پروفیسر سید مقصود حسنی بحیثیت غالبؔ شناس

(ڈاکٹر غلام شبیر رانا, قصور)
پروفیسر سید مقصود حسنی کا شمار عالمی شہرت کے حامل مایہ ناز پاکستانی ادیبوں اور دانشوروں میں ہوتا ہے۔ علم و ادب سے ان کی والہانہ وابستگی ان کا بہت بڑا اعزاز و امتیاز ہے۔ ان کی علمی، ادبی، تحقیقی اور تنقیدی کامرانیوں کا ایک عالم معترف ہے۔ انھوں نے نہایت محنت سے اپنی قابلیت کا لوہا منوایا ہے۔ ان کی ادبی فعالیت ان کے کردار کی پختگی کی رہین منت ہے، وہ حریت فکر کے علم بردار جری نقاد کی حیثیت سے بلند مقام رکھتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں زندگی کے بارے میں جو مثبت انداز فکر، حقیقی معنویت اور مقصدیت جلوہ گر ہے ا س کے پس پردہ جو عوامل کار فرما ہیں ان میں حریت فکر کو کلیدی اہمیت حاصل ہے۔
اردو ادب میں غالبؔ کو نہایت اہم مقام حاصل ہے۔ غالبؔ نے اردو ادب کی ثروت میں جو اضافہ کیا وہ تاریخ ادب کا اہم واقعہ ہے۔ نثر ہو یا نظم، غالبؔ نے اپنی جدت فکر اور اندازِ بیان کے تنوع اور انفرادیت سے قطرے میں دجلہ اور جزو میں کل دکھا کر جریدۂ عالم پر اپنے دوام کو ثبت کر دیا۔ غالب ؔ کو ایک ایسے پل سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے جس کے افکار نے عہد قدیم اور عہد جدید کو مربوط کر دیا۔

پروفیسر مقصود حسنی نے غالب ؔ کے مطالعہ پر خصوصی توجہ دی ہے۔ غالبؔ کی شاعری کی تفہیم کے لیے اتنی ہی بلند پروازی درکار ہے جس قدر غالبؔ کے ہاں تخلیقی سطح پر موجود ہے۔ پروفیسر مقصود حسنی نے غالب شناسی پر جو خصوصی توجہ دی ہے وہ لائق صد رشک و تحسین ہے۔ غالبؔ کا مطالعہ ان کے نفس کی لا شعوری قوتوں سے ہم آہنگ ہو گیا ہے اوروہ انھیں شعور سے مربوط و مزیں کر کے غالبؔ کی شاعری میں آنے والے ا لفاظ اور گنجینہ معانی کے طلسم کی گرہ کشائی میں ایک عمر صرف کر چکے ہیں۔ گزشتہ تین عشروں سے قلب و روح کی گہرائیوں میں غالب کے فکری سرمائے کو سموئے ہوئے اس کے دھنک رنگ جلووں سے قارئین کو مسحور کرنے میں مصروف ہیں۔

پروفیسر سید مقصود حسنی کی تحقیقی کامرانیوں اور تنقیدی فتوحات کا سلسلہ بہت طویل ہے۔ ان کی و قیع کتب کی تعداد بیس سے زائد ہے۔ ان کتب کی زبردست پذیرائی ہوئی۔ ادب کے سنجیدہ قارئین نے ہمیشہ ان کی تصانیف کو شرف قبولیت بخشا ہے۔ پروفیسر سید مقصود حسنی نے غالبؔ کی شاعری کا جو اختصاصی مطالعہ کیا ہے اس میں غالبؔ کے زبان وبیان اور الفا ظ کے انتخاب پر خصوصی توجہ دی ہے۔ غالبؔ نے لفظ کو کلیدی اہمیت دی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ غالبؔ نے جب لفظ کو گنجنیہ معانی کا طلسم کہا تو اس نے لا شعوری طور پر خود کو لفظ کے سپرد کر دیا اور الفاظ نے تخلیق سے مواصلت کے ذریعے جب ید بیضا کا معجزہ دکھایا تو زندگی کے منفرد پہلو سامنے آتے چلے گئے ایک ممتاز غالب شناس کی حیثیت سے پروفیسر مقصود حسنی نے غالب کی تخلیقی فعالیتوں کو غالبؔ کی شخصیت کے تناظر میں دیکھنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ غالب ؔ کو اپنی زندگی میں جن حالات کا سامنا رہا ان کے براہ راست اثرات اس کے تخلیقی عمل پر بھی مرتب ہوئے۔ روح میں اتر جانے والی اثر آفرینی غالبؔ کی شاعری کا امتیازی وصف ہے۔

