طوائف

(Umar Azeem, Gujrat)
"ایک لڑکی کی طوائف، اور طوائف سے لڑکی بننے کی مکمل داستان"
"ایک لڑکی کی طوائف، اور طوائف سے لڑکی بننے کی مکمل داستان"

اس کا دماغ کہیں اور ہی بھٹک رہا تھا۔ وہ سوچوں میں گم اپنی ہی مستی میں مست چلا جا رہا تھا۔ آخر وہ اس بدنام محلے میں داخل ہوا جہاں ایک شریف جانا تو کیا اس کے بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہتا۔

بات یہ نہیں تھی کہ وہ ایک دو نمبر انسان تھا یا عورتوں کا رسیا تھا بلکہ ایک کامیاب صحافی تھا۔ ہمیشہ سچ لکھتا تھا اس کے باپ نے بھی اسے بات سمجھائی تھی کہ ہمیشہ سچ لکھنا چاہے کچھ بھی ہو جائے۔

وہ سوچتا ہوا کوئی کوٹھا تلاش کر رہا تھا۔ ہر طرف گہما گہمی تھی تماشائیوں کا بازار گرم تھا۔ لڑکیاں بھی بن سنور کر اپنے گاہکوں کا انتظار کر رہی تھیں۔ دو تین جگہ اسے بھی آفر ہوئی لیکن وہ ان سنی کرتا ہوا چلتا جا رہا تھا۔

زندگی کی پچیس بہاریں گزار کر وہ بہت کچھ سیکھ چکا تھا۔ اس کےمضامین اور کالم صرف اسی وجہ سے ہی مقبول تھے کہ وہ سچائی پر مبنی ہوتے تھے۔

آخر اپنی سوچوں میں گم وہ ایک کوٹھے کے سامنے رک گیا وہاں کوئی نہیں تھا اسی لئے وہاں رش کم تھا۔ وہ اندر داخل ہوا کسی طرف سے غصے میں مگر مدھم مدھم آوازیں آرہی تھیں۔ وہ چھوٹے چھوٹے قدموں سے چلتا جا رہا تھا شاید کسی عورت کی آواز تھی جو غصے میں بول رہی تھی۔

"چھنو دھندا بند کروائے گی کیا۔ تمہیں چھ مہینے ہو گئے ہیں اور ایک ادا بھی نہیں سیکھی تم نے۔ گاہک کو متاثر کس طرح کرتے ہیں وہ تمہیں ابھی تک نہیں آیا اور یہ کیا حلیہ بنا رکھا ہے ایسے کام نہیں چلے گا۔ ایک کام کر تو بھیک مانگا کر کوئی کام تجھے آتا ہی نہیں".

باتیں ابھی جاری تھیں وہ کمرے کے پاس پہنچ گیا عورت نے اسے دیکھا تو دوڑتی ہوئی اس کے پاس آئی۔ لڑکی ابھی تک خاموش تھی۔ عورت نے کہا "صاحب اس وقت کوئی لڑکی فری نہیں اس چھنو کے ساتھ جاؤ گے تو بیزار ہو جاؤ گے۔ بہتر ہے آپ تھوڑا انتظار کر لو"

وہ بولا " نہیں اسی سے ہی کام چل جائے گا اس کا ریٹ بتاؤ ۔۔۔۔ ؟"

ریٹ طے کرنے کے بعد وہ کمرے میں آ گئے لڑکی ابھی تک گھبرائی ہوئی تھی۔ وہ بیٹھ گیا اور اس کا چہرہ دیکھنے لگا لڑکی خوبصورت تھی پتا نہیں کن حالات کے تحت یہاں آئی تھی۔

"السلام علیکم میرا نام کامران ہے" اس نے انتہائی مہذب طریقے سے کہا۔

"وعلیکم السلام ممم میرا نام چھنو ہے چھنو" لڑکی نے کہا۔

کامران اس کی مہذبانہ گفتگو سے حیران رہ گیا اسے تو یہ امید تھی کہ یہ طوائف بھی اپنے مکروہ دھندے کی طرح مکروہ زبان سے یہی کہے گی " ابے! نام پوچھنے کاٹائم نہیں ہے اپنا کام پورا کر اور نکل یہاں سے"۔

