تعلیم و تربیت کے جوڑ سے موجودہ تعلیمی اداروں کی تہی دامنی

(ATIQ UR REHMAN, )
حضرت عیسیٰ کے انتقال سماء کے چھے سوسال بعد 571عیسوی میں جب خالق باری کا تعلق و رابطہ قائم ہوا تو رسول مصطفیؐ کے ذریعہ سے ملت اسلامیہ کو تایوم حساب جو انعام ودیعت کرنے کا پہلا سلسلہ قائم ہوا تو اس میں جن آیات کریمہ کو منتخب کیا گیا اس پر دنیا کی تمام مخلوقات رشک کرنے پر مجبور ہیں کہ اﷲ جل شانہ نے انسانیت کی کامیابی و کامرانی اور بقاء فرح و سرور وہ دنیا کی تحسینی و آخرت میں نجات کی ضامن بننے والی آیات میں بیان کردیا کہ ’’توپڑھ پیدا کرنے والے رب کے نام کے ساتھ،جس نے انسان کو پیدا کیا گوشت کے لوتھڑے سے،توپڑھ عزت والے رب کے نام سے،وہ جس نے تعلیم دی بذریعہ قلم،انسان کو تعلیم دیجس کے بارے میں وہ نہ جانتاتھا‘‘یہ پانچوں آیات عالم افق پر سب سے محترم و مقدس ہیں اور شاندار ضابطہ حیات ہیں کہ اگر انسانی معاشرہ دائمی و ابدی نجات کی خواہشمند ہے تو لازمی و مضطر ہے کہ وہ اپنا تعلق و رشتہ علم و فن کے ساتھ وابستہ کرلے ،اسلامی معاشرے میں جاہلوں اور انجانوں کی کسی طور پر حوصلہ افزائی کی گنجائش نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں جابجا حصول علم کے مشتقات پر دلالت کرنے والے کلمات کا درجنوں مرتبہ اعادہ و تکرار کے ساتھ بیا ن وارد ہوا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ جہالت سے نفرت اور اجتناب کے ساتھ اس کی تحقیر کو بھی بیان کردیا گیا ۔مسلمانوں پر یہ باور کرادیا گیا ہے کہ عزت و عظمت اور فخرو سرور جو لائق ہے وہ تعلیم یافتہ لوگوں کو ہی حاصل ہے۔جیساکہ جانے والے اور انجان و ناواقف لوگوں کی برابری کی نفی کے بارے میں بیان ہوا’’کیا جاننے والے اور انجان دونوں برابر ہوسکتے ہیں؟اسی طرح نادان و ناواقف کے ساتھ بحث و تکرار سے اجتناب کا بھی حکم دیا گیا جیساکہ وارد ہواکہ ’’جب بھی جاہل ہم کلام ہو تو اس کو تم پر سلامتی ہو ‘‘کہہ کر سلسلہ کلام ختم کردیا جانا چاہئے۔

