اﷲ بچائے موم بتی مافیا سے!

(Inayat Kabalgraami, )
گزشتہ ہفتے اسلام آباد کے علاقے بنی گالا سے فاطمہ جناح یونیورسٹی کے پروفیسر سلمان حیدر کی گمشدگی نے پاکستان کی سینٹ کو ہلا کر رکھ دیا۔چیر مین سینٹ رضا ربانی نے حکومت سے کہا کہ تین دن میں میں پانچوں لاپتہ افراد کو بازیاب کریا جائے۔ گزشتہ دس دنوں کے دوران اسلام آباد لاہور اور پنجاب کے دیگر علاقوں سے چند بلاگرز کی اچانک گمشدگی پر ملک میں ایک عجیب سا سماء بنتا جارہا ہیں ایک طرف تو الیکٹرونک میڈیا نے آسمان سر پر اُٹھایا ہے تو دوسری طرف موم بتی مافیا نے ہلا گلا مچایا ہوا ہے ۔ ان لوگوں کی پرسرار گمشدگی کو دس دن ہو گئے ہے ،ان میں وقاص گوریااورعاصیم سعید 4 جنوری ، سلمان حیدر 6 جنوری ،جبکہ رضا نصیر اور ثمر عباس 7جنوری کو لاپتہ ہوئے ۔کسی بھی مہذب اور جمہوری معاشرے میں اس طرح شہریوں کا لاپتہ ہونا لاقانونیت ہے ۔ اور اس پر احتجاج کرنا سب کا حق ہیں ،مگر سلمان حیدر سمیت دیگر افراد کے لاپتہ ہونے والے واقعہ کا ایک مخصوص پس منظر بھی ہے ۔ان لاپتہ بلاگرز کو موم بتی مافیا سماجی کارکن بنا کر پیش کررہی ہے مگر درحقیقت یہ سماجی کارکن نہیں تھے ،یہ افراد سماجی کام کی آڑ میں ریاست اور اس کی اداروں کے ساتھ ساتھ عظیم ہستیوں پر سوشل میڈیا میں زہریلا نفرت انگیز مہم چلا رہے تھے ۔لیکن ان کی ان حراکات کا ذکر کوئی نہیں کرتا ، بغیر ثبوت کے پاکستان کے ادارو ں پر الزامات لگانا اپنے غیر ملکی آقاؤں کو خوش رکھنا ان کا پیشا تھا ،اسلام اور پاکستان سے بیزار اینکر مسلسل ان کو سماجی کارکن ،انتہاپسندی کے خلاف اپنی رائے کا اظہار کرنے والے حق کے ترجمان قرار دے رہے ہیں ۔ان لوگوں کو سماجی خدمت کی الف بے کا بھی پتہ نہیں اور نا ہی کبھی بھی انہونے سماج کی خدمت کی ہیں ۔بلکہ یہ تو آزادی اظہار کے نام پر اسلام ، پیغمبر اسلامﷺ، پاکستان اورصحابہ کرامؓ بترین گستاخی کیا کرتے تھے ۔اور پاکستان میں نفرت اور انتہاپسندی پھیلانے میں مصروف تھے ۔سلمان حیدر مبینہ تور پر فیس بک پیج ،،بھینسا،،روشنی،،اور،،موچی ،،کے ایڈمن تھا ۔انہی ناموں سے ٹیوٹر پر بھی غلط مواد لوگوں تک پہنچا رہے تھے ۔ اب تو ان پیجیز سے یہ مواد ہٹا دیا گیا ہے مگر جنہونے ان کو گمشدگی سے پہلے ان کی آئی ڈیز کا مشاہدہ کیا ہے ان کو بخوبھی اندازہ ہو گا ، کچھ پوسٹوں میں حضرت عایشہؓ اور محمد رسول اﷲ ﷺ کی نکاح پر بھی تنقید کی تھی ،۔ جبکہ حضور نبی کریم ﷺ کا واضح ارشاد گرامی ہے:’’تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے ماں باپ، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے بڑھ کر محبوب اور عزیز نہ ہو جاؤں۔‘‘(بخاری شریف)جبکہ ایک اور حدیث میں رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ‘ جس کا مفہوم مبارک ہے کہ میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہے کسی ایک کی بھی پہروی کروگے تو کامیاب ہو جاؤ گے ،جبکہ یہ تمام بلاگرز مسلسل محمد عربی ﷺ اور آپ ﷺ کے ازواج وصحابہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہم اجمعین کی گستاخی کرہے تھے ۔ آج ان لوگوں کی حمایت کرنے والے نام نہاد اینکر ،صحافی، سیاست دان ،بل خصوص پاکستان پیپلزپارٹی اور ان کے سینیٹرز بتا سکتے ہیں کہ آزدی اظہار کا کونسا قانون مقدس ہستیوں پر تنقید کی اجازت دیتا ہیں ۔اگر ان کو انسانیت کی اتنی ہی فکر ہے تو برما کے مظالم پر آواز اُٹھائیں ،شام کے صورت حال پر ریلی نکالے چلو وہ تو ہمارا ملک نہیں پر کشمیر تو ہمارا ہے کیا آج تک موم بتی مافیا نے کشمیر پر ہونے والے ہندوستانی مظالم پر آواز اُٹھایاہے واہاں پر بھی عورتیں اور بچے قابض فوج کے ظلم اور ستم کا شکار ہیں ۔ آج ان موم بتی مافیا کو ان لاپتہ افراد کی اتنی فکر اس لیئے ہے کہ یہ لوگ اپنے غر ملکی آقاؤ ں بشمول ہندوستان اور ایران کو خوش کرہے تھے اور موم بتی مافیا بھی ان ہی کے نقش قدم پر عمل پہرا ہیں ۔