صحافت کاتقد س اوراہل قلم کی بددیانتی

(M.P Khan, Buner)
معاشرے کی تعمیروترقی میں صحافت کا کردارایک مسلمہ حقیقت ہے۔ اردوصحافت نے ہر دورمیں اورہر قسم کے حالات میں اپناکرداراداکیاہے۔ہندوستان کی جنگ آزادی سے لیکر تحریک پاکستان تک کے پُرآشوب حالات میں اردوصحافت کاکردارقومی تاریخ کاایک ولولہ انگیز باب ہے۔اردوزبان کے صحافیوں نے ہرمحاذپرانتہائی دلیری اورشجاعت سے حالات کامقابلہ کیااورکبھی اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹے، اگرچہ کئی صحافی سولی پرچڑھائے گئے، انکی جائدادیں ضبط کی گئیں اورکئی صحافیوں کو قید کی سزائیں سنائی گئیں ۔ اردوصحافت کی تاریخ ایسے ہی ہولناک واقعات سے بھری پڑی ہے، جس میں مولوی محمدباقرکو سولی پرچڑھایاگیا،انکے بیٹے محمدحسین آزادجان بچاکر لاہورچلے آئے۔مولاناحسرت موہانی کو چکی کی مشقت برداشت کرناپڑی۔مولاناظفرعلی خان، ابوالکلام آزاداورمولانامحمدعلی جوہر جیسی شخصیات نے اپنے قلم کے ذریعے سماج میں وقوع پذیرحادثات ، واقعات اور ظلم وجبرکوعوام تک پہنچایااورہمیشہ جابرحکمرانوں کے خلاف آوازحق بلند کی۔اگرچہ انکے اخبارات اوررسائل بند کئے گئے ، لیکن کبھی حق سے منہ نہیں موڑ اورنہ کبھی اپنے پیشے سے بددیانتی کی۔

اردوصحافت کی تاریخ پر نظرڈالنے سے یہ امرواضح ہوجاتاہے کہ یہ کتنامقدس پیشہ ہے اورہمارے ادیبوں اورصحافیوں نے کس قدر قلم کے تقدس کاخیال رکھتے ہوئے اردوصحافت کو اس مقام تک پہنچایاہے۔لیکن بدقسمتی سے کچھ عناصراس مقدس پیشے کے تقدس کو پامال کرنے کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔میرے مشاہدے کے مطابق اردواخبارات میں بہت سے ایسے کالم نگارموجودہیں، جن کامقصد صرف اورصرف اپنے کالم کوزیادہ سے زیادہ اخبارات میں پبلش کرواناہوتاہے۔اس مقصدکے لئے وہ مسلسل کالم چوری، تکرار اورپرانے کالموں کو نئے رنگ میں پیش کرکے دوبارہ پبلش کروانے کے مرتکب ہورہے ہیں۔بلکہ کچھ کالم نگاروں کو میں نے اس حد تک دیکھاہے، جو اپنے پہلے سے چھاپ شدہ کالموں کو ہرسال دوبارہ اخبارات کو بھیجتے ہیں اوراخبارات کے ایڈیٹرزبغیر تحقیق کے انکے کالم دوبارہ چھاپتے ہیں۔ایسے ہی لوگ صرف اورصرف اپنے نام کے بل بوتے پر اخبارات کے ایڈیٹرز کو چکمہ دیتے ہیں۔بدقسمتی سے بعض اخبارات کے ایڈیٹرز ایسے ہی چوروں کے کالم پڑھے اورتصدیق کئے بغیر اپنے اخبارات کی زینت بنادیتے ہیں۔ایک جناب کاکالم جوخاص ایونٹس سے متعلق ہے، تین سال مسلسل اسی عنوان سے اخبارات میں چھتارہاہے۔جناب کی تن آسانی کایہ عالم ہے کہ الفاظ کوآگے پیچھے کرنے اورجملوں میں معمولی معمولی ردوبدل کرنے کی بھی زحمت گوارانہیں کرتے۔بعض لکھاری دوسروں کے کالمز اپنے نام کے ساتھ پبلش کرواتے ہیں اورخوب لہولگاکرشہیدوں میں شامل ہوجاتے ہیں۔کس قدرافسوس کامقام ہے کہ قلم کی حرمت اس قدرپامال ہورہی ہے اور اس گھناونے جرم کاکوئی سدباب نہیں ہورہا۔

