وہاب اشرفی کی ناقدانہ حیثیت

(Safdar Imam Qadri, India)
عصرِ حاضر کے بزرگ اہل ِ قلم میں اپنی ہمہ جہت اور سرگرم تصنیفی کارناموں کی وجہ سے وہاب اشرفی اردو کے نائندہ نقادوں میں بجا طور پر شمار کیے جاتے ہیں۔ افسانہ نگاری اور ادبی صحافت سے ان کا ابتدائی تعلق اب نصف صدی کا قصہ ہے۔ گذشتہ چالیس برسوں میں انھوں نے لگاتار لکھا۔ قومی سطح پر پچھلی دو دہائیوں میں سب سے سرگرم اور لائقِ اعتنا لکھنے والے کی ہندو پاک میں فہرست بنائی جائے تو شمس الرحمٰن فاروقی کے علاوہ شاید ہی کوئی ناقد ملے جس نے اس عرصے میں معیار اور مقدار دونوں اعتبار سے وہاب اشرفی سے زیادہ نقش ہاے رنگ رنگ جمع کر لیے ہوں۔ کتابوں کی تعداد اور صفاحات کی گنتی بجاے خود کوئی اہمیت نہیں رکھتی لیکن موضوعات کی ہمہ جہت تفہیم اور علمی علاقوں کے نئے مقامات سر ہوتے جائیں تو کیا اسے کارِ زیاں کہنا مناسب ہے؟ ہرگز نہیں۔ مشقِ سخن اور علمی انہاک اگر کسی اہمیت کے قابل ہیں تو یاد رکھنا چاہیے کہ متواتر اور متنوع موضوعات پر غور و فکر کرنے والے لوگ کچھ نہ کچھ ایسا ضرور پیش کر دیتے ہیں جنھیں عرفِ عام میں شہکار کہتے ہیں۔ سر سید، حالی محمد حسین آزاد نذیر احمد، شبلی اور پریم چند سے لے کر قرۃ العین حیدر تک : لگاتار اور بے تھکان لکھنے والوں کی ایک بڑی جماعت موجود ہے۔ وقت کے گزرنے کے ساتھ ان کی علمی حیشیت کے نئے رُخ سامنے آجاتے ہیں اور کوئی گمنام سی تحریر اگلے زمانے میں انھیں زندگیِ نو عطا کر دیتی ہے۔
وہاب اشرفی کی مختصر اور طویل کتابوں کی فہرست تین درجن کے قریب پہنچتی ہے رسائل میں ان کے منتشر مضامین اس سے الگ ہیں۔ ظاہری طور پر ان کی تصنیفات کے دائرۂ کار کا تعین کرتے وقت ایک خوش گوار حیرت ہوتی ہے کہ انھوں نے علم و فن کے معاملات میں کسی چھوٹے مرکز میں خود کو قید رکھنے کے بجاے اپنا تناظر ہمیشہ قومی اور بین الاقوامی رکھا۔ روایت سے گہرا تعلق ایک طرف اور جدید تر نظریات سے بھی اُسی قدر رشتہ۔ دنیا کی سطح پر ماضی قریب و بعید میں وہ کون سی تبدیلیاں ہوئیں جن سے اردو کا رشتہ جوڑا جا سکتا ہے، وہاب اشرفی ان تمام باتوں سے باخبر دکھائی دیتے ہیں۔ قدیم مغرف کے ادبی تصورات سے بھی وہ اپنی واقفیت کا اظہار کرتے ہیں۔فکشن کے سلجھے ہوئے نقاد کے طور پر تو انھیں خاصی پذیرائی ملی لیکن مشاہیر شعرا سے متعلق ان کی تحریریں بھی اُسی پایے کی ہیں۔ شاد عظیم آبادی، اصداد امام اثر، قاضی عبد الودود اور علم البلاغت جیسے موضوعات پر وہاب اشرفی کی کتابیں قدیم ادبی روایت کے رمز شناس کے طور پر انھیں استحکام عطا کرتی ہیں لیکن ما بعد جدیدیت پر وہاب اشرفی کی ضخیم تصنیف ان کی شخصیت کا ایک نیا رُخ سامنے لے کر آتی ہے۔ شعر و ادب کے بالکل تازہ تر نظریات اور ان کے اطلاقی پہلوؤں سے وہاب اشرفی کی رغبت غور طلب ہے۔ ہم عصروں اور نو واردانِ ادب کی تازہ ترین مطبو عات پر وہاب اشرفی کے تبصرے توجہ سے پڑھے جاتے ہیں۔ اپنی انھی تحریروں کی وجہ سے وہ خص طور پر نوجوان اہلِ قلم کے درمیان مقبول ترین ناقدوں میں سے ایک ہیں۔
گذشتہ پندرہ برسوں سے وہاب اشرفی نے تاریخِ ادبیاتِ عالم کی تصنیف کا ایک سلسلہ قائم کر رکھا تھا۔ اب تک اس تاریخ کی چھ جلدیں منظرِ عام پر آچکی ہیں اور ساتویں جلد اشاعت کی منزلوں میں ہے۔ اس قاموسی کام کا یہ آخری پڑاو ہے۔ تاریخ ادبیاتِ عالم سے قبل دنیا کے شعر و ادب یا مختلف زبانوں کے مشاہیر سے وہاب اشرفی کا ضمنی تعلق تو اجاگر ہوتا تھا لیکن ان وادیوں میں وہ ’’فنا فی اﷲ‘‘ قسم کے لکھنے والے ہیں، یہ تاریخِ ادبیاتِ عالم کی جلدوں کے مطالعے کے بعد پتا چل سکا۔ یہ کہنا آسان ہے کہ انگریزی میں دنیا کی ہر زبان کی ادبی تاریخ موجود ہے اور ان کتابوں سے غلط یا صحیح ترجمہ کرکے تاریخ ادبیاتِ عالم جیسی جلدیں تیار ہو سکتی ہیں۔ یہ کام اسی قدر سہل ہوتا تو اردو میں اپنی شہرت اور تصنیف و تالیف کے لیے شوریدہ سروں اور ہوس کے ماروں کی کمی نہیں تھی۔ کئی لوگ ’’ کاتا اور لے دوڑی‘‘ کے مصداق سات نہیں ستّر جلدیں بنا چکے ہوتے۔ تقریبََا تین درجن زبانوں کے ادب کی تاریخ کے ذرّوں اور ستاروں کو سمیٹنا تو بہت مشکل کام ہے، ان کے مشاہیر کا اردو نام ٹھیک ٹھیک ہجّے کے ساتھ لکھ لینے میں کتنے جغادریوں کے پاؤں قبر میں پہنچ جائیں گے۔ آج بلا شبر وہاب اشرفی تاریخ ادبیاتِ عالم کے ماہر کے طور پر اردو کے علمی حلقے میں پہچانے جاتے ہیں۔
وہاب اشرفی کی علمی شخصیت کے واقعتا کئی پہلو ہیں۔ وہ ایک ساتھ ناقد، محقیق اور تاریخِ ادبیاتِ عالم کے ماہر کی حیشیت سے اپنی شناخت قائم کرچکے ہیں۔ ان تینوں حصوں میں بھی مختلف ذیلی حصّے ہیں لیکن اُن کی بنیادی حیشیت نقاد کی ہے۔ نقاد نے ہی تنقیدی تجربوں میں تحقیق کی تب و تاب ڈال کر تحقیقی کتابیں بنالیں۔ اِسی ناقدانہ شخصیت نے دنیا کی مختلف زبانوں کی نگارشات کا جائزہ لے کر عالمی ادب کی تاریخ تیار کردی۔ اس لیے وہاب اشرفی کی علمی اور ادبی خدمات کا جائزہ لیتے ہوئے ان کے تنقید نگار کو مرکز تصور کرنا سب سے مناسب اقدام ہوگا۔