تعلیم و تعلم کے شعبہ کی اہمیت اس لئے بھی مسلم ہے کیونکہ نبی کریمؐ نے اس بارے میں متعدد بار تاکید کی ہے کہ’’علم حاصل کرنا مرد و عورت پر فرض ہے‘‘، علم حاصل کرو اگر چہ چین تک جانا پڑے‘‘علم حاصل کر ماں کی گود سے قبر کی پاتال تک‘‘اسی طرح اور بھی بہت سی آیات و احادث علم کی اہمیت و افادیت اور تحصیل کو لازم پکڑنے کیلئے بیان کئے گئے ۔اﷲ نے انسانو ں کو تمام کائنات کی مخلوقات پر فضیلت بھی صرف علم ہی کی وجہ سے عنایت کی ہے۔کیونکہ زمین کی خلافت کی منتقلی کے بعد فرشتوں پر حضرت آدم کو جو فضیلت عطاکی گئی وہ بھی کلمات و اسرار ربانی کی تعلیم کی خبر دینے پر ہی ہے۔پھر نبی کریم ؐ نے تعلیم و تعلم کو اس حدتک یقینی بنایا کہ اس کیلئے مدرسہ اصحاب صفہ قائم کیا ۔وہاں کے تربیت یافتہ جماعت کے بارے میں اﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ’’ ہم نے ان کے دلوں کا جائزہ و امتحان لیاتو تقویٰ (خشت الٰہی)کا مسکن پایا تو ان کی مغفرت کردی اور اجرعظیم کا مستحق ٹھہرایا‘‘یہی وجہ ہے کہ حضورؐ نے بدر کے مشر ک قیدیوں کو فدیہ کی جگہ مسلمانوں کے دس دس بچوں کی تعلیم کا حکم دیا گیا ۔اس کے ساتھ قرآن حکیم میں بار بار تاکید کی گئی کہ اگر کوئی نہیں جانتا تو اس کو چاہئے کہ وہ اہل علم سے استفسار کرلے (یعنی علم حاصل کرے) محمد مصطفیؐ مسجد نبوی میں مختلف حلقوں میں سے علم کے حلقے میں بیٹھنے کو ترجیح دیتے تھے۔کیونکہ علماء اور اہل علم کی فضیلت و صفت حسنہ یہ ہے کہ وہ صرف اور صرف خوف الٰہی کو اپنا وطیرہ بناتے ہیں ۔واضح رہے کہ یہاں پر علم اور اہل علم کے کسی خاص طبقے کی تخصیص نہیں کی گئی بلکہ زمین و آسمان کے مابین جبال و انھار، شجر و حجر، سائنس و ریاضی، علم شرعی و علم دنیوی کی تمام اصول و فروع اس میں داخل ہیں وہ جس بھی تخصص سے منسلک ہو جو بھی علم سے وابستہ ہوگا خوف الٰہی اور رضائے الٰہی سے متصف و ممنون ہوگا۔

علم و فن کی اہمیت کو سمجھنے کے بعد ضروری ہے کہ مسلم معاشرہ علم کی حقیقی روح اور افادیت حاصل کرنے کے طریقے سے بھی واقف ہو کہ جو وہ علم حاصل کرے وہ اسے نفع بھی پہنچائے یہی وجہ ہے کہ حبیب خداؐ ہمیشہ دعا کرتے تھے کہ ’’ اے اﷲ ہمیں علم نافع عطا فرما‘‘ اس کے ساتھ ہادی برحق پیغمبرؐ نے ایک حدیث میں فرمایا کہ ’’ تم میں سے بہتر وہ ہے جو علم قرآن کو سیکھے اور سکھائے‘‘اس کے ساتھ نبی آخر الزمان کو اﷲ جل شانہ نے تاروز ابد تک ہدایت کا مینارہ نور بنایا تو ان کو چار اہم ذمہ داریوں کے ساتھ بعثت عطا فرمائی بلکہ برصغیر کے عظیم داعی ربانی مفکر اسلام سید ابوالحسن علی ندوی فرماتے ہیں’’ اﷲ تعالیٰ نے سید الانبیا کی بعثت کے ساتھ خیر امت کی بھی بعثت فرمائی ہے ‘‘حضور اکرمؐکو جو چار بنیادی ذمہ داریاں اور فرائض تفویض کئے گئے وہ یہ ہے ’’تلاوت آیات، تعلیم کتاب و حکمت اور تزکیہ و احسان‘‘یہ چاروں کے چاروں علم کے ساتھ بلاوسطہ و بالواسطہ منسلک ہیں ۔یہاں پر ایک بنیادی نکتہ قابل غور فکر ہے کہ حصول علم کے ساتھ اس پر عمل کرنا بھی لازمی ہے چونکہ اس کے بغیر علم علم نافع نہیں ہوسکتا اور قرآن حکیم میں متعدد بار وعید کی گئی ہے ان لوگوں کیلئے جو دوسروں کو نیکی و بھلائی کو اختیاراور برائی و نافرمانی سے اجتناب کی دعوت دیتے ہیں مگر بذات خود ان کا اپنا دامن منہیات و معاصی کے ساتھ تر بتر ہو تو ان پر عذاب الٰہی برحق ہے۔ایسے افراد کو خالق ارض و سما مبغوض نظروں سے دیکھتے ہیں۔ گویا آسان الفاظ میں یہ کہنا درست ہوگا کہ صرف کتاب لکھنا یا پڑھنا اور پڑھانا اور سننا اور سنانا کافی نہیں بلکہ اس پر عمل کرنا بھی لابد ہے بنا اس کے وہ علم ایسا ہی ہوگا جیسے ’’درخت بغیر پھل کے‘‘ یعنی لاحاصل و لافائدہ۔

