جہیز۔۔۔ اصلاح معاشرہ میں بڑی رکاوٹ

(Maryam Arif, Karachi)
تحریر: ارم فاطمہ، لاہور
چل چل کے پھٹ چکے ہیں قدم اس کے باوجود
اب تک وہیں کھڑا ہوں جہاں سے چلا تھا میں
دنیا کی دیگر اقوام اور ان کی تہذیبیں ترقی کی منازل طے کرتیں ہوئیں زندگی کے ثمرات سے فائدہ اٹھا رہی ہین اور ہم اپنے اسلاف کی تابندہ روایات اور کامیابیوں کولے کر آج بھی اس مقام پر کھڑے ہیں کہ جہاں دنیا کے بہترین مذہب اسلام کی سہل اور آسان تعلیمات کو بھلا کرغیروں کی معاشرت اور ثقافت کے رنگوں سے اپنے معاشرے کو تنزلی کی سمت دھکیل رہے ہیں۔

ہم کیسے انسان ہیں؟ برسوں سے ہر سمت سے اٹھتی اصلاح معاشرہ کی آوازوں میں آواز ملا دیتے ہیں مگرایک قدم آگے بڑھ کرخود اپنے عمل سے معاشرے کی دیمک زدہ دیوار کو تھام کر سہارا نہیں دیتے۔ کہتے ہیں بے عمل کوشش اس خالی برتن کی طرح ہوتی ہے جو آواز تو کرتا ہے مگر جب تک اس کو قدم بڑھا کر پانی سے نہ بھرا جائے یہ کسی کی پیاس نہیں بجھا سکتا۔ صالح معاشرہ افراد کے باہمی سلوک اور ایک دوسرے کے لئے رواداری کے جذبات سے وجود میں آتا ہے۔

اس عمل پر قرآن پاک میں پھر کئی مقامات پر مدد کا وعدہ کیا گیا ہے۔ارشاد ہوتا ہے: ’’اگر تم اﷲ کے دین کی مدد کرو گے ہم تمہاری مدد کریں گے ار تمہارے قدموں کو استقامت بخشیں گے‘‘۔ مقصد یہ ہے کہ ہم اپنے فرائض سے چشم پوشی کرتے ہوئے یہ چاہتے ہین کہ معاشرے کی برائیوں کے خاتمے کی ابتداء دوسرے کی ذات اور اس کے گھر سے ہو۔ ہر طرح کی تبدیلی کا آغاز کوئی اور کرے۔ یہ خیال شاید ہی کسی کو آتا ہو کہ معاشرے میں تبدیلی لانے کا فریضہ ہم پر بھی عائد ہوتا ہے۔

اسلام نے نہایت سادہ انداز میں ضابطہ حیات پیش کیا مگر ہم نے اپنے خود ساختہ تصورات اور خواہشات کی حرص میں زندگی کو نہایت مشکل سے مشکل بنا دیا ہے۔اب نکاح کو ہی لے لیجیے۔ نکاح ایک ایسا معاملہ ہے جس کے پاس ایک پیسہ بھی نہ ہوتب بھی وہ نکاح کر سکتا ہے اور سنت پوری کر سکتا ہے مگر آج معاشرے میں اس سے جڑی اور جا بجا پھیلی رسموں کو دیکھ کر لگتا ہے یہ محض ایک سنت کے بجائے نمود و نمائش کا ذریعہ ہے۔

اس سے جڑی ایک لعنت اور سماجی برائی جو ہمارے معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے وہ ہے جہیز کی پھیلتی وبا جس کے قدم اس قدر گہرائی تک گڑھے ہیں کہ اس نے ہر احساس کو مادیت پرستی اور حرص میں چھپا دیا ہے۔

ولیمہ سنت ہے اور اپنی حیثیت کے مطابق کیا جاتا ہے۔ قرآن اور سیرت رسولﷺ، سیرت صحابہ کے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ جہیز اور اس کے تمام اخراجات جن کا بوجھ لڑکی کے والدین پر پڑے وہ جائز نہیں اس لئے برصغیر کے سوا کہیں یہ تصور موجود نہیں۔ عرب معاشرے میں لڑکی اور اس کا ولی ہونے والے شوہر اور داماد سے خطیر رقم کا مطالبہ کرتے تھے اور یہ رواج آج بھی خلیجی ممالک میں موجود ہے۔

