و مقاصد اور اسباب و علَل پر غور کریں تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ کسی مضبوط تنظیمی سلسلے سے یہ ایک دوسرے سے جُڑے ہوئے نہیں تھے لیکن استادی شاگردی اور عقیدت مندوں کا سلسلہ در سلسلہ قائم ہونا ایک نئے انداز کی ادارہ سازی کا اس ملک میں تصوّر عام کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب کچھ غیر رسمی انداز میں ہوا اور ہندو مسلمانوں کے اختلاط اور اس عہد کی ضرورتوں کی بنیاد پر قائم ہوا۔ اس کے نتیجے میں لسانی وفور اور تصوّرات کا گھماسان مچا ہوا تھا۔ ان اصلاحی تحریک کاروں کی کامیابی کا یہ بھی سبب ہے کہ کوئی ایک مذہب یا کوئی حکمراں طبقہ ان کی اتنی شعلہ سامانیاں سنبھال نہیں سکتا تھا۔ تاریخ میں نہ جانے کتنے واقعات موجود ہیں کہ کسی ایک صوفی یا کسی سنت کے کسی ایک کام سے وہاں کی حکومت کے تہہ و بالا ہونے کے خطرات پیدا ہوگئے اور اس سے نَبردآزمائی کے لیے خود بادشاہ سلامت یا کبھی کبھی ان کی افواج کو میدان میں اُترنا پڑا۔ کئی صوفی سنت اصحابِ اقتدار کے جبر کا نشانہ بنے اور نہ جانے کتنے لوگوں کو جامِ شہادت نوش کرنا پڑا۔ اِن کا مقابلہ صرف سلطنت یا بادشاہوں سے نہیں ہوتا تھا بلکہ بار بار مذہبی روایات اور سماجی و تہذیبی اداروں سے بھی اِن کی مُبارزتیں چلتی رہتی تھیں۔
صوفی سنتوں کی اجتماعی طاقت کا اس بات سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ کسی بھی حکومت سے زیادہ ان کا پھیلاو تھا اور کسی بھی بادشاہ کے حکم نامے سے زیادہ ان کے اشاروں پہ سرِ تسلیم خم کرنے والی آبادیاں موجود تھیں۔ تاریخ میں ہزاروں ایسے واقعات موجود ہیں کہ نہ جانے کتنے بادشاہوں نے ایسے صوفی سنتوں کے دَر پہ جبہ سائی کی، اور اپنے ماتھے ٹیکے۔ صوفی سنتوں کی داخلی انسانی قوّت اعلا درجے کی تھی جس کے سبب اکثر و بیش تر وہ اہالیانِ اقتدار کی جانی انجانی سازشوں سے بھی محفوظ رہے اور سماجی یا عوامی طاقت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ پورے ملک کی چھوٹی بڑی زبانوں میں اور موجود مذاہب کے الگ الگ خانوں یا مسالک میں اجتماعی زندگی کو اُس کی بے پناہی سے نکال کر امن اور اطمینان کا طَور بخشنے کا جو کارنامہ صوفی سنتوں نے انجام دیا، اسی سے اُن کے عقیدت مندوں کی لاتعداد فوج پیدا ہوئی۔ اس سے پہلی بار ہندستان میں سماج ، شاعری اور مذہب کی فکری اساس میں بعض مماثل عناصر ابھر کر سامنے آئے جنھیں کبھی صوفیہ کا بھکتی راگ کے نام سے پہچانا گیا اور کبھی سنتوں ، بھکتوں کی صوفیانہ لَے کے طَور پر قبولِ عام کا درجہ عطا کیاگیا۔ اِن صوفی بھکتوں نے ہندستانی مذاہب کی روایات اور اُن کے ارتقا کو کس کس طرح سے متاثّر کیا،یہ ایک علاحدہ موضوع ہے اور ابھی زیرِ بحث نہیں۔ لیکن اس صوفی بھکتی راگ میں ہندستان کا ادبی اور لسانی مزاج کس طرح نئے رنگ و آہنگ کے ساتھ مستحکم ہوا اور آنے والے ادوار کے لیے ادبی فکر اور زبان کے ارتقا کو کس حد تک نئی تبدیلیوں سے روشناس کراسکا، یہ موجودہ مطالعے کا بنیاد ی تقاضا ہے۔
صوفی اور بھکت شعرا کے ادبی کارناموں پر مرتکز ہونے سے پہلے اجمالی طور پر اُن کے متن کے پایۂ استناد پر ایک سرسری گفتگو کرلینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ ابتدائی شعرا میں سَرہپا اور چندربردائی سے لے کر امیر خسروتک اور کبیر داس سے لے کر پنجاب کے اٹھارھویں صدی کے شعرا تک ہمارے پاس صوفی اور بھکتوں کی جو ایک طویل فہرست موجود ہے؛ اُن کے نام سے مقبول ادبی سرماے کاایک بڑا حصّہ ایسا ہے جس کے متن کو پورے طور پر مستند نہیں مانا جاسکتا۔ ابتدائی عہد میں سنسکرت، عربی اور فارسی یا جنوب میں تمل متون کی حفاظت کے لیے علمی سرگرمیاں دیکھی جاسکتی ہیں لیکن نئی اور بے اعتبار معمولی زبانوں کے ادبی کارناموں کو تحریر کا استحکام عطا کرنے کا شاید ہی اُس عہد میں کسی کو خیال آیا ہو جس کے سبب علم و ادب کا یہ عظیم سرمایہ بڑے پیمانے پر اپنی اصلی شکل و صورت میں محفوظ نہ رہ سکا۔ اس کی سب سے عبرت آمیز مثال خود امیر خسرو ہیں جن کا فارسی کلام تو محفوظ رہا لیکن بہت زمانے تک کسی کو یہ خیال ہی نہیں آیا کہ اُن کے ہندوی کلام کو بھی تحریر کا لباس عطا کرکے اُس اثاثے کے تحفّظ کا انتظام بھی کیا جائے۔ اِسی لیے آج امیر خسرو کے نام سے جس قدر بھی اُن کا ہندوی کلام محفوظ ہے یا جسے ہم نمونے کے طور پر استعمال کرتے ہیں؛ وہ کتنا دوسروں کا ہے اور کس قدر خسرو کا کہا ہوا ہے، اس کا اندازہ لگانا ممکن نہیں۔ بنارس کے کبیر داس کا جو کلام پنجاب میں بیٹھ کر گرونانک نے گروگرنتھ صاحب میں شامل کیا یا کبیر کے باقی ماندہ کلام کی اوّلین تدوین راجستھان کے حلقے میں ہوئی تو لسانیات کے ایک عام طالب علم کی حیثیت سے یہ سوال قائم ہوتا ہے کہ کبیر کی زبان جغرافیائی اور لسانیاتی نشیب و فراز اور ہزاروں میل یا سینکڑوں برسوں کی مسافت طے کرنے میں نہ جانے کس قدر بدل چکی ہوگی۔
ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ایک طویل مدّت تک ہمارا معاشرہ زبانی روایت کا تابع تھا۔ مذہب اور ادب دونوں کے کاروبار سُن کر اور اہم باتوں کو یاد کرلینے پر ہی چل رہے تھے۔ صوفیوں اور بھکتوں کے مخصوص خانوادوں میں ’سینہ بہ سینہ روایت‘ کی ایک اصطلاح استعمال ہوتی رہی ہے۔ صوفی بھکتوں کے یہاں اُن کے مخصوص متن کی ملکیت اُن کے بعد آنے والوں میں بھی فطری طور پر منتقل ہوجاتی تھی۔ عقیدت اور تبلیغ کے اعتبار سے اس میں خوبی ہی خوبی ہے لیکن متنی تنقید کے ایک طالب علم کی حیثیت سے یہیں ہمارے شبہات بڑھنے لگتے ہیں کہ ایسے حالات میں حقیقی متن میں الحاقی اور وضعی مواد کی شمولیت ایک فطری امر ہے۔ جب متن پورے طور پر معتبر نہ ہو، اُس کے نفسِ مضموں پر کیوں کر گفتگو کی جاسکتی ہے؟ انھی خدشات سے قرآن کی تدوین کا کام فوری طور پر مکمّل کیا گیا تھا اور سکھوں کے پانچویں گرو ارجن دیو کو جب الحاقی خدشات کا یقین ہوگیا تو انھوں نے گرو گرنتھ صاحب کو فوری طور پر مدوِّن کرنے کی ذمّہ داری اٹھائی۔ اردو کے طالب علم ’معراج العاشقین‘ اور دیگر رسائل کے خواجہ بندہ نواز گیسو دراز کے نام سے انتساب کے تنازعات سے واقف ہیں۔ الحاقی کلام سازش اور بدنیتی میں ہی شامل نہیں ہوتے بلکہ عقیدت مندی اور بعض اوقات عدم احتیاط کی وجہ سے بھی حقیقی متن کا حصّہ ہوجاتے ہیں۔
صوفیۂ کرام اور بھکتوں کے ادب کے مطالعہ کنندگان کے لیے یہاں عجیب و غریب مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ محقّقین کے لیے بھی یہ دشواری ہے کہ معتقدین کے بڑے حلقے کے سامنے جب وہ اُس متن کو خارج کرنے کا اعلان کرتے ہیں تو اُن میں سے ایک طبقہ اِس علمی نتیجے کو بہ وجوہ پسند نہیں کرتا اور پورے طور پر قبول کرنے سے گریز کرتا ہے۔ قدیم مذاہب کے بھی بعض معاملات اسی انداز کے ہیں۔ اسی لیے ان موضوعات کے تحقیقی اور تنقیدی طلبہ کے لیے ایک بڑا امتحان پیشِ نظر ہوتا ہے۔ اس بات سے کوئی کیسے انکار کرے کہ ان صوفی سنتوں نے بڑی تعداد میں شعر گوئی کی اور چھوٹی بڑی علاقائی بولیاں تحریر کی عزّت پانے کی منزلوں سے بہت دور پڑی رہ گئیں۔ حضرت شرف الدین یحییٰ منیری سے لے کر مرزا مظہر جانِ جاناں تک صوفیوں کا ایک باضابطہ سلسلہ ہے جنھوں نے رُشد و ہدایت کے سلسلے سے اپنے مریدین کو بڑی تعداد میں فارسی زبان میں خطوط تحریرکیے۔ اردو، ہندی یا علاقائی زبانوں کو تحریر کا وقار ابھی کہاں حاصل ہوا تھا۔ اسی لیے ابتدائی طور پر یہ بات تسلیم کرنا مناسب ہے کہ مختلف صوفیہ اور بھکت شعرا کے ادبی سرماے کے سلسلے سے جب بھی گفتگو کی جائے گی اور اُس کے لیے جو متن قابلِ غور ہوگا، اُس کے پایۂ استناد پر صد فی صد یقین کرنا ممکن نہیں۔ہماری مجبوری یہ ہے کہ اُسی ناقص، الحاقی اور غیر مستند متن پر مرتکز ہوکر ہمیں اس موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کرنا ہے۔
ہندستان میں صوفی اور بھکت شعرا کے مخصوص مراکزیا علاقوں پر توجّہ دیں تو سات آٹھ مقامات اپنے آپ اُبھر کر سامنے آتے ہیں۔ دلّی اور اُس کے آس پاس کے علاقے تو یوں بھی صوفیوں کے سب سے بڑے مرکز کے طور پر پہچان رکھتے ہیں۔ اسی طرح پنجاب اور سندھ کے علاقے ہندو مسلمان صوفیوں اور بھکتوں کے لیے اپنی زرخیزی کے سبب بڑے احترام سے دیکھے جاتے ہیں۔ دکن میں بہمنی سلطنت کے دَور سے ہی جگہ جگہ صوفیۂ کرام کی باضابطہ موجودگی دیکھنے کو ملتی ہے۔ جنوبی ہندستان بالخصوص تمل علاقے میں مذہبی بیداری کی تحریک چلانے والے کئی ایسے بھکتوں کی حیرت انگیز شہرت ہمیں ان کی جانب توجّہ دینے کے لیے مجبور کرتی ہے۔ مہاراشٹر کو بھکتی تحریک کا یوں بھی مرکز قرار دیتے ہیں اور عہدِ وسطیٰ میں ہندستان میں نئی بیداری کی مُہم اسی خطّے سے شروع ہوتی ہے۔ خواجہ معین الدین چشتی کے راجستھان میں قیام فرمانے سے وہ علاقہ یوں بھی صوفی سنتوں کی توجّہ کا مرکز بن کر اُبھرا۔ پورب کے علاقے میں مہاتما بدھ کے خطّے سے بھکت اور صوفیوں کا ایک سلسلہ قائم ہوتا ہے۔ مشرقی اتّر پردیش اور بہار کی زرخیزی اس باب میں بہت اہمیت کی حامل ہے۔ یہ سلسلہ موجودہ مغربی بنگال، بنگلہ دیش، اڑیسہ اور آسام تک کے بھکت کویوں تک پہنچتا ہے۔ان تمام صوفیوں اور بھکتوں کے ذریعہ آزمائی جارہی زبانوں پر غور کریں تو حیرت انگیز مسرّت کا احساس ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی آمد کے چھے سات سو برسوں کے دوران یہ ملک درجنوں نئی پُرانی زبانوں کی رگوں میں تازہ خون ڈال کر ایک نیا لسانی مجاہدہ کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ پندرھویں سولھویں صدی عیسوی تک تمِل، کنّڑ ، مراٹھی، اردو، ہندی، بنگلہ، پنجابی، سندھی، بھوج پوری، مگہی، کشمیری، راجستھانی، میتھلی ، اوہٹ، برج، ہریانوی، اودھی، دکنی، گجراتی وغیرہ زبانوں میں شعر و ادب کا وافر مقدار میں ادبی سرمایہ قائم ہونا یہ بتاتا ہے کہ یہ زبانیں اب اپنے پاؤں پر کھڑی ہوکر اظہار کا آزادانہ روپ اختیار کرنے کی اہل ہیں۔ ان میں کئی زبانوں کا بالکل ابتدائی سرمایہ انھی صوفیوں اور بھکتوں کی شاعری کی مرہونِ منت ہے۔ بعض صوفیوں اور بھکتوں نے ’مسلّمہ زبانوں‘ خاص طور پر عربی ، فارسی اور سنسکرت میں بھی رشدوہدایت کے سلسلے سے پیش رفت کی ۔ اُن میں سے اکثر کی ذاتی تعلیم ان زبانوں میں استناد کا درجہ رکھتی تھی۔ اس کے باوجود سب نے یہ کوشش کی کہ خاص طور پر وہ مقامی زبانوں کو ہی ذریعۂ اظہار بنائیں۔
بھکتی اور صوفیہ کے حلقے میں ایک بڑی جماعت ایسے افراد کی تھی جو رسمی تعلیم سے بہت دور تھے۔ مہاراشٹر کے تمام بھکت کوِی علم کی عمومی روشنی سے بہرہ ور نہ ہوسکے تھے۔ کبیر داس سے بلھے شاہ تک سب کاغذ قلم کے بغیر شعر و ادب کے کوچے کی سیّاحی میں نکلے تھے۔ ہندستان کی تاریخ میں یہ ایک ایسا انوکھا تجربہ تھا جب سماجی ، مذہبی اور ادبی اصلاح کی نکیل اُن افراد کے ہاتھوں میں تھی جنھیں ملک کا حرف شناس طبقہ ہونا بھی نہیں مانا جاسکتا۔ ایک دوسری صورت یہ بھی پیدا ہوئی کہ ان بھکتوں اور صوفیوں میں سے بڑی تعداد اُن افراد کی تھی جو سماجی اعتبار سے نہایت پس ماندہ اور محروم طبقوں سے آتے تھے۔ کہاں ہندو سماج میں شودر، وید واکیہ بھی سُن لے تو گناہ کا مُرتکِب ہوجاتا تھا لیکن چند صدیوں کے عوامی منتھن کے بعد جو نیا ماحول پیدا ہوا، اس میں نام دیو، تُکارام اور کبیر داس وغیرہ قوم کو اصلاح کا پیغام دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ان کی مصلحانہ حیثیت کا اس بات سے بھی ثبوت ملتا ہے کہ ان کے عقیدت مندوں اور پرستاروں کی تعداد نہ صرف اُن کے مخصوص علاقوں میں موجود تھی بلکہ وہ اپنے گرو کا سندیس دور دیس تک پہنچاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو پچاس ساٹھ برسوں کی میعاد میں کبیر کی شاعری پنجاب پہنچ کر گرونانک کے لیے اصلاحی صحیفے کا متن نہ بن گئی ہوتی۔
صوفیہ اور بھکت شعرا نے ہندستانی زبانوں کو اشرافیت سے گُریز کی ایک راہ دکھائی۔ عہدِ سلطنت میں فارسی کا بول بالا تھالیکن عوامی سطح پر علاقائی زبانوں کا آگے بڑھنا اور محدود پیمانے پر ہی سہی مگر طبقۂ اشراف کا بھی ان زبانوں کی طرف متوجہ ہونا ہندستان میں نئے لسانی مزاج کا اعلانیہ ہے۔ دکن میں بہمنی سلطنت کے زمانے میں ہی مقامی بولیوں کی طرف جھکاو کے آثار ملنے لگتے ہیں لیکن قطب شاہی اور عادل شاہی حکومتوں کے زیرِ اثر فارسی سے الگ اور علاقائی اعتبار سے اُبھرتی ہوئی زبانوں کی پشت پناہی سے پندرھویں صدی عیسوی کے ساتھ اردو کو ایک ایسا گھر نصیب ہوا جہاں اسے دیگر عوامی زبانوں سے طاقت لے کر اپنی آزادانہ تشکیل کے مراحل مکمّل کرنے تھے۔ یہیں وہ تجربات پہلی بار پایۂ تکمیل تک پہنچے جن کی رُو سے ہم نے امیر خسرو کا بھولا ہوا سبق پھر سے یادکیا اور اردو کو دیسی آداب بخشنے میں کوئی کوتاہی نہیں کی۔ شمالی ہندستان میں فارسی کا تفوّق اس قدر استحکام حاصل کرچکا تھا جس سے اردو کی آزادانہ ترقّی کے امکانات نہیں پیدا ہوسکتے تھے۔ نئی نئی صنفوں کی طرف لپک پیدا کرنا اور ادب کو غیر مذہبی اور کثیر تہذیبی و لسانی بنیادوں پر قائم کرنے کی جدّوجہد دکن میں بہت آسانی کے ساتھ اس لیے پایۂ تکمیل تک پہنچی کیوں کہ ان کاموں کے لیے وہاں کے بادشاہ بھی معاون و مددگار تھے۔ادب کے طور پر مستحکم روپ لیتے ہوئے زبان، تہذیب اور ثقافت کی تکثیریت کا جو لہو دکنی شعرا، صوفیہ اور شاعر فرماں رواؤں نے اردو کو عطا کیا، وہ اردو کی آج تک حقیقی پہچان ہے۔