پروفیسر سید مقصود حسنی نے اپنے تجزیاتی مضامین میں جہاں غالبؔ کے منفرد اسلوب پر بحث کی ہے وہاں یہ ثابت کرنے میں بھی کامیاب رہے ہیں کہ یہ اسلوب اپنے گونا گوں محاسن کی بدولت ایک مثالی اسلوب بھی ہے۔ انھون نے غالبؔ کے منفرد اور مثالی اسلوب کے بارے میں مد لل گفتگو کی ہے۔ غالبؔ کی شخصیت اور انفرادیت سے متعلق انھوں نے فکر و نظر کو اس طرح مہمیز کیا ہے کہ قاری نہ صرف خوشی اور مسرت کے جذبات سے سرشار ہوتا ہے بلکہ وہ غالب کی عظمت فکر کا دل سے قائل ہو جاتا ہے۔ تخلیقی اعتبار سے عظیم شخصیات کے کمالات کا تجزیہ کرنے کے لئے یقیناً عظمت فکر کا حامل ہونا ضروری ہے۔ پروفیسر سید مقصود حسنی کو اللہ تعالیٰ نے ان تمام خوبیوں سے متمتع کیا ہے ۔وہ الفاظ اور اظہار بیان سے متعلق تمام
امور پر گہری نظر رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ تخلیق کار کے فن پاروں میں جلوہ گر وجدان کی لہر کے محرکات کا کھوج لگانے میں بھی کامیاب ہو جاتے ہیں۔ یہ امر لائق تحسین ہے کہ وہ غالب ؔ کی شاعری میں کار فرما تخلیقی عمل کی حقیقی کیفیات کو سمجھنے میں کامیاب رہے ہیں۔ خارجی اور داخلی عوامل کے ساتھ ساتھ الفاظ اور انداز بیان کی جو صورت حال سامنے آئی ہے پروفیسر مقصود حسنی نے اس کے فنی اور جمالیاتی عناصر پر سیر حاصل بحث کی ہے۔ غالبؔ نے اپنی تخلیقات کے ذریعے دراصل ایک معاشرتی اور سماجی عمل کو مہمیز کیا۔ پروفیسر سید مقصود حسنی نے اس جانب توجہ دلاتے ہوئے ثابت کیا کہ غالبؔ نے ادراک کی فقید المثال توانائیوں کے معجز نما اثرات سے ہماری زندگی کے عام واقعات کو جنھیں ہم بالعموم لائق اعتنانہیں سمجھتے۔ ہمارے شعور کا حصہ بنا کر اپنی انفرادیت کو ثابت کر دیا۔ اس عمل کے اعجاز سے قاری کے جذبات احساسات اور فکر و نظر کی تہذیب اور تزکیہ کی راہ ہموار ہوتی چلی گئی اور یہ سب کچھ عصری آگہی کا ثمر ہے۔ مقصود حسنی نے غالبؔ کی تفہیم کے سلسلے میں لکھا ہے:
’’غالبؔ نے اپنے تجربات مشاہدات اور احساسات کو موثر بنانے اور قاری کی پوری توجہ
حاصل کرنے کے لئے بڑی شاندار تصویریں تخلیق کی ہیں جس تجربے یا احساس کی تصویر
بناتا ہے قاری کی روح میں اتر کر سوال بن جاتی ہے اور پھر قاری کے سوچ کے دروازے
بند نہیں ہونے دیتی۔ ‘‘