حالاں کہ وہاب اشرفی کلیم الدین احمد کے مستقل نکتہ چینوں میں شامل رہے لیکن وہ دبستانِ عظیم آباد کے فرزندِ ارجمند ہیں جہاں کی تنقیدی فضا مین ہی ان کی پرورش و پرداخت ہوئی۔ کلیم الدین احمد نے متفرق مضامین کے بجاے مستقل کتابیں تیار کرنے کا منصوبہ بنایا۔ وہاب اشرفی نے بھی مستقل مطالعات کی طرف زیادہ دھیان دیا اور متفرق مضامین سے تنقیدی عمارت تیار کرنے میں زیادہ سرگرمی نہیں دکھائی۔ اس لیے چار دہائیوں میں ان کے صرف چار مجموعہ ہائے مضامین معنی کی تلاش ، آگہی کا منظرنامہ، حرف حرف آشنا اور نکتہ نکتہ تعارف چھپ کر سامنے آئے۔ ان کے مقابلے ان کی تفصیلی تحریروں کی تعداد زیادہ ہے۔ اگر ان کی تمام تنقیدی تحریروں کا جائزہ مقصود ہو تو ہمیں کم سے کم ان کی فکشن، جدید ادب اور تصورات، معاصرین، مشاہیر، مغرب سے استفادے کا انداز، مشرق سے علمی شغف اور آشنائی جیسے حوالوں سے وہاب اشرفی کی ناقدرانہ حیشیت کا تعین کیا جا سکے گا۔
وہاب اشرفی کی پہلی کتاب ’’قطب مشتری اور اس کا تنقیدی جائزہ‘‘ ۱۹۶۷؁ء میں منظرِ عام پر آئی۔ اس کتاب کی کم ازکم تین اشاعتیں سامنے آچکی ہیں۔ متنِ کتاب اور مولوی عبدالحق کے ابتدائی مقدمے کو چھوڑ کر تقریبََا ایک سو صفحات کا تنقیدی دیباچہ اس کتاب میں شامل ہے۔ دکنی ادب سے پروفیسر اشرفی کی کچھ خاص دلچسپی ہے، اس کا کوئی ثبوت اس کتاب کی اشاعت سے قبل نہیں ملتا۔ تقریبََا چار دہائیوں میں قطب مشتری کی ترتیب و تدوین کے علاوہ ایک مختصر سا مضمون ’دکنی ادب کا سیکولر مزاج‘ وہاب اشرفی کے قلم سے نکلا جو ان کے مجموعہء مضامین ’حرف حرف آشنا‘ میں موجود ہے۔ ’تاریخِ ادبیاتِ عالم‘کی جلد پنجم میں اردو کے حوالے سے جو باب شامل ہے، اس میں دکن میں اردو زبان و ادب کے ارتقا کے احوال درج ہیں۔ یہاں بھی یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ دکنی ادب سے ’ان کا گہرا علمی تعلق رہا ہے۔ قطب مشتری میں شامل فرہنگ بھی مولوی عبد الحق کے نسخے سے لی گئی ہے۔ متنِ کتاب کے استناد کے بارے میں غور کیا جائے تو کئی طرح کی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ متن میں ترتیبی اور تکنیکی دونوں غلطیاں کم نہیں۔ یہ بھی غور کرنے کی بات ہے کہ وہاب اشرفی کوئی متنی نقاد نہیں۔ بعد میں بھی نھوں نے بہت کم متون مرتب کیے اور ان تمام نسخوں ۔مثنوی اور مثنویات (۱۹۸۲)، میر اور مثنویاتِ میر (۱۹۸۱ پہلا ایڈیشن) میں بھی متن کے سلسلے سے بحث مشکل سے ملے گی۔ ادب کے طالبِ علم کے لیے ان کتابوں نے دشواری بڑھا دی کہ وہ مستند متون کے لیے دوسرے ناقدین کی کتابوں سے رجوع کریں۔
وہاب اشرفی کا اصل کام ان تفصیلی مقدمے سے پتا چلتا ہے۔ قطب مشتری کے سو صفحات اور مثنویاتِ میر کے ایک سو ستّر صفحات اُس موضوع سے متعلق بیشتر پہلوؤں کا تنقیدی محاکمہ کرنے کے لیے استعمال میں لائے گئے ہیں۔ ملّا وجہی پر نہ کتابوں کی کمی ہے اور نہ میر یا مثنوی کی تاریخ پر مواد کی تلاش میں کوئی مشکل پیش آتی ہے۔ وہاب اشرفی نے اپنے مقدمے میں کتاب کے ہر پہلوکا جائزہ لیا ہے۔ اس کے باوجود یہ کہنا ممکن نہیں کہ یہ مقدمات وہاب اشرفی کے بہترین تنقیدی کام ہیں۔ انھیں زیادہ سے زیادہ اوسط سطح کی درسی نوعیت کی کتابوں کی فہرست میں جگہ دی جاسکتی ہے۔ شاید اسی لیے مثنوی کے تعلق سے ان تینوں کتابوں پر کبھی زیادہ سنجیدگی سے لکھا پڑھا نہیں گیا۔
نئے ادبی رجحانات اور جدید تصورات سے وہاب اشرفی کی بنیادی دلچسپی رہی ہے۔ جب انھوں نے اپنی آنکھیں کھولیں اس زمانے میں جدیدیت کا شور نصف النہار کی جانب بڑھ رہا تھا۔ کچھ بدلتی ہوئی ادبی صورت تھی تو کچھ فیشن پرستی۔ ایک بڑا حلقہ ترقی پسندی سے علاحدہ ہوکر جمع ہو رہا تھا۔ ساٹھ سے ستّر کی دہائی میں جو نسل ابھری، اس میں اکثر جدیدیت کے علم بردار رہے۔ مورچہ (گیا) کے صفحات پر شمس الرحمٰن فاروقی اور محمود ہاشمی کے ساتھ ۱۹۶۹ میں نئے ادبی رجحانات کے تعلق سے جو بحث ہوئی، وہ ’’معرکہ‘‘ کے عنوان سے کتابی شکل میں موجود ہے۔ کم از کم ایک دہائی تک وہاب اشرفی کو اکثر لوگ جدیدیت کا سرگرم مجاہد سمجھتے رہے۔ لیکن وہ محمود ہاشمی یا اُن جیسے نقادوں کی طرح نہیں تھے جنھیں اپنے رجحان یا تحریک کے علاوہ کچھ اور دکھائی نہیں دیتا۔ اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجدوں میں انھیں پوری کائنات سمٹی ہوئی مل جاتی ہے۔ اس معاملے میں وہاب اشرفی کا رویہ، کم از کم ۱۹۷۵ کے بعد ، میانہ روی کا رہا۔ اس طرح انھیں اختر الایمان، قرۃ العین حیدر اور آلِ احمد سرور کے قبیلے کا آدمی سمجھنا چاہیے جنھوں نے ترقی پسندی، جدیدیت اور ما بعدِ جدیدیت ہر رُخ کے سے اپنی زبان کے شعر و ادب کو دیکھنے کی کوشش کی۔ ترقی پسندی اور جدیدیت کے تعلق سے وہاب اشرفی کے مضامین کی معروفیت قابلِ دید ہے۔