لیکن اس لڑکی نے تو بہت مہذبانہ بات کی تھی۔ وہ بولا "محترمہ میں یہاں کسی خاص کام کے لئے آیا ہوں۔ جیسا آپ سمجھ رہی ہیں ویسا کچھ نہیں"۔

لڑکی نے سوالیہ نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا اور آنے کا مقصد پوچھا۔ اس نے کہا کہ وہ ایک صحافی ہے اور آپ پر کہانی لکھنا چاہتا ہے اگر آپ بتا دیں کہ کن خیالات کے تحت یہاں پہنچی ہیں ۔۔۔۔ ؟

وہ بولا " میں یہ چاہتا ہوں کہ یہ کہانی ہو لڑکی تک جائے کوئی بھی لڑکی اس صورت حال کا شکار نہ ہو"۔

لڑکی نے نظریں اٹھا کر اس کی طرف دیکھا لڑکی واقعی بہت خوبصورت تھی اس کی بڑی بڑی آنکھوں سے آنسوؤں کے قطرے اس کے رخسار پر آ گئے تھے۔ آخر تھوڑی سی جدو جہد کے بعد لڑکی مان گئی وہ حیرت کے سمندر میں غوطہ زن کہانی سنتا جا رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں بھی عام لڑکیوں کی طرح ایک لڑکی تھی۔ میرا نام سنا تھا جو کہ بدنامی کا شکار ہو کر چھنو بن چکا ہے۔ ان دنوں میں بی ایس۔ سی کیمسٹری کر رہی تھی فائنل ائیر کے پیپر قریب تھے جب وہ میری زندگی میں آیا۔ پیپروں کی تیاری سے زیادہ اس پر دھیان دینے لگی۔ ہر وقت خیالوں میں کھوئے رہنا اور جب موقع ملنا موبائل پر اس سے باتیں کرتے رہنا۔

میں اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتی تھی لیکن پھر بھی وہ میرے دل میں رہتا تھا۔

آخر فائنل ائیر کے پیپر ہوگئے اور رزلٹ کا انتظار کرنے لگی۔ اب صرف تین ہی کام تھے۔

کھانا، سونا، اور فون پر اس سے باتیں کرنا۔

پیار کی قسمیں کھائی جا چکیں تھیں انہی دنوں میرا رزلٹ بھی آ گیا زیادہ محنت نہیں کی تھی لیکن رزلٹ بہت اچھا آیا۔

اب میں پورا دن کمرے میں ہی رہتی ہر کسی سے کم بات کرتی اور مسکراتی ہی رہتی۔ آخر میرے ابو کو پتا چل گیا عزت دار آدمی تھے سو میری شادی کے لئے لڑکا بھی پسند کر لیا اور تیاریاں شروع ہو گئیں میں بہت پریشان تھی اور مجھ سے بھی زیادہ وہ۔

شادی میں دو دن رہ گئے تھے. ادھر شادی کی تیاریاں ہو رہی تھیں اور ادھر ہم تیاری کر رہے تھے آخر اس گھر کو الوداع کہہ دیا ایک نئی جگہ جا بسے، اک نئے جہان میں لیکن شاید قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا ہماری شادی کو ایک مہینہ ہو چکا تھا۔ ایک دن جب میں صبح سویرے اٹھی تو وہ گھر پر نہ تھا پورا دن انتظار کیا لیکن کوئی نہ آیا۔

آخر رات ہوئی تو ایسی بھیانک رات پہلے کبھی نہ دیکھی تھی۔ اس دن سمجھ آیا کہ خاندان کیا چیز ہوتی ہو اور ماں اور باپ کا سایہ کیا ہوتا ہے۔ ایک دن، دو دن، تین دن، پتا نہیں کتنا انتظار کیا لیکن وہ نہ آیا اس کے بعد دو وقت کی روٹی کے لئے خوار ہوئی تو کبھی عزت بچانے میں۔