پروفیسر سید مقصود حسنی نے جس جانب اشارہ کیا ہے وہ بلا شبہ حقیقی انداز فکر کو سامنے لانے کی کامیاب کوشش ہے۔ اذہان کی تطہیر و تنویر کے سلسلے میں یہ عمل بہت افادیت کا حامل ہے۔ غالبؔ نے اس عہد کے معاشرے میں زبوں حالی پر گرفت کی اور زندگی کی حقیقی معنویت کو اجاگر کرنے کے لئے درخشاں اقدار اور تابندہ روایات کی پاسداری کو مطمع نظر ٹھہرایا۔ وہ یہ بات اچھی طرح جانتے تھے کہ اگر معاشرے سے اقدار و خیال کی پاکیزگی عنقا ہو جائے تو تہذیبی انحطاط کو روکنا نا ممکن ہو جاتا ہے۔ غالبؔ نے تخلیق ادب کو ایک روحانی تجربے کا روپ عطا کر دیا۔ غالبؔ نے زندگی کے نشیب و فراز کو جس انداز میں دیکھا اور حالات واقعات کے بدلتے ہوئے تیور بعینہٖ اپنی شاعری میں لفظی مرقع نگاری کے ذریعے سمو دیے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو غالبؔ کی شاعری نہ صرف اس کے عہد کی بلکہ آنے والے دور کی ایک دھندلی سی تصویر بھی پیش کر تی ہے۔

پروفیسر سید مقصود حسنی نے غالب ؔ کی شاعری میں موجود عصری آگہی اور لسانی عوامل کا عمیق مطالعہ کیا ہے۔ انھوں نے اس جانب اشارہ کیا ہے کہ غالبؔ کے عہد میں زندگی کی اقدار عالیہ کو استبدادی قوتوں کی غاصبانہ دستبرد کے باعث شدیدضعف مگر تہذیبی قوت بڑی حد تک برقرار تھی۔

غالبؔ نے اپنی تخلیقی فعالیت کے اعجاز سے تہذیبی قوت کی بقا اور استحکام کے لئے مقدورد بھر کوشش کیں۔ اس کا واضح ثبوت غالب کی شاعری کا خاص آہنگ ہے۔ جسے اپنے خاص طرز بیان کی بدولت ہر عہد میں سند کا درجہ حاصل رہے گا۔ پروفیسر سید مقصود حسنی نے اسی طرز بیان کو اپنی تحقیقات کا مرکز و محور بنا رکھا ہے۔ انھیں اس بات کا پختہ یقین ہے کہ غالب کی فکری منہاج ہر دور میں لائق تقلید رہے گی کیونکہ غالبؔ نے اپنے افکار کی ضیا پاشیوں سے اذہان کی توسیع کی، وہ درخشاں مثال قائم کی جس سے اردو ادب نا آشنا تھا۔ غالبؔ کی تخلیقی فعالیت کی بدولت اردو شاعری کے فکری اثاثے میں نہ صرف گراں قدر اضافہ ہوا بلکہ تخلیق فن کے نئے افق تک رسائی ممکن ہوئی اس تمام عمل کا انحصار غالبؔ کی لفظیات پر ہے۔ لفظ کی اہمیت ہر دور میں مسلمہ رہی ہے۔

برٹش میوزیم میں پتھر کی ایک سل موجود ہے جومصر کے قدیم ترین کھنڈرات سے دستیاب ہوئی اس کی قدامت کا انداز اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ حضرت عیسٰےؑ سے کئی ہزار سال پہلے کی ہے ۔ اس سل پر جو تحریر ہے اس کا مفہوم حسب ذیل ہے:
’’لفظ کی قوت نے تمام دیوتاؤں کو پیدا کیا۔ ‘‘

تخلیق ادب میں لفظ کو یقیناًکلیدی اور اساسی اہمیت حاصل ہے۔ پروفیسر سید مقصود حسنی نے غالب ؔ کی شاعری میں لفظ کی اہمیت کا مطالعہ کیا ہے۔ وہ غالبؔ کی شاعری میں لفظ کو ادب کی جمالیاتے (Aesthetics) قرار دیتے ہیں اور یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ ایک بلند پایہ تخلیق کا ر جب پرورش لوح و قلم کی خاطر مائل بہ تخلیق ہوتا ہے تو وہ لفظوں کی صورت میں اپنی روح کا عطر کشید کرکے، صفحہء قرطاس کو خیالات کے گل ہائے رنگارنگ سے سجا دیتا ہے۔ اس تخلیقی عمل میں اسے جو ہفت خواں طے کرنا پڑتے ہیں، پروفیسر سید مقصود حسنی نے ان کا تجزیہ نہایت خوش اسلوبی سے پیش کیا ہے:
’’حسن کی جلوہ آرائی عاشق کی مشکل کو آسان کر دیتی ہے۔ اس نظریے کو غالب ؔ
نے بڑی خوبصورت تصویری شکل دی ہے۔ ‘‘