حال ہی میں یوم یکجہتی کشمیرکے حوالے پبلش شدہ کچھ تحریروں کو میں پڑھا۔ان میں سے اکثریت وہی پرانی باتیں ، جو ہرسال اسی دن کے حوالے سے لکھی جاتی ہیں، درج تھیں۔ حالانکہ کشمیر کے حوالے سے حالات میں کافی تبدیلی آئی ہے اورگذشتہ سال کے مقابلے میں اس سال کافی نئی نئی باتیں سامنے آئی ہے۔بھارتی افواج کے مظالم میں اضافہ، برہانی وانی کی شہادت،بھارت کاجنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی،اقوام متحدہ میں وزیراعظم پاکستان کاکشمیر کے بارے میں واضح اورٹھوس موقف، کشمیری عوام کا پاکستان کے حق میں مظاہرے وغیرہ وغیرہ ایسے امورہیں، جن کاذکراس سال یوم یکجہتی کشمیرکے حوالے سے ضروری تھا، لیکن اکثرکالم نگاروں نے اس اہم موضوع کے ساتھ بھی مذاق کیاہے اورصرف کاپی پیسٹ یاپرانی تحریریں نئی شکل میں پیش کی ہیں۔

چونکہ میں قلم کاایک ادنیٰ سپاہی ہوں اوراردوزبان پر بہت کم دسترس رکھتاہوں لیکن جب سے میں اس شعبے میں آیاہوں اورجب بھی میں نے کسی موضوع پر قلم اٹھانے کی کوشش کی ہے توجب تک میں متعلقہ موضوع پر خوب تحقیق نہیں کرتا، تب تک قلم کو قدم اٹھانے نہیں دیتا۔گذشتہ مختصرعرصے میں میرے بہت اچھے دوست، جوکہ میں اپنے سینئرزسمجھتاتھااورمیرے دل میں انکی خوب قدرومنزلت تھی لیکن ان میں سے کچھ نام ایسے ہیں، جنکے کارنامے بہت جلد منظرعام پرآجائیں گے۔جنہوں نے کالم نگاری کے اس مقدس فریضے کو اوراخبارات کے تقدس کو بری طرح پامال کیاہے۔وہ کالم نگاری سے متعلق قوانین اورضابطہ اخلاق کی مسلسل خلاف ورزی کے مرتکب ہورہے ہیں اورزیادہ سے زیادہ اخبارات میں اپنی تحریرکو پبلش کروانے کے لئے طرح طرح کے ہتھگنڈے استعمال کرتے ہیں۔ایسے ہی لوگوں کی وجہ سے کالم نگاری کامعیارروزبروز گرتاجارہاہے ۔ ان میں بہت سے کالم نگارایسے بھی ہیں ،جوکسی خاص سیاسی جماعت کے نظریہ اورموقف کی وکالت کرتے رہتے ہیں ۔انکی ہر تحریر کسی سیاسی لیڈرکی شخصیت اوراسکے کارناموں کی رودادسے کم نہیں ہوتی اورانکی تحریرسے جانبداری ٹپکتی رہتی ہے۔

کالم نگارکی ذمہ داری ہے کہ وہ سیاست ، سماجی مسائل، ادبی ، مذہبی ، شوبز، کھیل ،طنز ومزاح اوردوسرے اہم معاملات میں اپناخاص نقطہ نظر رکھتاہواوراسکے مطابق ہمیشہ غیرجانبداری سے اظہارخیال کرتارہے اورجھوٹ اورفراپیگنڈہ سے دوررہے۔اس سلسلے میں اخبارات والوں کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ اچھے تعلیم یافتہ اورصحافت کے شعبے میں مہارت رکھنے والے لوگوں کو آگے آنے کاموقع دے۔ ہر خبرپر گہری نظررکھے اورخاص طورپر کالم نگاری سے متعلق ایسے عناصرکی نشاندہی کریں ، جو ایڈیٹروں اورقارئیں کو چکمہ دے رہے ہیں۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: MP Khan

Read More Articles by MP Khan: 100 Articles with 49502 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 Feb, 2017 Views: 604

Comments

آپ کی رائے
apki tehrir m Data kam or bateN ziada hN
By: anees, Haripur on Feb, 14 2017
Reply Reply
0 Like