میں سلمان ہوں( قسط8)

(hukhan, Karachi)
آج کے دن کی Opening اچھی نہ تھی--- ویسے ایسے صبحوں کی آمد سے اس کی زندگی بھری ہوئی تھی--- مگر اپنوں کے زخم بہت گہرے اور انسان کو توڑ دیتے ہیں----- کسی غیر سے کیا شکوہ کرے---- جب اپنے زیادہ خون خار ہوں--- یہ بھائی ہے -- تمہارا میں نے سارے زمانے کا ٹھکا نہیں لیا --- اپنے بچوں کو سنھبالوں یا تمہارے اس نکمے کے ناز اٹھاؤ--- میری شادی تم سے ہوئی ہے پورے جہان سے نہیں --- سلمان کے بڑے بھائی نے بے بسی سے سلمان کو دیکھا--- سلمان نے بے ظاہر ایسے Behave کیا جیسے خیر ہے ہوتا ہے---- وہ اپنے بھائی کو شرمندہ ہوتا نہیں دیکھ سکتا تھا--- اس لیے کمرے سے باہر نکل گیا--- دیکھ لینا اس کے نصیب میں صرف ڈھاکے اور گالیاں ہی ہے---- گالیاں----- سلمان واپس حال میں آیا --- باہر اب بھی بم باری جاری تھی---- بھابی سہی کہتی تھی میرے نصیب میں واقعی گالیاں ہی ہے--- سلمان کے کان اور اور پورے چہرے پر جلن سی ہو رہی تھی--- گھر کے اندرونی دروازے کو ایسے مخصوص Timings کے علاوہ اندر سے کھنڈی لگانے کی اجازت نہ تھی---- کوئی بھی گھر کے اندر کی جانب اس کے کمرےAny Time گھس سکتا تھا---- یا دوسرے الفاظ میں اس کے کمرے میں پولیس کی طرح Raid Mari جا سکتی تھی--- سلمان نے دروازہ کھولنے کی آواز سنی----
سلمان---- سلمان---- سلمان نے تیسری دفعہ ندا کے پکارنے پر چہرے سے پرانے سے Blanket کو ہٹا دیا---
سلمان کے چہرے پر نظر پڑتے ہی ندا کے چہرے پر فکر مندی کے آثار ظاہر ہوئے-----
سلمان کو حیرت ہوئی ندا کےExpressions ایسے کیوں ہوئی------
خیریت ہے آپ کو بخار ہے شاید---- اس کا چہرہ بخار بالکل ریڈ ہو جاتا تھا ایسا ریڈ جس میں پیلاہٹ آہستہ آہستہ شامل ہو رہی ہوں---
سلمان سمجھ گیا کیونکہ اس کا چہرہ اور کان جل رہے تھے--- کل کی سردی اور مایوسی نے اس کے جسم کو ہلکی سی آگ کی آنچ دے دی تھی----
ندا واپس پلٹ گئی----
ماں اس کو بخار ہے-----
ماں نے ایسے ندا کو دیکھا جیسے وہ کوئی موت کی خبر دینے والا فرشتہ ہوں یا پھر ندا کا جنم ہی اس کی غربت کی وجہ ہوں---
ندا ٣٢ سال کی لڑکی تھی---- کم خوراک اور زمانے بھر کے ٹینشن نے اس کے دبلے پتلے جسم نے پروان چڑھنا ہی چھوڑ دیا تھا--- وہ اپنی دلکشی کی بجائے کمزوری کی وجہ سے لڑکی نظر آتی تھی----
بیٹا امبولیس بولاؤں--- شہر کے بہترین ڈکٹر کو فون کرو اتنا بڑا آدمی بیمار ہوا ہے ایسے لوگ تو کبھی کبھی بیمار ہوتے ہے----
اس کی ماں کی تیر اندازی اسی Speed سے جاری تھی----
اماں وہ زیادہ بیمار ہے----
ہاں تو ماں صدقے جائے اس کے ----- یہاں اور مصیبتیں کیا کم ہیں--- جو اس کا بھی علاج ہم کرے---- تو اس کی فکر میں اور دبلی نہ ہو جانا---
اماں کون کہہ رہا ہے اس کا علاج کروں--- میں تو بتا رہی تھی تم جانوں تمہارا کرائے دار جانے---- مجھے کیا----
سلمان نے ہمت کی اور بیڈ سے اٹھ کے میدان جنگ کا رخ کیا------- جاری ہے
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: hukhan

Read More Articles by hukhan: 28 Articles with 26160 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
07 Feb, 2017 Views: 760

Comments

آپ کی رائے
umdaa
By: Abrish anmol, Sargodha on Feb, 08 2017
Reply Reply
0 Like
thx
By: HuKhaN, Karachi on Feb, 08 2017
0 Like
nice epi :)
By: Zeena, Lahore on Feb, 08 2017
Reply Reply
0 Like
thx
By: HuKhaN, Karachi on Feb, 08 2017
0 Like
thx thx thx
By: HuKhaN, Karachi on Feb, 08 2017
Reply Reply
0 Like
very very very nice,,,,,,,,,
By: Mini, mandi bhauddin on Feb, 08 2017
Reply Reply
0 Like