ہندوستان میں ہندو معاشرے میں جہیزکا تصور ملتا ہے۔ ان کے نزدیک شادی کے بعد لڑکی کا خاندان سے رشتہ باقی نہیں رہتا اس لئے شادی کے موقعے پر ہی کچھ دے کر رخصت کر دیا جاتا ہے اسے وراثت میں حصہ نہیں ملتا۔ اسلامی شریعت میں ماں کو اپنی اولاد سے، بیٹی کو اپنے باپ ے ترکہ میں سے اور بیوی کو اپنے شوہر کے ترکہ میں میراث ملتی ہے۔ بد قسمتی سے مسلمانوں نے ہندو معاشرے سے متاثر ہو کر جہیز کی غلط رسم کو اختیار کر لیا اور دوسری طرف عورتوں کو وراثت کے حق سے محروم کرنے لگے۔ ان غیر اسلامی رسوم اور خرافات کا نتیجہ ہے کہ آج کے دور کے مسلمان دور جاہلیت کے عربوں کی طرح لڑکی کی پیدائش پراس فکر میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ اس کی جہیز کی تیاری میں کیسی مشکلات کا سامنا ہوگا۔

ہم عام طور پر دیکھتے ہیں مذہب میں اختلاف ہونے پربات بحث و تکرار اور بعض اوقات لڑائی جھگڑے تک پہنچ جاتی ہے یہ لوگوں کی دین سے محبت کا ثبوت ہے مگر جہاں بات ان احکامات کی آتی ہے جس کا تعلق ضمیر سے ہے جیسے رشوت، اسراف،جھوٹ،بد دیانتی،خیانت ہے وہاں لوگ ایسے جواز پیدا کر لیتے ہیں کہ یہ مذہب کے علمبردار منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں۔

جہیز کا لین دین اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ ہم سبھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ یہ معاشرے کی بدترین برائی ہے لیکن پھر بھی یہ ہماری زندگی کا حصہ ہے۔ ہم اپناتے ہیں اور عمل کرتے ہیں۔ اس کے شکنجے میں جکڑے زندگی کو مشکل سے مشکل بناتے چلے جاتے ہیں۔ اس کے خلاف آواز نہیں بلند کرتے۔جواز دیتے ہیں !
1۔ قرآن و حدیث میں جہیز لینے سے کہاں منع کیا گیا ہے ؟
2۔ لوگ اپنی بیٹی کو خوشی سے دیتے ہیں اور اس صورت میں لینے میں کیا برائی ہے ؟
3۔جہیز دراصل تحفہ ہے۔تحفہ لینا سنت ہے۔
4۔شادی کے دن کھانا کھلانا مہمان نوازی ہے اور یہ جائز ہے۔
5۔ اس رسم کو مٹانا ناممکن ہے۔ اور جب سبھی ایسا کر رہے یں۔ جہیز لے رہے ہیں اور ہم بھی لے رہے ہیں جہیز تو کون سا برا کام کر رہے ہیں۔

یہ محض ان کی کم علمی اور جہالت ہے کہ قرآن مین اس بارے میں احکامات نیں ملتے۔ وہ قرآن جو زندگی کے ہر مرحلے میں ہماری رہنمائی کرتا ہے وہاں عائلی زندگی اور اس کے احکانات نہ ملتے ہوں بات غورو فکر کی ہے اور سب سے بڑھ کررسالت ماآب صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کا نمونہ ہمارے سامنے ہے۔

سورہ النساء کی آیت 92 کا ترجمہ ہے :’’اے ایمان والو! ایک دوسرے کا مال باطل طریقے سے مت کھاؤ۔ لین دین ہونا چاہیے آپس کی رضا مندی سے‘‘۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ لڑکی کے باپ کی مشکل یہ کہہ کر آسان کر دی جائے کہ آئیں چلیں سادگی سے نکاح کر لیتے ہیں۔ اس سے بڑی مدد اور کیا ہو سکتی ہے لیکن وہ یہ جانتے ہیں چاہے مجبوری سے یا معاشرے میں عزت بنانے کی خاطر جو کچھ وہ اپنی بیٹی کو دیں گے وہ بالاخر ان کی امانت ہے کیونکہ وہ بیٹے کے باپ ہیں۔

