خبردار ! ویلنٹائن ڈے آنے والا ہے؟

(Maryam Arif, Karachi)
تحریر: عنبرین اختر ، لاہور
محبت ایک طاقتور انسانی جذبہ ہے۔ ایک ایسی قوت جو کسی زندگی کو آباد کر سکتی ہے اور برباد بھی کر سکتی ہے۔ کچھ روز بعد تک دینا اس جذبے کی اہمیت پر ویلنٹائن ڈے منارہی ہوگی۔ ہر طرف انواع واقسام کے دل چاکلیٹ اور ساٹن کے بنے ہوئے دل نظر آ رہے ہوں گے۔ لوگ اس دن کو دلوں کا دن، سرخ گلابوں کا دن، شاعری کا، خوشیوں کا اور محبت کا دن قرار دیتے ہیں۔

سب ٹھیک مگر یہ کیسی محبت ہے؟ کہ جس کی بقا تحفوں پر منحصر ہے۔ یہ کیسی محبت ہے جو سارے سال میں صرف ایک دن تک محود ہے۔ یہ کیسی محبت ہے جو نفرت جلن اور احساس کمتری پیدا کرتی ہے۔ اس دن کی ابتدا قدیم رومیوں کے ایک دیوتا کے مشرکانہ تہوار سے ہے۔ یہ تہوار 15فروری کو منعقد ہوتا تھا۔ لڑکیوں کے نام ایک برتن میں ڈال دیے جاتے اور مرد دیکھے بغیر جس لڑکی کا نام نکالتے وہی تہوار کے ختم ہونے تک ان کی ساتھی ہوتی۔ کئی لوگ اس تہوار کو oupid سے متعلق سمجھتے ہیں۔ جو رومیوں کی محبت کا دیوتا تھا۔ جس کا یوم ویلنٹائن میں اہم کردار ہے۔ یہ لوگوں کے دلوں میں تیر مار کر ان کو عشق میں مبتلا کرتا تھا۔ کہا جاتا ہے اس کی ماں محبت کی دیوی ہے۔ جس کا پسندیدہ پھول گلاب ہے۔

ایک روایت کے مطابق اس کا تعلق saint ویلنٹائن سے ہے ۔جس کو بادشاہ نے 14فروری کو اس جرم میں قتل کروا دیا کہ وہ اس کے ایسے فوجیوں کی خفیہ طور پر شادیاں کرواتا۔جن کو شادیوں کی اجازت نہ تھی۔دوران قید بشپ کو قید خانے کے داروغہ کی بیٹی سے عشق ہو گیا۔اور انھوں نے اس کو خط لکھا جس کے آخر میں دستخط کئے تمھاراویلنٹائنیہ طریقہ بعد میں لوگوں میں رواج پا گیا۔496ء میں پاپاے روم نے سرکاری طور پر 15 فروری کے مشرکانہ تہوار کو یومsaint ویلنٹائن میں تبدیل کر دیا۔

ویلنٹائن ڈے ایک خاص رومی عید ہے۔جس کی ابتدا سے متعلق کوئی تحقیقی بات کہنا ایک دشوار گزار مرحلہ ہے۔البتہ اس عید سے پتہ چلتا ہے کہ اس کی ابتدا تقریبا 1700سال قبل ہوئی ہے۔اس وقت یہ ایک مشرکانہ عید تھی۔کیونکہ اہل روم کے نزدیک14فروری کا دن چونکہ یونو دیوی کے نزدیک مقدس تھا۔اور یونو کو شادی بیاہ کی دیوی کہا جاتا تھا۔اس لیے رومیوں کے اس دن کوعید کا دن ٹھرا لیا۔بعد میں اس موقع پر ایک حادثہ پیش آیا۔ جس کی وجہ سے یہ دن عشقیہ اور فحاشی کا دن بن گیا۔ برطانیہ میں رواج پانے والے اس دن کے بعد امریکہ اور جرمنی میں بھی ویلنٹائن ڈے منایا جانے لگا۔14 فروری کو لکڑی کے چمچے تحفے کے طور پر دیے جانے کے لیے تراشے جاتے اور خوبصورتی کے لیے ان کے اوپر دل اور چابیاں لگائی جاتیں تھیں۔ وصول کرنے والے کے لیے اس بات کا اشارہ ہوتا کہ تم میرے دل کو اپنی محبت کی چابی سے کھول سکتے ہو۔

آج مسلمانوں میں جو غیر اسلامی رسومات پھیل رہی ہیں۔ ان میں سے قوی محرک مغرب کی ذہنی غلامی ہے۔ جو مسلمانوں کے دل و دماغ پر مسلط ہے۔آج پاکستان کے مسلمان نوجوانوں میں جو غیر اسلامی رسومات پائی جاتی ہیں۔ان میں سے ایک رسم ویلنٹائن ڈے کا منایا جانا ہے۔ امریکا کے موجودہ صدر نے حال ہی میں مسلمان ممالک پر امریکا داخلے پر پابندی لگا دی ہے اور آج ہم انہی کی رسومات کو بڑے فخر سے منا رہے ہیں۔ کیا ہمیں یہ سب زیب دیتا ہے؟ ہمیں اس دن کا بائیکاٹ کرنا چاہیے۔ حکومت کو چاہیے کہ جو لوگ اس رومی عید کو بڑھ چڑھ کر مناتے ہیں ان کے خلاف سخت کاروائی کرے۔ آیئے ہم سب مل کر یہ عہد کریں کہ اس فحش دن کو ایک نہ ایک دن جڑ سے اکھاڑ پھنکیں گے۔
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1238 Articles with 517728 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
10 Feb, 2017 Views: 236

Comments

آپ کی رائے