خدمت کے نام پر عیسائیت اور مختلف سنستھاؤں کے ذریعے اسلام کو شرمندہ کرنے کی کوشش

(Ata Ur Rehman Noori, India)
آج ضرورت اس امرکی ہے کہ صوفیائے کرام کے منہج پر چلتے ہوئے لنگرخانے ،مسافر خانے،
مہمان خانے ،تعلیم گاہیں،امدادی ہاسپٹل اور خلق خداپر شفقت کی نیت سے رفاہی اور فلاحی کام انجام دیئے جائیں
اسلامی تاریخ قربانیوں سے پُر ہیں،اسلام،پیغمبر اسلام صلی اﷲ علیہ وسلم اور اکابرین نے ہمیں صرف دو باتوں کی تعلیم ہے،ایک اﷲ کے حقوق اور دوسرے بندوں کے حقوق ۔مگر افراتفری و انتشارسے بھرے معاشرے میں محض یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے دنیا میں صرف مفاد پرست اور خود غرض انسان ہی بستے ہیں۔ اسلام میں اخلاق ،خدمت خلق ،انسانیت نوازی اورانسانی ہمدردی کی بہت اہمیت ہے،لیکن افسوس صدافسوس !عوام میں اسلام کے تئیں جوافکار ونظریات ہیں وہ یکسر غلط ہیں ،سب سے بڑی غلطی خودہماری ہے کہ ہم نے اسلامی تعلیمات کو لوگوں تک صحیح طریقے سے پہنچایا نہیں ،ہم نے اسلامی تعلیمات کو نافذ کرکے لوگوں کودکھایا نہیں ،بس ہم نے اپنا نام عبداﷲ اور عبدالرحمن رکھ لیا ہے ،اگر ہم صحیح معنوں میں اسلام کے شیدائی بن جائیں ،اسلامی اخلاق سے آراستہ و پیراستہ ہوجائیں تو لوگ اسلام سے اورمسلمانوں سے محبت کرنے لگیں گے ،مسلمانوں کے عاشق ہوجائیں گے ،جیسے اﷲ کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کے جانی دشمن جب آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے اخلاق کا مشاہدہ کرتے ہیں توآپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے سچے عاشق بن جاتے ہیں،صحابہ کرام ،اولیائے کرام اور صوفیائے عظام نے اسلام کو عام کیا ،اسلامی اخلاق کو نافذکرکے دکھایا تو پوری دنیا میں ایک انقلاب برپاکردیا ،جہاں کہیں تشریف لے جاتے ایمان کی فضاقائم ہوجاتی ،ایمان کی بادبہاری چلنے لگتی ،بڑے بڑے ظالم اورجابر لوگ اسلام کے اعلی اخلاق کو دیکھ کر اوراس سے متاثر ہوکرنیک اورولی کامل انسان بن گئے۔آج بھی اگرہر انسان یہ عہد کر لے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق جہاں ضرورت پڑے اور موقع ملے تو ضرور دوسروں کی مدد کرے گا، مجبور اور ضرورت مند لوگوں کی چھوٹی بڑی ضروریات حل کرنے میں مکمل تعاون کرے گا، کسی غریب طالب علم کی تعلیم کا خرچ، کسی غریب کی بیٹی کی شادی کا خرچ، کسی بے روزگار کی نوکری کا انتظام، کسی غریب بیمار کے علاج کا انتظام اور موقع ملنے پر ہر ایسا کام کرے گا، جس سے کسی انسان کی ضرورت پوری ہوتی ہو، یقین کیجیے اس سے دنیا بدل جائے گی۔ دنیا میں سکون ہی سکون کا راج ہوگا اور محبت کی حکمرانی ہوگی اور دنیااسلام کادامن تھامنے میں ذرہ برابر بھی پش وپیش اور عار محسوس نہیں کرے گی۔