جدید نظریات اور نئے ادب سے رغبت کے باوجود وہاب اشرفی نے ان موضوعات پر کچھ سلسلے وار ڈھنگ سے نہیں لکھا۔ اشخاص کی سطح سے غور کریں تو حیرت ہوتی ہے کہ جوگندر پال اور غیاث احمد گدّٰی شفیع جاوید (فکشن) مظہرامام اور ظہیر صدیقی (شاعری) کے علاوہ انھوں نے کسی جدید مصنف پر آزادانہ طور پر قلم نہیں اٹھایا۔ شعر غیر شعر اور نثر اور گنجِ سوختہ (شمس الرحمٰن فاروقی)پر تبصرے وہاب اشرفی کی صلاحیت کا پورے طور پر پتا نہیں دیتے ان نوشتوں سے اس بات کا اندازہ نہیں لگتا کہ وہ جدید تصورات و نظریات کے گہرے نباض ہیں۔ ’’نثری نظم‘‘ ’’کنکریٹ شاعری‘‘ عنوانات سے جو مضامین ’معنی کی تلاش ‘ میں شامل ہیں، اُن سے نیا موضوعاتی طلسم اُجاگر نہیں ہوتا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ادبی تصورات اور مغربی علوم کے سلسلے سے وہاب اشرفی نے یکسو ہو کر کبی تفصیل سے لکھنے کا ارادہ نہیں کیا۔ اس وجہ سے جدیدیت کے عہدِ شباب میں بھی انھیں جدید شعر و ادب کے ماہر نقاد کے بطور فاروقی، محمود ہاشمی، شمیم حنفی، وزیر آغا جیسے ناقدین کی صف میں شمار نہیں کیا جا تا تھا۔
ایک تنقید نگار کی حیشیت سے تحریک اور رجحانات سے متعلق وہاب اشرفی کے توزن کی داد دی جاتی ہے۔ لیکن معاملہ جب ما بعد جدیدیت کا ہو تو یہ ضبط اور ٹھہراو ختم ہو جاتا ہے۔ وہاب اشرفی کو معلوم ہے کہ ان کی زندگی میں اب کوئی نئی ادبی تحریک شاید ہی آئے۔ اس لیے ترقی پسندی اور جدیدیت سے پرے جاکر ما بعدِ جدیدیت تحریک کے حصار میں وہ عقیدت مندانہ انداز میں پہنچ گئے ہیں۔ جدیدیت کے بعد کون سی تحریک یا رجحان یا ادبی رویہ اردو کے مرکزی منچ پر کام کر رہا ہے، اس مباحثے میں گذشتہ ایک دہائی سے وہاب اشرفی سب سے زیادہ گرم رہے ہیں۔ ان کے بعض مضامین ان کی قائدانہ حیشیت واضح کرتے ہوئے اشاعت پذیر ہوئے۔ ’’ما بعدِ جدیدیت : مضمرات و ممکنات‘‘ کتاب کی اچاعت سے اب یہ ثابت ہو رہا ہے کہ ہندستان میں ما بعد جدیدیت کو جدیدیت کے بعد کے زندہ رجحان کے طور پر اعتبار دلانے میں وہاب اشرفی اعتبار سے گوپی چند نارنگ اور کئی دو سرے لوگوں سے زیادہ سرگرمِ عمل ہیں۔ وہاب اشرفی کی اس کتاب کا دوسرا ایڈیشن بھی سامنے آچکا ہے۔ جس فراخ دلی اور ادبی یکسوئی کے ساتھ انھوں نے دنیا جہان کی تحریروں کو جا اور بے جا دونوں حالتوں میں مابعد جدیدیت کے خانے میں ڈال دیا ہے، وہ حیرت انگیز ہے۔ محسوس ہوتا ہے کہ یہ کتاب اس ارادے سے لکھی گئی ہے کہ ما بعدِ جدیدیت کو ادب کا سکّہ ء رائج الوقت بنا کر رہنا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اس ضخیم کتاب میں قدیم اور جدید لکھنے والے لوگوں کی مثالیں بہت ہیں اور نھیں ہر اعتبار سے ما بعدِ جدید لکھنے والا قرار دیا گیا ہے۔
’’ما بعد جدیدیت: مضمرات و ممکنات‘‘ وہاب اشرفی کی تحریکی کتاب۔ اگر اس کتاب کا موازنہ سردار جعفری کی کتاب ’ترقی پسند ادب‘ سے کریں تو دونوں مصنفین اور تحریکوں کے مزاج کے امتیازات روشن ہو جائیں گے۔ سردار جعفری نے ’کون ترقی پسند نہیں ہے، پر سب سے زیادہ زور دیا تھا۔ وہاب اشرفی کی نگاہ میں ہر نیا اور پرانا شہراہ ما بعدِ جدیدیت کا نمائندہ ہے۔گمنام چہروں اور معمولی نظم و نثر لکھنے والوں کے ساتھ ساتھ ما بعدِ جدیدیت کی مخالفت کرنے والے لوگوں کے یہاں بھی وہاب اشرفی ما بعدِ جدید عناصر تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ شمس الرحمٰن فاروقی کی افسانوی تحریر میں بھی ما بعدِ جدیدیت کے اثرات وہاب اشرفی نے دکھائے ہیں۔ تقریبََا ڈیڑھ سو صفحات میں وہاب اشرفی نے مغرب میں ما بعدِ جدیدیت سے متعلق اصولی مباحث کو مختلف عنوانات کے تحت پیش کیا ہے۔ سکندر احمد نے اپنے ایک مضمون (مطبوعہ تشکیل، کراچی) میں اس کتاب کے ابتدائی حصّے پر بعض معترضانہ سوالات قائم کیے ہیں۔ یہ مباحثہ اب بھی جاری ہے اور ملک کے مختلف گوشوں تک اس کی گونج سنائی دے رہی ہے۔
اردو تنقید کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو نثر کے مقابلے شاعری کا بول بالا رہا ہے۔ شاعری کے وقیع سرمائے کے سامنے ناقدین کا یہ انداز کچھ غیر فطری بھی نہیں۔ وہاب اشرفی نے بھی شاعری کے تعلق سے خاصے مضامین لکھے ہیں۔ اردو کے عظیم شعرا سے متعلق ان کے مضامین نظر میں رکھیں تو اقبال پر سب سے زیادہ چار تحریریں ملتی ہیں۔’شعر اقبال کا علامتی پہلو‘، ’کلامِ اقبال کے نثری معانی‘؛ ’اقبال کا عہد اور ان کی رومانیت ‘ اور ’دانتے اور اقبال : کلیم الدین احمد کی نگاہ میں‘۔ ان چار مضامین کی بنیاد پر یہ کہنا مشکل ہے کہ وہاب اشرفی نے اقبال شناسی کی کوئی نئی راہ نکالی ہے۔ اقبال کے تعلق سے علامتی پہلو کی تلاش اور ان کے عہد میں پیوست رومانیت کی جڑوں کی تلاش وہاب اشرفی کے دو مضامین کے مقاصد میں شامل ہیں۔ موضوع کے اعتبار سے یہ انوکھے اور اہم تھے۔ شاید اسی وجہ سے وہاب اشرفی نے ان موضوعات کو نشانہ بنایا۔ لکین افسوس اس بات کا ہے کہ جس قدر اچھوتے اور ضروری موضوعات تھے اُسی قدر ان مضامین میں سرسری اندازِ فکر کو روا رکھا گیا۔ جس کا نتیجہ اِن مضامین کے غیر ضروری ہونے پر ظاہر ہوا۔