معاشرے کے ہر فرد کی سوچ اس قدر مادیت پرست ہو چکی ہے کہ ہر خاندان ، لڑکی اور اس کے گھر والوں کی دینی عادات اور اخلاق و عادات کو نظر انداز کر کے اپنے بیٹا کا رشتہ وہیں جوڑنا چاہتے ہیں جہاں جہیز کے نام پربڑی رقم مل سکے۔ اس سودے بازی میں بدنام صرف لڑکے والے ہی نہیں ہین یہ سودا لڑکی والے بھی کرتے نظر آتے ہیں۔ بیرون ملک جاب کا لالچ، گرین کارڈ ہولڈر لڑکی ، خود کا اپنا بزنس سیٹ کروانے کا لالچ، یا پھر اپنے بزنس میں شراکت داری یہ تمام آفرز معاشرے کو لالچ کی سمت دھکیل رہے ہیں اسی کا نتیجہ ہے کہ نادار گھرانوں کی سلیقہ شعار لڑکیوں کی بڑی تعداد بن بیاہی اپنی عمر کی منزلیں ماں باپ کی چوکھٹ پر ہی گذار دیتیں ہین کیونکہ ان کے والدین جہیز نہیں دے سکتے۔

بعض لڑکیاں اپنے باپ کی عمر کے مردوں سے شادی کرنے پر مجبور ہیں یا پھر ذہنی دباؤ کا شکار ہو کر بے راہروی کا شکار ہو جاتیں ہیں۔کبھی غیر مسلم نوجوانوں کے ساتھ فرار ہو جاتیں ہیں اور ان کے استحصال کا شکارہوتیں ہیں۔ کوئی ان کی ذہنی کیفیت اور کرب کا اندازہ نہیں لگا سکتا جو کبھی الفاظ کی شکل میں طنز اور نشتر کی صورت ان کے دل پر لگائے جاتے ہیں تو کبھی ہر سمت سے اٹھتے سوال اور چبھتی نظریں انہین اپنے آپ کو مجرم سمجھنے پر مجبور کر دیتی ہیں اسی کا نتیجہ ہوتا ہے کہ وہ موت کے دامن میں پناہ ڈھونڈ لیتی ہیں۔

کچھ لوگوں کے نزدیک جہیز کا فلسفہ یہ ہے کہ ہر باپ اپنی بیٹی کو اپنی خوشی سے کچھ نہ کچھ دینے کا حق رکھتا ہے۔اسے ہدیہ یا تحفہ سمجھ کر ہنسی خوشی قبول کیا جاتا ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ ہم نے تو کہا تھا ہمیں لڑکی کے سوا کچھ نہیں چاہیے جو آپ دیں گے اپنی بیٹی کو دیں گے۔ یہ بھی ایک طرح کا دھوکہ اور فریب ہے۔جو معاشرے میں عام ہے۔ اس پر عمل کرنے والے ڈھونڈتے ہی ایسے گھرانوں کو ہیں جہاں آس ہوتی ہے بہت کچھ ملے گا۔

یہ سوچنے کی بات ہے ہدیہ اور تحفہ عین شادی والے دن ہی کیوں مانگا جاتا ہے۔کبھی فہرستیں بنا کر دی جاتیں ہیں کبھی اس شرط پر رشتے بنائے جاتے ہیں کہ ابھی شادی ہو جائے تب بعد میں سارے مطالبات پورے کر دیے جائیں گے۔ اصل بات یہ ہے کہ مان باپ اپنی خوشی اور استظاعت کے مطابقدے دیتے ہیں تو اس کے پیچھے یہی مقصد ہوتا ہے کہ کہیں سسرال میں ان کی بیٹی کوطعنے سننے کو نہ ملیں مگر یہ بھی ان کی سادہ لوحی ہے۔جہیز کی آس پوری ہونے تک ان کی لاڈلی بیٹی کو کیا کیا سن کربرداشت کرنا پڑتا ہے۔یہ صرف ان کا دل ہی جانتا ہے۔

