دوستی کا قرض(حصہ اول)

(Abdul Kabeer, Okara)
دوست بنانا بہت آسان ہے۔ لیکن دوستی نبھانا بہت مشکل ہے۔ کچھ لوگ دوستی نبھانے کی خاطر جان وار دیتے ہیں۔ اسی طرح کے کچھ سرفروں کی کہانی
میں نے کبھی خواب میں بھی یہ نہیں سوچا تھا کہ میں ایک رات ایسی بھی ہو گی جس رات کو 3 بجے مجھے اپنے دو دوستوں کے ساتھ چاول کھانے پڑیں گے۔کیونکہ ہمارے گھر میں ماحول ایسا تھا کہ عشا کی نماز کے بعد گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں تھی۔اس کی وجہ یہ تھی کہ میرے گھر والے مجھ پر کچھ زیادہ ہی یقین کرتے تھے۔جس کی وجہ سے مجھے اگر نماز پڑھنے میں دیر ہو جاتی تو پھر بھی مجھے گھر والوں کی باتوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔لگتا ہے آج پانچوں ہی نمازیں اکٹھی پڑھ کر آئے ہو۔
٭٭٭
اس میٹنگ میں موجود ہر لڑکابہت زیادہ اہم ہے۔ اس میٹنگ کا مقصد ہی تمام لڑکوں کو ان کی اہمیت سے آگاہ کرنا ہے۔ ان میں موجود چھپی صلاحیت کو نکھارنا ہے۔ اگر ہم آپس میں اتفاق اور محبت رکھیں گے تو دنیا کی کوئی طاقت ہمیں کسی میدان میں شکست نہیں دے سکتی ۔مگر جب ہم دوسرے کے دل میں نفرت رکھیں گے تو یہ کسی میدان میں جیتنا ہمارے لیے نا ممکن ہو گا۔اس لیے اگر ہم چاہتے ہیں کہ فتح و نصرت ہمارے قدم چومے تو ہمیشہ آپس میں دوستوں کی طرح رہیں۔ہماری کرکٹ ٹیم کے کپتان علی احمد وقار میٹنگ کے دوران اپنے کھلاڑیوں کو لیکچر دے رہے تھے۔ایک دوسرے کی عزت کرنا ہمارا فرض ہے۔ایک دوسرے کی رائے کو سمجھنے کی کوشش کریں ۔اگر کوئی دوست غلطی کرتا ہے تو اسے پیار سے سمجھائیں۔ سلام دوستی کے نام
٭٭٭
حدیث شریف میں آتا ہے جب کوئی شخص اپنے مسلمان بھائی کی مدد میں لگ جاتا ہے تو اللہ پاک اس کے تمام کام آسان کر دیتے ہیں ۔خواہ کتنی ہی مشکلیں اور رکاوٹیں کیوں نہ ہو لیکن جس کام ذمہ اللہ تعالی لے لیتا ہے ۔وہ ہو کر رہتا ہے۔یہ بات میرے ذہن میں صرف جنرل نالج کی حد تک تھی۔کیونکہ میں نے کبھی اس کا عملی مظاہرہ نہیں دیکھا تھا ، نہ ہی میرے اعما ل اس قابل تھے۔
٭٭٭
تقریبا رات کے بارہ بج چکے تھے۔ میں ابھی تک اپنا لیپ ٹاپ کو استعمال کر رہا تھا۔ میرے موبائل پہ میسج کی ٹون بجی ۔ میں نے دیکھا تو سکرین پہ میرے دوست کا میسج نمودار ہوا۔ اگر چہ ہم گہرے دوست تھے مگر اتنی رات کو اس کا کم ہی میسج آتا تھا۔ میں بہت حیران تھا اس وقت جناب مجھے کیسے یاد کر سکتے ہیں۔
٭٭٭
شاباش حیدر ! بہت اچھا کھیل رہے ہو! کپتان حیدر کی حوصلہ افزائی کر رہا تھا۔ حیدر 93 رنز کر چکا تھا۔ جو کہ اس کے الرحیم کرکٹ کلب میں بیسٹ سکور تھا۔ادھرحیدر نے سنگل لے کر اپنے سکور میں ایک رن کا اضافہ کیا تھا۔ میں سوچ رہا تھا کہ انشا اللہ حیدر آج ضرور سینچری اسکور کرے گا۔ حیدر میری امید پر پورا اترا تھا۔پوری ٹیم نے کھڑے ہو کر حیدر کی پر فارمنس کو دل کھول کر داد دی۔ کپتان نے گلے لگایا ۔ حیدرنے اللہ کے حضور سجدہ کرکے اپنے بیٹ کو فضا میں لہرایا تو اپنے دوست کی کامیابی کو دیکھ کر میں خوشی سے پھولے نہ سما رہا تھا۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abdul Kabeer

Read More Articles by Abdul Kabeer: 25 Articles with 24780 views »
I'm Abdul Kabir. I'm like to write my personal life moments as well social issues... View More
14 Jan, 2017 Views: 934

Comments

آپ کی رائے
nice
By: Abrish anmol, Sargodha on Jan, 19 2017
Reply Reply
0 Like
nice,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
By: umama khan, kohat on Jan, 18 2017
Reply Reply
0 Like