مہاراشٹر میں ذات برادری کی تفریق اور سماجی اونچ نیچ کے خلاف جو ماحول پید اہوا ، اس کا دماغ وہاں کے بھکت شعرا ہی تھے۔ موجودہ مراٹھی زبان ابھی اُبھر بھی نہیں سکی تھی لیکن شَورسینی اپ بھرنش کی ایک شاہ راہ اُس طرف بھی بڑھی اور لسانی لین دین کا یہاں ایک ایسا سلسلہ قائم ہوا جس کا ایک سرا دکن سے بھی ملتا تھا۔ قدیم مرہٹی کے اثرات سے اردو کا دکنی ادب پورے طور پر فیض یاب ہوا تھا۔ مہاراشٹر کے جن پانچ بھکتوں کا تاریخ میں بار بار ذکر ہوتا ہے رام داس، گیانیشور، نا م دیو، تُکارام اور ایک ناتھ؛ یہ سب مدھیہ دیس کی بولیوں اور دکنی زبان کے بیچ ایک پُل کا کام کررہے تھے۔ دکن کے بادشاہوں کو آسانی سے سماجی بے انصافی اور برادرانہ اونچ نیچ کا اندازہ نہیں ہوسکتا تھا لیکن مہاراشٹر کے بھکتوں نے ہندستان کے منجمد سماجی نظام کو اندر سے جگانے کی کوشش کی۔ مہاراشٹر کے بھکت کویوں کا ایک کارنامہ یہ بھی ہے کہ بادشاہوں اور راجاؤں سے گھِرے ہوئے اس ملک میں انھوں نے شعر و ادب کو سماجی تبدیلی کا آلۂ کار بنانے میں ہندستان کی تاریخ میں پہلی بار کامیابی حاصل کی۔ بھکتی آندولن کے مورّخین بالعموم اس بات سے اتّفاق کرتے ہیں کہ ہندستان کو تہذیبی اور ثقافتی طور پر اندر سے بدلنے کے لیے جو بنیادی کوششیں ہوئیں، ان کی جڑ میں سماجی انصاف کے لیے بے تاب عوام کی خواہشات اور بے پناہ حمایت کے اسباب بھی خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ اسی لیے مہاراشٹر کے ان سماجی اصلاح کار شعرا کے اثر میں کرناٹک اور تمل ناڈو کے بھکت بھی آئے۔ وہاں بھی مذہبی جکڑبندی سے کمزور طبقوں میں ایک بے اطمینانی کا ماحول تھا۔ اصلاح کا سلسلہ اسی وجہ سے وہاں بھی آگے بڑھا۔
ہندستان کے مرکز میں بادشاہت تو تھی لیکن صوفی اور بھکتوں کے کچھ ایسے الگ انداز تھے کہ یہاں بھی اجتماعی زندگی اور شعرو ادب کی مجموعی صورتِ حال میں ان تبدیلیوں کے اثرات لازمی طور پر دکھائی دینے لگے تھے۔ مغلوں کے عہد میں وسطی ہندستان میں برج بھاشا اور اودھی کی ترقی ادبی مورّخین کے سامنے ایک کُھلی ہوئی کتاب کی طرح سے ہے۔ مَلِک محمد جائسی، سورداس اور تلسی داس تو عظیم شعرا کی فہرست میں شامل ہیں لیکن ان کے ساتھ ساتھ چھوٹے بڑے درجنوں شعرا ان بولیوں میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ان میں زبانوں کے اشرافیہ مزاج سے علاحدگی کا طَور تو ہے ہی لیکن مذہب کو پہچاننے میں بھی ایک عوامی ڈھب کام کررہا ہے۔سوراور تلسی نے مذہبی پیشواؤں کو جس عمومی انسانی سطح پر لاکر لوگوں کے سامنے پیش کیا، وہ اس عہد کے اعتبار سے مذہبی اور لسانی اشرافیہ کے لیے ایک چیلنج سے کم نہیں تھا۔ مدھیہ دیس کی یہ لَے پہلے سے ہی پورب میں کبیر کی شکل میں حیاتِ جاودانی حاصل کرچکی تھی۔ لسانی محقّقین کے لیے آج یہی سب سے بڑا معاملہ ہے کہ وہ کبیر کی اُس زبان کو کون سا نام دیں؟ بنارس کا باشندہ اُس عہد میں کس زبان میں گفتگو کرسکتا ہے؟ سہولت سے کبیر کی زبان کو ہم بَرج کہہ دیتے ہیں لیکن قرائن یہ کہتے ہیں کہ یہ موجودہ بھوج پوری کی قدیم شکل رہی ہوگی۔
پورب میں کبیر سے پہلے اور امیر خسرو کے فوراً بعد ودّیاپتی کے روپ میں ہمیں ایک ایسا شاعر دست یاب ہوتا ہے جو یوں تو سنسکرت زبان کا ماہر ہے اور طبقۂ اشراف کا نمایندہ ہے لیکن زبان کی نئی راہوں کا متلاشی یہ شخص جب ’کیرتی لتا‘ اور ’کیرتی پتاکا‘ لکھتا ہے تو ایک ایسی زبان کی شناخت کا مرحلہ قریب آجاتا ہے جسے میتھلی ، اوہٹ یا کھڑی بولی کی پچھلی کڑی کے طور پر پہچاننے کی کوشش ہوتی ہے۔ مخدوم الملک شرف الدین یحییٰ منیری کے ملفوظات میں قدیم اردو کے نمونے تو دستیاب نہ ہوسکے یا انھیں محفوظ کرنے کی ذمّہ داری میں سماج نے کوتاہی کی لیکن ان کے احوال سے یہ بات ثابت ہوجاتا ہے کہ تقریری سطح پر وہ اُس وقت کی عوامی زبان میں تبادلۂ خیال کیا کرتے تھے۔ ایسا نہیں ہوتا تو صرف فارسی دانی کے سبب ان کا پیغام اتنے بڑے حلقے تک کیسے پہنچ سکتا تھا اور یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ان کے عقیدت مندوں کی اتنی بڑی تعداد مقامی زبانوں سے ناواقفیت کی حالت میں سامنے نہیں آسکتی تھی۔ مشرق میں صوفی اور بھکت شعرا کا یہ کارواں بنگال اور آسام، اڑیسہ تک پہنچا۔ ہندو مذہب میں اصلاح کے سوالوں کو چنڈی داس ، سنکردیوا، روپا گوسوامی اور کمار چیتنیہ کے حلقۂ ارادت سے انھیں مضبوطی ملی۔اس سے بنگلہ اور آسامی زبانوں کو اظہار کا ایک نیا اور آزادانہ وسیلہ ہاتھ میں آیا۔