کلیم الدین احمد کے تعلق سے جاوید نامہ اور ڈوائن کا میڈی کے موازنے کا انھوں نے عالمانہ نقطہء نظر سے محاکمہ کیا ہے۔ کلیم الدین احمد سے وہاب اشرفی کا شاید بالا رادہ لاگ لگاو کا رشتہ ہے۔ اس کے باوجود انھوں نے تنقیدی نکتہ رسی کا بعض مقامات پر حق ادا کر دیا ہے۔ جاوید نامہ کے موازنے میں کلیم الدین احمد نے دانتے کے ذریعہ جہنم کی تصویر کشی سے جاوید نامہ کا جو موازنہ کیا ہے، وہاب اشرفی اسے انصاف پسندانہ نہیں مانتے۔ اس معاملے میں وہاب اشرفی کی بحث عالمانہ ہے۔ کلیم الدین احمد نے اپنے مطالعے میں دونوں کتابوں کے اشعار کا بالتفصیل تقابل کیا تھا، پڑھنے والوں کے سامنے اُن اشعار کو پیش کرکے اپنے فیصلے کی ثیق چاہی تھی۔ لیکن وہاب اشرفی اصل مثالوں سے گریز کرتے ہیں۔ جس سے ان کے فیصلے پر ایمان لانے میں دشواری ہوتی ہے۔ بنیادی حوالہ جات سے وہاب اشرفی کے ہاں ایک عمومی بے اعتنائی ملتی ہے۔
غالب کے سلسلے سے وہاب اشرفی کے دو مضامین ہیں: ’’غالب کی بوطیقا اور عصرِ حاضر میں اس کی معنویت ‘‘ اور ’’تفہیم غالب کے نئے ممکنہ جہات‘‘ ۔ دونوں موضوعات جتنے ’پر اثر اور عالمانہ ہیں، اُس قدر وہ مضامین نہیں ہیں۔ پتا نہیں کیوں مشاہیر سے متعلق لکھتے ہوئے وہاب اشرفی سرسری گزر جاتے ہیں۔ حالاں کہ جن موضوعات پر کافی زیادہ لکھا جا چکا ہوتا ہے، اُن پر پھر سے لکھنا ایک چیلینج کی طرح ہوتا ہے۔ یہ افسوس ناک امر ہے کہ وہاب اشرفی نے مشاہیر شعراے کرام پر اپنے مضامین جی لگا کر نہیں لکھے۔ ’’مومن کی غزل گوئی‘‘ کے عنوان سے وہاب اشرفی کا مضمون بھی ہمیں نئے مضاہیم کی طرف توجہ کرنے کے لیے راستہ نہیں دکھا تا۔
وہاب اشرفی اصل میں نثری ادب کے ناقد ہیں۔ بالخصوص اردو فکشن سے متعلق ان کے بہترین مضامین یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں کہ وہاب اشرفی افسانے اور ناولوں سے کتنی محبت رکھتے ہیں۔ فکشن سے متعلق مضامین کا مجموعہ ’’اردو فکشن اور تیسری آنکھ‘‘ کے مطالعے سے یہ اندازہ ہوگا کہ وہاب اشرفی نے مختلف اوقات میں کون سے فکشن لکھنے والوں کو موضوعِ نحث بنایا ہے۔ ہر چند فکشن سے یہ تعلق وہاب اشرفی کو افسانے یا ناول پر تفصیل سے اور جی لگا کر کسی مستقل تصنیف کی طرف منعطف کرنے میں کامیاب نہیں رہا۔ اِس کے باوجود وہاب اشرفی کے بعض مضامین یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں کہ وہ فکشن کے بلند قامت نقاد ہیں۔ غیاث احمد گدی پر لکھے ا ن کے مضمون سے یہ اندازہ ہو سکتا ہے کہ افسانوں میں وہ کتنی گہرائی سے اترتے ہیں۔ یہ کہنا شاید عقیدت مندی نہیں ہوگی کہ غیاث احمد گدی سے متعلق اِس سے بہتر مضمون کسی دوسرے ناقدنے نہیں لکھا۔ جو گندر پال، شفیع جاوید اور منظر کاظمی کی افسانہ نگاری سے متعلق مضامین ان افسانہ نگاروں کی قدر شناسی کے نئے راستے کھولتے ہیں۔
راجندر سنگھ بیدی کے افسانوی مجموعے ’’اپنے دکھ مجھے دے دو‘‘ کا تنقیدی جائزہ وہاب اشرفی نے ایک علاحدہ کتابچے میں لیا ہے۔ بیدی کے نو افسانوں کے تنقیدی تجزیے کے علاوہ چار مختصر مضامین بھی اس کتاب میں افتتاحیہ اور اختتامیہ کے بطور شامل ہیں۔ ’’راجندر سنگھ بیدی کا فنّی شعور‘‘ اور ’’بیدی کا اسلوب‘‘ جیسے عنوانات سے وہاب اشرفی نے بہتر تجزیہ کیا۔ بیدی کے افسانوں میں عورت کی مرکزیت کے نفسیاتی پہلوؤں کی طرف سنجیدگی سے اس میں اشارہ موجود ہے۔ راجندر سنگھ بیدی کے حالاتِ زندگی کے عنوان سے جو مضمون اس کتاب میں شامل ہے، اُس میں ظ۔انصاری کے مضمون سے آٹھ صفحات شامل کر لیے گئے ہیں۔ بیدی کے افسانوں کے جو تجزیے اس کتاب میں شامل ہیں، ان سے کسی گہری تنقیدی مشق کا ثبوت نہیں فراہم ہوتا۔
بہار اردو اکاڈمی کے لیے سہیل عظیم آبادی کے افسانوں کا انتخاب تیار کر کے وہاب اشرفی نے تقریبََا چالیس صفحے کا مقدمہ تحریر کیا۔ یہ مضمون اِس اعتبار سے قیمتی اور دستاویزی ہے کہ اس میں سہیل عظیم آبادی کو گاندھیائی اسکول سے الگ کر کے دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس مجموعے میں منتخب تمام افسانوں کے تنقیدی جائزے کے بعد وہاب اشرفی نے شہیل عظیم آبادی کے تعلق سے یہ بحث کرنے کی کوشش کی ہے کہ سہیل عظیم آبادی کو صرف پریم چند اسکول کا نمائندہ کہنا مناسب نہیں۔ سہیل نے اپنا انداز بدلا اور اپنے عہد کے حقائق اور انسان کی نفسیاتی پیچیدگیوں کو سمجھنے میں وہ کسی سے پیچھے نہیں رہے۔ حد تو یہ ہے کہ ان کے بعض افسانے بالخصوص بھابھی جان، گرم راکھ اور بدصورت لڑکی کی گفتگو کے بعد وہاب اشرفی نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ سہیل جنسی موضوعات پر بھی کامیابی کے ساتھ لکھنے والے افسانہ نگار ہیں۔ سہیل عظیم آبادی کی افسانہ نگاری کا یہ ایک علاحدہ باب تھا جسے گالبََا وہاب اشرفی نے پہلی بار گفتگو کا موضوع بنایا۔
