دیر

(Mohammad Danishwer, lahore)

Late

دیر ہونا، نہ ہونا کام کے صحیح وقت پر ہونے نہ ہونے پر منحصر ہے۔ کوئی بھی شخص ایک کام سے دیر میں تب ہوتا ہے جب وہ اس کام کے مقررہ وقت پر ہونے والے لمحے کو گزار بیٹھے۔ وہ ایک لمحہ جب گزر جائے تو آنے والے تمام لمحات دیر کے لمحات ہوتے ہیں۔ اور وہ لمحات اس وقت تک دیر کے لمحات ہی کہلائیں گے جب تک وہ شخص اس کام کو انجام نہ دے لے یا پھر بیشتر لوگوں کی طرح اس سے پیچھا نہ چھڑا لے۔

ہم بلا شبہ وقت کے اتنے پابند نہیں ہیں پر پھر بھی کسی بھی کام کو لے کر ہمارا طرز عمل یہ ہے کہ ہم اس کاوش میں لگے رہتے ہیں کہ اُس قیمتی لمحہ کو اسی وقت پا لیں جب وہ واقع ہو رہا ہو۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اس لمحہ کو پانے کی قیمت اس سے پہلے گزرنے والے لمحے میں اس قیمتی لمحہ کا انتظار ہے۔

یہ فطری قانون ہے کہ ہر چیز کی ایک قیمت ہوا کرتی ہے۔ اب اگر ایک شخص یہ چاہتا ہے کہ وہ اس لمحے کو پا لے تو انتظار کی قیمت ادا کیے بغیر اسے حاصل کرنا نا ممکن ہے۔ جیسا کبھی نپولین نے کہا تھا کہ میری کامیابی کا راز اس بات میں ہے کہ میں مقررہ وقت سے 15 منٹ پہلے کام کی جگہ پر پہنچ جاتا ہوں۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mohammad Danishwer

Read More Articles by Mohammad Danishwer : 3 Articles with 1283 views »
I am INTEGRATED... View More
17 Jan, 2017 Views: 445

Comments

آپ کی رائے