ہندستان میں صوفی اور بھکتی آندولن اور ان کے شعرا بالعموم دو ایسے متوازی دھارے کے طور پر نظر آتے ہیں جو بھلے ضمنی طور پر ایک دوسرے سے کبھی کبھی مخاصمت رکھتے ہوں مگر بالعموم سماجی اصلاح کے کاموں کو الگ الگ انداز میں اور ایک دوسرے سے لاتعلّق ہوکر کرنے کے لیے اپنی پہچان رکھتے ہیں۔ لیکن صوفی اور بھکتی دھارا پانچ آبوں کی زمین پنجاب میں پہنچتے ہی ایک ایسے دریا میں بدل جاتی ہے جہاں پانی کے دونوں رنگ ایک ہوجاتے ہیں اور اصلاحِ معاشرت کی دونوں صورتیں ایک دوسرے میں مُدغم ہوتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ بابا فرید سے لے کر وارث شاہ اور بلھے شاہ تک اور گرونانگ کے شامل اکثر و بیش تر سکھ گروؤں کی شاعری اور ان کے پیغامات کا جائزہ لیا جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ملک کے کسی گوشے میں بھی مکمّل طور سے تصوّراتی یکجائی کا یہ تجربہ انجام تک نہیں پہنچ سکاتھا لیکن پنچاب کی زرخیزی نے اسے محبّت اور میل جول کا ہی پیغام نہیں سمجھا بلکہ غور و فکر کی یہاں وہ بنیادیں بھی فراہم ہوئیں جسے ہم سکھ مذہب سے تعبیر کرتے ہیں۔ گرونانک نے سماجی بے انصافی اور اعتقاد کے نام پر استحصال کے ہر مرحلے میں احتجاج کی صدا بلند کی ۔ ان کے بعد کے آنے والوں نے بھی اس پیغام کو سمجھا اور دیکھتے دیکھتے پنجابی زبان اس لائق ہوگئی کہ اس میں محبّت کی لازوال کہانی ’ہیر رانجھا‘ قلم بند ہوکر ہمیں مذہب ، تصوف ، سماج اور ادب کے بارے میں نئے انداز سے غور و فکر کے لیے دعوت دیتی ہے۔ گروگرنتھ صاحب بھی اس لسانی مجاہدہ اور میل جول کا ایسا محضر نامہ ہے جہاں ملک کے مختلف گوشوں کی بغاوت پسند اصلاحی آوازوں کو شامل کرکے مذہب اور زبان کے آیندہ سفر کی پیشین گوئی کی گئی۔ پنجاب سے زبان اور مذہب کی یہ انقلابی لَے سندھ تک پہنچی اور وہاں کے صوفیہ نے حسبِ ضرورت اپنی تعلیمات سے حکّامِ وقت سے لوہا لینے اور اپنی جان کی قربانی دینے سے بھی دریغ نہ کیا۔
صوفی اور بھکت شعرا کے قومی سطح پر موجود ہونے کا ہندستان کی عوامی زبانوں کو سب سے زیادہ فائدہ حاصل ہوا۔ مذاہب زیادہ مستحکم ادارے تھے اور ان میں اصلاح یا تبدیلیوں کے مواقع محدود پیمانے پر اور مدّھم رفتار سے ہی پیدا ہوسکتے تھے۔ اسلام اور ہندو دھرم کو مرکز میں رکھ کر اصلاح کے پیمانے وضع کیے جائیں تو یہ بات آسانی سے سمجھ میں آسکتی ہے کہ یہاں امکانات بہرطور محدود ہیں۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ مذاہب کے ظاہری ڈھانچے میں پنتھ اور مسلک کی خانہ بندیاں بہت ہیں اور اصلاح کے مرحلے میں ان میں مزید اضافے ہوتے رہے لیکن باہری ڈھانچہ اسی طرح سے محفوظ رہا۔ لیکن جیسے ہی ہم ساتویں صدی عیسوی سے بارھویں اور تیرھویں سے سترھویں صدی کے ہزار برسوں کی لسانی تبدیلیوں پر غور کرتے ہیں تو یہ بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ مقدار اور معیار دونوں پہلوؤں سے اِن کی رفتار تیز تر تھی۔ سنسکرت اور پالی کے شکنجے سے جیسے ہی یہ سماج نکلا ، ملک کے طول و عرض میں نئی نئی اور چھوٹی بڑی زبانوں نے ان کے استقبال کا انداز اختیار کر رکھا تھا۔
صوفی اور بھکتوں نے الگ الگ علاقوں میں سماجی، تہذیبی اور لسانی سطح پر جو تجربات حاصل کیے، اس سے قومی ادب کی پہچان کے اصول پیدا ہوئے۔ عوامی زبانوں اور علاقائی سطح پر پہچانی جانے والی بولیوں کو اعتبار حاصل ہونا تو ایک زندہ حقیقت ہے ہی لیکن زبانوں کا غیر مذہبی کردار ہونا یا مشترک تہذیبی اور مذہبی ماحول کا ترجمان بن کر ابھرنا ، یہ بھی اسی عہد میں صوفی بھکتوں کی مصاحبت میں ممکن ہوا۔ سماجی انصاف اور اشرافیت سے گریز یا حسبِ ضرورت اشرافیہ تعصبات سے مبارزت کے عناصر بھی زبان کی گُھٹّی میں اُسی عہد میں پڑے جن سے ہم اس عہد کے مزاج کو سمجھنا چاہتے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ صوفیوں اور بھکتوں نے مِل جُل کر تقریباً ایک ہزار سال میں ہندستانی معاشرے کو ایک ایسی ٹھوس تربیت عطا کی جس کے نتیجے میں ہماری چھوٹی چھوٹی زبانوں نے مل کر ایک مستقبل پسند نقطۂ نظر اور علمی مزاج کو پہچاننے میں کامیابی حاصل کی۔ آج ہم جس آئینی نظام میں کچھ مخصوص اصولوں کی پابندی کے ساتھ باہمی اعتماد اور تعظیم کے رویّوں کے ساتھ ساتھ اپنے ملک کو دنیا کی ترقی یافتہ اقوام میں پہچاننے کی کوشش کرتے ہیں تو ہمیں یہ بات یاد رہنی چاہیے کہ آئین کے معماروں نے عہدِ وسطیٰ کے صوفی سنتوں کے پڑھائے گئے اسباق سے ہی قانون کی وہ کتاب لکھی جس کے اوراق ہمیشہ ہماری رہنمائی کرتے رہیں گے۔ ہندستانی تاریخ کا ہر مورّخ صوفی اور بھکت شعرا کا اس اعتبار سے احسان مند ہوتا ہے کیوں کہ الگ الگ خانوں میں بٹے اس ملک کا قومی مزاج بادشاہوں اور راجاؤں نے نہیں بنایا تھا بلکہ محبّت اور انقلاب کے شیدائی ہمارے صوفی اور بھکت شعرا نے اسے قائم کیا تھا۔

اختتامیہ
عہدِ حاضر میں مذہب کے نام سے جس قدر بھی بنیاد پرستانہ اور غیر منطقی تہذیب و معاشرت کا تصّور عام کیا گیا ہو ،یہ حقیقت ہے کہ ہر عہد میں مذہب کے تصّورات ایسے نہ تھے ۔انسانی تہذیب کی نہ جانے کتنی صدیاں بیتی ہیں جب مذاہب نے انسانی ذہنوں کی ترتیب و ترکیب میں خود کو وقف کر دیا کیوں کہ ان کا مقصد بہترین معاشرت کی تعمیر و تشکیل تھا۔ آریائی، بودھ ،اسلامی اور یوروپی تہذیبوں کے الگ الگ وقتوں میں اثر قبول کرنے کی وجہ سے ہندستان جس ملے جُلے معاشرے میں تبدیل ہوا ،اس کی تشکیل میں مسلمان صوفیہ اور غیر مسلم بھکت =]غیر مسلم=صوفیہ[بنیاد کی اینٹ ثابت ہوتے ہیں ۔
صوفیہ اور بھکت ہندستان میں مذہبی تبلیغ اور سماجی اصلاح کے عَلم بردار کے طور پر اپنے کام کا آغاز کرتے ہیں۔ان کا کثیر لسانی اور کثیرثقافتی پس منظر انھیں مذاہب کی تبلیغ کا ایک ہم مشربانہ طوَر بخشتا ہے ۔مذہبی غور و فکر کی ایک تجرباتی لَے نے ہر اُس مذہب میں ،جہاں سے یہ صوفی اور بھکت آتے تھے، اصلاح اور تغیّر و تبدّل کی صورت پیدا کی ۔کہیں اسے مذہبی تعبیر و تشریح کے نام سے پہچان ملی ،کہیں نیا مذہبی مسلک یاسلیقہ سمجھا گیا (=پنتھ)؛اور کہیں موجود مذاہب میں بغاوت کا انھیں عَلَم بردارتسلیم کیا گیا ۔علما سے لے کر شاہانِ وقت تک ،مختلف طبقوں میں ان سے اختلاف کر نے والوں کی بھی کمی نہیں رہی لیکن عوامی ترغیب اور قبولیت کے معاملے میں صوفی اور بھکت بڑی حد تک کامیاب ہوئے۔
مہاراشٹر سے بہار ،بنگال سے پنجاب اور سندھ، گجرات سے آندھرا پردیش تک ؛نویں صدی عیسوی سے سترھویں اٹھارھویں صدی عیسوی تک جین مُنی،بَودھ بھکشو،دلت مذہبی پیشوا،ہندو بھکت اور مسلمان صوفیۂ کرام سب اپنے اپنے جغرافیائی خطّوں ،اپنی اپنی مادری یاثانوی یا کاروباری زبانوں اور اپنے علمی مزاج و آداب میں ایک ساتھ ادب ،تہذیب، موسیقی اور مذہب کا ایک محلول تیّار کر رہے تھے ۔مواصلاتی نظام کی عمومی سست رفتاری کے سبب صوفی اور بھکت کم و بیش ایک دوسرے سے بے خبر ہو کرمختلف علاقوں میں ’پیغامِ حق ‘کے یکساں فرائض انجام دے رہے تھے ۔ان میں بہت سارے افراد کاغذا ور قلم کی رسمی زندگی سے ناآشنا تھے اس کے باوجودتعلیم و تدریس کے فرائض سے بے رُخ نہیں تھے ۔
اس ایک ہزار سال میں ہندستان میں تُرک قوم کے افراد بر سرِاقتدارہوئے اور ان سے یوروپی اقوام نے حکومت کی باگ ڈور چھینی۔بودھ اور جین مذاہب کی طاقت بھی تاریخ کے نہاں خانے میں گُم ہوئی اور برہمن واد بھی اپنے انجام تک پہنچا ۔مختلف،متضاد اور متشدّد صورتِ حال سے ملک کا سیاسی، معاشرتی اور تہذیبی ڈھانچا بھی متاثّر ہوئے بغیر نہ رہ سکا ۔تاریخ کے اس صبر آزما موڑ پرہندستانی سماج میں بکھراو کی حکمرانی کے بجاے اتّحاد و اشتراک کی کیفیت پھر بھی ترقّی پاتی رہی ۔یہ یگانگت اور یکجہتی حقیقت میں صوفیہ اور بھکتوں کی تعلیم و تبلیغ کا ہی نتیجہ ہے ۔ وہ ایک ایسی عوامی قوّت بن کر پھیلے جن کے پاس سماج ،مذہب اور سیاست کو سلیقے سے چلانے کا ایک بنیادی حربہ تھا :رواداری ۔
صوفی اور بھکتوں نے موسیقی اور شاعری کا ایک مشترک منچ تیّار کیا ۔ادب ،مذہب اور ثقافت کا یہ ایک ملا جلا پیمانہ تھا ۔فارسی ،عربی،سنسکرت اور پالی کی مسلّمہ روایات کا مقدور بھر استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ یہ لوگ نئی ابھرتی ہوئی زبانوں اور عوامی بولیوں کے دروازے تک بھی پہنچے ۔یہ ہندستان میں شعر و ادب کی عوامی قبولیت کی پہلی مثال تھی۔ اردو، ہندی، سرائکی، سندھی، پنجابی، دکنی، بنگلہ، بھوجپوری، ہریانوی، مگہی، اوہٹ، اودھی، برج، بندیلی، قنّوجی وغیرہ زبانوں اور بولیوں میں صوفی اور بھکت شعرا یا اصلاح پسندوں نے جو علمی و ادبی اور مذہبی و سماجی خدمات انجام دیں ،اسی سے ہندستان میں سماجی ،لسانی اور ثقافتی رواداری کی بنیاد پڑی۔