غالب ؔ کی لفظی مرقع نگاری نے پروفیسر سید مقصود حسنی کو بہت متاثر کیا ہے۔ غالب ؔ نے تراکیب تلمیحات، محاورات اور الفاظ استعمال کئے ان کا تفصیلی مطالعہ زیر نظر تحقیق کتاب میں موجودہے۔ غالبؔ کی امیجری اور تمثیل نگاری پر بھی فاضل پروفیسر نے بھر پور توجہ دی ہے۔ ان کاتجزیاتی انداز تمام حقائق کو منظر عام پر لاتا ہے ۔

غالبؔ کو مناظر سے بھی گہری دلچسپی تھی۔ مناظر سے تعلق ہونا ایک فطری امر ہے۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ مناظر کی اثر آفرینی سے استعداد کار کو مہمیز کرنے میں مدد ملتی ہے۔ چونکہ ادب پارے کا براہ راست تعلق تخلیق کار کی شخصیت سے ہوتا ہے۔ اس لئے تخلیق کار کی پسند، نا پسند، ترجیحات، دلچسپیاں، جذبات اور احساسات یہ وہ تمام عوامل ہیں جو قطر ے کو گہر بننے کے مراحل میں در پیش ہوتے ہیں۔ غالبؔ کی لفظی مرقع نگاری میں احساس کی شدت کا کرشمہ دامن دل کھینچتا ہے۔ اس بارے میں پروفیسر سید مقصود حسنی نے لکھا ہے:
’’مناظر ہمیشہ سے اپنی حیثیت میں معتبر رہے ہیں اور یہ انسانی موڈ پر کچھ نہ کچھ اثر ضرور
مرتب کرتے ہیں۔ موڈ کے متاثر ہونے پر لاشعوری طور پر رویے میں تبدیلی آ جاتی ہے۔‘‘

اس لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ حقیقت سامنے آ گئی ہے کہ ایک طرف توغالبؔ کو اپنی داخلی کیفیات کو الفاظ کا جامہ پہنانے میں تامل تو نہیں دوسری طرف خارجی مظاہر اور مناظر بھی اس کی تخلیقی فعالیت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ گویا غالب ؔ نے جبلی کیفیات کو اس طرح پیش کیا ہے کہ نفسی توانائی ایک منفرد انداز میں صورت پذیر ہوتی ہے۔ مثلاً
سبزہ و گل کو دیکھنے کے لئے چشم نرگس کو دی ہے بینائی

غالبؔ نے علامت، نشان اور اشارہ کاجس مہارت سے استعمال کیا ہے کہ قاری اس کے سحر میں کھو جاتا ہے۔ پروفیسر سید مقصود حسنی نے ان تمام الفاظ کی فہرست اس کتاب میں شامل کر دی ہے جو کسی پہلے سے معلوم شدہ امر کی توضیع کے لئے استعمال کیے گئے ہیں۔ ان تمام الفاظ کی حیثیت نشان( sign)کی ہے۔ اسی طرح انھوں نے علامت( symbol) کے بارے میں کوئی ابہام پیدا نہیں ہونے دیا۔ غالبؔ کی شاعری میں علامت کو ایک ایسے نفسیاتی کل کی حیثیت سے دیکھنا چاہیے جس کے اعجاز سے لا شعور کی قوتوں کو متشکل ہونے میں مدد ملتی ہے یہ امر مسلمہ ہے کہ علامت کا استعمال غیر واضح مبہم اور نامعلوم امور کے لئے ہوتا ہے۔

اجتماعی لا شعور کو علامت کا ماخذ قرار دیا جاتاہے۔ غالب ؔ کی شاعری میں علامت کے بارے میں کوئی شعوری کاوش پیش نظر نہیں آتی۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ الہامی یا وجدانی کیفیات سے سرشار ہو کر، یہ لا شعور سے جنم لے رہی ہیں۔ تبھی تو غالبؔ نے صریر خامہ کو نوائے سروش قرار دیا تھا۔