یہاں پر اس بات کو بھی کہتا چلوں نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی عظمت و توقیر مسلمان کے ایمان کا بنیادی جزو ہے اور علمائے اسلام دور صحابہؓ سے لے کر آج تک اس بات پر متفق رہے ہیں کہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی کرنیوالا آخرت میں سخت عذاب کا سامنا کرنے کے علاوہ اس دنیا میں بھی گردن زدنی ہے۔ خود نبی رحمت صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنے اور اسلام کے بے شمار دشمنوں کو (خصوصا فتح مکہ کے موقع پر)معاف فرمادینے کیساتھ ساتھ ان چند بدبختوں کے بارے میں جو نظم و نثر میں آپ ﷺکی ہجو اور گستاخی کیا کرتے تھے، فرمایا تھا کہ’’اگر وہ کعبہ کے پردوں سے چمٹے ہوئے بھی ملیں تو انہیں واصل جہنم کیا جائے‘‘۔یہ بات بھی یہاں پر یاد رکھوں گستاخ رسول ﷺ کو سزا کاحق ریاست کا ہے مگر وہ اس میں مسلسل ناکام نظر آتی ہیں تب ہی عوام میں غازی علم دین جیسے لوگ پیدہ ہورہے ہیں ۔بات چل رہی تھی موم بتی مافیا کی تو موم بتی مافیا کو اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی،عوامی نیشنل پارٹی کے ساتھ ساتھ کچھ دیگر سیکولرز افراد کا بھر پور اشروات حاصل ہے ۔آج ہر وطن فروش، ملک و ملت اور اسلام کے غدار کو سماجی کارکن کہا جاتا ہے ۔ان بلاگرز کا مقصد ہمارے ملک میں بد امنی پیدا کرنا ہوتا ہیں ابھی کچھ عرصہ قبل کراچی میں ایک ایسے ہی شخص کو قتل کردیا گیا تھا جس کے بعد بھی موم بتی مافیا اور ان حورین نے اس ہی طرح کا احتجاج کیا تھا بلا شوہبہ ایک انسان کو قتل کرنا پوری انسانیت کو قتل کرنے جیسا ہے مگر اس انسان کو بھی دوسروں کی جذبات کی قدر کرنی چاہی ئے ،آپ اگر کسی کے جھوٹے خدا کی توہین کروگے تو وہ آپ کے سچے خدا کی توہین کریگا لیکن یہاں توبات سچے خدا کی ہیں اور برحق دین کی ہیں ۔اسلام اور محمد عربیﷺ کی توہین کے ساتھ ساتھ یہ لوگ پاکستان اور پاک فوج کی بھی مسلسل کردار کشی کر رہے ہیں،اس کی مثال کچھ دنوں قبل سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف ہے جنرل صاحب کو جب 39 ملکی اسلامی فوجی اتحاد کا سربرہ مقرر کیا گیا تو ان ہی سیکولرز پارٹیوں اور موم بتی مافیا کو پیٹ میں شدید مروڑ ہونے لگی ،حالنکے جنرل(ر)راحیل شریف کی بطور چیف اسلامی اتحاد بنناپاکستان کیلئے ایک اعزاز سے کم نہیں مگر نا جانے ان لوگوں کو کیا تکلیف ہے ؟اس وقت پوری دنیا پاکستان اور اسلام کے خلاف ہے اور ان کے اس عمل میں پاکستان کے کچھ سیاسی کچھ نام نہاد مذہبی اور موم بتی مافیا ان کا ہاتھ بٹا رہی ہیں ’’اﷲ بچائے ان موم بتی مافیا سے ‘‘جو کبھی گستاخانان رسولﷺ تو کبھی گستاخانان اسلام اور تو کبھی دشمنان پاکستان کی حمایت میں ریلیاں نکال تے ہیں ۔اگر ہندوستان میں کسی عورت کو کسی مسلمان نے مارا تو بھی موم بتی مافیا احتجاج کرتی ہے اگر پاکستان میں کسی مدرسے میں کسی طلب علم کے ساتھ کو ئی واقعہ اتفاقا ہوجائے تو ان کو بدنام کرنے کیلئے یہ لوگ فوری روڈ پر پمفیلٹ لیکر نکل آتے ہیں لیکن اس کے برعکس ابھی کچھ دنوں قبل کراچی میں ہی ایک یونیورسٹی کی طالبہ نے استاذہ کے ظلم سے تنگ اکر خود کشی کی مگر یہ موم بتی مافیا کو سانپ سونگ گئے تھے ۔اور ہمارے سینٹ کو بھی بس یہی لوگ نظر آتے ہیں جو دہشتگردی کا زرعیہ بنتے ہیں سینٹ اور پی پی پی کو سندھ سے لاپتہ سابق ایم این آئے کے فرذند کیوں نظر نہیں آتے ایسے کئی لاپتہ آفراد ہے جن کو لاپتہ ہوئے سالوں سال ہوگئے ان کے وارثین کا بھی یہی مطالبہ ہے کہ ان کا کیا جرم ہے ؟اگر ریاست مخالف ہے تو عدالتوں میں پیش کیا جایئے ،خدارا اس ملک کو اپنا ملک سمجھوں اور اسلام اور پاکستان کے دشمنوں سے ہاتھ ملانا بند کر دو۔اﷲ ہم سب کا حامی و ناصر ہو (آمین)
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Inayat Kabalgraami

Read More Articles by Inayat Kabalgraami: 94 Articles with 52042 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Jan, 2017 Views: 583

Comments

آپ کی رائے
Good effort!
By: Dr. Muhammad Javed, Karachi on Jan, 20 2017
Reply Reply
0 Like