جنوب ایشیائی سماج کی لسانی اور مذہبی تکثیریت کی بنیادوں میں صوفی اور بھکت شعرا کا لہو سمایا ہوا ہے ۔اسی تکثیریت کا محقّقانہ جائزہ وقت کی ایک اہم ضرورت ہے ۔امیر خسرو،کبیر داس،وارث شاہ،بلھے شاہ،شمس العشاق شاہ میراں جی ،تلسی داس،سور داس،رئے داس ،عبد الرحمان منجھن، ودیاپتی، تکارام،گرو نانک جیسے مشہور ناموں کے ساتھ ساتھ سینکڑوں کم معلوم اور معدوم صوفی اور بھکت بر صغیر کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے ہیں جن کے ادبی کاموں کی قدر و قیمت کا تعیّن لازم ہے۔اس مطالعے سے لسانی اور مذہبی تکثیریت کا تصوّر بھی مزید استحکام حاصل کرے گا ۔





کتابیات(اردو)

۱۔ اے۔بی۔ایم۔حبیب اﷲ: ہندوستان میں مسلم حکومتوں کی اساس(مترجم: مسعودالحق)، ترقی اردو بیورو، نئی دہلی؛ ۱۹۸۴ء
۲۔ بلونت سنگھ آنند: بابا فرید(ترجمہ: مہر افشاں فاروقی)، ساہتیہ اکادمی، نئی دہلی؛۱۹۹۲ء
۳۔ پربھاکر ماچوے: کبیر(مترجم : سید خواجہ معین الدین)، ساہتیہ اکادمی، نئی دہلی؛ ۲۰۰۶ء
۴۔ پرمانند سریواستوا: جائسی(مترجم: حیدر جعفری سید)، ساہتیہ اکادمی، نئی دہلی؛۱۹۹۸ء
۵۔ جمیل جالبی: تاریخِ ادب اردو(جلد اوّل)، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی:۱۹۷۷ء
۶۔ رتن سنگھ: حضرت وارث شاہ، اردو اکادمی، دہلی؛۲۰۱۲ء
۷۔ سُریندر سنگھ کوہلی: بلہے شاہ(ترجمہ: کامل قریشی)، ساہتیہ اکادمی، نئی دہلی؛ ۱۹۹۶ء
۸۔ سید سلیمان ندوی : مقالاتِ سُلیمان(حصّہ اوّل): سیّد صباح الدین عبدالرحمٰن(مرتّب)، معارف، اعظم گڑھ؛ ۱۹۶۶ء
۹۔ سید سلیمان ندوی : مقالاتِ سُلیمان(حصّہ دوم): سیّد صباح الدین عبدالرحمٰن(مرتّب)، معارف، اعظم گڑھ؛
۱۰۔ مولانا سیّد سلیمان ندوی: نقوشِ سُلیمانی، دارالمُصنفین شبلی اکیڈمی، اعظم گڈھ؛۱۹۹۳ء
۱۱۔ سیّد سلیمان ندوی [مولانا ]: نقوشِ سُلیمانی، دارالمُصنفین شبلی اکیڈمی، اعظم گڈھ؛۱۹۹۳ء
۱۲۔ سیّد اسد علی: ہندی ادب کے بھگتی کال پر مسلم ثقافت کے اثرات(مترجم: ماجدہ اسد)، ترقی اردو بیورو، نئی دہلی؛ ۱۹۹۱ء
۱۳۔ شکیل الرحمن: محمد قلی قطب شاہ کی جمالیات، نرالی دنیا پبلیکیشنز، نئی دہلی؛ ۲۰۰۴ء
۱۴۔ شکیل الرحمان : تصوف کی جمالیات
۱۵۔ شمیم طارق: تقابل اور تناظر، ماؤلی پرنٹس اینڈ آرٹس، ممبئی؛۲۰۱۰ء
۱۶۔ ظ۔ انصاری، ابوالفیض سحر: خسرو شناسی ، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی؛۱۹۸۹ء
۱۷۔ عبدالرحمٰن: سندیس راسک(مرتّب:انوار احمد)، بہاء الدین زکریا یونیورسٹی، ملتان؛۲۰۰۷ء
۱۸۔ عذراوقار: تصوف کی پنجابی روایت، نگارشات، لاہور؛۱۹۹۵ء
۱۹۔ عمادالحسن آزاد فاروقی: عشق اور بھکتی، مکتبہ جامعہ، نئی دہلی؛۱۹۷۸ء
۲۰۔ کنور محمد اشرف: ہندستانی معاشرہ عہدِ وسطیٰ میں(مترجم: قمرالدین)، نیشنل بُک ٹرسٹ، نئی دہلی؛۱۹۷۴ء
۲۱۔ مجیب رضوی: پیچھے پھرت کہت کبیر کبیراور دوسرے مضامین، دلّی کتاب گھر، دہلی؛ ۲۰۰۹ء
۲۲۔ محمد اسلم: دینِ الٰہی اور اس کا پسِ منظر،
۲۳۔ محمد شکیل احمد صدّیقی: تصوّفِ اسلام اور اُس کی مختصر تاریخ، نامی پریس، لکھنؤ؛۱۹۷۴ء
۲۴۔ محمد مجیب: ہندوستانی سماج پر اسلامی اثر اور دوسرے مضامین(مترجمہ: محمد ذاکر)، دلّی کتاب گھر، دلی؛ ۲۰۱۱ء
۲۵۔ محی الدّین بمبئی والا:تصوّف اور ہندوستانی معاشرہ، موڈرن پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی؛۱۹۹۸ء
۲۶۔ مسعود حسین: محمد قلی قطب شاہ، ساہتیہ اکادمی، نئی دہلی؛ ۱۹۹۸ء
۲۷۔ نجم الہدیٰ: تصوّف اور کلامِ قربیؔ، دی آزاد پریس ، پٹنہ؛ ۱۹۸۴ء

Select Bibliography(English)

1. Asghar Ali Engineer: Sufism and Communal Harmony, Printwell, Jaipur; 1991
2. Gurbachan Singh Talib: Guru Nanak, Sahitya Academy, New Delhi; 2001
3. Gurcharan Sing: Warris Shah, Sahitya Academy, New Delhi; 1998
4. I H Azad Faruqi: Sufism and Bhakti, Abhinav Publications, New Delhi, 1984
5. K. A. Nizami: On Islamic History & Culture, Iradah-i Adabiyat-i Delli, Delhi; 1995
6. Kartar S Duggal: Sain Bulleh Shah-The Mystic Muse, Abhinav Publications, New Delhi; 1996
7. M.Mujeeb: Islamic Influence on Indian Society, Meenakshi Prakashan, Meerut; 1972
8. Mohd Yahya Tamizi: Sufi Movement in Eastern India, Idarah-i Adabiyat-i Delli, Delhi: 1992
