خدمت

(Qudsia Noreen, )
ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وہ باسی ہے جو ہر کام انتی خوشی سے کرتے ہے جس کا کوئی حساب کتاب نہیں رہتا کچھ بھی ہو جو بھی ہو بس نہ ہم اس کا کے بارے سوچتے ہے اور نہ ہی فکر کرتے ہے کہ اس کا انجام کیا ہو گا کیسا ہو گا بس ہماری فطرت ہی کچھ ایسی ہو گئی ہے کہ ہم دیکھا دیکھی سب کچھ کرتے ہیں جیسے کہ ہمارے ملک میں ہر طرح کا موسم ہوتا ہے اسی طرح کچھ ماہ ایسے ب?ی ہوتے ہے جن شادیوں کی بھر مار ہوتی ہے ہم یہ ایسے بھی بول سکتے ہے پاکستان میں شادیوں کا بھی ایک پورا سیزن ہوتا ہے اور جیسے ہی سردیاں شروع ہوتی ہیں یہ سیزن سٹارٹ ہو جاتا ہے اور سردیوں کی جان لے کر ہی ختم ہوتا ہے اسی طرح آجکل محفلوں اور میلادوں کا بھی ایک سیزن ہے میں نے اکثر بہت سارے نعت خوانوں کہ منہ سے یہ کہتے سنا ہے کہ آجکل وہ بہت مصروف ہیں آجکل محفلوں کا سیزن ہے اور ہماری روزی روٹی اسی سیزن سے ہی چلتی ہے اور آجکل یہی مختلف نعت خوانوں کا بھی سیزن چل رہا ہے نعت خوانوں کو آج کل بلانا تھوڑا مشکل ہو گیا ہے پھر بھی آپ کو کوئی نہ کوئی اچھا نعت خواں مل ہی جائے گا اور اپنے قیمتی وقت نکال کر اﷲ کا ذکر کرنے آ سکتا ہے یہ ٹرینڈ پنجاب کے دیہی علاقوں میں زیادہ دیکھا جا رہا ہے شہر ہو یا گاؤں ہو لوگ بڑے سے بڑے نعت خواں کو اپنی محفل میں بلا کر اپنی واہ واہ کرواتے ہے اور جھوم جھوم کر پھر اسکو خوش کرکے واپس بھیج دیتے ہیں اور پورے گاؤں میں رشتہ داروں میں اپنی پگڑی اونچی کر لیتے ہیں لیکن سیکھتے کچھ بھی نہیں بس محفل ہوئی پھر رات گئی بات گئی والی بات ہی رہتی ہے یہاں پر ایک ایسا پہلو بھی ہے جس پر ہم نے کبھی غور ہی نہیں کیا کبھی ہم نے یہ سوچا ہی نہیں ہے کہ یہ جو بڑے بڑے نعت خواں ہے کیا ہے حقیقت میں ہمیں اسلام کی تعلیمات کا درس دیتے ہیں کیا ان کی نظر میں اسلام اور ہمارے پیارے نبی کریم کی شان میں قصیدے پڑھنے اور ان کے بدلے عوام سے بھاری رقم کا مطالبہ کرنا کیا یہ جائز ہے کیا یہ مختلف نعت خواں جو آج کل ہزاروں نہیں لاکھوں روپے لیتے ہے ایک پروگرام کے یہ صحیح معنوں میں اسلام کی خدمت کر رہے ہے ایک طرف عوام جو اپنے آپ کی واہ واہ کروانے میں لگی ہوئی ہے تو دوسری طرف یہ آج کل نام نہاد نعت خواں جو غریب عوام سے ایک ایک رات کے پروگرام کے لاکھوں لیتے ہے اﷲ تعالیٰ کے پیارے نبی کریم کی شان میں کچھ پڑھنے کے بھی بہت زیادہ چارجز لیتے ہے کیا یہی اسلام کی خدمت ہ
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Qudsia Noreen

Read More Articles by Qudsia Noreen: 2 Articles with 762 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Jan, 2017 Views: 459

Comments

آپ کی رائے