افسانے کے اصولی اور تاریخی پہلوؤں پر بھی وہاب اشرفی نے مضامین لکھے ہیں۔ ’’اردو افسانہ کل اور آج ‘‘ تفصیلی مضامین کی فہرست میں اپنے انداز کا واحد مضمون ہے۔ تاریخ کی اہم گُتھّیوں کو سلجھاتے ہوئے انھوں نے اپنے واضح خیالات پیش کیے ہیں۔ اہم اور بعض اوقات کم معروف افسانہ نگاروں کے بارے میں بہت نَپی تُلی راے پیش نظر رکھی ہے ’ بہار میں اردو افسانہ نگاری ‘ کتاب میں وہاب اشرفی کا تفصیلی مقدمہ بہار کے اردو افسانہ نگاروں کے نہ جانے کتنے گم شدہ پہلوؤں کو واشگاف کرتا ہے۔ ایک مخصوص خطّٰے کی حد میں رہتے ہوئے بھی انھوں نے درجنوں بھولے بسرے لوگوں کی اہمیت سے آشنا کرایا ہے۔ اب بھی بہار کے افسانہ نگاروں کے تعلق سے یہی سب سے اچھا مضمون مانا جاتا ہے۔’’افسانے کا منصب‘‘ عنوان سے مضمون دراصل افسانے کی تاریخ، حدود اور دائرۂ کار متعین کرنے کے لیے لکھا گیا ہے۔ وہاب اشرفی نے جس تفصیل سے افسانے کی فنّی اور فکری بنیادوں پر گفتگوکی ہے، اس سے اُن کے مطالعے، مشاہد ے اور کشادہ ذہنی کا پتا چلتا ہے۔
افسانوں کے ساتھ ساتھ وہاب اشرفی نے بعض ناولوں پر بھی مضامین لکھے ہیں۔ شاد عظیم آبادی، اختر اور ینوی، عبد الصمد اور قرۃالعین حیدر کے ناولوں سے متعلق ان کے مستقل مضامین موجود ہیں۔ ’ما بعدِ جدیدیت : مضمرات و ممکنات، کتاب میں تقریبََا ۴۵ صفحات انھوں نے ناولوں سے متعلق وقف کیے ہیں۔ اس کے علاوہ دلت ادب سے گفتگو کرتے ہوئے بھی انھوں نے غضنفر کے ناول ’دویہ بانی‘ پر چند سطور رقم کی ہیں۔ شاد عظیم آبادی کے سلسلے سے ان کی تحقیق اہم تسلیم کی جاتی ہے لیکن سرسری گزرنے کی خو، اس کتاب میں بھی موجود ہے۔ شاد کے ناولوں کی تصنیفی حیشیت طے کرنے کے مرحلے میں وہاب اشرفی نے جو بحث کی ہے اس میں بنگلہ ناول ’اندرا‘ کا ذکر آتا ہے۔ شاد کے ناول اور بنگلہ کتابوں میں مشابہت ثابت ہے۔ وہاب اشرفی نے اپنا فیصلہ بجا طور پر شاد عظیم آبادی کے خلاف سنایا لیکن اُن کے اندازِ تنقید پر قربان جائیے کہ انھوں نے اِتنے اہم فیصلے کی بنیاد اور دونوں ناولوں کی مبشابہت کے لیے حوالہ آصفہ واسع کی کتاب کو بنایا۔ یہ کوئی بڑا تنقیدی مسئلہ نہیں تھا۔ وہاب اشرفی چاہتے تو خود دونوں ناولوں کا موازنہ کرکے آصفہ واسع کی رائے پر تکیہ کرنے کے بجاے اپنی آزادانہ رائے پیش کرتے۔ یہ رواروی قرۃالعین حیدر کے لافانی کردار گوتم ینلمبر کے تعلق سے بھی دکھائی دیتی ہے۔ محض ساڑھے تین صفحات میں اتنے اہم موضوع کو اُس کے انجام تک پہنچا دیا گیا ہے۔ اِس کے مقابلے اختر اور ینوی کے ناول ’حسرِ تعمیر‘ اور عبد الصمد کے ناول دو گز زمین پر لکھے گئے مضامین مختصر ہونے کے باوجود زیادہ مکمل ہیں۔ نوبل انعام یافتہ امریکی ادیب سال بیلو کی ناول نگاری پر لکھتے ہوئے وہاب اشرفی نے چند سطروں میں ایک تحریر کا تعارف پیش کردینے کو اپنا کارنامہ سمجھ لیا ہے۔ فکشن سے متعلق وہاب اشرفی کے بعض مضامین اُن کی کتاب ’نکتہ نکتہ تعارف‘ میں بھی شامل ہیں۔ کلام حیدری، ش۔مظفر پوری، عبد الصمد، محمود واجد، اقبال مجید اور شمویل احمد کی کتابوں پر لکھے گئے تبصرے یا تقاریظ کی رسمی حیشیت زیادہ ہے۔
نثر کے غیر افسانوی شعبے پر بھی وہاب اشرفی کی توجہ رہی ہے۔ خطوطِ غالب اور محمد حسین آزاد کے ساتھ ساتھ سید سلیمان ندوی کی نثر کی خوبیوں پر وہاب اشرفی کے مضامین موجود ہیں۔ تنقید کے تعلق سے اُن کے کئی مضامین موجود ہیں۔ ’’اردو تنقید کی نئی صورت‘‘ ۳۷ صفاحات پر پھیلا ہوا مضمون ہے۔ وہاب اشرفی نے ہم عصر ناقدین اور سایقین سے متعلق اپنی صاف صاف رائے دی ہے۔ مختلف ناقدین کے سلسلے سے اُن کی رائے متوازن ہے۔ ’احتشام حسین کا تنقیدی رویہ، عنوان کا مضمون سنجیدہ علمی کوشش ہے۔ اختلاف اور اتفاق دونوں کی جگہ اس مضمون میں ہے۔ وہاب اشرفی کا ایک پرانا مضمون ’’نئی تنقید کے چند سال‘‘ اِس اعتبار سے اہم ہے کہ وہاں رائے زیادہ تازہ کار اور سچّائی کے ساتھ سامنے آتی ہے۔ جدیدیت کی اٹھان کے زمانے میں یہ مضمون لکھا گیا لیکن اس میں نہ جذباتیت ہے اور نہ غیر ضروری مدافعت۔ بدلتے ہوئے تنقیدی منظرنامے پر ان کی توجہ ہے اور ہر ناقد کی تازہ تحریروں سے واقفیت۔ گذشتہ لکھے سے وہ موازنہ بھی کرتے ہیں اور لکھنے والے کے ساتھ اپنی توقعات بھی واضح کرتے چلتے ہیں۔
وہاب اشرفی تحقیق کے مردِ میدان نہیں۔ اُن کی درجنوں تنقیدی اور تاریخی کتابوں کے بیچ تحقیقی نوعیت کی ایک کتاب ’’شاد عظیم آبادی اور ان کی نثر نگاری‘‘ ہے جو اصل میں ان کا پی ایچ۔ڈی مقالہ ہے۔ شاد عظیم آبادی کی شہرت عظمت ان کی شاعری کی وجہ سے رہی ہے لیکن وہاب اشرفی نے ان کی شخصیت کے ایک نسبتََا کم معروف گوشے کو اپنی تحقیق کا حصہ بنایا۔ گیا ہے۔ شاد کی بعض نثری تصنیفات کے تعلق سے چند امور میں بعض ناقدین کے درمیان اختلافات اور اعتراضات کی بہتات رہی ہے۔اُن مواقع پر شاد صحیح ہیں یا ان کے مخالفین، اس کا فیصلہ آسان نہیں۔ وہاب اشرفی نے اس کتاب میں اپنے موضوع کے اعتبار سے ایسے اختلافی امور پر بالاستیعاب بحث کی ہے۔ شاد کی حیات اور خدمات سے متعلق جن محققین نے لکھا، وہاب اشرفی نے ان کو بنیادی حوالہ بناتے ہوئے صحیح نتیجے تک پہنچنے کی کوشش کی ہے۔