9. Mohinder Singh Joshi: Guru Arjan Dev, Sahitya Academy, New Delhi; 1997
10. N.N.Bhattacharya:Medieval Bhakti Movements in India, Munshiram Manoharlal, Delhi; 1989
11. Ramanath Jha: Vidyapati, Sahitya Academy, New Delhi; 1983
12. Sanjeev Chatterji: Tagore Vis-a-Vis Kabir, Vijay Goel, Delhi; 2008
13. Sarah F D Ansari: Sufi Saints and State Power, Cambridge Univ. Press, Melbourne; 1992
14. Shyam Manohar Pandey: Poetic Influence on Bhakti, Aravali Books, New Delhi: 1999
15. Suniti Kumar Chatterji: Jayadeva, Sahitya Academy, New Delhi; 1996
16. T.C.Rastogi: Sufism, Sterling Publishers Private Limited, New Delhi; 1990
17. Usha Nilsson: Surdas, Sahitya Academy, New Delhi; 2009
18. V. Raghavan(Pref):Devotional Poets and Mystics(I),Publications Division,New Delhi; 1991
19. V. Raghavan(Pref):Devotional Poets and Mystics(II), Publications Division, New Delhi; 1991
20. Zia Ahmad Badauni: The Sufi Influence and other Essays, Zaheer Ahmed Siddiqi (Ed), Educational Book House, Aligarh;1982

Select Bibliography(Hindi)

1. Dharampal Maini: Madhyayugeen Nirgun Chetna, Lokbharti Prakashan, Allahabad; 1972
2. Dhirendra Varma: Brajbhasha, Hindustani Academy, Allahabad; 1954
3. Gopeshwar Singh: Bhakti Andolan ke Samajik Aadhar, Prakashan Sansthan, New Delhi; 2002
4. Gurbachan Singh Talib: Guru Nanak (Tr.Narendra Mohan), Sahitya Academy, New Delhi; 1995
5. Hazari Prasad Dwedi: Kabir, Rajkamal Prakashan, New Delhi; 2000
6. Mohammad Hassan: Nazir Akbar Aabadi(Tr.Asghar Wajahat), Sahitya Academy, New Delhi; 1991
7. Mohanlal Tiwari: Hindi Bhasha per Farsi aur Angrezi ka Prabhav, Nagri Pracharini, Varansi;Vik-2026
8. Mukund Dwedi: Hazari Prasad Dwedi Granthawali(vol.-3), Rajkamal Prakashan, New Delhi; 2007
9. Mukund Dwedi: Hazari Prasad Dwedi Granthawali(vol.-5), Rajkamal Prakashan, New Delhi; 2007
10. Mukund Dwedi: Hazari Prasad Dwedi Granthawali(vol.-6), Rajkamal Prakashan, New Delhi; 2007
11. Namwar Singh: Hindi ke Vikas me Apbhransh ka Yog, Lokbharti Prakashan, AIlahabad; 1997
12. Om Prakash Tripathi: Sant, Sahitya aur Lokmangal; Lokbharti Prakashan, AIlahabad; 1993
13. Prabhakar Machve: Kabir, Sahitya Academy, New Delhi; 1996
14. Prashuram Chaturwedi: Sufi-Kavya Sangrah, Hindi Sahitya Sammelan, Prayag; Shaka-Sam-1880
15. Purushottam Agarwal: Akath Kahani Prem ki, Rajkamal Prakashan, Allahabad; 2010
16. Rahul Sanskrityayan: Doha-Kosh, Bihar Rashtra Bhasha Parishad, Patna; 1997
17. Ram Chandra Shukla: Goswami Tulsi Das, Nagri Pracharini Sabha, Varansi; Samwat-2019
18. Ram Chandra Shukla: Sur Das, Nagri Pracharini Sabha, Varansi; Samwat-2044
19. Ramchandra Shukla: Hindi Sahitya ka Itihas, Nagri Pracharini Sabha, Varansi; Vikram-2055
20. Ramswarup Chaturvedi: Bhakti Kavya Yatra, Lokbharti Prakashan, Allahabad; 2003
21. Saumendranath Tagore: Ram Mohan Roy(Tr.Shubha Varma), Sahitya Academy, New Delhi; 2002
22. Shanta Singh: Chandarbardai, Sahitya Academy, New Delhi; 2000
23. Shiv Kumar Mishr: Bhakti Andolan aur Bhakti-Kavya, Lokbharti Prakashan, Ilahabad; 2010
24. Shyam Manohar Pandey: Madhyayugin Premakhyan, Lokbharti Prakashan, Allahabad; 1982
25. Surendra Singh Kohli: Bulle Shah(Tr.Kumud Mathur), Sahitya Academy, New Delhi; 1992
26. Uday Bhanu Singh: Tulsi, Radha Krishn, Pvt. Ltd., New Delhi; 1995
27. Vijayendra Snatak: Rahim, Sahitya Academy, New Delhi; 1994
28. Vishvambharnath Upadhyay: Sarhapa, Sahitya Academy, New Delhi, 2004
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Safdar Imam Qadri

Read More Articles by Safdar Imam Qadri: 50 Articles with 76067 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
05 Jan, 2017 Views: 2998

Comments

آپ کی رائے