جب ہم تاریخ اسلام کا عمق قلبی اور وسعت فکری کے ساتھ جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتاہے کہ آج سے چودہ سوسال قبل جب دین خدا (اسلام) کا عالمی و آفاقی پیغام انسانیت کو ملا ہے اس وقت سے جماعت صحابہ، تابعین و تبع تابعین اور اکابر سلف صالحین و اولیا ء کے سبھی گروہوں اور طبقات نے تعلیم و تعلم کی نشر واشاعت کے ساتھ تربیت و تزکیہ اور اصلاح کے حلقوں کو اولین ترجیح سمجھتے ہوئے لازم بنائے رکھا ۔اور اسی محنت و لگن اور احساس ذمہ داری کی وجہ سے ملت اسلامیہ 12سوسال تک عالم ارضی پر بلاخوف و خطر وحدت و یگانگت اور اتحاد و اتفاق سے حکومت کرتی رہی۔مگر اس کے بعد جب مسلم معاشرے دنیا کی جاہ و منزلت اور رنگ رلیوں کے گرویدہ ہوئے تو اس کے بعد مسلمانوں پر قدرت الٰہی کی جانب سے مشکلات و مصاعب کے امتحانات مسلط کردئیے جانے کے ساتھ بستی و ذلت مقدر بنادی گئی۔ایک تسلسل کے ساتھ ملت اسلامیہ مجموعی طور پر آج بھی اسی اخلاقی گراوٹ سے برسر پیکار ہے کہ ہمارے مدارس و مساجد ، تعلیم گاہوں اور دانش کدوں علم و تربیت معدوم و ناپید کردی گئی ہے چہار طرف مادیت پرستی و دولت و خواشات نفسانی کی تسکینی کا بہوت سوار ہوچکا ہے جبھی اسلامی ممالک بالعموم اور پاکستان بالخصوص کرب و ابتلا اور فکری و ارتقائی اضطراب سے نبرد آزما ہے۔

کلام الٰہی میں وارد ہے کہ ’’ اﷲ کی رحمت و نعمت سے مایوس اور نا امید نہیں ہونا چاہئے‘‘ اس اصول کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ بات بلاکسی خوف و حزن کے کہی جاسکتی ہے کہ مسلمان اگر آج بھی اگر اسلامی تعلیمات کے مصادر و ماخذ کی درس تفہیم حاصل کرنے اور تعلیم و تبلیغ کو شائع کرنے اور تزکیہ و تربیت اور احسان و سلوک کو اپنا وطیرہ اور طرہ امتیاز بنا لے تو بعید نہیں ہے کہ ملت اسلامیہ کے موجودہ طبقوں کی موجودگی میں پیغمبر اعظم ؐ کا یہ فرمان سچ و حق ثابت ہوجائے (جس کا کوئی بھی ذی شعور انکار نہیں کرسکتاالبتہ تاخیر و تاجیل ممکن ہے)’’ کوئی کچا اور پکا گھر ایسا باقی نہیں رہے گا کہ وہاں پر پرچم اسلام سربلند نہ ہو‘‘اسلامی پیغام کی سربلندی کے ساتھ ہماری دائمی و ابدی نجات کیلئے ضروری و لابد ہے کہ ہماری ملت کے رہبر و حکمران اور علماء ،اہل فکر و بصیرت اور نوجوان بذات خود سعی کریں کے علم کو بلاکسی تقسیم و تفریق کے حاصل کریں اور اس کے ساتھ اس پر عمل پیرا ہونے کی کوشش و دعوت کا فریضہ بھی انجام دیں۔یہی امر ہماری دائمی و ابدی فلاح و نجات کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: atiq ur rehman

Read More Articles by atiq ur rehman: 120 Articles with 68518 views »
BA HONOUR ISLAMIC STUDIES FROM INTERNATIONAL ISLAMIC UNIVERSITY ISLAMABAD,
WRITING ARTICLES IN NEWSPAPERS SOCIAL,EDUCATIONAL,CULTURAL IN THE LIGHT O
.. View More
13 Feb, 2017 Views: 475

Comments

آپ کی رائے