ایک سوال؟

(محمد اسلام افریدی, پشاور)
دین اسلام، سود اور سیاسی حکومت

اسلام عليكم!
مجھے بہت خوشی ہوئی۔ کہ خیبرپختنخواہ میں سود کو ایک قانونی جرم قرار دے دیا گیا ۔ جسے ہمارے مذہب یعنی اسلام میں بھی سود کے کاروبار کو حرام قرار دیا گیا ہے۔

اور حدیث شریف کا مفہوم ہے ۔حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے سودکے کھانے والے‘ کھلانے والے‘ گواہوں اور کاتبو سب پر لعنت بہیجی ہے“۔
اور ایک روایت کے مطابق سود خوری نظام
اللہ تعالٰی کیخلاف اعلان جنگ ہیں۔
اور ایک دوسرے روایت میں بھی سود کی غلاظت یوں بیان ہوا ہے ۔حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ربا (سود) کی ستر قسمیں ہیں۔ اس کی سب سے ادنیٰ قسم ایسی ہے جیسے کوئی اپنی ماں سے کعبے شریف کے اندر جنسی تعلقات قائم کرے۔“

اور اس اسلامی قانون کو خیبر پختونخواہ میں قانونی درجہ دیا گیا ۔ اور کچھ دنوں پہلےایک سود خور کیخلاف قانونی کارروائی کو بھی ہم نظر انداز نہیں کر سکتے ۔جو ابتداء ہے سود خوروں اور سودی نظام کیخلاف۔

لیکن میرا سوال یہ ہے ؟
کیا یہ قانون صرف عوام میں رہنے والوں عام سود خوروں کیخلاف ہے۔ یا ۔ حکومتی سطح پر بھی ہے۔

اور اگر حکومتی سطح پر ہے۔ تو اب تک ائرپورٹ، بینکوں،واپڈا،سوئی گیس وغیرہ کے محکموں کیخلاف کوئی بھی قانونی کارروائی زیر غور کیوں نہیں ہوئ ۔

یا ہوسکتا ہیے ان محکموں سے حکومت کو فائدہ ہوتا ہو۔ اور حکومت کو خوش رکھنے والوکیخلاف کارروائی کیسے کی جاسکتی ہے ۔

اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ قانون صرف عوام پر نافذ کیا گیا ہو۔اور حکومتی اداروں پر یہ قانون نافذ نا ہو. بہرھال میرا سوال یہ ہے کے خیبرپختنخواہ خواہ میں سودی قانون جرم ہے یا نہیں؟
اگر ہیں تو ان محکموں کیخلاف کارروائی کیوں نہیں؟ ؟؟؟؟؟
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: محمد اسلام افریدی
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
25 Jan, 2017 Views: 369

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