پروفیسر سید مقصود حسنی نے کلام غالب کے استحسائی مطالعہ سے یہ واضح کیا ہے کہ سماجی اور معاشرتی حالات کے تحت جبلی کیفیات کے اظہار کے لئے
نفسی توانائی کا روبہ عمل لایا جانا فطری امر ہے۔ یہ ایک خاص طرز فغاں ہے۔ غالب کی طرز ادا کا امتیازی وصف یہ ہے کہ جبلی توانائی اور نفسی توانائی
کے امتزاج سے ایک منفرد انداز میں دردِ دل کا اظہار کرتاہے۔ مثلاً
ابن مریم ہوا کرے کوئی مرے دردکی دوا کرے کوئی
ا س میں کوئی اشارہ ہے جو معلوم کے لئے استعمال ہوا ہے۔ اب علامت کی مثال دیکھیں۔
رد میں ہے رخش عمر کہاں دیکھئے تھمے نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں

یہاں رخش عمر بطور علامت آیا ہے۔ ظاہر ہے رخش سکندر کے گھوڑے کا نام تھا۔ جس کی برق رفتاری کا ایک عالم معترف تھا۔ غالبؔ نے زندگی کی برق رفتاریوں کے لئے رخش کی علامت استعمال کرکے شعر کی اثر آفرینی کو چار چاند لگا دئیے ہیں۔

پروفیسر سید مقصود حسنی نے غالبؔ کی شاعری میں عربی، فارسی، ترکی، ہندی، سرائیکی اور متعدد زبانوں کے مشترک الفاظ کی فہرست مرتب کی ہے اس طرح لسانی حوالے سے نہ صرف مطالعہ اہمیت اختیار کر گیا ہے بلکہ اس کی بدولت غالب ؔ کی تخلیقی فعالیت اور فکری منہاج کا بھی پتا چلتاہے۔ الفاظ کا انتخاب غالبؔ کی تحلیل نفسی بے حد ممدو معاون ثابت ہوتا ہے۔ غالبؔ ؔ نے جب اپنی شاعری کو نوائے سروش کہا تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ تخلیق فن کے لمحوں میں وہ جن مراحل سے گزرے ان کا تعلق لا شعور سے رہا۔ اس میں شعوری کاوشو ں کا دخل نہیں ۔

پروفیسر سید مقصود حسنی نے غالب ؔ کی لفظیات کے تحقیقی مطالعہ کے دوران میں یہ ثابت کر دیا ہے کہ غالب ؔ نے جو پرایہ اظہار بتایا وہ اس کی باطنی کیفیات کا مظہر ہے۔ غالبؔ کے الفاظ کو اس کی نفسی کیفیات کی کلید کی حیثیت حاصل ہے۔ میں دیانت داری سے محسوس کرتا ہوں کہ غالب ؔ پراتنی گہرائی اورو سعت نظر سے کیا جانے والا کام اس سے پہلے میری نظر سے نہیں گزرا۔ کتاب یقیناًپذیرائی حاصل کرے گی۔ (ان شاء اللہ)

پروفیسر سید مقصود حسنی کی خدمت میں ہدیہ تبریک پیش کرتے ہوئے میں فکر و نظر اور الفاظ کے اس پارکھ کی خدمت میں صبا ؔ اکبر آبادی کے ایک مرثیے کا بند پیش کرکے اجازت چاہتا ہوں:
لفظ تھے اپنے کھلونے، لفظ اپنے مشغلے زندگی لفظوں میں گزری، ان کے سائے میں پلے
ہر قدم پر سامنے الفاظ کے تھے مرحلے لفظ ہر جانب ہمیں انگلی پکڑ کر لے چلے
گردشیں کرتی رہی لفظوں پہ ساری زندگی ہم نے لفظوں کے مکانوں میں گزاری زندگی

ڈاکٹر غلام شبیر رانا
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: ڈاکٹر غلام شبیر رانا

Read More Articles by ڈاکٹر غلام شبیر رانا: 184 Articles with 113632 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Feb, 2017 Views: 532

Comments

آپ کی رائے