گھر کس منہ سے جاتی وہاں تو ہر دروازہ بند ہو چکا تھا۔

آخر کسی نے بتایا کہ ایک جگہ ہے جہاں تمہیں تحفظ ملے گا وہاں روٹی کا مسئلہ تو نہیں ہو گا لیکن روز گدھوں اور بھیڑیوں سے پالا پڑے گا۔میں یہاں آ گئی اور رہنے لگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کامران اس جادوئی حصار سے باہر نکلا تو اس کے رخسار پر بھی دو موٹے موٹے قطرے تھے شاید خواص گم ہونے کی صورت میں زبردستی باہر نکل آئے تھے۔لڑکی کی آنکھیں مکمل سوج گئیں تھیں شاید وہ باتوں سے زیادہ روئی تھی۔
آ
خر وہ اٹھا اس میں اتنا حوصلہ نہیں تھا کہ وہ دوبارہ لڑکی کا سامنا کرتا وہ گنہگار نہیں تھا لیکن پھر بھی اس کی آنکھوں میں آنسو کیوں آ گئے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کو جب وہ سویا تو اس کے دماغ میں ہزاروں سوال تھے اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ اس کہانی کو کیا عنوان دے ۔۔۔۔ ؟

یا پھر خود اس کہانی کا حصہ بنے ۔۔۔۔ !

آخر ساری رات سوچنے کے بعد وہ صبح تک فیصلہ کر چکا تھا۔ وہ دوبارہ اسی جگہ پہنچا اور ثنا کو شادی کی آفر کی پہلے تو خواس باختہ اس کی طرف دیکھ رہی تھی شاید اسے یقین ہی نہیں آ رہا تھا۔

آخر بڑی مشکل سے وہ راضی ہوئی اسے ایسی توقع ہی نہیں تھی۔

اور پھر اس بدنام محلے سے نکلنا بھی ایک مسئلہ تھا لیکن طاقتور اثر رسوخ کی وجہ سے کوئی تکلیف نہ ہوئی۔کامران کو یقین تھا کہ اسے اس سے اچھی بیوی کہیں نہیں مل سکتی۔

صحیح کہا جاتا ہے کہ ہر ایک کا اچھا وقت آتا ہے لیکن وقت آنے پر ۔۔۔۔۔

(ختم شد)
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Umar Azeem

Read More Articles by Umar Azeem: 6 Articles with 11305 views »
i make a great writer... View More
29 Jan, 2017 Views: 1201

Comments

آپ کی رائے
Nice article.............But the girl was educated here, he himself decided to spend what is compelling the girls who have the deception is brought to the place and even route does the courage if he himself suffers from none to protect his girl far was schami krskhami anything but it is not their choice, by the way,
By: Abrish anmol, Sargodha on Feb, 05 2017
Reply Reply
0 Like
ایک پڑھی لکھی لڑکی نوکری کر سکتی ہے ،آج بہت سے ٹرسٹ اور ویلفیر سوسائٹز موجود ہیں ، ہاں اگر لڑکی پندرہ سولہ سال کی بے وقوف ہو تو اور بات ہے ، آج کے دور میں لڑکیاں بہت سمجھدار ہو چکی ہیں ،خاص کر پڑھی لکھی لڑکیاں۔ طوائف بننے کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن کوئی بھی لڑکی اپنی مرضی سے ایسی جگہ کا انتخاب کرہی نہیں سکتی ۔یہ بھی کوئی فلمی سین لگتا ہے کہ کوئی ایک دفعہ ملنے کے بعد کسی طوائف سے شادی کر لے ، گٹر میں گرنے کے بعد پھول بھی کہاں پھول رہتا ہے۔ معذرت کے ساتھ ،کچھ قابل قبول مضمون نہیں لگتا
By: kanwalnaveed, Karachi on Feb, 01 2017
Reply Reply
0 Like
me ap ki rae ka ehtram krta hu. laikin socho agar esa ho jae to .... ?
By: Umar Azeem, Gujrat on Feb, 02 2017
0 Like
nice article,,,,,,,,,,,,
By: umama khan, kohat on Jan, 30 2017
Reply Reply
1 Like
shukria
By: Umar Azeem, Gujrat on Feb, 02 2017
0 Like
nice artical acha topic hai or har larki ke liye nasehat hai welldone
By: Zeena, Lahore on Jan, 29 2017
Reply Reply
0 Like