ایک محقق کے طور پر وہاب اشرفی نے اپنے کون سے فرائض ادا کیے ہیں، اس کا بہترین نمونہ شاد کی ناول نگاری پر لکھے گئے باب میں ملتا ہے۔ ’’صورۃالخیال‘‘ ناول کیا شاد کا لکھا ہوا ہے؟ یہ سوال تحقیق کے طالبِ علموں کی پریشان کرتا ہے۔ کئی بار مشہور اہلِ قلم اپنے سے کم اہم لوگوں کی چیزیں غصب کر لینے میں پریشانی محسوس نہیں کرتے۔ شاد کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ ایک زمانے تک شاد کے ناول کو طبع زاد اور صرف ان کا لکھا ہوا تسلیم کیاجاتا رہا ہے۔ محمد اعظم کے دعوے کو کسی نے درخورِ اعتنا نہیں سمجھا منشی حسن علی نے تو کبھی دعویٰ بھی نہیں کیا اور خاموش بیٹھے رہے۔ وہاب اشرفی نے ’’صورۃ الخیال‘‘ کے تصنیفی دعوے کو ایک سلجھے ہوئے وکیل کی طرح جرح کرنے کے بعد یہ فیصلہ سنایا:
’’راقم الحروف اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ ’’صورۃ الخیال‘‘ کا پہلا مسودہ منشی محمد اعظم اور مولوی حسن علی نے تیار کیا اور شاد سے اس کی اصلاح کی درخواست کی۔شاد نے صَرف اصلاحِ زبان پر بس نہیں کی بلکہ اس میں ترمیم و تنسیخ بھی کی، اور اب وہ جس طرح ہمارے سامنے ہے وہ تین اشحاص کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ اس کے مصنفین شاد کے علاوہ حسن علی اور محمد اعظم ہیں‘‘۔
شاد عظیم آبادی پر تحقیق کرنے والے کسی بھی طالبِ علم کے لیے وہاب اشرفی کی یہ کتاب نشانِ راہ ہے۔ آخر کوئی تو بات ہوگی جس کے سبب قاضی عبد الودود جیسے عظیم محقق نے بجا طور پر انھیں اس کتاب کے لیے داد دی۔
مقدمہء شعر و شاعری کی اشاعت کے فورََا بعد امداد امام اثر کی ضخیم کتاب کاشف الحقائق منظرِ عام پر آئی۔ کتاب کے مندجات پر غور کریں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مقدمہء شعر و شاعری کی طرح کی یہ بھی ایک منصوبہ بند تنقیدی کتاب ہے۔ سلسلہ وار طریقے سے نہ صرف اس کتاب میں شعر و ادب کے بنیادی امور زیرِ بحث رہے ہیں بلکہ مشرق اور مغرب دونوں علمی سوتے یہاں ایک ساتھ پھوٹتے دکھائی دے جاتے ہیں۔ یہ عجب اتفاق ہے کہ حالی کے بعد شبلی کو ناقد کے طور پر پوری شہرت ملی اور ’موازنۂ انیس و دبیر، کو بڑی کتاب کا درجہ عطا کیا گیا لیکن اس سے پہلے کی اس کتاب کو قومی سطح پر قبولِ عام کی سند میسر نہ ہوئی۔ وہاب اشرفی نے کاشف الحقائق کی ترتیبِ نو کرکے اس کتاب کو ملک کے طول و ارض میں پھیلا یا۔ انھوں نے اس کتاب پر طول طویل مقدمہ لکھا جو اَب ’کاشف الحقائق: ایک مطالعہ، کے عنوان سے سو صفحات کی ایک الگ تنقیدی کتاب ہے۔
امداد امام اثر کے تنقیدی طریقۂ کار کا محاسبہ کرنے کے لیے وہاب اشرفی نے دو ابواب قائم کیے ہیں۔ ’’امداد امام اثر اور اردو شعرا اور ’’امداد امام اثر اور عملی تنقید‘‘ وہاب شرفی نے ولی، درد، سودا، میر، ذوق، مومن، غالب جیسے شعرا سے متعلق امداد امام اثر کے تاثرات کا جائزہ لیا ہے۔ وہاب اشرفی کا نتیجہ درست ہے کہ امداد امام اثر شعر و ادب سے متعلق اپنی مخصوص راے رکھتے ہیں۔ ان کے زمانے کو دیکھتے ہوئے یہ بڑی بات تھی۔ کاشف الحقائق میں عملی تنقید کے بھی نمونے موجود ہیں۔ تقابل اور موازنہ اس زمانے میں رائج نہیں۔ تھے۔ امداد امام اثر نے فارسی اور اردو شعرا کے درمیان موازنہ صورت پیدا کی۔ اُن کے زمانے کو دیکھتے ہوئے یہ بڑا کارنامہ تھا۔ وہاب اشرفی نے بجا طور پر امداد امام اثر کا ایک اہم نقاد کے طور پر ذکر کیا ہے۔
ساہتیہ اکاڈمی نے وہاب شرفی کے دو مونوگراف شائع کیے ہیں۔ ۱۹۹۹ء میں قاضی عبد الودود کی شخصیت اور خدمات پر جو ۷۲ صفحات کی کتاب آئی، وہ شاید اس بات کی مثال بنے کہ کیسے کتابیں نہیں لکھی جانی چاہیے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مصنف کو چند گھنٹے کی مہلت ملی ہے اور اسی میں اُسے پوری کتاب تیار کردینے کی جلدی ہے۔ قاضی عبد الودود کی کتابوں کی فہرست اور ان کتابوں میں شامل مضامین کی فہرست دو تہائی حصّے میں موجود ہے۔ اس کام کے لیے بھی وہاب اشرفی کو زیادہ تگ و دَو نہیں کرنی پڑی کیوں کہ ادارۂ تحقیقاتِ اردو اور خدابخش لائبریری نے قاضی عبد الودود کے بیشتر مضامین کو کتاب کی شکل میں شائع کر دیا تھا۔ یہ شوچ کر خوف آتا ہے کہ وہاب اشرفی کو اگر دس برس پہلے یہ کتاب لکھنی ہوتی جب یہ مضامین رسائل کے دفینوں میں پوشیدہ تھے، تب ویسی حالت میں قاضی عبد الودود کی کیسی خبر لی گئی ہوتی۔ مجروح سلطان پوری پر اُن کی کتاب ۲۰۰۳؁ء میں آئی۔ انتخابِ کلام سے صرفِ نظر کریں تو یہ کتاب بھی ۷۲ صفحات میں سمٹ گئی ہے۔ یہ کتاب بھی کسی گہرے تنقیدی منصوبے کو ظاہر نہیں کرتی۔ مجروح کی مخصوصی ترقی پسندانہ اصطالاحات اور سکّہ بند ترقی پسندی سے الگ انداز کے کلام پر وہاب اشرفی کی گفتگو مناسب ہے۔ مجروح کے کلام سے ویسے اشعار چُن کر وہاب اشرفی نے اپنی باتیں مثالوں کے ساتھ رکھی ہیں۔