آج دنیا بھر میں عیسائی مشنریاں صرف ایک نعرہ خدمت(سروس آف ہیومنٹی) کو لے کر دوسرے مذاہب کو شرمندہ کررہی ہیں۔ ان کے پاس بڑے مالی وسائل ہیں۔ جنگ کے میدان میں زخمیوں کی خدمت، اسپتال قائم کرکے مریضوں کا علاج، قحط زدہ علاقوں میں خوراک سے بھوکوں کی امداد، تعلیمی اداروں وغیرہ کا قیام۔ ان کی سرگرمیاں مختلف نوعیت کی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی وہ بائبل کے مواعظ بھی سناتے ہیں، عیسائیت کا لٹریچر مفت تقسیم کرتے ہیں، تبدیل مذاہب کا لالچ دیتے ہیں اور ان کا مذہب قبول کرنے والوں کو بہت سی رعایتیں بھی حاصل ہوجاتی ہیں۔ پسماندہ اور جاہل استحصال کے شکار علاقوں میں انہیں خاصی کامیابی ہوتی ہے۔ہندوستان میں بھی غیر مسلموں کے بہت سے مذہبی مقامات پر لنگر کا اہتمام شرو ع ہوچکا ہے،زائرین کے لیے رہنے کا مفت انتظام ہے، طبی خدمات بھی فری میں انجام دی جاتی ہے،غیر مسلموں کے ٹرسٹ کے زیر اہتمام بہت سے چیریٹیبل ہاسپٹل جاری ہے جہاں فلا تفریق مذہب وملت ہر ایک کا علاج کیاجاتاہے، بڑے بڑے آپریشن انتہائی کم ریٹ میں کیے جاتے ہیں،ملک بھر میں جہاں کہیں بھی آفات ارضی وسماوی سے لوگ متاثرہوتے ہیں یہ سنستھا وہاں امداد ی سازوسامان لے کر پہنچ جاتی ہیں اور میڈیاان کے ان کارناموں کو شہ سرخیوں میں پیش کرکے مذہبی تبلیغ کا فریضہ بخوبی انجام دیتا ہے۔

ایسے نازک اورہنگامی حالات میں اولیائے کرام کی کرامتوں کواُجاگرکرنے کی بجائے عصری تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے بڑے ہی منفرد،اچھوتے اور نرالے انداز میں صوفیائے کرام کی دینی وملی خدمات کو اُجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔راقم کسی جھوٹے دعوے کی طرف رغبت نہیں دلا رہاہے بلکہ اپنی تاریخ واثاثے کو صحیح سمت میں پیش کرنے کی طرف متوجہ کرناچاہتاہے۔اس لیے کہ اسلام دشمن عناصر اور مستشرقین اعتراض کرتے ہیں کہ یہ چشتی صوفیاء بھی دراصل اسلام کے مبلغ تھے مگر کیا ان کے پاس اتنے عظیم فنڈز تھے؟ کیا ان کی تحریک اتنی منظم تھی؟ایسے میں ہر ذی شعور مسلمان کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ مثبت انداز میں قوم کو یہ تعلیم دینے کی کوشش کریں کہ صوفیائے کرام نے محض انسانیت کی خدمت کی ہے ،کسی بھی قسم کے پروپیگنڈے سے کام نہیں لیاہے، جس طرح آج کی عیسائی دنیامیڈیائی ہتھکنڈوں کااستعمال کررہی ہے۔ہزار روپے کی چادر تقسیم کرکے لاکھ روپے کی شہرت بٹورناعام سی بات ہو گئی ہے۔ کیا یہ صوفیائے کرام کا خلق خداپر شفقت کے باب میں عظیم کارنامہ نہیں ہے کہ بے سروسامانی اور فقر محض کے باوجود ان کی خانقاہوں میں دن رات لنگر جاری رہتاتھا۔جس قدر نقد آتا بلا تفریق مذہب وملت تقسیم کردیا جاتا،نذرانے میں جتنی اشرفیاں آتیں صدقہ وخیرات میں تقسیم کر دی جاتیں، ہدیہ میں کپڑا آیا، بانٹ دیا گیابلکہ خدائے واحد پر یقین واعتماد کا ایسا کامل نمونہ صوفیائے کرام نے پیش فرمایاکہ اس وقت تک نماز جمعہ کے لیے تشریف نہ لے جاتے جب تک کہ خانقاہ کے انبار خانوں کا ساراسازوسامان غریبوں اور فقیروں میں تقسیم کرکے جھاڑونہ لگادی جاتی۔ایک ایک دن میں ستّرستّر مَن نمک کھانے میں خرچ ہوتااور روزانہ باورچی خانے سے پیازاور لہسن کے چھلکے ستر اونٹوں پر لاد کر باہر پھینکاجاتا۔دنیا کی کوئی جماعت یا ادارہ یا مشنری یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ انہوں نے ان مشائخ سے زیادہ دل سوزی سے مجروح انسانیت کی خدمت کی ہوگی۔

کاش!!کہ ہم نے صوفیائے کرام کے حقیقی کردار سے دنیاکو روشناس کرایاہوتا․․․․․․․․․․․․․․․؟؟آج ضرورت اس امرکی ہے کہ صوفیائے کرام کے منہج پر چلتے ہوئے جگہ جگہ لنگرخانے ،مسافر خانے، مہمان خانے ،تعلیم گاہیں، امدادی ہاسپٹل اور خلق خداپر شفقت کی نیت سے رفاہی اور فلاحی کام کیے جائیں۔
٭٭٭
 
27 Jan, 2017 Views: 633

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