ماں کا پیار اور بیٹے کی نافرمانی - آخری قسط

(Faheem Shayer, Hub)
ماں کا پیار اور بیٹے کی نافرمانی آج میں آپ کو اس کی آخری قسط بتاہوں گا جس میں آپ جانے گیں کے ایک ماں نے اپنے بٹیے کے لیئے کیا کچھ کیا اور اس کے بیٹے نے اس کے ساتھ کیسا سلوک کیا

ایک دن بیٹے نے اپنی ماں سے کہا مجھے ایک لڑکی بہت پسند ہے اگر میں شادی کروں گا تو اسی سے کروں گا ورنہ شادی نہیں کروں گا ماں نے کہا ٹھیک ہے میں تمہاری شادی کی بات کروں گی پھر اگلے دن اس کی شادی کی بات کرنے اس لڑکی کے گھر چلی گئی لیکن لڑکی کے گھر والوں نے کہا دس تولا سونا بیس جوڑا کپڑا اور ایک لاکھ روپے ہمیں دو گے تو ہی ہم رشتہ قبول کریں گے اس کی ماں نے گھر آکے یہ بات اپنے بیٹے کو بتائی بیٹے نے کہا ماں کچھ بھی کرو لیکن میری شادی اسی لڑکی سے کرادو اس کا بیٹا ہر روز پریشان رہتا تھا ماں سے اپنے بیٹے کی حالت دیکھی نہیں گئی تو اس نے اپنے شوہر کی آخری نشانی وہ زمین بیچ دی جو اس کے شوہر نے مرنے سے پہلے اپنی بیوی کے نام کیا تھا اس طرح ایک ماں نے اپنے بیٹے کی شادی کرادی -

شادی کے کچھ دن بعد گھر میں لڑائی جھگڑے شروع ہوگئے اس کی بیوی ہر روز اس کی ماں سے لڑائی کرتی تھی اور رات کو اپنے شوہر سے اس کی ماں کی شکایت کرتی تھی اور اس کا نافرمان بیٹا اپنی بیوی کے باتوں میں آکے اپنی ماں سے بےادبی کرتا تھا اس کی ماں صبح پانچ بجے اٹھتی تھی اور گھر کا سارا کام کرتی تھی پھر بھی اس کے اپنے ہی گھر میں اس کی کوئی عزت نہیں کرتا تھا ایک دن اس کی بیوی نے اپنے باپ سے کہا میری ساس اچھی نہیں ہے روزانہ مجھ سے لڑتی ہے تو اس کے باپ نے کہا تم ہمارے گھر آجاؤ رہنے کے لئے تو رات کو جب اس کا شوہر آیا تو اس نے اپنے باپ کی بات اپنے شوہر کو بتادی اور کہا اب میں اس گھر میں نہیں رہے سکتی تو اس کے شوہر نے کہا ٹھیک ہے کل یہ گھر چھوڑ کر چلیں جائیں گے اگلی صبع جب ماں کو یہ بات پتا چلی تو وہ رونے لگی اور کہا میں نے ایسا کونسا گناہ کیا ہے جو تم مجھے چھوڑ کے جارہے ہو بیٹا مجھے چھوڑ کے مت جاہو میں تمہارے بغیر نہیں رہے سکتی لیکن اس نے اپنی ماں کی ایک نہ سنی اور اپنی ماں کو چھوڑ کے چلا گیا-

دوستوں اپنی ماں کے دودھ کاحق کوئی ادا نہیں کرسکتا لیکن ہم کم سے کم اپنی ماں کی خدمت تو کرسکتے ہیں اپنی ماں کی عزت تو کرسکتے ہیں اسے خوشی تو دے سکتے ہیں ایک بات ہمیشہ یاد رکھو جو اپنے ماں باپ کو تکلیف دیتا ہے اس پے جنت واجب نہیں ہے
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Faheem Shayer

Read More Articles by Faheem Shayer: 12 Articles with 46560 views »
I am a poet and writer .. View More
25 Jan, 2017 Views: 3894

Comments

آپ کی رائے
Thanks Sajid
By: Faheem Shayer, Hub chowki Balochistan on Jan, 31 2017
Reply Reply
0 Like
very nice,,,,, faheem bhai ap k sare articles mai koye ba koye lesson zaror hota hai welldone
By: umama khan, kohat on Jan, 30 2017
Reply Reply
1 Like
Thank you sister
By: Faheem Shayer, Hub chowki Balochistan on Jan, 31 2017
0 Like
Very nice faheem shayer good article
By: Sajid Ali, Karachi on Jan, 28 2017
Reply Reply
2 Like