تبدیلی کا عمل خود سے شروع کریں۔ اس تبدیلی کا راستہ یہ ہے کہ بارش کے پہلے قطرے کی مانند آپ اپنے گھر کی شادی اسلامی شریعت کے مطابق کریں۔ یہ مثال آپ کے خاندان والوں اور دوست احباب کو سوچنے پرمجبور کر دے گی کہ اگر آپ معاشرے کے رواجوں سے ہٹ کرراہ بنانے کی ہمت کر سکتے ہیں تو پھرمعاشرے کا ہر فرد جہیز کے خلاف اپنی زبان سے اور عمل سے جہاد کا آغاز کرے اور ایسی تمام شادیوں کا بائیکاٹ کریں جہاں یہ غیر اسلامی رسوم اورحرام کام کیے جاتے ہیں انقلاب کا راستہ خود بخود کھل جائے گا۔ جہیز کو مٹانے کی سب سے بڑی رکاوٹ یہی ہے کہ لوگ اتنے بزدل ہیں ایک طرف تو اقرار کرتے ہیں کہ جہیز لینا اور دینا غلط ہے لیکن عمل کے وقت ساتھ چھوڑ جاتے ہیں۔

یہی ایک بات معاشرے کے زوال اور انحطاط کا سبب ہے کہ ابتداء کون کرے ؟ اس سلسلے میں مولانا حسین احمد مدنی کا ایک واقعہ نظر سے گذرا۔ ’’ایک بار مولانا ٹرین سے سفر کر رہے تھے ساتھ نشست پر ایک سوٹ میں ملبوس صاحب تشریف فرما تھے۔کچھ بات چیت ہوئی ان صاحب کو مولانا کچھ دقیانوس سے لگے اس لئے زیادہ بات نہ ہو سکی۔ان صاحب کو بیت الخلاء کی حاجت ہوئی مگر دروازہ کھولتے ہی انہوں نے ناک پر رومال رکھ لیا اور واپس سیٹ پر آ کر بیٹھ گئے۔ کئی مرتبہ ارادہ کیا مگر ہمت نہ ہوئی۔ اب مولانا حسین احمد اٹھے اور لوٹا لے کربلا جھجک اندر داخل ہو گئے اور دروازہ بند کر لیا۔ ان سوٹ والے صاحب نے مولانا کی بے حسی پر منہ بنایا۔ دس پندرہ منٹ بعد مولانا باہر آئے اور ان سے کہا واقعی آپ کا جانا بہت مشکل تھا۔ اندر بے حد غلاظت تھی مگرآپ کی ضرورت دیکھ کر میں رہ نہ سکا میں نے اچھی طرح صفائی کر دی ہے اب آپ اطمینان سے جا سکتے ہیں‘‘۔

بات یہی ہے ہر شخص معاشرے میں پھیلی غلط روایات کو دیکھ کر منہ بناتا ہے ان کے غلاظت سے ناک پہ رومال رکھتے ہیں مگر کوئی آگے بڑھ کراپنی خدمات پیش نہیں کرتا کہ میں غلاظت کو ختم کرنے کے لئے پہلا قدم اٹھاتا ہوں۔ اتنا بڑا کام اور اس کی تکمیل ایک آدمی کے بس کی بات نہیں۔ یہ احساس کہ معاشرے کو تبدیلی کی ضرورت یے مگر لوگ یہ نہیں جانتے کہ تبدیلی کس طرح لائی جائے اور اس کے لئے کیا کرنا چاہیے۔بہت سے افراد اداروں سے توقع لگائے بیٹھے ہیں یا پھر کسی غیبی امداد کے منتطر ہیں۔

قرآن کریم احادیث اور سیرت رسول پاکﷺ کی سند کے بعد کیا کوئی دلیل شادی بیاہ کی فضول رسموں اور جہیز کے حق میں باقی رہ جاتی ہے۔ اول تو اس کا آغاز اپنے گھر سے کرنا چاہیے اور پھر معاشرے میں اصلاح کا کام شروع کریں تو حالات میں بہتری ضرور آئے گی۔ جب آپ کسی کی بیٹی کے لئے زندگی میں آسانی کی راہ کھولیں گے وہیں کوئی اور آپ جیسا آپ کی بیٹی یا بہن کے لئے پہلا قدم اٹھائے گا اور تبھی پھر شاید وہ وقت بھی آئے کہ باپ کی نگاہیں بیٹی پر پڑیں تو تفکرات اور پریشانی کے بجائے اس کے چہرے پر اطمینان بھری مسکراہٹ ہو تب زندگی کتنی آسان ہو جائے گی اور معاشرہ بہتری کی راہ پرگامزن ہوگا۔
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1242 Articles with 521542 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
15 Feb, 2017 Views: 380

Comments

آپ کی رائے