ڈاکڑ ہمایوں اشرف نے وہاب اشرفی کے تقریظات اور تبصروں کو ’نکتہ نکتہ تعارف‘ عنوان سے یکجا کیا ہے۔ کتاب کا نام سمجھ سے پَرے لگتا ہے۔ اس کتاب میں رسمی اور فرمایشی تحریریں بہت ہیں۔ ان کی ادبی قدر و قیمت کے بارے میں آپ آسانی سے تصور کر سکتے ہیں لیکن بعض تبصرے اور چند مضامین جی لگا کر لکھے معلوم ہوتے ہیں۔ گنج سوختہ (شمس الرحمٰن فاروقی) شعر غیر شعر اور نثر (شمس الرحمٰن فاروقی) لفظوں کا پل (ندا فاضلی)، اکائی (بشیر بدر)، رشتہ گونگے کا (مظہر امام) اور اشعار (حسن نعیم) ایسے تبصرے اس کتاب میں شامل ہیں جنھیں مصنف نے جی لگا کر لکھا ہے۔ان میں سے اکثر آج سے تیس اور پینتیس برس پہلے شائع ہوئے ہیں۔ شاعری ہو یا نثر ان تبصروں میں وہاب اشرفی کی نا قدانہ ذہانت اور علمی مشقت کے ثبوت ملتے ہیں۔ انھی خوبیوں کی وجہ سے جدیدیت کے دورِ عروج میں وہاب اشرفی کے ان تبصروں کی بڑی دھوم رہی۔ عبد الصمد، محمود واجد اور احمد جمال پاشا کی کتابوں پر جو پیشِ لفظ انھوں نے لکھے ہیں، وہ بھی بھرپور ہیں۔
یہ عجب اتفاق ہے کہ ’’نکتہ نکتہ تعارف‘‘ کتاب دو لخت ہے۔ ایک طرف بعض بہترین تبصرے اس کتاب کی رونق بڑھا رہے ہیں اسی طرح بعض نہایت سرسری تاثرات بھی تبصرے یا تقریظ کے طور پر اس کتاب میں موجود ہیں۔ اندھیرے اجالے کا فرق دیکھنا ہو تو ایسے تبصروں یا تقریظات کا مطالعہ کریں کئی بار پڑھنے والے کو یہ محسوس ہونے لگتا ہے کہ مبصر نے اس کتاب کو صرف باہر سے جھانک کر اپنا فیصلہ سنایا ہے۔ خاص طور سے وہاب اشرفی نے جب سے رسالہ شروع کیا ہے، تب سے ایسی فرمایشیں انھیں زیادہ میسر آرہی ہیں۔ نتیجے کے طور پر کتاب کا متن غائب ہو جاتا ہے اور عمومی گفتگو پر مکمل ارتکاز ہوتا ہے۔ متن سے ایسی بے اعتنائی اپنی تحرریروں کو بے اعتبار بنانے کی مہم نہیں اور کیا ہے؟
گذشتہ ڈیڑھ دہائیوں میں وہاب اشرفی کی ایک پہچان ’’تاریخِ ادبیاتِ عالم‘‘ کے مصنف کی بھی رہی ہے۔ سوا دو ہزار صفحات پر مشتمل ۳۲ زبانوں کے بارے میں ادبی تاریخ اس کتاب کی ۶ جلدوں میں سامنے آچکی ہے۔ اس سلسلے کی شاید آخری جلد ساتویں ہوگی جسے ابھی منظرِ عام پر آنا پاقی ہے۔ ۱۹۹۱؁ء میں جب پہلی جلد چھپ کر آئی، اُس میں مصنف نے بتایا تھا کہ بقیہ جلدیں تین چار برسوں میں سامنے آ جائیں گی۔ لیکن ۱۳ برسوں کے بعد بھی یہ منصوبہ اپنے انجام تک نہیں پہنچ سکا۔ ابتدائی دو جلدوں کو قبل مسیح ادب کے لیے مخصوص رکھنے کا اعلان ہے لیکن بعض نئے زمانے کے ادب کا ذکر بھی اُس میں شامل ہے۔ جلدوں کی تقسیم میں عہد اور زبان دونوں کی خانہ بندی ٹھیک سے نہیں ہونے کی وجہ سے پڑھنے والے کو کئی طرح کی مشقُت اُتھانی پڑتی ہے۔ یونانی ادب کے لیے پہلی، دوسری، تیسری اور پانچویں جلدیں دیکھنی پڑیں گی۔ اسی طرح سے فرانسیسی کے لیے پہلی، تیسری اور پانچویں جلد کا مطالعہ درکار ہوگا۔ ان زبانوں کے علاوہ مصری، کیلٹی، ہسپانوی، لاطینی، سنسکرت، تمل، عربی، فارسی، اردو، بنگلہ، مراٹھی، جرمن اور روسی زبانوں کا تذکرہ ایک سے زائد جلدوں میں پھیلا ہوا ہے۔ کسی جلد میں بقیہ جلدوں کا اشاریہ بھی نہیں ملتا کہ پڑھنے والا اگر کسی ایک زبان کے بارے میں پوری معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے تو ایک ساتھ کون کون سی جلدیں دیکھ لے، اِس کے بارے میں کوئی اشارہ نہیں ملتا اِس انتشار کا عروج چھٹی جلد میں دیکھنے کو ملتا ہے جہاں صرف دو نئی زبانوں ترکی اور ملیالم کی تاریخ لکھی گئی ہو اور بقیہ تذکرہ ’’گذشتہ سے پیوشتہ‘‘ ہے۔ سب سے مناسب تو یہی ہوتا کہ وقت یا زبان دونوں میں سے کسی ایک کو حد مان لیا جاتا۔ وہاب اشرفی نے اپنی سہولت کے اعتبار سے دونوں سرحدیں توڑی ہیں۔ جس کے سبب ایک ترتیبی اور تاریخی خلفشار ہر جلد میں موجود رہتا ہے۔
ادبی تاریخ نویسی یقینی طور پر مشکل فن ہے۔ تنقید سے اس کا رشتہ ایک باریک دھاگے سے بندھا ہوا ہے اور غالب کے لفظوں میں کہہ سکتے ہیں: ’’ہر چند کہ ہے، نہیں ہے‘‘۔ وہاب اشرفی اس فرق کو پورے طورپ سمجھتے ہیں۔ اس وجہ سے تاریخ نویس کے اعتبار سے وہ ہمیں زیادہ متاثر کرتے ہیں۔ اردو کی حد تک دیکھیں تو ادبی تاریخ نویسی کی طویل روایت ہونے کے باوجود کوئی ایسا بڑا کارنامہ سامنے نہیں آسکا جس پر اطمینان کیا جا سکے۔ جمیل جالبی کی ادھوری تاریخ میں تنقیدی اور تحقیقی خامیوں کی کمی نہیں۔ احتشام حسین کی کتاب عصرِ حاضر میں آکر انصاف سے دور چلی جاتی ہے اور سرسری مطالعہ بن کر رہ جاتی ہے۔ وہاب اشرفی اردو ادب کی بھی ایک تاریخ مکمل کر رہے ہیں۔ وہ کتاب سامنے آئے تب اس کا جائزہ کیا جا سکے گا کہ انھوں نے تاریخ نویسی کے آداب سے کتنا فائدہ اٹھایا۔
عالمی ادب یا دنیا کی اقوام کی تاریخ لکھنے والے کی بعض حدود واضح ہیں۔ یہ نا ممکن بات ہے کہ کوئی شخص درجنوں یا سیکڑوں زبانوں کا ماہر ہو جائے اور ان کے ادبی سرماے کا وہ براہِ راست جائزہ لے سکتا ہو۔ اس لیے عالمی ادب کے مصنف کی کچھ واضح حدود بھی ہوتی ہیں۔ بعض مقامات پر وہ بے بس اور لاچار بھی ہو جاتا ہے۔ یہ ساری حدود وہاب اشرفی کی اس کتاب میں موجود ہیں۔ وہاب اشرفی کی تاریخ ادبیاتِ عالم سے پہلے اردو میں کوئی ایسا تفصیلی مطالعہ دکھائی نہیں دیتا۔ اردو آبادی بالعموم کئی زبانوں کے جاننے والوں پر مشتمل رہی ہے۔ شروع کے زمانے میں عربی، فارسی کے ساتھ اردو جاننے والے ملتے تھے۔ بعد کے دور میں انگریزی اور ہندی کے ساتھ اردو کے افراد ملتے ہیں۔ اس لیے یہ شاید ہی کبھی ہوتا ہو کہ اردو خواں ایک زبان کا جاننے والا ہو۔ بالعموم وہ دو یا تین زبانوں کو جانتا ہے۔ وہاب اشرفی کو بھی اس کا فائدہ رہا کہ وہ اردو کے علاوہ انگریزی اور ہندی، فارسی سے گہری واقفیت رکھتے ہیں۔
وہاب اشرفی کی اس کتاب میں تاریخ نگاری اور ادبی تخلیقات کاتعارف ساتھ ساتھ ہے۔اس کتاب کی افادیت میں اضافہ ہو جاتا ہے کہ آپ کسی قدیم یا دور دیش کے ادب کی تاریخ کے ساتھ ساتھ مختصر تخلیقی نوشتہ جات بھی پڑھتے جائیں۔ اپنی تنقدمیں بنیادی متون سے جس حد تک وہاب اشرفی گریز کرتے دکھائی دیتے ہیں، وہ خو، اِس قاموسی کتاب میں موجود نہیں۔ خاص طور سے جب قدیم زبانوں یا متون پر اس کتاب میں بحث چلتی ہے تو اسطوری انسلاکات والے قصُے پڑھنے والوں کو مبہوت کردیتے ہیں۔ تاریخ نگاری کا یہ انداز وہاب اشرفی نے شاید مذہبی کتابوں کو دیکھ کر سیکھا ہے۔ جہاں قوموں کی تاریخ کے ساتھ ساتھ اور بھی بہت کچھ ہوتا رہتا ہے۔ اِس لیے تاریخِ ادبیاتِ عالم کے سنجیدہ قاری کو کبھی اس کتاب کے مطالعے کے دوران اُکتاہٹ نہیں ہوتی۔ آخر کوئی تو وجہ وہگی کہ ابھی یہ تاریخ مکمل نہیں ہوئی لیکن ابتدائی جلدوں کے دو اور تین ایڈیشن بازار میں فروخت ہوگئے۔ موضوع کی اہمیت اپنی جگہ لیکن خراب لکھنے والا اسے غارت بھی کر دیتا ہے۔ وہاب اشرفی نے بالعموم مستند مآخذ کا استعمال کر کے اردو والوں کو دنیا کے علمی خزینے سے بڑی کامیابی کے ساتھ واقف کرایا ہے۔
ایسی کتابوں کا مقصد گہری تنقیدی بصیرت پیدا کرنا ہرگز نہیں ہوتا۔ وسیع دائرۂ کار میں جب توجہ کرنی ہو تو سرسری گزرنے کے علاوہ کوئی چارۂ کار نہیں ہوتا۔ عالمی ادب کے مورخ کا یہ المیہ وہاب اشرفی کے ساتھ بھی ہے۔ لکھنے والا تعارف کے حد سے جہاں آگے بڑھا، اس کے علم کا امتحان شروع ہوجاتا ہے۔ ادبی تخلیقات پر آزادانہ رائے زنی اس وجہ سے بھی نا مناسب ہے کہ دنیا کی درجنوں زبانوں کے ادب کے تہذیبی اور سماجی پس منظر سے واقفیت کا تقریبََا نا ممکن ہے۔ اردو ادب کے طالبِ علم جب تاریخ ادبیاتِ عالم کی پانچویں اور چھٹی جلد کے مطالعے کے دوران اردو زبان کے اَحوال پر متوجہ ہوں گے تو انھیں ایسی کتابوں کی حدود کا اندازہ ہوگا جب کہ وہی قاری پہلی، دوسری اور تیسری جلد میں سنسکرت ادب کی تاریخ پڑھتے اس تشنگی اور عدم سیرابی کو شاید ہی محسوس کر سکے۔ ایسی تاریخ نویسی کی پشت پر بے پناہ ستایش اور علمی خطرے ہوجود ہوتے ہیں اور دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ وہاب اشرفی بھلا کیسے اس سے بچ سکتے ہیں۔
وہاب اشرفی کے طریقۂ تنقید پر غور کیں تو محسوس ہوگا کہ اُن کے یہاں صراحت، قطعیت اور بیان میں سادگی بنیادی جو ہر ہیں۔ انھی سے اُن کا نثری اسلوب بھی تیار ہوتا ہے۔ اس لیے اُن کے مختصر مضامین سے لے کر مستقل کتابوں تک ترسیل کا کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ ایک ناقد کے طور پر اُن کی اہمیت اور پہلے تسلیم کی گئی ہوتی اگر انھوں نے اپنی تنقید کو مروت اور محبت داریوں سے الگ کرید ہوتا۔ متن سے جوجھنے کا عمل اُن کے یہاں کم کم دکھائی دیتا ہے۔ عملی تنقید سے بھی وہ اچّھا خاصا گریز کرتے ہیں۔ مثالیں دینے میں تخلیق یا مصنفین کی درجہ بندی نہیں کرتے اور اہم سے اہم موضوع کو سرسری انداز میں پایۂ تکمیل تک پہنچا دینے میں اپنی عافیت سمجھتے ہیں۔ خوب جی لگا کر اور بھر پور انداز میں کسی ایک موضوع کے تمام گوشوں کو واشگاف کرنا وہاب اشرفی پر شاید ابھی قرض ہے۔ اُن کا علم ابھی نئے آسمان کی تلاش میں ہے۔ اُن کے پاس جو ذہانت اور وسعت مطالعہ ہے، اُس کی روشنی میں وہ ’مقدمہء شعر و شاعری‘ ، ’کاشف الحقائق‘، ’موازنۂ انیس و دبیر‘ یا ’اردو شاعری پر ایک نظر‘ اور ’اردو تنقید پر ایک نظر‘ جیسی بھر پور کتابیں تیار کر سکتے ہیں۔ آنے والے وقت میں یہ امید کی جانی چاہیے کہ وہاب اشرفی اپنی صلاحیت کے نئے آفاق منور کرنے میں کا میاب ہو گے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Safdar Imam Qadri

Read More Articles by Safdar Imam Qadri: 50 Articles with 75911 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Feb, 2017 Views: 1403

Comments

آپ کی رائے